HIRA ONLINE / حرا آن لائن
Quranic Arabic Grammar Course

Quranic Arabic Grammar Course (Ramadan Special – Level 1)📘 Duration: 1st Ramadan se 25th Ramadan⏰ Class Time: Rozana 1 Ghanta📚 Total Classes: 25Is Course mein aap kya seekhenge?1️⃣ Arabic Word Roots▪️ Quranic Arabic ka root system samajhna▪️ Lafzon ke meanings kaise bante hain2️⃣ Quranic Arabic Grammar▪️ Basic Nahw aur Sarf▪️ Qur’an ke jumlon ki structure3️⃣ Common Quranic Words▪️ Baar baar aane wale Qur’ani alfaaz▪️ Aasan yaad karne ke tareeqe4️⃣ Tafseer of Selected Verses▪️ Simple aur authentic tashreeh▪️ Qur’an ke paighaam ko samajhna5️⃣ Scientific Miracles of the Qur’an▪️ Qur’an aur modern science ki roshni mein6️⃣ Basic Arabic Conversation▪️ Rozmarra istemal ki Arabic▪️ Confidence ke saath bolna💰 Course Fee: Sirf ₹299/-⚠️ Limited seats available – Jaldi register karein!🌐 hira-online.com📸 Instagram: @al_hira_academy_1📱 Join us on WhatsApp📞 Contact: 8235826323✨ Is Ramadan Qur’an ki zaban seekhiye! ✨

Read more

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

عصرِ حاضر میں مکاتب کی اہمیت مکاتب اسلامی معاشرے کی دینی بنیاد کو مضبوط کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جب فکری یلغار، اخلاقی بگاڑ اور دینی غفلت عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں مکاتب کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں بچوں کو گھر اور معاشرے سے خودبخود دینی ماحول مل جاتا تھا، مگر آج یہ ماحول کمزور پڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ #مکاتب مکاتب وہ ادارے ہیں جہاں بچوں کو کم عمری ہی میں عقیدۂ توحید، کلمۂ طیبہ کی حقیقت، قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم، نماز، سنتِ نبوی ﷺ اور اسلامی اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔ یہی تعلیمات بچوں کے دل و دماغ میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتی ہیں اور انہیں گمراہ کن نظریات، فتنوں اور ارتداد جیسی خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مکتب میں حاصل ہونے والی دینی تربیت بچے کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے اور اسے اچھا مسلمان اور باکردار انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہر مسجد میں منظم انداز سے مکاتب قائم ہوں اور والدین بچوں کی دینی تعلیم کو ترجیح دیں تو ان شاء اللہ ہماری نسلیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہیں گی۔ بلاشبہ مکاتب امتِ مسلمہ کے ایمان کے محافظ اور مستقبل کے معمار ہیں۔

Read more

شعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہ

از : مولانا ابو الجیش ندوی شعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہ ​اسلامی سال کے مہینوں میں شعبان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو رجب کی پیاس اور رمضان کی بہار کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چونکہ شعبان رمضان کا مقدمہ ہے، اس لیے اس میں وہی اعمال (روزہ اور تلاوت) مشروع کیے گئے جو رمضان میں کیے جاتے ہیں، تاکہ روح رمضان کی اطاعت کے لیے تیار ہو جائے۔ ​1. شعبان کی اہمیت اور حکمت ​نبی کریم ﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے دو اہم اسباب بیان فرمائے:​اعمال کی پیشی: یہ وہ مہینہ ہے جس میں بندوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔​غفلت کا مہینہ: رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اکثر اس سے غفلتاً اعراض کرتے ہیں، جبکہ اللہ کے نزدیک اس وقت کی عبادت کی بڑی قدر ہے۔ ​2. اسلاف کا طرزِ عمل: "قاریوں کا مہینہ” ​ہمارے اسلاف شعبان کا چاند دیکھتے ہی اپنی ترجیحات بدل لیتے تھے۔​تلاوتِ قرآن: وہ اسے "شہر القراء” (قاریوں کا مہینہ) کہتے تھے۔ کثرت سے تلاوت شروع کر دی جاتی تاکہ زبان رمضان کے لیے رواں ہو جائے۔​مال کی زکوٰۃ: کئی اسلاف اسی مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتے تھے تاکہ غریب مسلمان بھی رمضان کی تیاری کر سکیں اور اطمینان سے روزے رکھ سکیں۔ ​3. پندرہویں شعبان (شبِ برات) کی حقیقت ​اس ماہ کی پندرہویں رات اللہ کی رحمت عامہ کا ظہور ہوتا ہے۔ مستند روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور سب کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے دو بدنصیبوں کے:​مشرک: جو اللہ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک ٹھہرائے۔​کینہ پرور (مشاحن): وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے دل میں…

Read more

پالنپور میوزیم یادیں، باتیں

پالنپور میوزیم یادیں، باتیں معاویہ محب الله۱۹ جنوری، ۲۰۲۶ء اپنی تہذیبی روایت سے ہر ایک کو انس ہوتا ہے جو مجھے بھی ہے، جو قوم اپنی تہذیب سے عاری ہو جاتی ہے وہ اپنا روشن، تابناک اور سنہری ماضی سے بہت دور ہو جاتی ہے، پالنپور ریاست اپنی تاریخی نوعیت میں بہت دلچسپ ہے، ہندوستان میں بنسبت دیگر علاقوں کے یہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، یہاں نواب سلطنت کا دورانیہ تقریبا چھ صدیوں تک پھیلا ہوا ہے، روایتی تمہید کے بعد ہم آپ کو تحریری زیارت کرائیں گے اپنی اس حیسن ماضی کی، آپ کو اپنا اجڑا دیار یاد دلائیں گے، اپنا بھولا ہوا سبق جو یاد رکھنا تھا لیکن اسے ہم نے فراموش کردیا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمسایہ قوم نے اس پر فخر کرنا شروع کر دیا۔ موجودہ ہندوستانی سیاست زہر آلود اور مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے لئے معروف ہے اور اس پر سوشیل میڈیا کی وجہ سے مذہبی عصبیت میں تڑکا لگ چکا ہے، ان سب کے باوجود ہم سے ملنے والے سبھی برادران نے خندہ پیشانی، وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کیا، میوزیم کے در و دیوار سے ایسا محسوس ہوا کہ یہ ہمیشہ کھلا نہیں رہتا بلکہ ہماری خصوصی خواہش پر اسے کھولا گیا ہے، اسی طرح کالج کی لائبریری؛ جس کی داستان سرائی آگے کروں گا، میں بھی لائبریرین نے توقع سے زیادہ تعاون کیا، گویا سوشل میڈیا کے درمیان رہنے سے ہمیں جو محسوس ہوتا ہے وہ باہم دیگر مجالس میں وہ تعصب، مذہبی جراثیم اس قدر گہرے نہیں ہے۔ خیر آمدم بر سرِ زیارت! میوزیم میں پالنپور لوہانی نواب کے دَور کی کئی یادگار تصاویر رکھی ہے، سب سے حسین یادگار ” کِرتی ستنبھ ” (Kirti Stambh) منارہ ہے جو صدی گزرنے کے بعد بھی شھر میں جگمگا رہا ہے، ۲۲ میٹر لمبائی لئے ہوئے ہے جسے اس وقت کے چالیس ہزار روپے میں بنایا گیا تھا، میرے لئے اس میں کشش کی بات یہی ہے کہ وزیرِ تعمیر اور "تاریخِ پالنپور” کے مصنف سید گلاب میاں رحمہ الله کی وزارتِ تعمیر کے زمانہ میں بنایا گیا ہے، یہ…

Read more

وسوسہ کیا ہوتا ہے ؟

وسوسہ کیا ہوتا ہے؟ وسوسہ دراصل شیطان کی طرف سے انسان کے دل میں ڈالا جانے والا ایسا خیال ہوتا ہے جو عبادت، طہارت اور ایمان میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بالخصوص نماز کے وقت شیطان انسان کو مختلف خیالات میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کی یاد سے غافل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں شیطان کے اسی کردار کو واضح فرماتے ہیں: ﴿لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ،  وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّـهِ ) ( النساء: 118–119) (جس پر اﷲ کی لعنت ہے ، جس نے کہا تھا : میں تمہارے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا) (میں ضرور انھیں گمراہ کروں گا ، انھیں آرزوئیں دلاؤں گا ، ان کو سکھاؤں گا کہ جانوروں کے کان کاٹیں ، اوران کو حکم دوں گا کہ اﷲ کی تخلیق میں تبدیلی کردیں ،  اورجو اﷲ کو چھوڑ شیطان کو دوست بنالے ، اس نے کھلا ہوا نقصان اُٹھایا) ان آیات سے معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو بہکانے اور عبادت سے دور کرنے کے لیے مسلسل وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ https://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%88%D8%B3%D9%88%D8%B3%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%BA%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C-%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C-/16-11-2019

Read more

اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندوی

اسراء ومعراج کے مضمراتمحمد اعظم ندوی تاریخ انسانی کے طویل دھارے میں ایسے لمحے کم آتے ہیں جب زمان ومکان کے بندھن ٹوٹتے ہیں اور حقیقت کا آئینہ بے نقاب ہوتا ہے، اسراء ومعراج کا واقعہ سیرت کا ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے جب زمین وآسمان کے درمیان فاصلے سمٹ گئے اور ایک بندۂ خاکی نہاد ومولا صفات کو خدائے بزرگ وبرتر کا قرب خاص نصیب ہوا، یہ محض ایک جسمانی نقل مکانی یا خواب کی کوئی رومانوی داستان نہیں، بلکہ امت محمدیہ ﷺ کی فکری، روحانی اور اخلاقی تشکیل کا سرچشمہ اور انسانیت کے مقام ومرتبے کا آفاقی اعلان ہے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: "یہ دونوں سورتیں سورۂ اسراء اور سورۂ نجم جو واقعۂ معراج کے سلسلہ میں نازل ہوئیں، یہ اعلان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں قبلوں (مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ) کے نبی اور دونوں سمتوں مشرق ومغرب کے امام اور اپنے پیش رو تمام انبیاء کرام کے وارث اور بعد میں آنے والی پوری نسل انسانی کے رہبر ورہنما ہیں، آپ کی شخصیت اور آپ کے سفر معراج میں مکہ بیت المقدس سے اور مسجد حرام مسجد اقصی سے ہم آغوش ہوگئی، آپ کی امامت میں تمام انبیاء نے نماز پڑھی، اور یہ دراصل آپ کے پیغام ودعوت کی عمومیت وآفاقیت، آپ کی امامت کی ابدیت اور ہر طبقۂ انسانی کے لیے آپ کی تعلیمات کی ہمہ گیری وصلاحیت کی دلیل وعلامت تھی، یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت کا صحیح تعارف اور اس کی صحیح نشان دہی، آپ کی امامت وقیادت کا بیان، آپ کی اس امت (جس میں آپ مبعوث ہوئے) کے اصل مقام وحیثیت عرفی کا تعین اور اس پیغام ودعوت اور مخصوص کردار کی پردہ کشائی کرتا ہے، جو اس امت کو اس وسیع وعریض دنیا اور عالمی برادری میں انجام دینا ہے” (نبی رحمت، ص191) قرآنِ حکیم نے اس داستانِ حقیقت کا آغاز لفظ "سُبْحَانَ” سے کیا، ایسا لفظ جو پاکیزگی، تقدیس اور تنزیہ کا پیکر…

Read more