Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

  1. Home
  2. بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • نومبر 15, 2025
  • 0 Comments

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

بہار کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ ریاست کی سیاست خواہ کتنی ہی شوریدہ کیوں نہ دکھائی دے، اس کی جڑیں نہایت گہری اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، بظاہر زمین ہلتی نظر آتی ہے، مگر نیچے تہہ در تہہ چٹانیں جمی رہتی ہیں، عام تاثر یہ تھا کہ اس مرتبہ نتائج میں بڑا تغیر آئے گا، لیکن ووٹ شیئر کے اعداد وشمار نے یہ دکھا دیا کہ بہار میں ووٹ بینک اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں، گویا نسلوں سے منتقل ہونے والی سیاسی یادداشت نے ووٹرز کی انگلیوں کو آخری لمحے تک تھامے رکھا۔

جے ڈی یو اور بی جے پی نے اپنے روایتی ووٹ مجموعی طور پر برقرار رکھے، اور اصل تبدیلی چھوٹے اتحادیوں کی شکل میں آئی جنہوں نے چند فیصد ووٹ کا اضافہ کر کے بڑے پلڑے کو فیصلہ کن طور پر جھکا دیا، ایل جے پی اور ہم جیسے گروہوں کے چھوٹے لیکن ٹھوس ووٹ پیکٹ اس الائنس کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ اپنے ووٹ کو بچا لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے اردگرد کے چھوٹے سیاسی دھڑوں کو کتنی دانائی سے اپنے دائرے میں سمیٹتے ہیں۔

اس انتخاب نے یہ بھی واضح کیا کہ فلاحی مدد اور براہِ راست نقد رقوم کی منتقلی اور ترسیل اپنے اندر غیر معمولی کشش رکھتے ہیں، خواتین کو ملنے والی امدادی رقم اور مزید فوائد کا وعدہ محض کوئی انتخابی نعرہ نہ تھا، بلکہ اس کے پیچھے حکومت کے قائم شدہ فلاحی نظام کا اعتبار موجود تھا، بہار جیسی غریب ریاست میں جہاں اوسط آمدنی کم ہے، وہاں ایسے اقدامات ووٹروں کے لیے فوری اور دور رس تبدیلیوں کی تاثیر رکھتے ہیں، اور سیاسی جماعتیں اس حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ "جو دے سکتا ہے، وہی لے سکتا ہے”۔

اس کے مقابلے میں اپوزیشن کی مہم بعض جگہ اپنی ہی سنگینی کے بوجھ تلے دبتی رہی، تیجسوی یادو کا ہر گھر سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے کا وعدہ عملی طور پر ایک سیاسی ادعا ثابت ہوا، عوام نے اس اعلان کو سنجیدہ کم اور مبالغہ آمیز زیادہ سمجھا؛ چوں کہ کسی نظیر کے بغیر اتنے بڑے وعدے پر بھروسہ مشکل معلوم ہوتا ہے، اور خصوصاً جب کہ بہار میں اتنی آسامیاں فراہم کرنا کوئی کھیل نہیں، اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب اپوزیشن کا وزن رائے دہندگان کے دل سے ہٹنے لگا، سیاسی دعووں میں بلند آہنگ آوازیں سنی جا سکتی ہیں، مگر ناقابلِ عمل وعدے ہمیشہ اپنے پیچھے بےاعتمادی کی لکیر چھوڑ جاتے ہیں۔

اس انتخاب کا ایک اور غیر معمولی پہلو مسلم ووٹ کا رویّہ ہے، دہائیوں سے مسلم ووٹروں کا جھکاؤ واضح تھا، لیکن اس مرتبہ سیمانچل جیسے خطوں میں بدلتے ہوئے رجحان نے یہ بتایا کہ مسلمان محض خوف کی سیاست پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں، جب سیکولر جماعتیں ووٹ تو چاہتی ہیں لیکن قیادت میں مسلم موجودگی یا حقیقی نمائندگی سے گریز کرتی ہیں، تو ناراضگی بھی جنم لیتی ہے، اس بدلاؤ کا مطلب یہ نہیں کہ اس خطے کے مسلمان ایک بڑی سیاسی منتقلی کے لیے تیار ہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ وہ اب "خاموش وفادار” نہیں رہنا چاہتے۔

بہار کی سیاست میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہاں ووٹر نہ صرف اپنا حال دیکھتا ہے بلکہ ماضی کو بھی اپنے فیصلے میں شامل رکھتا ہے، لالو کے دور کا "جنگل راج” ایک سیاسی اصطلاح بن چکا ہے، جو آج بھی کئی طبقات کے دلوں میں جاگزیں ہے، اسی طرح نتیش کمار کے دور میں ہونے والی معاشی بہتری، انفراسٹرکچر کی توسیع، اور نظم ونسق کی نسبتاً اصلاح بھی لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہے، بہار اب بھی غریب ہے، لیکن وہ دور جا چکا جب ریاست کی شناخت محض پسماندگی تھی، اسی اعتماد نے اُن چند غیر فیصلہ کن ووٹروں کو این ڈی اے کی طرف مائل کیا جو آخری لمحے تک سوچتے رہے کہ ریاست کے آئندہ سال کس سمت جا سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ انتخابی مہم عمومی طور پر غیر فرقہ وارانہ رہی، چند نعرے ضرور سنائی دیے، مگر بڑے پیمانے پر سیاسی مہم ذات، مذہب اور دھمکی جیسے روایتی حربوں سے خالی رہی، یہ ہندوستانی سیاست میں ایک خوشگوار علامت ہے کہ بہار جیسے بڑے اور حساس صوبے میں بھی معاشرتی تقسیم کے بغیر انتخابی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ سیاست دان جب چاہیں تو عوامی ایجنڈے کو اصل مسائل پر مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اپوزیشن نئی سیاسی پالیسی اور تخلیقی حکمتِ عملی سے محروم نظر آئی، پرانے نعرے، پرانی تنقیدیں، پرانے چہروں کے بھروسے پر لڑے جانے والے انتخابات اپنی کشش کھو دیتے ہیں، اقتدار کے مقابلے میں اپوزیشن کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ صرف حکومت کو غلط ثابت کرنے کے بجائے کوئی مثبت متبادل بیانیہ بھی پیش کرے، یہی کمی تیجسوی یادو اور کانگریس کے درمیان نظر آئی، ایک ایسی خلیج جو ووٹروں کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتی۔

پرشانت کشور کا تجربہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سیاست نہ صرف نظریے اور حکمتِ عملی بلکہ وقت اور صبر کا کھیل ہے، نئے تصورات اور تنظیمی فلسفہ رکھنے کے باوجود وہ اس مرتبہ کوئی اثر پیدا نہ کر سکے، اور شاید یہ یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ بہار جیسی ریاست میں نسلوں سے جمی سیاسی صف بندیوں کو ایک انتخاب میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہاں انہوں نے ٹکٹ کے سہارے پیسہ بہت کمایا جو آئندہ ان کے کام آئے گا۔

انتخابات کے اختتام پر سب سے بڑا سوال بہار کے مستقبل سے متعلق ہے، لالو پرساد کا سیاسی دور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، نتیش کمار کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی سفر کے آخری مرحلے میں ہیں، اس صورت حال میں قیادت کا ایک خلا پیدا ہو رہا ہے جسے پُر کرنے کے لیے سب سے چوکنی نگاہیں بی جے پی کی ہیں، پارٹی اب پہلی مرتبہ حقیقی معنوں میں ایک ایسے بہار کا تصور کر رہی ہے جہاں وہ خود کو غیر اتحادی سہاروں کے بغیر مکمل اکثریتی قوت بنائے، لیکن اس کے لیے اسے مقامی قیادت کا وہ مضبوط چہرہ تلاش کرنا ہوگا جو عوام میں اپنا اعتماد قائم کر سکے۔

مجموعی طور پر یہ انتخاب بتاتا ہے کہ بہار کی سیاست محض ذات پات کی دائمی تقسیم نہیں، بلکہ اس میں معاشی امید، فلاحی بیانیہ، سیاسی یادداشت، اور بدلتی ترجیحات ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، اگلے چند برسوں میں ریاست میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے آثار واضح ہیں، اور اس تبدیلی کی سمت کا انحصار اسی بات پر ہوگا کہ کون سی جماعت بہار کے ووٹر کی ذہنی ساخت، اس کے خوابوں، اور اس کی زمینی ضروریات کو زیادہ صحیح انداز میں سمجھ سکے گی۔
یہ تجزیہ یہ فرض کرکے کیا گیا ہے کسی نہ کسی حد الیکشن کمیشن نے جمہوریت کا وقار بحال رکھا ہوگا، ورنہ اگر ووٹ چوری کا بیانیہ ثابت ہو جائے اور اس کے کافی شواہد ہیں تو پھر کچھ بھی کہنا لا حاصل ہے۔

این ڈی اے کی جیتبہار انتخاباتبہار انتخابات 2025مسلم ووٹ سیمانچل

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میں
🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ از : مولانا ابو الجیش ندوی ​عارفینِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زہد دراصل دل کا دنیا کے وطن سے کوچ کر جانا اور آخرت کی منزلوں کی طرف روانہ ہو جانا ہے۔ اسی بنیاد پر متقدمین (پچھلے علماء) نے زہد کے موضوع پر کتابیں تصنیف کیں، جیسے عبداللہ بن المبارک، امام احمد، وکیع اور ہناد بن السری رحمہم اللہ وغیرہ کی کتبِ زہد۔​زہد کے چھ بنیادی متعلقات​کسی بندے کے لیے ‘زاہد’ کا لقب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ درج ذیل چھ چیزوں میں زہد اختیار نہ کر لے:​مال و دولت​ظاہری صورتیں (حسن و جمال)​ریاست و منصب​لوگ (ان کی واہ واہ یا تنقید)​اپنی ذات (نفس)​اور اللہ کے سوا ہر چیز۔​زہد کا مطلب ترکِ دنیا نہیں​یہاں زہد سے مراد ان چیزوں کی ملکیت کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔ اس کی چند نمایاں مثالیں ملاحظہ فرمائیں:​حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے، حالانکہ ان کے پاس مال، عورتیں اور عظیم سلطنت موجود تھی۔​نبی کریم ﷺ: آپ کائنات کے سب سے بڑے زاہد تھے، اس کے باوجود آپ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں۔​صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بڑے زاہد تھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کثیر اموال تھے۔​حضرت حسن بن علیؓ: آپ بھی زاہدین میں سے تھے، حالانکہ آپ امت میں سب سے زیادہ نکاح کرنے والے اور مالدار ترین افراد میں شامل تھے۔​ائمہ کرام: عبداللہ بن المبارک زہد کے امام تھے مگر بہت مالدار تھے۔ اسی طرح لیث بن سعد اور سفیان ثوری بھی زہد کے امام تھے اور صاحبِ مال تھے؛ امام سفیان فرمایا کرتے تھے: "اگر یہ مال نہ ہوتا تو یہ (حکمران) ہمیں اپنا رومال بنا لیتے (یعنی ہمیں ذلیل کرتے)۔”​زہد کی بہترین تعریف​زہد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات ابو مسلم الخولانی نے کہی ہے:​”دنیا سے زہد کا مطلب حلال کو حرام کر لینا یا مال کو ضائع کر دینا نہیں ہے، بلکہ زہد یہ ہے کہ:​جو…

Read more

Continue reading
اعتکاف ، احکام و آداب
  • hira-online.comhira-online.com
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top