HIRA ONLINE / حرا آن لائن
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یہ دور نظام حیات کی جنگ کا دور ہے، مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ مختلف نظام ہائے حیات کے مابین کشمکش جاری ہے، اسلام چوں کہ محض عقائد کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو اپنے واضح عقائد کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، اس لیے دیگر نظام ہائے حیات کے ٹھیکداروں کے لیے اسلام ایک چیلنج ہے جس کا مقابلہ کیے بغیر وہ اپنے نظام حیات کو باقی یا غالب نہیں رکھ سکتے۔ ہمارے ملک میں طبقاتی نظام رائج ہے، اسلامی نظام حیات اس سے متصادم ہے، اور اس کی تمام برائیوں سے پاک ہے،اس کے نظام حیات کی کشش طبقاتی نظام میں زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نظام حیات کے تصادم کے اس دور میں ہمیں دیگر نظام حیات کی خصوصیات سے واقف ہونا ناگزیر ہے، اس سے اسلام کا تقابلی مطالعہ کرنے اور تقابلی تعارف کرانے میں مدد ملے گی اور اسلام کی افضلیت کا ادراک ہوگا، نیز مدعو اقوام کی نفسیات سے آگہی ہوگی اور نظریاتی جنگ میں مقابل نظریہ کے کمزور پہلووں کا ادراک ہوگا۔ یوں تو دنیا کے مختلف سماج میں مختلف بنیادوں پر انسانوں کی تقسیم پائی جاتی ہے، اور بہت سی جگہوں پر اس تقسیم کی وجہ سے آپسی نفرت بھی پائی جاتی ہے؛ لیکن بھارتی سماج کے طبقاتی نظام کی جو خصوصیات ہیں وہ اسے دنیا کے دیگر سماجی نظام سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:٭ عدم مساوات: بھارتی سماج میں پائے جانےوالی منووادی طبقاتی نظام کی یہ سب سے بنیادی خصوصیت ہے، اس نظام میں طبقات کی تقسیم عمودی ہے، یعنی یہ تقسیم نابرابری اور اونچ نیچ کی بنیاد پر ہے، اس میں انسانی مساوات کی کوئی جگہ نہیں ہے، انسانی مساوات آتے ہی یہ دھڑام سے زمیں بوس ہوجاتا ہے، اس میں کچھ ذاتیں اونچ ہیں اور کچھ نیچ ،ہر ذات کے نیچے کوئی ذات ہے اور ہر ذات کے اوپر کوئی ذات۔ اور برہمن کی ذات سب سے اوپر ہے،…

Read more

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یو جی سی کے نئے ضابطوں کو لے کر پورے ملک میں ہنگامہ چل رہا ہے، جنرل کیٹگری میں آنے والی ذاتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں، جب کہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سماج سے آنے والے لوگ اس کی حمایت میں ہیں۔ یو جی سی یہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا مخفف ہے، یہ کمیشن 1956 میں بنایا گیا، اس کا کام یونیورسٹیوں کو منظوری دینا، انھیں فنڈز فراہم کرنا اور اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد وضوابط بنانا ہے، اس نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 2012 میں امتیازی سلوک کو روکنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے کچھ ضوابط بنائے، جنھیں Promotion of Equity in Higher Educational Institutions) Regulations, 2012 کہا جاتا ہے، ان ضوابط کے ہوتے ہوئے امتیازی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوئے، جن میں روہت ویمولا کا کیس قابل ذکر ہے، جس نے 2016ذات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک سے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی، ڈاکٹر پایل تڑوی اور کچھ دوسروں کے نام بھی اس مناسبت سے ذکر کیے جاتے ہیں، ان واقعات سے یہ اندازہ ہوا کہ امتیازی سلوک مخالف ضوابط زمینی سطح پر صحیح ڈھنگ سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امتیازی سلوک کے اعداد وشمار میں 118 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لہذا یو جی سی نے ان ضوابط میں کچھ سختی لانا ضروری سمجھا، چنان چہ ضوابط کو پہلے سے سخت بنانے کے لیے اس میں ترمیم واضافہ کیا گیا، اور یہ ترمیم شدہ ضوابط کچھ دنوں قبل 13 جنوری کو جاری کیے گئے۔ امتیازی سلوک پر ایسے سخت ضوابط بنانے کی ضرورت کیوں پڑی، اس کا جواب بھارت کے طبقاتی نظام، یہاں کی سماجی نفسیات، اور برہمنوادی تاریخ میں مضمر ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی کو برہمنوادی نظام کے ٹھیکیداروں نے ہزاروں سال سے نہ صرف یہ کہ مالی، تعلیمی، حکومتی اور دفاعی حقوق سے محروم رکھا، بل کہ عزت واحترام…

Read more

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے ✍️ڈاکٹر محمد طارق ایوبی گذشتہ دنوں دہلی میں ایک ڈبیٹ منعقد ہوئی، جس کا عنوان تھا” کیا خدا موجود ہے”، پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا یہ سوال درست ہے، ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خود قرآن وجود باری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے وجود کا احساس دلاتا ہے نہ کہ وجود باری کے ثبوت پر اپنی قوت استدلال خرچ کرتا ہے، قرآن کی نظر میں اصل شے خدا کی طرف بلانا ہے نہ کہ خدا کا وجود ثابت کرنا، علامہ شبلیؒ نے الکلام میں قرآنی طریقہ استدلال کے متعلق جو بحث کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے انسان کے وجدان شہادت کو اپیل کیا جائے اور پھر کائنات کے نظم اور اس کی حکیمانہ ترتیب کی طرف توجہ دلائی جائے، اس تناظر میں آیات قرآنیہ کا مطالعہ کرتے جائیے تو آپ ہی وجود باری کا ثبوت ملتا جائے گا، ساتھ ہی توحید باری کا بھی اثبات ہوتا جائے گا جو کہ عقیدہ اسلامی کا امتیاز ہے،وجود باری کا ثبوت تو کسی کسی نہ کسی صورت میں دیگر مذاہب میں بھی موجود ہے،لیکن تصور وحدانیت ہی دراصل اسلام کا امتیاز ہے، اس لحاظ سے دیکھیے تو قرآن مجید خدا کی صفات کو موضوع بناکر اس طرح گفتگو کرتا ہے کہ وجود باری ، تصور وحدانیت پر بیک وقت استدلال کرتا ہے، اور اس کے لیے اس کا سب سے طاقتور استدلال کائناتی نظم و نسق ہے، جس کا کوئی معقول جواب دینے سے ملحدین بہر حال عاجز رہے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وجود باری کے رد و اثبات کی بحث فلسفہ یونان کی دین ہے، قرآن مجید تو وجود باری کے اعلان کا حکم دیتا ہے، جاہلوں اور منکروں سے اعراض کرتے ہوئے اس اعلان اور موحدانہ موقف پر جم جانے کی تلقین کرتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے یہی آشکار ہے اور یہی دعوت کا نبوی اسوہ اور طریقہ کار ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اسلامی مزاج اور نبوی منہج…

Read more

مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوف

مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوف از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ7/1/2026 سوال:السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته، جنابِ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب!امید ہے کہ آپ بعافیت ہوں گے۔ مدتِ دراز سے دل میں ایک سوال تھا جسے عرض کرنے کی خواہش تو تھی، مگر یہ اندیشہ دامن گیر رہا کہ کہیں گستاخی یا سوء ادبی کا شائبہ نہ ہو۔ اب قدرے حوصلہ کر کے یہ سوال پیش کر رہا ہوں، اور مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا نام راز میں رکھا جائے۔میرا سوال یہ ہے کہ آپ تصوف پر نہایت سخت تنقید فرماتے ہیں، جب کہ آپ کے شیخِ محترم اور عصرِ حاضر کے جلیل القدر مفکر، عظیم داعی اور مصلحِ امت، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ، خود تصوف سے وابستہ تھے اور اس سے اشتغال رکھتے تھے۔ نیز آپ ان کے مقام و مرتبہ کے معترف اور ان کے لیے گہرے احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ ان کے مسلکِ تصوف کی پیروی کیوں نہیں فرماتے؟آپ کی توضیح اور رہنمائی کا منتظر ہوں۔ جواب:وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کے سوال میں سنجیدگی، خلوصِ نیت اور علمی ادب نمایاں ہے، اور یہی چیز اس بات کی متقاضی ہے کہ جواب بھی وضاحت، توازن اور اصولی انداز میں دیا جائے۔ بلاشبہ یہ موضوع نہایت تفصیل طلب ہے، اور اس پر مکمل گفتگو کے لیے خاصا وقت درکار ہے، جو اس وقت میرے پاس میسر نہیں۔ تاہم میں اختصار کے ساتھ، مگر قدرے وضاحت و شرح کے ساتھ، چند بنیادی امور عرض کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اس سے مسئلہ اپنی اصل صورت میں واضح ہو جائے گا اور اشکال کا ازالہ ہو سکے گا۔سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ سمجھنی ضروری ہے کہ تصوف بحیثیتِ ایک مسلک اور طرزِ فکر اسلام سے پہلے بھی موجود تھا۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو ابتدا ہی سے اسلام کے اندر پیدا ہوئی ہو۔ مختلف غیر مسلم تہذیبوں اور مذاہب میں اس کی جڑیں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ بدھ مت میں…

Read more

ندوہ اور علم کلام

بسم اللّه الرحمن الرحيم ندوه اور علم كلام از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ6/1/2026 سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوگا۔دفاعِ دین اور تعاقبِ باطل کے حوالے سے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے نصاب میں کس قدر گنجائش رکھی گئی ہے؟ بالخصوص یہ جاننا مقصود ہے کہ آیا نصابی کتب میں ایسی معقول اور مؤثر کتابیں شامل کی گئی ہیں جو طلبہ کو عقائدِ اسلامیہ کی ٹھوس تعلیم و تفہیم فراہم کر سکیں اور ساتھ ہی باطل افکار و نظریات کے رد و تعاقب میں بنیادی بصیرت پیدا کریں۔کیا نصاب میں کم از کم دو چار ایسی منتخب کتابیں شامل ہیں جن کے ذریعے طالبِ علم کو اعتقادی مسائل میں مضبوط درک حاصل ہو جائے، اور وہ علمِ کلام میں اس درجہ مہارت پیدا کر سکے جو ندوہ کے اہم اور امتیازی نصابی مقاصد میں ہمیشہ سے شامل رہا ہے؟یعنی نصاب کی تشکیل کے وقت بظاہر دو بنیادی پہلو پیشِ نظر ہوتے ہیں: اوّل، تعارف و تبلیغِ دین؛ اور دوم، دفاعِ دین اور باطل افکار کا علمی تعاقب۔اس دوسرے پہلو کے اعتبار سے ندوۃ العلماء کے موجودہ نصاب میں کون کون سی کتابیں شامل ہیں؟ اور وہ کس حد تک عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں؟ان نکات پر آپ سے ایک تشفی بخش اور کسی قدر تفصیلی توضیح درکار ہے۔والسلام، سفیان غنی (تکمیلِ شریعہ) دارالعلوم ندوۃ العلماء جواب:وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہآپ کا سوال نہ صرف علمی سنجیدگی کا آئینہ دار ہے بلکہ ندوۃ العلماء کے فکری مزاج، اس کے تعلیمی مقاصد اور اس کے امتیازی منہج کو سمجھنے کے لیے نہایت بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کا جواب محض چند نصابی کتابوں کے نام گنوانے یا درسی ترتیب کی توضیح تک محدود نہیں ہو سکتا، بلکہ ضروری ہے کہ اس فکری اساس کو واضح کیا جائے جس پر ندوہ کے نصاب کی عمارت قائم ہے، اور جس نے اسے برصغیر کے دیگر دینی اداروں سے ممتاز مقام عطا کیا۔ علمِ کلام کا مفہوم: ندوہ کا زاویۂ نظر: سب سے پہلے یہ بات پوری…

Read more

*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*

*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_* *ممکن ہے کہ بابری مسجد تاریخ کی سب سے مظلوم مسجد قرار دی جائے گی، اپنوں کی بے اعتنائی اور غیروں کی ستم گری پر نشان عبرت سمجھی جائے گی، اسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور امت کے سوتے ضمیروں پر چوٹ لگائی جائے گی، اس کے ذریعہ مسلمانوں کی بے بصیرتی اور نادانی کے ساتھ اکثریت کا اقلیت پر ظلم اور جمہوریت کی شکل میں بیٹھے بھیڑیوں کی تصویریں پیش کی جائیں گی، اسے مٹادیا گیا، مسمار کردیا گیا، رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں اس کی اینٹ اکھاڑ لے گئے، بھگوا رنگ کے علمبرداروں نے مقدس مقام کا بھی خیال نہ کیا، اس کی تقدیس کو نوچ لیا، اس کی تعظیم و حرمت پر جھپٹ پڑے، اور یکا یک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جرم کر بیٹھے، دنیا میں سینکڑوں ڈکٹیٹر ہوئے، جنون کے مارے اور طاقت و قوت کے نشہ میں چور بادشاہ بھی ہوئے؛ لیکن ان سے عبادت گاہوں کا تقدس پامال نہ کیا جاتا تھا، اگر تاریخ سے بعض مثالیں ہٹادی جائیں یا پھر سیاسی مفاد کو پرے کردیا جائے، تو امن و صلح اور انسانیت و جمہوریت کے نام پر کبھی بھی خانہ خدا کو یا کسی بھی صنم خانے کو نہ چھیڑا گیا؛ مگر ۶/دسمبر ۱۹۹۲ء میں ہندوستانی معاشرت کا وہ کالا دن آیا جب اپنوں نے ہی پیٹھ پر چھرا مار دیا، ایک دیومالائی کیریکٹر کے نام پر حقیقت کو مٹا بیٹھے، حکومت خاموش رہی، سسٹم اندھا بنا رہا__ فوج اور پولس، عدالت اور سارا نظام راکد رہا؛ اور گیروا رنگ کے باولے، مجنون قسم کے افراد اور انسانیت کیلئے باعث شرمندہ انسان نما جانوروں نے بیت الہی کو روند ڈالا_ کدالیں چل رہی تھیں، پھاوڑے مارے جارہے تھے، بھگوا جھنڈا لہرایا جارہا تھا، مسجد کا اوپری حصہ اور نچلا حصہ بھی زخم پر زخم برداشت کئے جارہا تھا؛ لیکن ساری دنیا تماشائی بنی دیکھتی رہی، بلکہ لطف لیتی رہی، چٹخارے مارتی رہی اور خود کو سیکولزم کے پردہ میں چھپاتی رہی۔* *اس کی آگ نے پورے ہندوستان…

Read more