خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔
اردو ترجمہ: تحفۃُ النُّبَلاء فی جماعۃ النساء
مصنف: علامہ محمد عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ۔
ترجمہ، تحقیق و تعلیق: محمد شمس قمر صاحب۔ ناشر:حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم وقف، دیوبند۔
از : مولانا آدم علی ندوی
ابھی چند دن قبل دارالعلوم وقف دیوبند میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ پر ایک نہایت کامیاب سیمینار منعقد ہوا، جس کی دھوم اور چرچا پورے ملک میں رہی۔ اس کے حسنِ انتظام اور کامیابی کے تذکرے ہر زبان پر تھے۔ اس سیمینار کا ایک اہم حصہ نئی مطبوعات کا اجرا بھی تھا۔ منتظمینِ سیمینار نے اپنے مہمانوں کو حجۃ الاسلام اکیڈمی کی نئی مطبوعات بڑی تعداد میں پیش کیں۔
ہمارے ادارہ سے مہتمم مدرسہ اور مدیر ندائے اعتدال محترم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی صاحب نے اپنے مقالہ کے ساتھ شرکت فرمائی اور ایک نشست، بلکہ پہلی نشست کی کامیاب اور ذمہ دارانہ نظامت بھی کی۔ آپ نے حسب سابق ہدیہ میں ملی اکثر کتابیں مدرسہ کی لائبریری کو ہدیہ کیں۔ وہیں سے میں نے اس نئی کتاب کو حاصل کیا اور مطالعہ شروع کیا۔حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب کے حمد وسپاس، ڈاکٹر محمد شکیب صاحب کی تقریظ اور مفتی امانت علی صاحب کے مقدمہ سے گزرتے ہوئے جب اصل کتاب کے تین ابواب تک پہنچا تو اردو ترجمہ، دلائل اور علامہ لکھنویؒ کے جوابات پڑھ کر بے حد مسرت ہوئی۔ بار بار اس کتاب کی اشاعت پر مولانا شکیب صاحب اور ترجمہ و تعلیق پر محمد شمس قمر صاحب کے لیے دعائیں دل سے نکلتی رہیں اور اچھے جذبات دل میں جگہ بناتے رہے۔البتہ "ضمیمہ” کا حصہ پڑھ کر پہلی سی کیفیت برقرار نہ رہ سکی اور نہ صرف احساسات بدلے بلکہ کچھ تکدربھی ہوا ۔
اس وقت جبکہ برصغیر کے بیشتر علمی و دینی چمن مرجھا رہے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بہت سے ادارے آخری سانسیں لے رہے ہیں، ایسے نازک دور میں چمنستانِ قاسمی، دارالعلوم وقف دیوبند، مسلسل ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ سیمینار، نئی مطبوعات اور تحقیقی سرگرمیاں اس کی کھلی شہادت ہیں۔ نیز وہ مسائل جنہیں بعض حلقوں میں تفرد یا بغاوت سمجھا جاتا ہے، ان پر تحقیقی و علمی انداز میں کام کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ تحقیق کا دائرہ وسیع تھا اور آئندہ مزید وسیع ہوگا۔
تقلید کے نام پر برصغیر کے اہلِ علم پر جو جمود طاری ہو چکا ہے، اس کے سبب اجتہاد و استخراج کو جرم یا بغاوت سمجھا جانے لگا ہے، امید ہے کہ اس کا یہ بندھن ٹوٹے گا۔ شکیب صاحب اور وقف کے اساتذہ و ذمہ داران اس کتاب کی اشاعت پر بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں، اور مترجم محمد شمس قمر صاحب کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں ہیں۔
کتاب کے مندرجات سے قبل اس کا سرِورق قابلِ دید ہے۔کتاب اچھی ترتیب، عمدہ تزئین اور حسنِ سلیقہ کا بہترین نمونہ ہے۔ محقق بھی قابلِ مبارکباد ہیں کہ تحقیق کا انداز بالکل کھرا ہے: مصنف کا تعارف، مصادر کی تخریج، مناسب توضیحات، درمیان میں خلاصے، اور ذیلی عنوانات—یہ سب کام۔ بالخصوص آسان اور عام فہم ترجمہ کے لیے قابلِ تحسین ہیں۔ صاحبِ تحفۃُ النُّبَلاء کا مختصر مگر جامع تعارف بھی ابتدا ہی میں شامل کیا گیا ہے۔
علامہ لکھنویؒ مسئلۂ امامۃ النساء میں جس اعلیٰ معیار کے اسلوب اور تحقیق کو اختیار کرتے ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ محض "تفرد” یا "اجتہاد کا نشہ” کہہ کر دامن جھاڑنے سے کام نہیں چلتا، اگر دلیل کی روشنی میں پیش کیے گئے اجتہاد کو رد کرنا ہے تو واضح علمی رد پیش کیا جائے، ورنہ محض لکیر پیٹتے رہنا اور "مکروہِ تحریمی” سے ایک انچ بھی نیچے نہ آنا علمی رویّہ نہیں۔
البتہ "ضمیمہ” میں بعض مفتیانِ کرام نے معمولی نرمی دکھائی ہے، مگر مجموعی طور پر سختی غالب ہے۔ اگرچہ اس حصے میں چند دیگر مفید مسائل بھی شامل کیے گئے ہیں، لیکن وہ اس کتاب کے علمی معیار کے شایانِ شان معلوم نہیں ہوتے۔ آخر میں خواتین کے مسجد میں جانے کا مسئلہ اپنی جگہ درست اور مسلّم ہے، مگر اس تحقیق وتعلیق کے ساتھ جس اندازِ بیان کے اقتباسات شامل کئے گئے ہیں، وہ محلِ نظر ہیں۔مثلا”۔۔۔۔۔۔میں کہتا ہوں، آج کے دور کے اہلِ حدیث اس حدیث کو بنیاد بنا کر اپنی عورتوں کو عیدگاہ لے جاتے ہیں، اور وہ زینت کے لباس پہنتی ہیں، حالانکہ عوام ان عورتوں کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔اِنّا للہ و اِنّا الیہ راجعون۔۔۔اہلِ حدیث ظاہر پرست لوگ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتے، لہٰذا اس سے خبردار رہنا چاہیے۔” (صفحہ 126)اسی طرح!”۔۔۔۔۔۔لیکن آج کل کے مدعیانِ عمل بالحدیث لوگوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ عورتوں کا جماعتوں میں جانا، عیدین میں حاضر ہونا سنت ہے، بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے۔۔۔” (صفحہ 131)
یہ باتیں اپنے مقام و محل میں درست اور مسلم ہو سکتی ہیں، لیکن یہ جارحانہ اسلوب اس علمی کتاب کے شایانِ شان نہیں۔یوں بھی علم تحقیق کی دنیا میں یہ اسلوب بھونڈا ہے ، ممکن ہے کہ صاحب عبارت کےمخاطب یہاں کے اہل حدیث ہوں، لیکن حرمین سے لے کر یورپ جہاں کہیں مسلمان بستے ہیں ، بر صغیر ہندو پاک اور بنگلہ دیش کے علاوہ ہر جگہ عورتوں کے مسجد جانے کا عام رواج ہے ، اور کہیں سے بھی بھونڈی اور فحش خبر نہیں ملتی ، یہ کہنا انتہائی جرأت کی بات ہے کہ "عوام ان عورتوں کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں ” برصغیر میں بھی اہل حدیث اور جماعت اسلامی کے حلقوں میں خواتین مسجد جاتی ہیں لیکن کوئی بری خبر کجا : اختلاط مردو زن کی بھی کوئی خبر اور تصویر نہیں آتی ،حکومتی و عدالتی مداخلت کے بعد اب تو ہمارے حلقوں میں بھی کچھ نرمی اور گنجائش نکالی جانے لگی ہے ، اس صورت حال میں یہ عبارتیں بالخصوص اس کتاب میں محل نظر ہیں، رہی بات خواتین کے مسجد جانے کی تو اس سلسلہ میں خواتین کو مساجد جانے سے روکنا نہیں چاہیے اس لیے کہ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کے گھر جانے سے مت روکو، اور انھیں مسجد جانے کی ترغیب بھی نہیں دینا چاہیے اس لیے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کی عورتوں کے لیے بہترین مسجد ان کا گھر ہے ۔
اسی طرح "ضمیمہ” کی ایک اور عبارت ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ اس عبارت سے پہلے حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی دامت برکاتہم کے حمد وسپاس کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں:’’برصغیر کے نامور فقیہ اور متبحر عالم حضرت مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی نہایت وقیع اور علمی حیثیت کی حامل تصنیف: تحفۃُ النُّبَلاء فی جماعۃ النساء‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (صفحہ 10)
اب صفحہ 111 پر ’ضمیمہ‘‘ کی یہ عبارت دیکھیں!”۔۔۔۔۔۔۔مولانا عبدالحئی لکھنوی پر ایک زمانہ میں اجتہاد کا اثر رہا، یہ مسئلہ بھی اسی دور میں انہوں نے اپنے ایک رسالہ میں لکھا، جس کا نام ہے تحفۃُ النُّبَلاء، یا پھر یہ ان کے تفردات میں سے ہے، جس کی وجہ سے اصل مذہب کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔” ( ص /111)
اس عبارت کا کتاب میں اندراج کتنا غیر موزوں اور بے محل ہے، بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہیں کہ حضرت لکھنویؒ، ان کی کتاب اور ان کی علمی تحقیق کے استخفاف کا پہلو اس میں نظر آتا ہے۔ایک طرف علامہ کی علمی عظمت اور فقہی مقام کا اعتراف کیا گیا ہے، پھر ان کی اس تصنیف کو محض ایک دور کے اجتہادی اثر یا تفرد قرار دے کر اصل مذہب سے الگ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ طرزِ بیان غیر موزوں بلکہ تحقیقی اسلوب کے منافی اور ناانصافی پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔جناب محمد شمس قمر صاحب کو ایک تحقیقی کتاب میں اس اندازِ کلام اور جارحانہ، مناظرانہ بیانیے یا فتاویٰ سے اعراض کرنا چاہیے تھا، بلکہ استدلالی انداز میں مسئلہ کا جواب اور حل پیش کرنے پر اکتفا کرنا چاہیے تھا۔ حملہ کی زبان اور جارحانہ اسلوب اس علمی اور تحقیقی کتاب کے وقار کے مطابق نہیں۔اگر "ضمیمہ” میں دیگر مسالک کے فقہاء کے اقوال بھی ذکر کر دیے جاتے تو کتاب کی قیمت میں بہت اضافہ ہوجاتا ۔
اس کے باوجود، اس موضوع پر کتاب کی اشاعت، ترجمہ اور تحقیق ایک بڑا علمی قدم اور اہم پیش رفت ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب تحقیق و استنباط کے دروازے کھولے گی اور تقلید کے نام پر جمود کے پڑےہوئے قفل کوتوڑنے میں معاون ثابت ہوگی۔ اہلِ علم، بالخصوص فقہی ذوق رکھنے والے طلبہ کے لیے یہ کتاب یقیناً مفید اور رہنما ہے۔
آدم علی ندوی
مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ۔