Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
16.08.2026
Trending News: آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
16.08.2026
Trending News: آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

  1. Home
  2. بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • نومبر 15, 2025
  • 0 Comments

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

بہار کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ ریاست کی سیاست خواہ کتنی ہی شوریدہ کیوں نہ دکھائی دے، اس کی جڑیں نہایت گہری اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، بظاہر زمین ہلتی نظر آتی ہے، مگر نیچے تہہ در تہہ چٹانیں جمی رہتی ہیں، عام تاثر یہ تھا کہ اس مرتبہ نتائج میں بڑا تغیر آئے گا، لیکن ووٹ شیئر کے اعداد وشمار نے یہ دکھا دیا کہ بہار میں ووٹ بینک اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں، گویا نسلوں سے منتقل ہونے والی سیاسی یادداشت نے ووٹرز کی انگلیوں کو آخری لمحے تک تھامے رکھا۔

جے ڈی یو اور بی جے پی نے اپنے روایتی ووٹ مجموعی طور پر برقرار رکھے، اور اصل تبدیلی چھوٹے اتحادیوں کی شکل میں آئی جنہوں نے چند فیصد ووٹ کا اضافہ کر کے بڑے پلڑے کو فیصلہ کن طور پر جھکا دیا، ایل جے پی اور ہم جیسے گروہوں کے چھوٹے لیکن ٹھوس ووٹ پیکٹ اس الائنس کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ اپنے ووٹ کو بچا لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے اردگرد کے چھوٹے سیاسی دھڑوں کو کتنی دانائی سے اپنے دائرے میں سمیٹتے ہیں۔

اس انتخاب نے یہ بھی واضح کیا کہ فلاحی مدد اور براہِ راست نقد رقوم کی منتقلی اور ترسیل اپنے اندر غیر معمولی کشش رکھتے ہیں، خواتین کو ملنے والی امدادی رقم اور مزید فوائد کا وعدہ محض کوئی انتخابی نعرہ نہ تھا، بلکہ اس کے پیچھے حکومت کے قائم شدہ فلاحی نظام کا اعتبار موجود تھا، بہار جیسی غریب ریاست میں جہاں اوسط آمدنی کم ہے، وہاں ایسے اقدامات ووٹروں کے لیے فوری اور دور رس تبدیلیوں کی تاثیر رکھتے ہیں، اور سیاسی جماعتیں اس حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ "جو دے سکتا ہے، وہی لے سکتا ہے”۔

اس کے مقابلے میں اپوزیشن کی مہم بعض جگہ اپنی ہی سنگینی کے بوجھ تلے دبتی رہی، تیجسوی یادو کا ہر گھر سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے کا وعدہ عملی طور پر ایک سیاسی ادعا ثابت ہوا، عوام نے اس اعلان کو سنجیدہ کم اور مبالغہ آمیز زیادہ سمجھا؛ چوں کہ کسی نظیر کے بغیر اتنے بڑے وعدے پر بھروسہ مشکل معلوم ہوتا ہے، اور خصوصاً جب کہ بہار میں اتنی آسامیاں فراہم کرنا کوئی کھیل نہیں، اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب اپوزیشن کا وزن رائے دہندگان کے دل سے ہٹنے لگا، سیاسی دعووں میں بلند آہنگ آوازیں سنی جا سکتی ہیں، مگر ناقابلِ عمل وعدے ہمیشہ اپنے پیچھے بےاعتمادی کی لکیر چھوڑ جاتے ہیں۔

اس انتخاب کا ایک اور غیر معمولی پہلو مسلم ووٹ کا رویّہ ہے، دہائیوں سے مسلم ووٹروں کا جھکاؤ واضح تھا، لیکن اس مرتبہ سیمانچل جیسے خطوں میں بدلتے ہوئے رجحان نے یہ بتایا کہ مسلمان محض خوف کی سیاست پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں، جب سیکولر جماعتیں ووٹ تو چاہتی ہیں لیکن قیادت میں مسلم موجودگی یا حقیقی نمائندگی سے گریز کرتی ہیں، تو ناراضگی بھی جنم لیتی ہے، اس بدلاؤ کا مطلب یہ نہیں کہ اس خطے کے مسلمان ایک بڑی سیاسی منتقلی کے لیے تیار ہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ وہ اب "خاموش وفادار” نہیں رہنا چاہتے۔

بہار کی سیاست میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہاں ووٹر نہ صرف اپنا حال دیکھتا ہے بلکہ ماضی کو بھی اپنے فیصلے میں شامل رکھتا ہے، لالو کے دور کا "جنگل راج” ایک سیاسی اصطلاح بن چکا ہے، جو آج بھی کئی طبقات کے دلوں میں جاگزیں ہے، اسی طرح نتیش کمار کے دور میں ہونے والی معاشی بہتری، انفراسٹرکچر کی توسیع، اور نظم ونسق کی نسبتاً اصلاح بھی لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہے، بہار اب بھی غریب ہے، لیکن وہ دور جا چکا جب ریاست کی شناخت محض پسماندگی تھی، اسی اعتماد نے اُن چند غیر فیصلہ کن ووٹروں کو این ڈی اے کی طرف مائل کیا جو آخری لمحے تک سوچتے رہے کہ ریاست کے آئندہ سال کس سمت جا سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ انتخابی مہم عمومی طور پر غیر فرقہ وارانہ رہی، چند نعرے ضرور سنائی دیے، مگر بڑے پیمانے پر سیاسی مہم ذات، مذہب اور دھمکی جیسے روایتی حربوں سے خالی رہی، یہ ہندوستانی سیاست میں ایک خوشگوار علامت ہے کہ بہار جیسے بڑے اور حساس صوبے میں بھی معاشرتی تقسیم کے بغیر انتخابی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ سیاست دان جب چاہیں تو عوامی ایجنڈے کو اصل مسائل پر مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اپوزیشن نئی سیاسی پالیسی اور تخلیقی حکمتِ عملی سے محروم نظر آئی، پرانے نعرے، پرانی تنقیدیں، پرانے چہروں کے بھروسے پر لڑے جانے والے انتخابات اپنی کشش کھو دیتے ہیں، اقتدار کے مقابلے میں اپوزیشن کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ صرف حکومت کو غلط ثابت کرنے کے بجائے کوئی مثبت متبادل بیانیہ بھی پیش کرے، یہی کمی تیجسوی یادو اور کانگریس کے درمیان نظر آئی، ایک ایسی خلیج جو ووٹروں کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتی۔

پرشانت کشور کا تجربہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سیاست نہ صرف نظریے اور حکمتِ عملی بلکہ وقت اور صبر کا کھیل ہے، نئے تصورات اور تنظیمی فلسفہ رکھنے کے باوجود وہ اس مرتبہ کوئی اثر پیدا نہ کر سکے، اور شاید یہ یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ بہار جیسی ریاست میں نسلوں سے جمی سیاسی صف بندیوں کو ایک انتخاب میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہاں انہوں نے ٹکٹ کے سہارے پیسہ بہت کمایا جو آئندہ ان کے کام آئے گا۔

انتخابات کے اختتام پر سب سے بڑا سوال بہار کے مستقبل سے متعلق ہے، لالو پرساد کا سیاسی دور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، نتیش کمار کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی سفر کے آخری مرحلے میں ہیں، اس صورت حال میں قیادت کا ایک خلا پیدا ہو رہا ہے جسے پُر کرنے کے لیے سب سے چوکنی نگاہیں بی جے پی کی ہیں، پارٹی اب پہلی مرتبہ حقیقی معنوں میں ایک ایسے بہار کا تصور کر رہی ہے جہاں وہ خود کو غیر اتحادی سہاروں کے بغیر مکمل اکثریتی قوت بنائے، لیکن اس کے لیے اسے مقامی قیادت کا وہ مضبوط چہرہ تلاش کرنا ہوگا جو عوام میں اپنا اعتماد قائم کر سکے۔

مجموعی طور پر یہ انتخاب بتاتا ہے کہ بہار کی سیاست محض ذات پات کی دائمی تقسیم نہیں، بلکہ اس میں معاشی امید، فلاحی بیانیہ، سیاسی یادداشت، اور بدلتی ترجیحات ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، اگلے چند برسوں میں ریاست میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے آثار واضح ہیں، اور اس تبدیلی کی سمت کا انحصار اسی بات پر ہوگا کہ کون سی جماعت بہار کے ووٹر کی ذہنی ساخت، اس کے خوابوں، اور اس کی زمینی ضروریات کو زیادہ صحیح انداز میں سمجھ سکے گی۔
یہ تجزیہ یہ فرض کرکے کیا گیا ہے کسی نہ کسی حد الیکشن کمیشن نے جمہوریت کا وقار بحال رکھا ہوگا، ورنہ اگر ووٹ چوری کا بیانیہ ثابت ہو جائے اور اس کے کافی شواہد ہیں تو پھر کچھ بھی کہنا لا حاصل ہے۔

این ڈی اے کی جیتبہار انتخاباتبہار انتخابات 2025مسلم ووٹ سیمانچل

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میں
🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔

Related Posts

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • آزادی ہند
  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • ہندوستان کی تاریخ آزادی
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
ہندوستان کی تاریخ آزادی

ہندوستان کی تاریخ آزادی محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی گڈا جھارکھنڈ دوستو ! پندرہ اگست کی تاریخ محض تقویم کا ایک دن نہیں، یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ روشن اور سنہری باب ہے، جس کے پیچھے ایک طویل داستانِ جدوجہد، قربانی، عزم، حوصلہ اور آزادی کی تڑپ پوشیدہ ہے۔ آج جب ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں تو ہمارے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ آزادی صرف کسی ایک طبقے، ایک جماعت یا ایک قوم کی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کا ثمر ہے، جس میں ہندوستان کے مختلف مذاہب، طبقات اور علاقوں کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر برادرانِ وطن نے اپنی جان، مال، آرام اور مستقبل کو داؤ پر لگایا؛ جیلیں آباد ہوئیں، پھانسیاں دی گئیں، گھر اجڑے، بستیاں ویران ہوئیں اور آزادی کی خاطر نسلوں نے قربانیاں پیش کیں۔ لیکن تاریخ کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس پوری داستان کو جذبات سے نہیں، حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت پوری سچائی اور قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ برطانوی اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کی ابتدائی اور بڑی آوازوں میں مسلمانوں کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلم جیالوں کی قیادت، مولوی احمد اللہ شاہ، مولوی لیاقت علی، خان بہادر خان، بیگم حضرت محل اور بے شمار مجاہدین کی جدوجہد اس تاریخ کا ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی علماء، مجاہدین اور عام مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے استعمار کے خلاف مزاحمت کی اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب آزادی کی یہ چنگاری مختلف گوشوں میں سلگ رہی تھی، جب مزاحمت کے یہ ابتدائی آثار نمایاں ہو رہے تھے اور جب ہندوستان کے باشندوں میں غلامی کے خلاف شعور بیدار ہونے لگا تھا، تو رفتہ رفتہ یہ جدوجہد ایک وسیع عوامی تحریک کی صورت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں 14.08.2026
  • ہندوستان کی تاریخ آزادی 14.08.2026
  • اسلام، تصور آزادی کا معیار 14.08.2026
  • جنگ آزادی اور مسلمان 13.08.2026
  • جنگ آزادی اور مسلمان 13.08.2026
  • سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ 13.08.2026
  • غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم 13.08.2026
  • ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم 13.08.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

  • hira-online.com
  • اگست 14, 2026
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
مضامین و مقالات

ہندوستان کی تاریخ آزادی

  • hira-online.com
  • اگست 14, 2026
اسلامیات

اسلام، تصور آزادی کا معیار

  • hira-online.com
  • اگست 14, 2026
اسلام، تصور آزادی کا معیار
مضامین و مقالات

جنگ آزادی اور مسلمان

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
جنگ آزادی اور مسلمان
مضامین و مقالات

جنگ آزادی اور مسلمان

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
جنگ آزادی اور مسلمان
اسلامیات

سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ
اسلامیات

غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم
فقہ و اصول فقہ

ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top