مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی: تعارف، علمی خدمات اور فکری کردار
مفتی شمائل احمد ندوی (Mufti Shamail Nadwi) عصرِ حاضر کے ایک معروف اسلامی عالم، فقیہ اور مبلغ ہیں۔ ان کا تعلق ایک معزز اور شریف خاندان سے ہے جو کلکتہ (بھارت) سے وابستہ رہا ہے۔ سنجیدہ فکر، علمی وقار اور متوازن طرزِ گفتگو ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں، جن کی بنا پر وہ دینی و فکری حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم
مفتی شمائل ندوی نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی، جہاں دینی ذوق اور علمی ماحول نے ان کی فکری بنیاد مضبوط کی۔ بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے انہوں نے لکھنؤ کا رخ کیا، جو برصغیر میں علمی و فکری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے سے تعلیم حاصل کی۔ ندوۃ العلماء برصغیر کا ایک ممتاز دینی و علمی ادارہ ہے، جس کا مقصد دینی علوم کے ساتھ عصری فہم، فکری اعتدال اور بین الاقوامی شعور پیدا کرنا ہے۔ اس ادارے نے اسلامی فکر کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ندوہ اور شبلی کے فکری مقاصد کی ترجمانی
مفتی شمائل ندوی کی فکر اور علمی روش میں ندوۃ العلماء اور علامہ شبلی نعمانی کے فکری مقاصد کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ ان کی سوچ میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج، علمی تحقیق، شائستہ مکالمہ اور فکری توازن نمایاں ہے۔ اس اعتبار سے وہ ندوہ اور شبلی کے اس نصب العین پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد ایک باخبر، باشعور اور مدلل اسلامی فکر کی نمائندگی تھا۔
دعوتی و تعلیمی خدمات
عصرِ حاضر میں دینی دعوت اور تعلیمی خدمت ایک بڑی ذمہ داری بن چکی ہے، جہاں بدلتے فکری سوالات اور جدید ذہن کو سنجیدہ اور مدلل جواب درکار ہے۔ مفتی شمائل ندوی نے اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت دعوتی اور تعلیمی میدان میں عملی کردار ادا کیا۔
وہ “وحیین فاؤنڈیشن” کے ذریعے دینی تعلیم کے فروغ میں سرگرم ہیں۔ اس ادارے کا مقصد اسلامی تعلیمات کو سادہ، منظم اور مؤثر انداز میں عام کرنا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تحت مختلف تعلیمی اور فکری سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں، جو بالخصوص نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ کئی برسوں سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسلامی موضوعات پر ویڈیوز اور علمی گفتگو پیش کر رہے ہیں۔ ان کا اندازِ بیان سنجیدہ، مدلل اور غیر اشتعال انگیز ہوتا ہے، جو جدید دور میں مثبت دینی مکالمے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ سرگرمیاں ان کی نمایاں دعوتی خدمات میں شمار ہوتی ہیں۔
جاوید اختر کے ساتھ فکری مکالمہ
مفتی شمائل ندوی کو وسیع عوامی شناخت اس وقت حاصل ہوئی جب ان کا مشہور ادبی شخصیت جاوید اختر کے ساتھ خدا کے وجود کے موضوع پر ایک عوامی مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ سوشل میڈیا اور فکری حلقوں میں خاصا زیرِ بحث رہا۔ اس گفتگو میں مفتی شمائل ندوی کا اندازِ بیان علمی، متوازن، غیر جذباتی اور مضبوط دلائل پر مبنی تھا، جسے مختلف حلقوں کی جانب سے سنجیدگی سے سراہا گیا۔
تصنیفی خدمات
علمی تصنیف کے میدان میں بھی مفتی شمائل ندوی کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی کتاب
“مسئلہ غلامی اور اسلام”
ایک اہم علمی کاوش ہے، جس میں غلامی کے مسئلے کو تاریخی، اخلاقی اور اسلامی تناظر میں تحقیقی اور مدلل انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک حساس موضوع پر سنجیدہ فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
مجموعی طور پر مفتی شمائل ندوی ایک ایسے عالم ہیں جو علمی روایت، عصری شعور اور فکری اعتدال کے ساتھ دینی تعلیم، دعوت اور مکالمے کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی فکر اور عملی کاوشیں انہیں عصرِ حاضر کی اہم دینی و فکری شخصیات میں شامل کرتی ہیں۔