HIRA ONLINE / حرا آن لائن
جھوٹ کی منڈی

<p>جھوٹ کی مَنڈی<br />مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ<br />==============================<br />دنیا میں مختلف قسم کے بازار ہوتے ہیں، الگ الگ چیزوں کی الگ الگ منڈیاں ہوتی ہیں، جھوٹ کی بھی ایک منڈی ہے اور یہ منڈی زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کے یہاں لگتی ہے اورزبان سے اس کی سودا گری کی جاتی ہے ، جو جتنا بڑا لیڈر ہے وہ اتناہی بڑا جملہ باز اور جھوٹا ہوا کرتا ہے، پھر یہ جھوٹ اس قدر کثرت سے بولا جاتا ہے کہ سامنے والا اسے سچ سمجھنے لگتا ہے، اور عوام اس جھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے، اس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، تاریخیں مسخ ہوتی ہیں اور لوگوں کی توجہ اہم معاملات ومسائل سے ہٹ کر اس فرضی اور جھوٹے معاملات ومسائل پر مرکوز ہوجاتی ہے اور سیاسی بازی گر اپنا اُلو سیدھا کر لیتے ہیں، عوام کو بے وقوف بنا کر جھوٹ کی اس منڈی کا اصل ہدف رائے دہندگان کو اپنی طرف کرنا ہوتا ہے، تاکہ ووٹ زیادہ ملیں اورکامیابی یقینی ہو جائے۔<br />ہمارے یہاں کم وبیش ہرپارٹی کے قائدین جھوٹ کی اس منڈی کا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن بھاجپا کے قائدین نریندر مودی اور امیت شاہ اس میدان میں بہت آگے ہیں اورکوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، جب بڑے صاحب اس میں ممتاز ہیں تو چھوٹے نیتا بھی اس کام اورکاز میں ان کے ساتھ ان کے ہم نوا ہوجاتے ہیں، اس طرح جھوٹ پھیلانے میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔<br />ابھی حال ہی میں راجستھان کے ہانسواڑہ میں نریندر مودی نے کانگریس کے خلاف بولتے ہوئے مسلمانوں کو ’’گھس پیٹھیا‘‘ کہہ ڈالا، اور کانگریس کے نظریات کے بارے میں سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے حوالہ سے کہا کہ ان کے سابقہ بیان سے لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ ہندوستان کے سرمایہ پر پہلا حق مسلمانوں کا ہو، من موہن سنگھ نے جو بات کبھی کہی تھی وہ صرف اس قدر تھی کہ ’’ملک کے اثاثوں اور وسائل پر سماج کے کمزور طبقات یعنی درج فہرست…

Read more

اے کعبہ کے مسافر! ذرا آہستہ قدم رکھ

ائے کعبہ کے مسافر! ذرا آہستہ قدم رکھ ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کون ایسا مسلمان ہے جس کے دل میں یہ تمنائیں کروٹیں نہ لیتی ہوں کہ میں احرام کی دو چادروں میں لپٹ کر اللہ کے گھر کی زیارت کروں، سراپا عجز ونیاز، مجسم عشق ووارفتگی، ساری دنیا کو بھلاکر، یاد محبوب دل میں بساکر، سر مۂ عشق آنکھوں میں لگاکر،اور لبوں پر یہ نغمہ سجاکر کہ ؎ دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد لیکن پھر وہ ٹھہر کر سوچتا ہے کہ گناہوں کے بوجھ کے ساتھ آخر کس طرح میں خانۂ خدا پر نگاہ ڈالوں گا، اور کس طرح کعبہ کے گرد سات پھیرے لگاؤں گا، زندگی بھر جس شیطان سے دوستی رہی اسے کیوں کر کنکریاں مارسکوں گا، کیسے’’ لبیک‘‘ (میں حاضرہوں) کہنے کا یارا ہو گا، اس ڈر سے کہ کہیں جواب میں ’’لا لبیک‘‘ (تیری حاضری قبول نہیں) تو نہ کہہ دیا جائے گا، اور نہ جانے محرومی اور یاس کے احساسات وخیالات کن کن وادیوں میں سرگرداں رکھتے ہیں، اور کبھی دل سے ایک دبی دبی سی آواز بھی آتی ہے کہ ؎ کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ایک طرف حرماں نصیبی کا یہ احساس ہوتا ہے اور دوسری طرف اللہ رب العزت کے فیصلے ہوتے ہیں، فریب خوردہ انسان بدگمانی کا ایسا عادی کہ اپنے رب سے بھی بدگمان ہوجاتا ہے، اور رب ہے کہ جب بلانے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کون ہے جو اس کے فیصلہ کو ٹال سکے، انتخاب قرعے کے ذریعہ نہیں ہوتا رب البیت کی جانب سے ہوتا ہے، کتنے لوگ دولت کا ڈھیر چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے ان کو بلایا نہ گیا، وہ نہ جاسکے، جہاں بلایا گیا وہاں چلے گئے، اور کتنے ایسے ہیں جو اپنی مادی حالت پر نظر کرتے ہوئے یہ حوصلہ بھی نہیں پاتے کہ حج کا ارادہ کریں لیکن شوق رہ رہ کر ان کے دلوں میں انگڑائیاں لیتا ہے،…

Read more

مولانا سید سلمان حسینی ندوی:ایک ایسی شخصیت جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا از: نقی احمد ندوی

مولانا سید سلمان حسینی ندوی ہندوستان کے ایک مشہور عالم دین، ایک شعلہ بیان مقرر، ایک بہترین محدث، ایک عظیم داعی اور ایک مخلص مربی ہیں۔ انجمن شباب اسلام اور جامعہ سید احمد شہید کے بانی و صدر اور بہت سی علمی، دعوتی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ موصوف عالمِ اسلام کے لیے ایک دھڑکتا ہوا دل رکھتے ہیں اور ظلم و ستم اور نا انصافی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں مولانا کی آواز اس گھن گرج جیسی ہوتی ہے جس کی بازگشت ہندوستان کی سرحدوں کے باہر سیکڑوں میل دور عرب کے کوہساروں اور ریگزاروں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ مولانا کے موافقین اور مخالفین دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بلا کی صلاحیت و قابلیت اور ذہانت و فطانت کے ساتھ ساتھ ا ٓپ کو ایسی شیریں بیانی اور شعلہ فشانی کی عدیم المثال قدرت سے نوازا ہے جو آپ کے معاصرین میں عنقاء ہے۔ اردو اور عربی دنوں زبانوں میں یکساں بولنے اور لکھنے کی بے پناہ صلاحیت آپ کو دیگر علماء وقائدین کے درمیان نہ صرف یہ کہ ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہے بلکہ اپنے معاصرین کی پہلی صف میں لاکھڑا کردیتی ہے۔ مولانا موصوف کی پیدائش 1954ء میں لکھنؤ میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجدکا نام مولانا سید محمد طاہر حسینی تھاجن کا تعلق اترپردیش میں واقع ضلع مظفر نگر کے قصبہ منصورپور کے ایک معزز سادات گھرانے سے تھا۔ آپ علامہ سید ابوالحسن علی ندوی کے سگے بھائی، سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنیؒ کے نواسے ہیں۔ لہٰذا آپ کی تعلیم و تربیت میں علامہ سید ابوالحسن علی ندوی کا خاصا اثر رہا ہے۔ مولانا کی والدہ انتہائی نیک صفت خاتون تھیں۔ مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر اور محلہ کے مکتب میں حاصل کی۔ پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء کے درجہ حفظ میں داخلہ لے لیا اور حفظ کی تکمیل کے بعد اس عظیم دانش گاہ سے 1974ء میں عالمیت پھر1976ء میں فضیلت کی ڈگری لی۔اس کے بعد سعودی عرب کی مشہور یونیورسٹی جامعہ الامام محمد بن…

Read more

عربی زبان و ادب کا مطالعہ کیسے کریں

از : ڈاکٹر محمد اکرم ندوی عربى زبان وادب كے ايك موقر عالم ومدرس نے سوال كيا: عربى زبان وادب كا مطالعه كس طرح كريں؟ نيز اس موضوع پر كار آمد بنيادى كتابوں كى نشاندہى كر ديں ۔ يه ايك اہم سوال ہے، اس طرح كے سوال سے خوشى ہوتى ہے كه مدرسوں ابهى وه لوگ موجود ہيں جن كا ذوق علمى ہے، اور جنہيں علوم وفنون ميں كمال پيدا كرنے كا حوصله ہے، خدا كرے كه ايسے طالبان فضائل كى تعداد بڑهتى رہے، مذكوره استفسار كے جواب سے عربى زبان وادب كے طلبه اور مدرسين كو ان شاء الله فائده ہوگا، اسى لئے ان كے معيار كو مد نظر ركهتے ہوئے جواب دينے كى كوشش كى جائے گى ۔ زبان عام ہے اور ادب خاص، دونوں ميں عموم خصوص مطلق كى نسبت ہے، يہى نسبت انسان اور طالبعلم ميں ہے، ہر طالبعلم انسان ہے، مگر ہر انسان طالبعلم نہيں، اسى طرح ہر ادب زبان ہے، پر ہر زبان ادب نہيں ۔ زبان كے دو بنيادى كام ہيں، سوچنا اور پيغام پہنچانا، يعنى زبان سوچنے كا ذريعه ہے، اگر زبان نه ہو تو سوچنا ممكن نہيں، جن لوگوں كى زبان زياده وسيع اور ترقى يافته ہوتى ہے ان كى قوت فكر بهى اسى كے بقدر اعلى ہوتى ہے، اسى طرح زبان ترسيل كا واسطه ہے، بالعموم زبان كے اس ثانوى مقصد كو اصل مقصد سمجها جاتا ہے، جو ايك غلط خيال ہے، اس كى وضاحت ميں نے ايك دوسرے مضمون ميں كى ہے، اسے ضرور پڑهيں ۔ يه دونوں مقاصد كسى نه كسى طرح معمولى زبان سے بهى پورے ہو جاتے ہيں، زياده تر لوگ اسى سطح ادنى پر قانع رہتے ہيں، معمولى زبان كى مثال فقه، منطق، فلسفه وغيره كے موضوع پر لكهى گئى عام كتابيں ہيں، يه كتابيں اپنے اپنے موضوع پر مفيد ہو سكتى ہيں ليكن انہيں ادب نہيں كہا جا سكتا، عقيدت كے غلو ميں بعض احناف كو يه كہتے سنا گيا ہے كه ہدايه عربى ادب كا بہترين نمونه ہے، اسى طرح ايك عالم كو ميں نے سنا وه ايك مشہور…

Read more

کیا مصنوعی استقرار حمل اور رحم مادر کی کرایہ نا جایز ہے؟

*کيا مصنوعی استقرارِ حمل (IVF) اور رحمِ مادر کی کرايہ داری (Surrogacy) ناجائز ہے؟* محمد رضی الاسلام ندوی سوال: آج کل مصنوعي طريقے سے استقرارِ حمل (IVF) کا رواج ہو رہا ہے ۔ نکاح کے کئی برس کے بعد بھی اگر کسی جوڑے کے يہاں بچّے نہيں ہوتے تو وہ ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے ۔ ڈاکٹر بسا اوقات IVF طريقے کو اختيار کرنے کا مشورہ ديتا ہے ۔ اس طريقے ميں مرد اور عورت کے مادّے لے کر الگ سے انھيں ملايا جاتا ہے ، پھر عورت کے رحم ميں منتقل کيا جاتا ہے ، جس ميں نارمل طريقے سے جنين کي پرورش ہوتی ہے ۔ کبھی عورت کے رحم ميں خرابی ہوتی ہے ، جس کي بنا پر اس ميں جنين کی پرورش نہيں ہو سکتی ۔ اس صورت ميں کسی دوسری عورت کا رحم کرايے پر ليا جاتا ہے ۔ وہ حمل کے مرحلے سے گزرتی ہے ۔ بچہ پيدا ہونے پر اسے طے شدہ اجرت دے دی جاتی ہے اور بچہ لے ليا جاتا ہے ۔ کيا يہ صورتيں اسلامی نقطۂ نظر سے ناجائز ہيں؟ يا ان کے جواز کے کچھ پہلو ہو سکتے ہيں؟ براہ کرم جواب سے نوازیں ۔ جواب : مرد اور عورت کے جنسی اعضاء (Sexual Organs) کے اتّصال سے توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ مرد کے خصيوں ميں مادّۂ منويہ (Sperm) جمع رہتا ہے ، جسے ‘نطفہ’ کہتے ہيں ۔ يہ مباشرت کے وقت اس کے عضوِ مخصوص سے نکل کر عورت کے رحم (Uterus)ميں داخل ہوتا ہے ۔ رحم کے دونوں طرف خصيے (Ovary) ہوتے ہيں ، جن ميں سے ہر ماہ ايک بيضہ (Ovum) نکلتا ہے ۔ ہر خصيہ ايک ٹيوب کے ذريعے رحم سے جڑا ہوتا ہے ، جسے ‘قاذف’ (Fallopian Tube ) کہتے ہيں ۔ نطفہ اور بيضہ کا اتّصال اسی ٹيوب کے باہری ايک تہائی حصے ميں ہوتا ہے ۔ پھر ان سے جو مخلوطہ تيار ہوتا ہے وہ واپس رحم ميں آکر ٹھہرتا ہے ۔ اسے استقرارِ حمل (Fertilization) کہتے ہيں کہ اس طرح رحمِ مادر ميں…

Read more

ٓبڑھاپے میں عبادات میں کمی کی تلافی کيسے کی جائے؟

*بڑھاپے میں عبادات میں کمی کی تلافی کيسے کی جائے؟* محمد رضی الاسلام ندوی سوال : مثل مشہور ہے : ” يک پيری و صد عيب – “ يعنی ستّر اسّی برس کي عمر تک پہنچتے پہچنتے بہت سے ضعيف العمر حضرات طرح طرح کے امراض و مسائل سے دو چار ہوجاتے ہيں ۔ ان ميں نسيان کا مرض بھي نہايت تکليف دہ ہے ۔ بالخصوص نماز پنج گانہ کی ادائیگی کے وقت ايسا ہوتا ہے کہ رکعتوں کا شمار ، قرآنی آيات کی تلاوت اور ديگر اجزائے عبادت کا پورا ادراک نہيں رہ پاتا ۔ بعض اوقات طہارت بھی مشکوک ہو جاتی ہے ۔ ايسی صورت ميں علاج معالجہ کے باوجود اس نامکمل يا ناقص عبادت پر کيسے اس کے مکمل ہونے کي توقع کی جائے؟ عمر کي مختلف منزلوں ميں بعض وجوہ سے کئی وقت کي نمازيں اور روزے چھوٹ جاتے ہيں ۔ ان کے کفارہ يا ادائيگی کي کيا صورت ہوگی ؟ سنا ہے کہ پانچ وقت کی نمازوں کے وقت اگر قضاشدہ نمازوں کو يکے بعد ديگرے ادا کيا جائے تو اس طرح تلافی ہو سکتی ہے ۔ کيا يہ بات درست ہے؟ جواب سے سرفراز کرکے ممنون فرمائیں ۔ جواب : اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام اس طرح بنايا ہے اور اس ميں انسان کی تخليق اس طرح کی ہے کہ وہ پيدا ہوتا ہے تو کم زور اور دوسروں کے سہارے کا محتاج رہتا ہے ۔ پلتا بڑھتا ہے تو اس کے قوی مضبوط ہو جاتے ہيں ۔ وہ کڑيل نوجوان بنتا ہے ۔ اس کے بعد ادھيڑ عمر کا ہوتا ہے ۔ پھر اس کے قوی مضمحل ہونے لگتے ہيں ، چناں چہ وہ دوبارہ اسی طرح نحيف و ناتواں اور دوسروں کے سہارے کا محتاج ہوجاتا ہے ، جيسا اپنے بچپن ميں تھا ۔ ہر شخص کے ساتھ يہ دورانيہ لگا ہوا ہے ۔ اللہ تعالي کا ارشاد ہے : اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ ضُعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُعۡفًا وَّشَيۡبَةً ، يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ‏ (الروم: 54)…

Read more