از: معاویہ محب اللہ
غربت اور افلاس جیسے الفاظ سے مجھے پیار محسوس ہوتا ہے، بازار میں روٹی کے لئے پھرنے والا غریب کا بچہ مجھے بہت عزیز ہے، لوگ بھی کیا ہیں کہ غریب کی زبوں حالی کو دیکھ کر اس کو آوارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اس کے میلے کچیلے کپڑوں اور اس میں موجود تعفن کو اس کے بد تہذیب اور ثقافت سے عاری باور کراتے ہیں، انھیں یہ احساس نہیں ہے کہ ایسا رہنا کس کو عزیز ہوگا؟ کون ہوگا جو ایئر کنڈیشن کمروں میں، کاٹن اور سفید و شفاف کپڑوں میں ملبوس رہنا پسند نہیں کرتا؟ اس بیچارہ کی گندگی، پراگندہ حالی اور آوارہ پھرنے کا یہی قصور ہے کہ وہ مفلس کے گھر میں پیدا ہوا ہے، وہ یتیم ہے جو اپنے پیٹ کے لئے ایڑیاں رگڑ رہا ہے، وہ مہنگی تعلیم کو افورڈ نہیں کر سکتا، اسے دنیا کے طور طریق سیکھنے کا موقع نہیں ملا، وہ کیسے ملتا کہ اسے اپنے پیٹ سے فرصت نہیں جو ایسی آسائشیں فراہم کرسکتا!
تھکا ہارا، دنیا کے غموں سے نڈھال، اپنی زندگی زخموں کی نذر کرکے معصوم جانوں کے پیٹ پالنے والا باپ، اسے اپنے معصوم بچوں کی سسکیاں، آہیں، بلکتی زبانیں اور ڈوبتی ہوئی آنکھیں دیکھی نہیں جاتی، نتیجہ یہ کہ وہ جرم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اسے معاشرے نے ان جرائم پر مجبور کیا ہے، پھر یہی معاشرہ اس کا گھر اجاڑنے میں مصروف ہے، دولت، کار، سونا، چاندی اور کھنکھناتے سکوں میں پلنے والے افسر اسے جیل کی سلاخوں میں سڑانے پہ تلے ہوئے ہیں، زندگی پہلے سے اجیرن ہے جو دوبارہ اجاڑنے پہ مصر ہیں، ان لوگوں کی غذا بہت لذیذ، خوشبودار اور ذائقہ سے لبریز رہتی ہے، لیکن خواہشات کی بھوک، عزت کی ہڑبڑ، اقتدار کا نشہ ان ذائقہ دار اور چٹپٹے کھانوں میں کہاں نہیں بلکہ غریب کا خون چوسنے میں ہیں۔
ایسی ہی دردناک کہانی اس کتاب میں ہیں جسے راجہ انور نے جیل کی سلاخوں میں رہتے ہوئے رقم کیا ہے، دل دوز، دل دہلا دینے والی، رونگٹے کھڑے کردینے والی کتاب، کیسے کیسے انسان جنھیں واقعی اپنی انسانیت پیاری ہے، وہ جیل میں اپنی امیدوں کا مداوا کرنے کے منتظر ہیں، یہی وجہ ہے کہ راجہ انور نے کتاب کا نام ہی بالکل بر محل تجویز کیا ہے کہ ” بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک” مردہ الفاظ تلے دبا ہوا معاشرہ، کھنکھناتی دولت، رات کی مصنوعی روشنی میں سرکتی، چمچماتی کاریں بڑی جیل ہیں اور جیل تو اس کے مقابل چھوٹی جیل ہے، وہاں کم از کم روٹی کمانے، کھانے، کھلانے اور غموں کو برداشت کرنے کا حوصلہ تو نہیں چاہئے!
بر صغیر کے جیلوں کی ایک منفرد کمزوری یہ ہے کہ یہاں چھوٹے چھوٹے جیب تراشوں کو بڑے اچکّے، مال کی ہوس میں ڈوبے ہوئے قاتلوں کو پیشہ ور قاتل، گلی محلے کے مجرموں کو انٹر نیشنل مجرم بنانے کا کام ہوتا ہے، اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ ان کی نفسیات کو ٹھیک کیا جائیں، انھیں تعلیم سے آشنا کیا جائیں، انسانیت کے خون کی قیمت بیان کرنے والی فلمیں دکھائی جائیں، سب سے حیرت انگیز پہلو یہ کہ جرم کے اسباب پر غور کیا جائیں جرائم آخر ہوتے کیوں ہیں؟ یہ امیر و غریب کی دوریاں، بنیادی ضرورتوں پر چند بنیوں کا راج انھیں اس پر مجبور کرتا ہے۔
بہت ہی خوبصورت کتاب ہے، اس کتاب نے مجھے کئی بار رُلا دیا، صرف دو نشستوں میں کتاب مکمل کرلی، کتاب کا ورق الٹتے ہوئے پڑھنا شروع کیا تو ایسا کہ ۸۶ صفحات پر سانس لیا، ضروری کام کی وجہ سے کتاب نے پورے وقفہ اپنے حصار میں جکڑے رکھا بالآخر کتاب مکمل کرلی، حالت یہ ہے کہ دماغ تدبر میں مصروف ک
ہیں، فکر میں بالیدگی ہے، انسان پر ترس آتا ہے، اپنی غربت پر فخر محسوس ہوتا ہے، آنکھیں کیا کھولتا ہوں ایسی کہانیاں راہ چلتے ہوئے نظر آجاتی ہیں، رونے اور عبرت حاصل کرنے کے لئے کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں بس سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔
معاویہ محب الله