مطالعۂ کتب
خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف
اسجد حسن ندوی
انسانی زندگی کے تمام رشتوں میں ازدواجی رشتہ سب سے زیادہ نازک، گہرا اور اثر انگیز ہوتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس پر ایک فرد کے ذہنی سکون، جذباتی توازن اور معاشرتی استحکام کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اسلام نے ازدواجی زندگی کو محض جسمانی یا سماجی ضرورت قرار نہیں دیا بلکہ اسے سکونِ قلب، مودّت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔
ازدواجی زندگی اگر فہم، برداشت، اخلاص اور باہمی احترام کے ساتھ گزاری جائے تو یہ انسان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت بن جاتی ہے، لیکن اگر اس میں غفلت، خود غرضی اور بداعتمادی داخل ہو جائے تو یہی رشتہ دلوں کا بوجھ اور زندگی کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔
موجودہ دور میں تیز رفتار زندگی، مادّی ترجیحات، ناپختگی اور دینی اقدار سے دوری نے ازدواجی تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ازدواجی زندگی کے حقیقی مفہوم کو سمجھا جائے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں میاں بیوی کے حقوق و فرائض، باہمی رویّوں اور اختلافات کے حل کو واضح کیا جائے۔
"خوش گوار ازدواجی زندگی” اسی ضرورت کو سامنے رکھ کر تصنیف کی گئی ایک نہایت اہم اور مفید کتاب ہے۔ اس میں ازدواجی زندگی کے بنیادی اصول، میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض، جذباتی و نفسیاتی تقاضے، اختلافات کے اسباب اور ان کے حل کو نہایت سادہ، مدلل اور عملی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب محض نصیحتوں پر مشتمل نہیں بلکہ ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے قابلِ طریقوں سے واقف کراتی ہے ۔
کتاب کے مصنف ڈاکٹر مامون مبیض انسانی نفسیات اور خاندانی نظام کے ماہر ہیں ۔ انہوں نے ازدواجی زندگی کو ایک فطری اور نفسیاتی رشتہ سمجھتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کا گہرا اور حقیقت پسندانہ مطالعہ پیش کیا ہے۔ ان کا اسلوب علمی ہونے کے ساتھ ساتھ تجزیاتی اور عام فہم ہے، جو قاری کو غور و فکر اور خود احتسابی پر آمادہ کرتا ہے۔
اس اہم کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی نے کیا ہے، جو ایک صاحبِ علم، سنجیدہ اور باصلاحیت مترجم ہیں۔ انہوں نے ترجمہ کرتے وقت صرف لفظی ترجمہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ معنی، مفہوم اور روانی کا خاص خیال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ترجمہ پڑھتے ہوئے کہیں بھی اجنبیت یا تصنع محسوس نہیں ہوتا بلکہ متن نہایت سلیس، رواں اور مؤثر پیرایے میں سامنے آتا ہے۔ مترجم نے اردو داں طبقے کی ذہنی سطح اور معاشرتی پس منظر کو مدنظر رکھ کر ترجمہ کیا ہے، مصنف کے پیشِ نظر سماج کے بجائے متعدد مقامات پر اپنے ملک و سماج کو سامنے رکھ کر مثالوں میں ردو بدل سے کام لیا ہے، جو ان کی علمی بصیرت کا واضح ثبوت ہے۔
یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے نہایت مفید ہے جو اپنی ازدواجی زندگی کو خوش گوار، پُرسکون اور بامقصد بنانا چاہتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ازدواجی زندگی محض ساتھ رہنے کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، عبادت اور امانت ہے، جسے اگر صحیح رعایت اور اسلامی اقدار اور نفسیاتی اصولوں کے ساتھ نبھایا جائے تو یہی زندگی دنیا کی سب سے بڑی نعمت بن سکتی ہے۔
اس کتاب کے مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی صاحب اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
” یہ کتاب مرد و عورت کی نفسیات ، خصوصیات، مزاج اور ضرورت سے واقف کراتی ہے۔ یہ کتاب مشکلات کو حل کرنے کے طریقے سکھاتی ہے۔ مفاہمت و یکسانیت و ہم آہنگی پیدا کرنے کے گُر بتاتی ہے۔ اختلافات کو برتنے ، Adjust کرنے اور انھیں حل کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ زندگی کو پرسکون اور خوش گوار بنانے، ایک دوسرے کی قدر اور احترام کرنے، ایک دوسرے کا شکر گزار رہنے کے فائدوں سے واقف کراتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل کس طرح بڑی جنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں، محبت کیسے نفرت میں بدل جاتی ہے، مسائل کس طرح پیچیدہ ہو جاتے ہیں، جذبات میں اتار چڑھاؤ کیوں اور کیسے آتا ہے، رائی کو پہاڑ کیسے بنایا جاتا ہے۔ آج کی زندگی کے مسائل کیا ہیں؟ ذمہ داریاں کس طرح اٹھائی اور تقسیم کی جاتی ہیں؟ یہ کتاب مسائل کی تہہ میں اتر نا سکھاتی ہے، دائمی علاج کے نسخے فراہم کرتی ہے، الفاظ و تعبیرات کا انتخاب و استعمال سکھاتی ہے۔ یہ کتاب تبدیلی کے عمل کو بہت آسان بنا کر پیش کرتی ہے” ( خوشگوار ازدواجی زندگی ( عرض مرتب ) :15 )
مقصد ترجمہ کے بارے میں مترجم لکھتے ہیں کہ : ” اردو میں اس موضوع پر کتابیں ہیں، لیکن بہت کم ہیں، بلکہ صحیح معنوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بڑھتے ہوئے خاندانی مسائل کا تقاضا ہے کہ اس موضوع کو عام کیا جائے ، لٹریچر تیار کیا جائے، ورکشاپ کیے جائیں، کاؤنسلنگ سینٹر قائم کیے جائیں ۔ یہ کتاب خود اسی فکر کا نتیجہ ہے، اور اسی لیے بہت سے خاندانی مسائل کو سلجھانے اور اس سلسلے کی بہت سی نفسیاتی الجھنوں کو دور کرنے میں بڑی معاون ہے ،بلکہ اپنی عملی اور تطبیقی مثالوں کی وجہ سے دوسری کتابوں سے زیادہ مفید اور کارآمد ہے” ( خوشگوار ازدواجی زندگی: ص : 18)
الغرض کتاب میں ازدواجی زندگی کے آغاز سے لے کر اختلافات، گفت و شنید، محبت، قربت، غصہ، برداشت، حسد، بدگمانی، اعتماد، مالی مسائل، گھریلو ذمہ داریاں اور باہمی احترام جیسے اہم موضوعات کو مرحلہ وار اور منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر مسئلے کے ساتھ اس کا حل، طریقۂ کار اور عملی رہنمائی بھی دی گئی ہے، جس سے یہ کتاب شادی شدہ جوڑوں کے ساتھ ساتھ شادی کے خواہش مند افراد کے لیے بھی نہایت مفید بن جاتی ہے۔