ندوه اور علم كلام
از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
آكسفورڈ
6/1/2026
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوگا۔
دفاعِ دین اور تعاقبِ باطل کے حوالے سے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے نصاب میں کس قدر گنجائش رکھی گئی ہے؟ بالخصوص یہ جاننا مقصود ہے کہ آیا نصابی کتب میں ایسی معقول اور مؤثر کتابیں شامل کی گئی ہیں جو طلبہ کو عقائدِ اسلامیہ کی ٹھوس تعلیم و تفہیم فراہم کر سکیں اور ساتھ ہی باطل افکار و نظریات کے رد و تعاقب میں بنیادی بصیرت پیدا کریں۔
کیا نصاب میں کم از کم دو چار ایسی منتخب کتابیں شامل ہیں جن کے ذریعے طالبِ علم کو اعتقادی مسائل میں مضبوط درک حاصل ہو جائے، اور وہ علمِ کلام میں اس درجہ مہارت پیدا کر سکے جو ندوہ کے اہم اور امتیازی نصابی مقاصد میں ہمیشہ سے شامل رہا ہے؟
یعنی نصاب کی تشکیل کے وقت بظاہر دو بنیادی پہلو پیشِ نظر ہوتے ہیں: اوّل، تعارف و تبلیغِ دین؛ اور دوم، دفاعِ دین اور باطل افکار کا علمی تعاقب۔
اس دوسرے پہلو کے اعتبار سے ندوۃ العلماء کے موجودہ نصاب میں کون کون سی کتابیں شامل ہیں؟ اور وہ کس حد تک عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں؟
ان نکات پر آپ سے ایک تشفی بخش اور کسی قدر تفصیلی توضیح درکار ہے۔
والسلام، سفیان غنی (تکمیلِ شریعہ) دارالعلوم ندوۃ العلماء
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا سوال نہ صرف علمی سنجیدگی کا آئینہ دار ہے بلکہ ندوۃ العلماء کے فکری مزاج، اس کے تعلیمی مقاصد اور اس کے امتیازی منہج کو سمجھنے کے لیے نہایت بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کا جواب محض چند نصابی کتابوں کے نام گنوانے یا درسی ترتیب کی توضیح تک محدود نہیں ہو سکتا، بلکہ ضروری ہے کہ اس فکری اساس کو واضح کیا جائے جس پر ندوہ کے نصاب کی عمارت قائم ہے، اور جس نے اسے برصغیر کے دیگر دینی اداروں سے ممتاز مقام عطا کیا۔
علمِ کلام کا مفہوم: ندوہ کا زاویۂ نظر:
سب سے پہلے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ندوۃ العلماء کے بانیان کے نزدیک علمِ کلام سے مراد وہ محدود، مناظرانہ اور جزوی علم نہیں تھا جو بعد کے ادوار میں بعض ایسی دقیق اور غیر نتیجہ خیز بحثوں اور بے معنى مو شگافيوں سے بھر گیا جن کی نہ اپنے زمانے میں کوئی عملی افادیت باقی رہی اور نہ عصرِ حاضر میں ان کی کوئی ضرورت ہے، مثال کے طور پر مسئلۂ خلقِ قرآن اور اس قبیل کی دیگر نزاعی بحثیں، جنہوں نے علمی ذہن کو وسعت دینے کے بجائے تنگ نظری اور فرقہ وارانہ کشمکش کو فروغ دیا۔
ندوہ کے اعلام نے علمِ کلام کو ایک وسیع، زندہ اور متحرک مفہوم میں لیا، جس میں وہ تمام فکری اور نظری مسائل شامل ہیں جن کے ذریعے مختلف ادوار میں اسلام اور مسلمانوں پر شکوک و شبہات وارد کیے گئے، اور جن کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں اپنے دین پر اعتماد کو کمزور کرنا رہا ہے۔ چونکہ یہ شکوک زیادہ تر قرآن، حدیث، سیرتِ نبوی ﷺ اور تاریخِ اسلام سے متعلق ہوتے ہیں، اس لیے ندوہ نے دفاعِ دین کے لیے انہی بنیادوں کو مضبوط کرنے کو اپنا اصل ہدف بنایا، علامہ شبلی نعمانیؒ نے اس فکری تبدیلی کو نہایت بصیرت کے ساتھ واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"قدیم علمِ کلام میں صرف عقائدِ اسلامیہ سے متعلق بحث ہوتی تھی، کیونکہ اس زمانے میں مخالفینِ اسلام نے جو اعتراضات کیے تھے وہ زیادہ تر عقائد ہی سے متعلق تھے، لیکن آج کل تاریخ، اخلاق، تمدن، ہر حیثیت سے مذہب کو جانچا جاتا ہے… اس بنا پر علمِ کلام میں اس قسم کے مسائل سے بھی بحث کرنی ہوگی، اور یہ حصہ بالکل نیا علمِ کلام ہوگا۔” (الکلام، ص 6)
یہ عبارت ندوہ کے فکری منہج کی روح ہے۔ اسی لیے علامہ شبلیؒ کی علم الکلام اور الکلام جیسی تصانیف ندوہ کی علمی سمت متعین کرنے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
نصاب اور تغیر: ندوہ کی تعلیمی فکر:
ندوہ کے نصاب کی تشکیل کے پیچھے جو بنیادی فکر کارفرما ہے، وہ یہ ہے کہ تعلیم کوئی جامد، ساکن اور غیر متحرک عمل نہیں، بلکہ ایک زندہ اور ارتقائی حقیقت ہے۔ اسی لیے نصاب کے اندر بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو تغیر کے زیرِ اثر رہتے ہیں، کیونکہ ان کا تعلق زمانے کے بدلتے ہوئے حالات، نئے فکری سوالات اور عصرِ حاضر کے ذہنی رجحانات سے ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل بعض موضوعات اپنی اصل اور بنیاد کے اعتبار سے ہمیشہ باقی رہتے ہیں، اس لیے کہ وہ دین کے مصادرِ اصلیہ اور مسلمہ حقائق سے وابستہ ہوتے ہیں؛ تاہم ان ثابت موضوعات کو پیش کرنے کا اسلوب، ان کی ترتیب، اور ان پر گفتگو کا زاویۂ نظر زمانے کے بدلتے ہوئے فکری تقاضوں کے مطابق بدلتا رہنا چاہیے، تاکہ وہ ہر دور کے ذہن سے ہم کلام ہو سکیں اور اپنی تاثیر برقرار رکھ سکیں۔
ندوۃ العلماء اس تصور کا سخت ناقد رہا ہے کہ ایک بار ملا نظام الدین فرنگی محلیؒ نے کوئی نصاب مرتب کر دیا تو وہ اب نصِ قرآنی کی طرح ناقابلِ نسخ اور ناقابلِ ترمیم ہو گیا۔ ندوہ کے نزدیک یہ تصور نہ علمی اعتبار سے درست ہے اور نہ دینی روایت کے مزاج سے ہم آہنگ۔ درحقیقت یہی وہ فکری جمود ہے جس نے امتِ مسلمہ کو صدیوں تک تخلیقی فکر، اجتہادی بصیرت اور علمی ارتقا سے محروم رکھا، اور جس کی قیمت آج بھی مسلمان مختلف صورتوں میں ادا کر رہے ہیں؛ کبھی علمی پسماندگی کی شکل میں، کبھی فکری انتشار اور بے سمتی کے عنوان سے، اور کبھی تہذیبی مرعوبیت اور ذہنی احساسِ کمتری کی صورت میں۔
ندوہ کی نظر میں یہ جمود نہ دینِ اسلام کا تقاضا ہے اور نہ مسلمانوں کی اصل اور درخشاں علمی روایت کا حصہ۔ اسلام کی علمی تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور میں اہلِ علم نے اپنے زمانے کے مسائل، سوالات اور چیلنجز کے مطابق نصاب، منہج اور اسلوب میں تبدیلیاں کیں، اور یہی وہ روح ہے جس نے مسلمانوں کو طویل عرصے تک علمی قیادت عطا کیے رکھی۔
اسی بنا پر ندوۃ العلماء کا نصاب ابتدا ہی سے اس اصول پر قائم کیا گیا کہ وہ ہمہ وقت قابلِ نظرِ ثانی رہے، اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اس میں مناسب اصلاح، اضافہ اور حذف ممکن ہو۔ یہی اصول آج دنیا بھر کے جدید ماہرینِ تعلیم کے نزدیک بھی مسلم ہے کہ کوئی بھی تعلیمی نصاب اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک وہ زمانے کی فکری رفتار کے ساتھ ہم قدم نہ ہو، اور اپنے مقاصد کو نئے اسالیب اور تازہ تعبیرات کے ذریعے پیش نہ کرے۔
دفاعِ دین کا منہج: مناظرہ سے دعوت تک:
دفاعِ دین کے قدیم طریقے، جن میں جدل و مناظرہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، ان کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ندوہ کے اکابر کے پیشِ نظر رہے۔ چنانچہ ان طریقوں پر نظرِ ثانی کی گئی اور نصاب میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ اس میدان میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی بصیرت اور دور اندیشی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
مولانا نے اس حقیقت کو گہرائی سے محسوس کیا کہ محض منفی ردّ اور مناظرانہ اسلوب سے باطل نظریات کا قلع قمع نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک مثبت دعوت زیادہ مؤثر اور دیرپا اثرات کی حامل ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کو ایک نہایت بلیغ تمثیل کے ذریعے واضح کیا کہ تاریکی کو ختم کرنے کے لیے تاریکی سے لڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ روشنی پھیلانا کافی ہے؛ روشنی خود بخود تاریکی کو مٹا دیتی ہے۔
اسی تصور کے تحت ندوہ کے نصاب میں قرآنِ کریم کے ساتھ گہرے تدبر پر زور دیا گیا، حدیثِ نبوی ﷺ کی محققانہ اور معنوی تعلیم کو ترجیح دی گئی، اور سیرتِ نبوی ﷺ اور تاریخِ اسلام کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا جو طلبہ کے اندر فکری پختگی، اخلاقی بصیرت اور تہذیبی شعور پیدا کریں۔
دعوت، فکرِ اسلامی اور عصرِ حاضر کے چیلنجز:
اسی طرح دعوت کے مضامین کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا گیا، اور عملی دعوت کی تربیت کے لیے طلبہ کو مساجد میں دروسِ قرآن قائم کرنے اور عوام سے براہِ راست ربط پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی۔ ہم وطن غیر مسلموں کے ساتھ قربت اور انسانی اخوت کے فروغ کے لیے "پیامِ انسانیت” جیسے موضوعات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
عصرِ حاضر کے فتنوں، لادینی نظریات اور جدید فلسفیانہ افکار کے مقابلے کے لیے ندوہ نے روایتی مناظرانہ علمِ کلام کے بجائے "فکرِ اسلامی” کے میدان کو اختیار کیا۔ یہ میدان زیادہ تر ان نظریات کے سنجیدہ مطالعے پر مشتمل ہے جو انسانی فکر، اخلاق اور تمدن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ طلبہ میں محض مناظرہ بازی کی ذہنیت پیدا ہونے کے بجائے ایک متوازن، تنقیدی اور تعمیری فکر پروان چڑھی۔
ندوہ کا پیغام اور اس کی ذمہ داری:
خلاصہ یہ ہے کہ ندوۃ العلماء کے نزدیک دفاعِ دین کا اصل راستہ نہ محض مناظرانہ کتابوں کی کثرت میں ہے اور نہ عقلی موشگافیوں کے انبار میں، بلکہ قرآنِ کریم کی زندہ تعلیم، حدیثِ نبوی ﷺ کی محققانہ تفہیم، سیرتِ رسول ﷺ اور تاریخِ اسلام کے عمیق مطالعے، اور عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز سے باخبر مثبت دعوت میں مضمر ہے۔
ندوہ کا مقصد ایسے علماء تیار کرنا ہے جو اپنے دین پر گہرے اعتماد کے ساتھ کھڑے ہوں، جو شکوک و شبہات سے مرعوب ہونے کے بجائے انہیں علمی وقار، فکری گہرائی اور اخلاقی قوت کے ساتھ حل کر سکیں، اور جو دفاعِ دین کو محض ردّ و انکار نہیں بلکہ حق کی روشن اور پراثر ترجمانی سمجھیں۔
آج کی دنیا میں اسلام کو جن فکری طوفانوں کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب علم، دعوت اور فکر تینوں ایک متوازن اور ہم آہنگ صورت میں جمع ہوں۔ ندوۃ العلماء کا نصاب، اپنی اصل روح میں، اسی ہم آہنگی کو پیدا کرنے کی ایک سنجیدہ اور بامقصد کوشش ہے۔