Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
15.07.2026
Trending News: عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
15.07.2026
Trending News: عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندوی

  1. Home
  2. حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندوی

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندوی

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • اکتوبر 26, 2025
  • 0 Comments

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی
از : مولانا آدم علی ندوی


حالات زندگی
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۱۹۲۹ء کو اس خانوادہ میں ہوئی جس کی دینداری و تقوی، عالی نسبی و عالی ہمتی کی تعریف حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے فرمائی ، جس کو ایمان و عزیمت کی وراثت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ سے ملی ، جہاں بچوں کو یہ لوریاں سنائی جاتی تھیں۔
الہی ہو مجھ کو شہادت نصیب
یہ بہتر سے بہتر عبادت نصیب
حضرت کی تعلیم و تربیت ڈاکٹر سید عبد العلی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی زیر سایہ ہوئی، دارالعلوم ندوۃ العلماء ، دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم کے نورانی ماحول میں تعلیم کی تکمیل ہوئی۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ کی شفقتوں نے اس میں مزید نکھار پیدا کر دیا ، مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی توجہات نے داعیانہ مزاج کی تشکیل کی اور مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ملی وقومی مسائل پر تحلیل و تجزیہ کا ہنر دیا اور مولانا عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے تزکیہ و تربیت سے قلب کو سلیم بنادیا۔
ندوۃ العلماء کی تدریسی خدمات سے لے کر اہتمام و نظامت تک کی ذمہ داریاں آپ نے انجام دیں، مسلم پرسنل لا بورڈ ، رابطہ ادب اسلامی کی صدارت آپ کے حصہ میں آئیں۔
آخر کار ملت اسلامیہ کا مرشد، علم وادب کا سر پرست ۱۳/اپریل ۲۰۲۳ ء کو اپنے خالق سے جاملا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
امتیازی خصوصیات
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ میں فکری توازن و اعتدال، علمی گہرائی ، دین کے لئے جانثاری، تصنیفی ذوق ، نرمی وتحمل مزاجی ، دیانت و تقوی یہ وہ خصوصیات ہیں جو آپ کو ورثہ میں ملیں اور آپ کی خاندانی امتیازات میں شامل ہیں لیکن تواضع وانکساری میں آپ کا کوئی ہم پلہ نہیں۔
اسی طرح دوسرے تمام علماء و مفکرین سے جو خصوصیت آپ کو ممتاز کرتی ہے وہ آپ کی عصری آگہی ہے، جس میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ، طوفان سے پہلے طوفان کو بھانپ لیتے ، ہوا کا رخ دیکھ کر بارش کا پتہ دیتے ، چہرہ دیکھ کر دل کی عبارت پڑھ لیتے۔
عصری آگہی میں معاون عناصر
حضرت مولا ناسید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے زیادہ قریب رہے اور ان کے اسفار میں برابر شریک رہے ہیں ، جس کی وجہ سے اہم شخصیتوں اور حکمرانوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کا کثرت سے موقع ملا ، اس لئے مولانا کو حقیقتِ حال اور مسائل کی نزاکت سے واقفیت کا جو موقع ملا وہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوا۔
آپ کے بڑے ماموں ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی رحمۃ اللہ علیہ نے نئے موضوعات پر خصوصا جدید علوم جغرافیہ وغیرہ پر مطالعہ و کام کرنے کے لئے ابھارا اور رہنمائی کی اور اس میدان کا ہیرو بنا دیا۔
اسی طرح عالم عربی کے ان ممتاز ادیبوں اور صحافیوں سے حضرت کا برابر ربط رہا جو ملت کا درد رکھتے تھے اور ملت کو پیش آنے والے مسائل اور خطرات ، ملت کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں سے واقف تھے، چونکہ تعلیم سے فراغت کے بعد ۱۹۵۱ء میں تقریبا ایک سال مستقل آپ نے وہاں قیام کیا اور وہاں کی بڑی شخصیات سے استفادہ کیا اور اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ان ممالک میں آتے جاتے رہے ، اس لئے وہاں کے حالات و مسائل کو سمجھنے میں بڑی آسانی ہوئی ، اور آپ خلیجی ممالک کے لئے خبیر و بصیر ہو گئے ۔
ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل سے واقفیت اور ان کے حل کے اسباب و وسائل کا علم بھی حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ سے منسلک رہنے اور ان کی صحبت و تربیت کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے سنِ شعور سے ہی برابر سیاسی و سماجی قائدین ، علماء و دانشوران ، ہر سطح کے لوگوں سے ملاقات و تبادلہ خیال کا برابر آپ کو موقع ملتا رہا ، اور یہ آپ کی ملی و عصری بصیرت و آگہی میں بڑا معاون ثابت ہوا۔
ندوہ کی آب و ہوا اور عربی واردو صحافت سے آپ کی وابستگی نے اس میں چار چاند لگا دیئے ، ایک جگہ مولانا تحریر فرماتے ہیں:
"ملکی و بیرونی جرائد و مجلات کے مطالعہ سے بہت فائدہ ہوا جو ثقافتی فکری اجتماعی سیاسی اور زمانہ کے حالات و تقاضے کو سمجھنے میں بہت معاون ہوا”۔ ( اوراق زندگی (١٠٤)
نیز آپ جس دور سے گزر رہے تھے وہ مشرقی ممالک کے مغرب سے آزادی کا وقت تھا ، آپ کے الفاظ میں "مغلوب ممالک کی یہ حالت کہ جیسے کوئی پرندہ اپنے قفس سے نکلنے کی امید میں زور لگاتا ہے ، اس حالت کو محسوس کرنے کا موقع مل رہا تھا۔”
عرب ممالک ، وہاں کے مسائل و حالات ، جغرافیہ وسماجی زندگی کو سمجھنے میں آپ کے لئے معاون وہاں کی زبان و ثقافت سے آپ کی دلچسپی بھی ہے، آپ نے اس کا اظہار بھی فرمایا:
"خاص طور پر عرب ممالک جہاں کی زبان و ثقافت میرا اصل موضوع تھا ، لہذا وہاں کے حالات سے مجھے واقف ہونے کا موقع مل رہا تھا” ( عالم عربی اور سامراجی نظام )
۱۹۵۹ء میں الرائد آپ نے نکالا اور اس میں حالات حاضرہ اور عالمِ اسلام ، خصوصا خلیجی ممالک کے حالات پر علمی و تحلیلی تبصرہ و تجزیہ کا سلسلہ شروع کیا جو وہاں بڑی وقعت کے ساتھ پڑھے جاتے تھے۔
عالمِ اسلام
خلیجی ممالک کی سیاسی تبدیلی ، سلاطین کی بے راہ روی ، ملک کی اقتصادی و دفاعی کمزوری ، اخلاقی انارکی پر حضرت صرف لکھتے ہی نہ تھے، بلکہ کڑھتے اور تڑپتے تھے اور پھر اسی خونِ دل کو تحریر کی شکل میں صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے ، رہبری و رہنمائی کرتے اور سامراجی طاقتوں کی چالبازیوں سے ہوشیار و متنبہ کرتے اور ان سے بچنے کی تدبیریں بتاتے، فلسطینی مسلمانوں اور بیت المقدس کے لئے برابر فکر مند رہتے ، اپنے مضامین و مشوروں کے ذریعہ اس کا حل بتاتے اور
بازیابی کی مثبت کوششوں میں شریک رہتے۔ ترکی کی بیداری اور وہاں کی حالیہ بہتری میں آپ کا بھی حصہ ہے۔
ترکی کے سلسلہ میں یہ شعر کوڈ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
مراکش جا چکا ، فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے
کہ جیتا ہے یہ ٹرکی کا مریض سخت جاں کب تک
"ترکی کا مریض سخت جاں بلب ہو چکا تھا اور آثار اچھے نہ تھے، لیکن خدا کی قدرت و حکمت کے سامنے سب ہیچ ہے ، وہ مردہ کو زندہ کر سکتا ہے، چنانچہ حالات نے کروٹ لینا شروع کیا اور ترکی کا قریب المرگ مریض صحت کی طرف مائل ہوتا نظر آنے لگا۔۔۔۔۔۔ ترکی عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل رہا ہے ، اسی دھڑکتے ہوئے دل کو یورپ کی اسلام دشمنی و دسیسہ کاریوں نے مردہ بنانے کی کامیاب کوشش کی تھی لیکن اب حالات پلٹ رہے ہیں۔” (عالم اسلام اور سامراجی نظام – ۱۳۸-۱۳۹)
مرشدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ اپنے وسیع مطالعہ و تجربے کی بنیاد پر حالات کی سنگینی کے باوجود کبھی مایوس نظر نہیں آتے۔ لکھتے ہیں:
"حقیقتا امت مسلمہ ابتلا و آزمائش کی بھٹی میں تپ کر کندن بن جائے گی
اسلام کی فطرت میں قدرت نے پچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے۔
مسلمانوں کی ترقی و عروج اور غلبہ کا وقت آ پہنچا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی وہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کر لیں گے اور عزت و وقار ، شان و شوکت کی بلندی پر فائز ہوں گے، جو ان کا طرہ امتیاز رہ چکا ہے۔” (عالمِ اسلام اور سامراجی نظام – ١٣٦)
آپ کا یقین تھا کہ دنیا دار الاسباب ہے ، یہاں کے انقلابات اور تبدیلیاں سب اسباب کے تابع ہیں ، اسی لئے ہمیشہ آپ ان اسباب و عوامل پر انگلی رکھتے جن کے ترک سے مسلمان شکست خوردگی اور پسپائی کا شکار ہوا ہے اور یورپ غالب آیا ہے اور ظاہری اسباب سے زیادہ معنوی اسباب کی طرف متوجہ کرتے جس میں ملک و معاشرہ کا ہر فرد مبتلا ہے، جو خدا کی ناراضگی اور اس کے قہر کو دعوت دیتے ہیں، چنانچہ ترکی کے آخری دور میں جبکہ وہ بہت مقروض تھا:”ترکی خلیفہ کے پاس یہودی نمائندہ گیا اور اس نے کہا کہ آپ کا جو قرض ہے ، ہم آپ کا سارا قرض ادا کر دیں گے، بس آپ ہم کو فلسطین ( بیت المقدس ) میں جگہ دیدیں ، ترکی خلیفہ کے ایمان کی بات ہے کہ یہ سنتے ہی ان کو دینی غیرت اتنی ہوئی کہ غصہ آگیا ، کہا : بیت المقدس تم کو دیدیں؟ کہا! اس کتے کو یہاں کون لایا ہے؟ نکالو اس کتے کو یہاں سے ، کہا! ہم فلسطین کی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑ سکتے ، یہ ہماری عزت اور دین کی علامت ہے۔
یہ تھی ایمان کی بات ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اسلامیت پر ہی ان کی مدد کی، صدیوں دنیا پر غالب رہے اور سب سے زیادہ طاقتور رہے۔(حالات حاضرہ اور مسلمان۔٢٩.٣٠)
ہندوستان کے مسائل اور حضرت کی حکمت عملی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ہندوستان کی تاریخ پر گہری نظر تھی ، اسلامی حکومت کے خاتمے اور انگریزوں کے غلبے کے اسبابِ ظاہری و معنوی سے خوب واقف تھے، آزادی کے بعد ہندوستان کے سنگین حالات کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کیا تھا، حضرت مدنی کے خاص شاگرد رہے تھے ، جمہوریت کی نزاکتوں اور کمزوریوں پر نگاہ تھی ، اقلیت واکثریت کی پیچیدگیوں سے اچھی طرح باخبر تھے، اسی وجہ سے ہندوستان کے موجودہ مسائل پر آپ بہت سنجیدہ تھے اور تعمیری و ٹھوس حکمت عملی اختیار کرتے تھے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسٹیج سے ہمیشہ لوگوں سے یہی مطالبہ بھی کرتے تھے، جبکہ ناواقف کوتاہ بیں لوگ اس کو دوسرے ناحیہ سے دیکھتے تھے اور جذباتیت کی وجہ سے ماحول خراب کرتے تھے۔ ایک جگہ آپ تحریر فرماتے ہیں:
"حقیقتِ احوال کے سلسلہ میں ہم کو سنجیدہ اور تعمیری انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اس میں صرف حق تلفی کرنے والوں کے خلاف محض آواز اٹھانے سے مسئلہ بہت کم حل ہوتا ہے، آواز اٹھانا غلط نہیں ، البتہ اس سے زیادہ ٹھوس عملی کوششوں کی ضرورت ہے، اس کے لئے ہم کو تعلیم کے نجی ذرائع اور ذرائع ابلاغ کا بھر پور استعمال اور ہم وطنوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کرنا چاہئے ۔ ( حالات حاضرہ اور مسلمان – ۲۱۵)
ایک بڑی حقیقت جو عموما لوگوں کے نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے اور بار بار ہمارے وقار کو مجروح کرتی ہے، وہ ہمارے مطالبہ کی عادت ہے، جو دشمن کو ہنسی اور زخم پر نمک چھڑکنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور برابر ہم زہر سے تریاق تلاش کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کرتے رہتے ہیں۔ حضرت اس حقیقت پر انگلی رکھتے ہیں:
"اقلیت کے افراد کو کمی سے سابقہ پڑتا ہے لیکن اس کمی کو اگر قانونی بنیاد پر وہ دور نہ کرا سکتے ہوں ( یا حکومت بالقصد اس کو پورا نہ کرنا چاہتی ہو ) تو اس کو اپنی نجی تدبیروں نیز توجہ اور فکر مندی سے پورا کر سکتے ہیں، دنیا کی بیدار مغز اور حوصلہ مند اقلیتیں اس ضرورت کو محسوس کرتی ہیں اور اپنی ملت کی ضرورتوں کے لئے اپنی نجی غیر حکومتی ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرگرم عمل ہوتی ہیں اور اپنی اس ہوشمندی سے اکثریت کے مقابلہ میں پیچھے نہیں رہتیں ، بلکہ بعض وقت آگے بڑھ جاتی ہیں ، اس کی مثالیں عہد حاضر میں بھی مختلف ملکوں میں دیکھی جاسکتی ہیں”(حالات حاضرہ اور مسلمان۔ ۲۱۳)
جب ہندوستان میں ایک خاص طبقہ کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کو تشدد پسند ثابت کرنے کی آخری کوشش کی گئی اور صاف ذہنوں کو بھی اس گندگی سے ان لوگوں نے نجس کر دیا اور اسلام کی غلط تصویر ہم وطنوں کے سامنے پیش کی جانے لگے تو حضرت بے چین ہو گئے اور ایک دو مضمون یا پمفلٹ نہیں بلکہ دو ضخیم کتابیں اپنی بیماری و صحت کی خرابی کے باوجود تیار کیں (۱) رہبرِ انسانیت (۲) قرآن رہبر کامل۔اور ہندی ،انگریزی میں اسے منتقل کراکے دانشوروں اور ہم وطنوں کے ذہن کو تبدیل کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔
صحافت
صحافت ہر زمانہ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے ، مولانا کی پوری زندگی اس سے وابستہ رہی ہے، شروع سے ہی عربی واردو جرائد و مجلات سے جڑے رہے ، صبح صادق لکھنو ، رضوان ، ندائے ملت، تعمیر حیات کے ذریعہ تشنگانِ علم کی پیاس بجھاتے رہے،اور ١٩٥٩ءمیں الرائد نکالنا شروع کیا اور البعث الاسلامی میں برابر لکھتے رہے اور اپنے آسان سنجیدہ علمی اسلوب سے اردو و عربی صحافت کو مالا مال کر دیا اور لوگوں کے ذہن و فکر کو بدلنے میں بڑا کام کیا اور ایک کامیاب و موثر ٹیم تیار کی ، اور دار العلوم ندوۃ العلماء میں آپ ہی کی نظامت میں صحافت کی باقاعدہ تدریس وٹریننگ کا شعبہ کھولا گیا۔
آپ ہمیشہ اس موثر میدان میں مغرب اور غیروں کے آگے رہنے اور اس کے ذریعہ لوگوں کے ذہنوں پر حکمرانی کرنے اور اپنے لوگوں کے پیچھے رہنے اور اس کی اہمیت کو نہ سمجھنے پر شکوہ کناں رہے اور لوگوں کو اس میدان میں آگے آنے پر آمادہ کرتے رہے اور ابھارتے رہے، لکھتے ہیں:
"اسی طرح ہم نے نہ اسلامی ممالک اور نہ غیر اسلامی ممالک میں ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے کی طرف توجہ دی ، اس میدان میں ہماری جدوجہد نہ ہونے کے برابر ہے”۔ (حالات حاضرہ اور مسلمان۔ ٤٦)
حضرت کے یہاں غیر سنجیدہ اور اشتہار کے لئے استعمال ہونے والی صحافت کا کوئی فائدہ نہیں، لکھتے ہیں :
"دیکھنے میں آیا کہ مسلمانوں کا اس وقت مزاج کام کرنے سے زیادہ نام کرنے کا بن گیا ہے ، جد و جہد سے زیادہ جد و جہد کا اعلان اور پروگرام پر عمل کرنے سے قبل اس کا بے تحاشا اعلان اپنا وطیرہ بنائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ حال یہ ہے کہ تجاویز پاس کر دینا اور بیانات دے دینا ہمارے لئے زیادہ آسان ہو گیا ہے، ہم زبان کے دھنی ہیں اور اسی میں ہم کو مزہ آتا ہے اور خوشی ہوتی ہے اور اسی کی واہ واہی کے لئے ہم بزمیں سجاتے ہیں، اگر ان تمام تجاویز و بیانات کو جمع کر لیا جائے تو ایک نیا ہمالہ تیار ہو جائے ۔۔۔ ہمارے پاس ذرائع ابلاغ نہیں ، ہم وہ لٹریچر نہیں تیار کر پا رہے ہیں جس سے دوسروں کو سمجھا سکیں اور اسلام کی خوبیوں کو سامنے لاسکیں”۔ (عالم اسلام اور سامراجی نظام۔(۲۵۳ ۲۵۲،۲۰۱)
نئے مسائل اور حضرت کی فکرمندی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ جہاندیدہ ، ہمہ گیر و ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے، عالمی تغیر و تبدیلی سے گہری واقفیت رکھتے تھے ،سائنس وٹکنالوجی کی ایجادات اور اس سے رونما ہونے والے مسائل کا اچھی طرح آپ کو اندازہ تھا ، اس کے لئے جہاں آپ نے فکری رہنمائی ورہبری فرمائی، وہیں فقہی رہنمائی بھی کی ، اسلامک فقہ اکیڈمی کے سیمیناروں میں شرکاء کو اجتہاد واستنباط پر ابھارتے اور رہنما خطوط واضح فرماتے ، اس کا اندازہ اسی میدان کے بڑے فقیہ خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے ان الفاظ سے ہم کر سکتے ہیں:
"اس حقیر کو ان سے پچھلے دنوں ندوہ میں ایک حاضری پر تھوڑی دیر فقہ کے موضوع پر گفتگو کرنے کا موقع ملا اور بہت دیر تک مولانا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تہذیب و ثقافت کے تغیر اور ثقافتی احوال کی تبدیلی سے احکام فقہیہ میں کیا تبدیلی آتی ہے اور بہت سی مثالیں اس سلسلہ میں دیں، تو واقعی مجھے ایسا لگا کہ مولانا کی شخصیت کے اندر ایک اور شخصیت چھپی ہوئی ہے” ( ندوۃ العلماء کا فقہی مزاج ۔ منور سلطان ندوی۔ ۳۳۳)
ایک سیمینار میں فرمایا:
"یہ موجودہ تمدن ہے اور موجودہ ترقی ہے، سائنس کی ترقی اس نے مسائل پیدا کئے ، انقلابی صورت حال پیدا ہو گئی، اس وقت ہم کو اس طرح کی نئی باتوں میں اجتہاد کرنے کی ضرورت پڑے گی” ( مقاصد شریعت – ۸۷)
اس ضرورت کو واضح کرنے کے بعد اس کے طریقہ کار کی بھی رہنمائی فرمائی:
"ہمارے اسلاف نے جو اجتہاد کیا ہے اور جو انہوں نے طریقہ کار اختیار کیا ہے، جو اصول مقرر کئے ہیں، اجتہاد و استنباط ان اصولوں کی بنیاد پر کرنا ہوگا ، اسی لائن پر چلنا ہو گا، اسی دائرہ کے اندر رہ کر کرنا ہو گا۔ (فقہ اسلامی اور عصر جدید ۔ ۳۵)
فقہ اکیڈمی کے ایک سیمینار میں دوران گفتگو سوال اٹھایا کہ:
"آلات ربط اور انٹرنیٹ انسانوں کی عام زندگی میں داخل ہو چکے ہیں اور ان سے اس طرح فائدہ اٹھایا جانے لگا ہے جس طرح آپس میں براہ راست رابطہ قائم ہونے کی صورت میں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شریعت اسلامی کی روشنی میں عقود و معاملات کو ان کے ذریعہ کسی حد تک عمل میں لایا جا سکتا ہے؟”(فقہ اسلامی اور عصر جدید – ۸۱)
قلب ماہیت کی مختلف صورتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
"فقہ اسلامی کو اس کے مختلف پہلوؤں اور شکلوں پر نظر ڈال کر شریعت اسلامی کی رہنمائی حاصل کرنا ہے۔” (فقہ اسلامی اور عصر جدید۔۸۲)
سودی نظام اور سودی بینک کاری جو اہم مسئلہ ہے اور جس میں ابتلاء عام ہے، اس کے مضرات کا تذکرہ کرنے کے بعد اس کا حل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"اس کے لئے رفاہی فنڈ یا مالی تعاون کے ادارے یا تجارتی طریقہ کار کے رکھنے والے توفیرِ مال کے ادارے قائم کرنے سے ایک خاصی حد تک وہ مقاصد پورے ہو سکتے ہیں ، جن سے بینک کاری سے مطلوب فوائد کے مساوی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور ان اداروں کے قیام سے اسلامی تصور کے مطابق ہمدردی و امداد کا مقصد بھی پورا ہو سکتا ہے، بیمہ اسکیموں کے بجائے مسلمان حکومت کے تعاون سے ایسی مالی تنظیمیں تشکیل دی جا سکتی ہیں جو بیمہ اسکیموں سے مطلوب فوائد کا اسلامی اور تعمیری بدل حسن بھی ہو سکتی ہیں۔
اس رخ پر اگر ہمارے علماء کرام اقتصادیات کے مسلمان ماہرین کے مشورہ سے یا اقتصایات کے ماہر مسلمان علماء کرام کے تعاون و مشورہ سے غور کریں تو نہایت صالح اور ستھرے نتائج برآمد ہونے کی بڑی توقع ہے۔ ( عالم اسلام اور سامراجی نظام۔١٧٤)
نفسیات کے ماہر اور حکمت و بلاغت کے پیکر
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ یقینا پیغمبر نہیں تھے کہ خطا کا امکان نہ ہو، لیکن اپنی گہری واقفیت، وسیع تجربه و دوراندیشی ، نفسیاتِ انسانی اور تاریخِ انسانی سے دلچسپی ، تہذیب و ثقافت کے عمیق مطالعہ کی وجہ سے ہمیشہ صحیح نتیجہ تک پہنچتے تھے اور اپنی تحریر و تقریر میں حکمت و بلاغت کی وجہ سے غلطی و چوک سے عموما محفوظ نظر آتے ہیں۔
اسی لئے جن اداروں اور تنظیموں کو آپ کی سر پرستی حاصل رہی وہ بھی ہمیشہ مثبت و تعمیری کاموں میں لگے رہے۔
آپ کی اس خوبی و کمال کو آپ کی تحریروں و تقریروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جذباتیت و شدت سے پاک اور حکمت و موعظت کا شاہکار ہیں۔ خصوصا آپ کی کتاب ”سماج کی تعلیم و تربیت” کا مطالعہ آپ کی نفسیات پر گہری نظر کو آشکار کر دیتا ہے۔
جغرافیہ
اس وقت صفِ علماء میں حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علمِ جغرافیہ پر جس قدر عبور حاصل تھا ، وہ کسی اور کو حاصل نہیں تھا ، اس سے قبل ڈاکٹر عبدالعلی صاحب کو اس میں امتیاز حاصل تھا اور آپ نے اس میدان میں مہارت ان ہی کی رہنمائی میں حاصل کی اور مسلسل تین سالوں تک محنت کرتے رہے اور پھر اسی محنت کا ایک جزء "جزیرة العرب” وجود میں آیا جو نصابِ تعلیم کا حصہ بنا اور تاریخ وسیرت کے طالب علموں کا مرجع ۔
"حج و مقامات حج” بھی اسی سلسلہ کا تتمہ ہے اور "سمرقند و بخارا کی بازیافت” جو ایک سفرنامہ ہے، لیکن ان تاریخی علاقوں کا طبعی و عمرانی جغرافیہ بھی۔
جغرافیہ کا علم کسی علاقہ اور وہاں کے لوگوں کو سمجھنے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور بغیر اس علم کے وہاں کی تہذیب و ثقافت کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے ، حضرت کو چونکہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت و جانشینی حاصل تھی اور پورے عالم میں کام کرنا تھا ، اس لئے اس کو موضوع بنایا اور اس کے ذریعہ پوری ملت اسلامیہ کی رہنمائی ورہبری کا کام لیا۔
حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے "ارض القرآن” لکھ کر ملت اسلامیہ پر جس طرح ایک بڑا احسان کیا اسی طرح حضرت نے جغرافیہ کو موضوع بنا کر اور قیمتی تصنیفات چھوڑ کر مسلمانوں پر عظیم احسان کیا ، حضرت نے اس علم کی طرف سے غفلت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے :
"افسوس کی بات ہے کہ اس ضرورت کو پورا کرنے والا علم جو جغرافیہ کے نام سے موسوم ہے، کم از کم عالم اسلام کے جغرافیہ کی حد تک بھی بہت کم مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہے”۔ (بین الاقوامی اسلامی جغرافیہ، الیاس بھٹکلی ندوی ، مقدمہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ)

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی
ہیرا جو نایاب تھا

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 3, 2026
  • 0 Comments
شبلی روایت اور تجدید کا معیار

شبلی: روایت اور تجدید کا معمار از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ عربی اور اردو کے معتبر ادیب، عالم اور داعی، مولانا محمد یوسف صدیقی ندوی بھوپالی نے درجِ ذیل استفسار فرمایا: فضیلت مآب ڈاکٹر صاحب السلام علیکم، علامہ شبلی نعمانی کی عبقری شخصیت، جو جامع الکمالات، ہر فن مولیٰ تھی، بلکہ وہ تو جدت و تخلیق، ابداع وایجاد کے امام تھے مگر برصغیر کے علماء نے وہ مقام نہیں عطا کیا جس کے وہ حق دار تھے – اس کے پس پردہ کیا عوامل و محرکات کار فرما تھے ۔ اس کا منصفانہ جواب عنایت فرمائیے – بہت شکریہ جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے ایک نہایت دقیق، منصفانہ اور تاریخِ افکار سے گہرا تعلق رکھنے والا سوال اٹھایا ہے۔ اس کا جواب جذبات کی سطح پر نہیں، بلکہ تاریخ، فکر اور علمی روایت کے تناظر میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ کہنا درست نہیں کہ علامہ شبلی نعمانیؒ کو سرے سے ان کا مقام نہیں ملا؛ صحیح بات یہ ہے کہ ان کی شخصیت کی وسعت، ان کے افکار کی ہمہ گیری اور ان کی خدمات کی گہرائی کا وہ جامع اور ہمہ گیر اعتراف نہ ہوسکا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ اس کا سبب ان کی علمی قامت میں کوئی کمی نہ تھی، بلکہ وہ خود اپنے عہد کے پیمانوں سے بلند تھے۔ بعض شخصیتیں زمانے کی پیداوار ہوتی ہیں اور بعض زمانے کے معیار بدل دیتی ہیں؛ شبلیؒ دوسری قسم کی شخصیت تھے۔ وہ اپنے دور کے محض شارح نہ تھے، بلکہ اس کے معمار تھے؛ محض وارث نہ تھے، بلکہ تجدید و تخلیق کے امین تھے۔ برصغیر کی فکری تاریخ میں شبلیؒ کی مثال اس دریا کی سی ہے جو قدیم پہاڑوں کے دامن سے نکلتا ہے، اپنے سرچشموں سے وفادار بھی رہتا ہے اور نئی زمینوں کو سیراب بھی کرتا ہے۔ ان کی شخصیت میں روایت کی گہرائی، تحقیق کی وسعت، تنقید کی بصیرت، ادب کی لطافت، تاریخ کا شعور، تعلیم کی اصلاح اور اجتہاد کی جرأت ایک ایسے حسین امتزاج کے ساتھ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 3, 2026
  • 0 Comments
اہل بیت اور اہل سنت

اہل بیت اور اہل سنت (دوسری قسط) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  آپ ﷺ نے عمومی طور پر اہل بیت کی جو فضیلت بیان فرمائی ہے ، اس کے بعد کسی صاحب ایمان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اہل بیت کی ناقدری کرے ، یا ان کی شان میں بدگوئی کرے ، حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے مکہ ومدینہ کے درمیان مقام خُم میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارے درمیان دو بہت ہی وزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ایک : کتاب اللہ ، جس میں ہدایت اور روشنی ہے ؛ لہٰذا تم کتاب اللہ کو پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رہو ، دوسرے : میرے اہل بیت ، پھر آپ نے تین بار فرمایا : میں تم کو اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، (مسلم عن زید بن ارقم: ۲۴۰۸) حج کے کثیر مجمع میں یوم عرفہ کو بھی آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تم لوگوں کے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر ان کو پکڑے رہے تو گمراہ نہ ہوگے ، ایک : کتاب اللہ ، دوسرے : میرا خاندان یا میرے اہل بیت ۔ (ترمذی عن جابر بن عبداللہ: ۳۷۶۶) علماء اہل سنت والجماعۃ نے ہمیشہ اہل بیت کو اپنی آنکھوں کا نور بنایا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خلیفۂ راشد کہا ، اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے بارے میں یہ نقطۂ نظر رکھا کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ وہ خطا پر تھے ؛ البتہ یہ اجتہادی خطاء تھی ، اور اجتہادی خطاء قابل گرفت نہیں ہوتی ، اوراس کی بناء پر طعن نہیں کیا جا سکتا ، اسی طرح حضرت معاویہؓ کی طرف سے یزید کی جانشینی بھی ان کی ایک اجتہادی خطاء تھی ، جہاں تک یزید کی بات ہے تو اُمت کے کسی معتبر عالم نے اس کی بادشاہت کو برحق قرار دینے کی کوشش نہیں کی ؛ بلکہ سلف صالحین…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد 10.07.2026
  • مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش 10.07.2026
  • میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل 09.07.2026
  • آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی 09.07.2026
  • نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار) 09.07.2026
  • فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیں 05.07.2026
  • شبلی روایت اور تجدید کا معیار 03.07.2026
  • اہل بیت اور اہل سنت 03.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد
مضامین و مقالات

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش
اسلامیات

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل
مضامین و مقالات

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از :  شان محمد ندوی
فقہ و اصول فقہ

نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
مضامین و مقالات

فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیں

  • hira-online.com
  • جولائی 5, 2026
سیرت و شخصیات

شبلی روایت اور تجدید کا معیار

  • hira-online.com
  • جولائی 3, 2026
سیرت و شخصیات

اہل بیت اور اہل سنت

  • hira-online.com
  • جولائی 3, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top