اسراء ومعراج کے مضمرات
محمد اعظم ندوی
تاریخ انسانی کے طویل دھارے میں ایسے لمحے کم آتے ہیں جب زمان ومکان کے بندھن ٹوٹتے ہیں اور حقیقت کا آئینہ بے نقاب ہوتا ہے، اسراء ومعراج کا واقعہ سیرت کا ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے جب زمین وآسمان کے درمیان فاصلے سمٹ گئے اور ایک بندۂ خاکی نہاد ومولا صفات کو خدائے بزرگ وبرتر کا قرب خاص نصیب ہوا، یہ محض ایک جسمانی نقل مکانی یا خواب کی کوئی رومانوی داستان نہیں، بلکہ امت محمدیہ ﷺ کی فکری، روحانی اور اخلاقی تشکیل کا سرچشمہ اور انسانیت کے مقام ومرتبے کا آفاقی اعلان ہے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: "یہ دونوں سورتیں سورۂ اسراء اور سورۂ نجم جو واقعۂ معراج کے سلسلہ میں نازل ہوئیں، یہ اعلان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں قبلوں (مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ) کے نبی اور دونوں سمتوں مشرق ومغرب کے امام اور اپنے پیش رو تمام انبیاء کرام کے وارث اور بعد میں آنے والی پوری نسل انسانی کے رہبر ورہنما ہیں، آپ کی شخصیت اور آپ کے سفر معراج میں مکہ بیت المقدس سے اور مسجد حرام مسجد اقصی سے ہم آغوش ہوگئی، آپ کی امامت میں تمام انبیاء نے نماز پڑھی، اور یہ دراصل آپ کے پیغام ودعوت کی عمومیت وآفاقیت، آپ کی امامت کی ابدیت اور ہر طبقۂ انسانی کے لیے آپ کی تعلیمات کی ہمہ گیری وصلاحیت کی دلیل وعلامت تھی، یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت کا صحیح تعارف اور اس کی صحیح نشان دہی، آپ کی امامت وقیادت کا بیان، آپ کی اس امت (جس میں آپ مبعوث ہوئے) کے اصل مقام وحیثیت عرفی کا تعین اور اس پیغام ودعوت اور مخصوص کردار کی پردہ کشائی کرتا ہے، جو اس امت کو اس وسیع وعریض دنیا اور عالمی برادری میں انجام دینا ہے” (نبی رحمت، ص191)
قرآنِ حکیم نے اس داستانِ حقیقت کا آغاز لفظ "سُبْحَانَ” سے کیا، ایسا لفظ جو پاکیزگی، تقدیس اور تنزیہ کا پیکر ہے، گویا پہلے ہی اشارے میں یہ بتا دیا گیا کہ جو کچھ پیش آنا ہے وہ انسانی پیمانوں اور معمول کے ادراک سے ماورا ہے، یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا جسے عقل کی ترازو میں تولا جا سکے، بلکہ یہ خدائی قدرت کا وہ جلوہ تھا جو رب کریم اپنے محبوب ﷺ کو دکھانا چاہتا تھا، اور پھر اس محبوب کو "عبْدہ” کہہ کر پکارا—”اپنے بندے کو”، اس میں ایک لطیف نکتہ پنہاں ہے: معراج جیسی عظیم الشان سعادت کا راز کسی دعوے یا تفاخر میں نہیں، بلکہ کامل اور مخلصانہ عبودیت میں ہے، گویا بلندی تک پہنچنے کی شرط ہی یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی میں اتنا گم ہو جائے کہ اس کی ذات، خواہش اور انانیت پردہ بننے سے رہ جائے۔
مکہ معظمہ سے بیت المقدس تک کا سفر بظاہر ایک جغرافیائی مسافت کو طے کرنے سے عبارت تھا، مگر درحقیقت یہ تاریخِ انبیاء کا ایک زندہ مرقع تھا، مسجد اقصیٰ وہ مقدس مقام ہے جو انبیائے کرام علیہم السلام کے قدم مبارک سے منور اور معطر ہے، وہاں ان کی دعائیں جذب ہوئیں اور ان کے سجدے ثبت ہوئے، نبی اکرم ﷺ کا اس سرزمین پر تشریف لانا اور تمام انبیاء کا نماز با جماعت میں امام بننا محض ایک رسمی اجتماع نہ تھا، بلکہ یہ ایک علامتی اور تاریخی اعلان تھا کہ ہدایت کی مشعل، جو ہر دور میں انبیاء کے ہاتھوں روشن رہی، اب اپنے آخری اور کامل وارث تک پہنچ چکی ہے، یہ گویا رسالت محمدیہ ﷺ کی عالمگیر اور جامع حیثیت پر مہر تصدیق ثبت کرنا تھا، یہ واقعہ امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم امانت بھی تھا کہ جس سرزمین کو رسولِ خدا ﷺ نے اپنے قدموں سے سرفراز فرمایا، وہ محض ایک قطعۂ زمین نہیں، بلکہ ایمان کی نشانی، توحید کا مرکز اور تاریخ اسلام کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، بیت المقدس سے جذباتی، فکری یا عملی طور پر کٹ جانا، درحقیقت اپنی روحانی وراثت، اپنی شناخت اور اپنی تاریخ سے بیگانگی کے مترادف ہے۔
معراج کا سفر رات کے سناٹے میں ہوا، یہ انتخاب محض اتفاق نہ تھا، رات وہ وقت ہے جب دنیا کی ہلچل تھم جاتی ہے، بازاروں کی رونقیں ماند پڑتی ہیں اور انسان اپنے آپ سے روبرو ہوتا ہے، یہی وہ گھڑی ہے جب دل کی زبان سے نکلی ہوئی فریاد بہتر طور پر سنی جا سکتی ہے، رب کریم نے اپنے حبیب ﷺ کو اسی وقت بلایا جب زمین خاموش تھی، تاکہ آسمان کی بے آواز سرگوشیاں پورے وقار کے ساتھ سنی جا سکیں، یہ سفر محض روحانی نہ تھا، بلکہ جسم وروح دونوں کے ساتھ طے ہوا، اس میں ایک گہری حکمت پنہاں تھی، یہ دکھانا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مادہ اور روح، جسم اور جان، زمین اور آسمان سب یکساں طور پر مسخر ہیں، وہ چاہے تو مٹی کے پیکر کو نور بنا دے، فاصلے کو قربت میں بدل دے اور لمحے کو سرمدی تجربے میں تبدیل کر دے۔
جب حضور ﷺ آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے تو ہر آسمان پر کسی نہ کسی برگزیدہ نبی سے ملاقات ہوئی، یہ محض تعارفی ملاقاتیں نہ تھیں، بلکہ یہ تسلسل نبوت کا ایک زندہ اظہار تھا، ہر نبی گویا رسول اکرم ﷺ کو یہ بتا رہے تھے کہ جس راستے پر آپ ﷺ چل رہے ہیں، آپ تنہا نہیں، اس پر پہلے بھی حق کے قافلے گزر چکے ہیں، آدم علیہ السلام کی جلاوطنی، یوسف علیہ السلام کی آزمائش، موسیٰ علیہ السلام کی سرکش قوم، عیسیٰ علیہ السلام کی مظلومیت اور ابراہیم علیہ السلام کی توحید کی جدوجہد—یہ سب درحقیقت سرور دو عالم ﷺ کی زندگی میں آنے والے مراحل کی جھلکیاں تھیں، ان ملاقاتوں میں ایک طرف تو تسلی کا پہلو تھا کہ آپ ﷺ تنہا نہیں ہیں، اور دوسری جانب یہ ذمہ داری کا احساس بھی تھا کہ جو امانت پہلے ان برگزیدہ ہستیوں کے ہاتھوں میں تھی، اب اور کامل ومکمل شکل میں آپ ﷺ کے سپرد ہے۔
معراج کا سب سے قیمتی اور عملی تحفہ نماز ہے، جو زمین پر نہیں بلکہ آسمان دنیا سے بلند تر مقام پر فرض ہوئی، یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ بندے اور رب کے درمیان تعلق محض ایک نظریاتی یا تاریخی رشتہ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ، متحرک اور روزانہ کا روحانی مکالمہ ہے، پچاس نمازوں سے پانچ پر تخفیف محض ایک عددی کمی نہیں، بلکہ رحمت خداوندی کی وسعت اور بندے پر شفقت کا اظہار ہے، اجر وثواب وہی رہا، مشقت کم کر دی گئی، تاکہ بندہ بوجھ کے احساس کے بجائے محبت اور شوق سے اپنے رب کے سامنے جھکے، نماز دراصل ہر مومن کی اپنی روزانہ کی معراج ہے، یہ وہ مقدس لمحہ ہے جب انسان دنیا کی خاک آلودگی سے اٹھ کر خدا کے حضور کھڑا ہوتا ہے، اپنی تمام تر کمزوریوں، حاجتوں اور التجاؤں کے ساتھ، جو شخص نماز کو زندہ رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کی روحانی توانائی کو بھی زندہ رکھتا ہے، اور اس کے عروج کا سفر جاری رہتا ہے۔
اس رات نبی کریم ﷺ کو جنّت ودوزخ کے مناظر دکھائے گئے، اور مختلف اعمال کرنے والوں کی حقیقی صورتیں بھی آشکار ہوئیں، جو لوگ دنیا میں گناہوں کو ہلکا سمجھتے ہیں، وہاں اس کی بدبو، اس کی کراہیت اور اس کی ہولناکی بے نقاب ہوئی، زنا، غیبت، سود، ظلم اور بے حیائی کی تصویریں محض ڈرانے کے لیے نہ تھیں، بلکہ یہ جاننے کے لیے تھیں کہ اخلاقی بگاڑ صرف ایک سماجی یا انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک کائناتی خرابی ہے جو انسان کے اندرون میں تعفن پیدا کردیتی ہے، یہ مناظر دراصل بصیرت کا دروازہ کھولتے ہیں، تاکہ انسان اپنے انجام کو دیکھ کر اپنے حال کو سنوار سکے۔
یہ بھی غور طلب امر ہے کہ معراج کا یہ اعزاز اس وقت عطا ہوا جب زمینی زندگی میں دکھوں اور مصائب کا ایک لا متناہی سلسلہ تھا، طائف کے پتھر، قریش کی تمسخر آمیز آوازیں، اپنوں کی بے رخی اور مخالفتوں کا طوفان، یہ سب ابھی تازہ تھے، ایسے میں آسمان کے دروازے کھلے اور رسولِ خدا ﷺ کو وہ مقام دیا گیا جس کا تصور بھی مشکل تھا، یہ درحقیقت یہ اعلان تھا کہ جو اللہ کی راہ میں ٹوٹتا ہے، وہی اس کی قربت میں سجایا جاتا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا بے تردد اور فوری ایمان لانا ("اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو سچ کہا ہے”) اس واقعے کی سب سے قیمتی اخلاقی گونج ہے، وہ ایمان جو دلیل وثبوت کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ محض رسول کی صداقت پر موقوف ہوتا ہے، وہی اصل روحانی دولت ہے۔
اسراء ومعراج کا اہم پیغام یہ بھی ہے کہ دین محض چند رسومات، تہواروں یا یادگاروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ بندگی، اخلاق، ذمہ داری اور روحانی بیداری کا ایک مکمل نظام حیات ہے، یہ واقعہ ہمیں بلاتا ہے کہ ہم اپنی نماز کو محض حرکات کا ایک سلسلہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی روحانی معراج بنائیں، اپنی سچائی کو مضبوط کریں، اپنے اخلاق کو سنواریں، اور اپنی تاریخ وروایت سے جڑے رہیں، اگر ہم نے معراج کی اس روح کو پا لیا، تو پھر آسمان آج بھی ہمارے لیے اجنبی نہیں رہتے؛ کیونکہ معراج کا واقعہ تو ایک رات میں مکمل ہو گیا، لیکن روحانی بلندیوں کی طرف سفر کی راہ قیامت تک ہر اس شخص کے لیے کھلی ہے جو اپنے رب کی تلاش میں ہے، یہ سفر آج بھی جاری ہے، بس ضرورت ہے تو اسے پہچاننے اور اس پر چلنے کے عزم مصمم کی، خدا اس امت کی مشکلیں آسان فرمائے۔