HIRA ONLINE / حرا آن لائن
شب برات کی فضیلت

شب برات کی فضیلت احادیث اور علماء دین کی آراء کی روشنی میں غلام نبی کشافیآنچار صورہ سرینگر کئی قارئین نے شب برات کے حوالے سے مضمون لکھنے پر اصرار کیا ۔ حالانکہ میں نے پچھلے سال شب برات پر ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا ،لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کہ میں اس طرح کے موضوعات پر بار بار مضامین لکھنے بیٹھ جاؤں ، جبکہ موجودہ دور میں اس سے بھی زیادہ اہم موضوعات پر کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت ہے ، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق انہی اہم موضوعات پر لکھنا یا بولنا زیادہ پسند کرتا ہوں ۔اس لئے میں آج دوبارہ پچھلے سال ہی کا لکھا گیا مضمون کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خود بھی پڑھیں گے اور اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شئیر بھی ضرور کریں گے ۔ شب برات کے حوالے سے ایک قاری کا سوال ان الفاظ میں موصول ہوا ہے ۔ ” شعبان کی پندرہویں شب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز اور تحریریں بھی دیکھنے کو ملی تھیں ، جن میں بعض اس شب کی فضیلت کے قائل نظر آتے ہیں ، اور بعض اس کی فضیلت کے قائل نہیں ہیں ، اور وہ اس کے بارے میں قطعی طور پر بتاتے ہیں کہ اس رات کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے ، اور اس کے متعلق جتنی بھی روایات ہیں ، وہ سب کی سب یا تو ضعیف ہیں اور یا پھر موضوع ۔اس سلسلہ میں اگر آپ کوئی مضمون لکھیں گے تو بڑی مہربانی ہوگی ، کیونکہ آپ کی تحریر سے اطمینان سا حاصل ہوجاتا ہے ، اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے جواب سے ضرور ممنون فرمائیں گے " محمد شفیع ڈار / سرینگر اس سے کافی عرصہ پہلے ایک اور نوجوان کا مسیج ان الفاظ میں آیا تھا ۔ ” میں پچھلے چند ماہ سے آپ کے تعمیر فکر کے…

Read more

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں از : مولانا ابو الجیش ندوی اسلام ایک ہمہ گیر دین ہے جو فرد کی عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کا بھی ضامن ہے۔ زکوة اسی اجتماعی نظامِ عدل و رحمت کی ایک بنیادی کڑی ہے۔ قرآن کے بعد احادیثِ نبویہ میں زکوة کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کے فوائد اور ترکِ زکوة کے انجام کو نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔زکوة: اسلام کی بنیادوں میں سے ایکرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ… وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ»اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، جن میں نماز کے ساتھ زکوة کا ذکر بھی ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ زکوة کوئی نفلی یا اختیاری عمل نہیں بلکہ دین کا ستون ہے۔ جس طرح نماز ترک کرنا سنگین گناہ ہے، اسی طرح زکوة کی ادائیگی میں کوتاہی بھی دین کی بنیاد کو کمزور کرتی ہے۔ زکوة: اجتماعی عدل کا نظام جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا تو انہیں ہدایت دی کہ لوگوں کو بتائیں:“اللہ نے ان پر صدقہ (زکوة) فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں میں لوٹائی جائے گی”۔یہ حدیث زکوة کے معاشرتی فلسفے کو واضح کرتی ہے۔ زکوة دولت کی گردش کو یقینی بناتی ہے، طبقاتی خلیج کو کم کرتی ہے اور معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ زکوة نہ دینے کا ہولناک انجام احادیث میں ترکِ زکوة کے سخت انجامات بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص زکوة ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال ایک زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرے گا، جو اسے طوق کی طرح لپٹ کر کہے گا: “میں تیرا خزانہ ہوں”۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اونٹ، گائے یا بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوة نہ دیں تو قیامت کے دن وہ جانور انہیں روندیں گے اور سینگ ماریں گے، یہاں تک کہ حساب مکمل ہو جائے۔ یہ احادیث زکوة کی عدم…

Read more

بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام

اے ٹی ایم کارڈ ( 🏧 ATM ) چونکہ معاملات میں اصل اباحت ہے ، اس لیے اے ٹی ایم ( ATM ) کارڈ جس کے ذریعے مشین سے اپنی جمع کردہ رقم نکالی جاتی ہے کے استعمال میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ( یعنی جائز ہے) ڈیبیٹ کارڈ (debit card) ڈیبیٹ کارڈ کا استعمال ، اس کے ذریعہ خرید و فروخت اور ایک کھاتہ سے دوسرے کھاتہ میں رقم کی منتقلی درست اور جائز ہے۔ کریڈٹ کارڈ ( Cradit card) کریڈٹ کارڈ کی مروج صورت چونکہ سودی معاملہ پر مشتمل ہے ، لہذا کریڈٹ کارڈ یا اس قسم کے کسی کارڈ کا حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔ نوٹ : اے ٹی ایم کارڈ اور ڈیبیٹ کارڈ کے حصول اور استعمال کے لیے جو رقم ادا کی جاتی ہے وہ کارڈ کا معاوضہ اور سروس چارج ہے ، اس لیے اس کا ادا کرنا جائز ہے حوالہ: کتاب نام : بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام: ص : 19 )

Read more

اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

1. تمہید … اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی معاشی و سماجی زندگی کے ہر پہلو کو پاکیزگی، عدل اور خیر کے اصولوں پر قائم کرتا ہے۔ انہی اصولوں میں سے ایک عظیم اصول سود (ربا) کی حرمت ہے، جسے اسلام نے نہایت شدت کے ساتھ ممنوع قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قالوا: إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّبَا… وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(البقرہ 275) “سود خور کہتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔” 2. اسلام میں سود کی شدید حرمت جو آیات میں نے تلاوت کیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت کو نہایت سخت الفاظ میں بیان کیا ہے۔اسلام نے بہت سی چیزوں کو حرام کیا، لیکن ربا کی حرمت کو ایسے انداز میں بیان کیا گیا جیسا کسی اور گناہ کے بارے میں نہیں۔ حدیث شریف رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے سود کھانے والے، سود دینے والے، سود لکھنے والے اور اس کے گواہوں — سب پر لعنت کی۔”(صحیح مسلم) یہ اس گناہ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ 3. ربا (سود) کی تعریف — What is Riba? لغوی معنی: ربا: زیادتی، بڑھوتری، اضافہ۔ اصطلاحی معنی (Shariah Definition): "ہر وہ نفع جو قرض کے بدلے بغیر کسی حقیقی عوض کے لیا جائے، وہ سود ہے۔” عام مثال: آپ نے کسی کو 100 روپے قرض دیے اور شرط لگائی کہایک مہینے بعد 120 روپے واپس کرنے ہوں گے۔یہ 20 روپے اضافہ سود ہے اور قطعی حرام ہے۔ 4. بغیر شرط کے زیادتی — سود نہیں اگر کوئی شخص خوشی سے قرض لوٹاتے وقت زیادہ دے دے تو یہ جائز ہے۔نبی کریم ﷺ نے بہتر اونٹ واپس کیا اور فرمایا: “تم میں بہترین وہ ہے جو قرض اچھے طریقے سے ادا کرے۔”(صحیح بخاری) 5. موجودہ معاشرے میں ربا کی صورتحال ہمارے معاشرے میں: ✔ سود لینا✔ سود دینا✔ سودی کاروبار✔ بینکوں سے سودی قرض✔ فنانس کمپنیوں سے سودی معاہدے — یہ سب عام ہو چکا ہے، اور لوگ اسے غلط بھی نہیں سمجھتے۔ بہت سے…

Read more

قرض حسن اور اس سے متعلق احکام

قرض اور اس سے متعلق شرعی احکام (اسلام کی معاشرتی تعلیمات کا ایک روشن باب) انسانی معاشرہ باہمی تعاون، ہمدردی اور ضرورت مندوں کی دستگیری کے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔ جب ایک فرد دوسرے فرد کی مشکل میں اس کا سہارا بنتا ہے تو اس سے نہ صرف تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ معاشرہ امن، خیر اور یگانگت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ انہی اعلیٰ معاشرتی اصولوں میں سے ایک اصول قرض ہے—وہ قرض جو محض لین دین نہیں بلکہ خیر خواہی، اخلاص اور انسانی ہمدردی کا مظہر ہو۔ اسلام نے اس جذبے کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور اسے عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے۔ قرضِ حسن — قرآن کریم کا عظیم پیغام قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ’’قرضِ حسن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے، جو اس عمل کی فضیلت اور اس کے دینی و اخلاقی مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے: مَنْ ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضَاعِفَہُ لَہُ اَضْعَافاً کَثِیْرَةً(البقرہ: 245) یعنی کون ہے جو اللہ کے لیے خالص نیت سے قرض دے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے بے شمار گنا بڑھا کر لوٹا دے۔ اسی مضمون کو مختلف انداز میں سورۂ حدید اور تغابن میں بھی بیان کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرضِ حسن محض مالی مدد نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی کے حصول کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں قرض کی اہمیت نبی کریم ﷺ نے معاشرتی زندگی کے اس بنیادی ستون کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے: 1۔ قرض دینے کا اجر، صدقہ سے زیادہ حدیثِ معراج میں آتا ہے کہ: "دروازۂ جنت پر لکھا تھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔”(ابن ماجہ) وجہ یہ بیان فرمائی گئی کہ صدقہ لینے والا کبھی کبھار محتاج نہیں بھی ہوتا، مگر قرض لینے والا حقیقی ضرورت کے وقت ہی سوال کرتا ہے۔ 2۔ قرض میں نیت کی اہمیت نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو شخص ادائیگی کی نیت سے قرض لیتا ہے، اللہ اس کی طرف سے ادا…

Read more

کیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ 

[ اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے 34 ویں سمینار منعقدہ 8 – 10نومبر 2025 ، جمشید پور (جھارکھنڈ) میں منظور شدہ تجاویز ]  موجودہ دور میں میڈیکل سائنس کی ترقی کے نتیجہ میں آنکھ کا قرنیہ (Cornea) اور قرن بٹن (Corneoscleral Button) دوسرے ضرورت مند شخص کو منتقل کرنا محفوظ طریقہ پر انجام پذیر ہوتا ہے اور اس عمل میں میت کی کوئی اہانت نہیں سمجھی جاتی ہے اور نہ اس کی وجہ سے شکل میں کوئی بدنمائی پیدا ہوتی ہے ، لہذا اس سلسلے میں مندرجہ ذیل تجاویز پاس کی جاتی ہیں :          (1) زندگی میں آنکھ کا قرنیہ دوسرے ضرورت مند شخص کو دینے میں چوں کہ دینے والے کو بڑا ضرر لاحق ہوتا ہے ، نیز یہ چیز طبی اخلاقیات اور قانون کے بھی خلاف ہے ، اس لیے اس کی شرعاً اجازت نہیں ہے ۔           (2) اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں وصیت کی کہ اس کی موت کے بعد اس کی آنکھ کا قرنیہ کسی ضرورت مند شخص کو دے دیا جائے اور ورثہ بھی اس پر راضی ہوں تو اس کی آنکھ کا قرنیہ دوسرے ضرورت مند شخص کو دینا درست ہے ، اسی طرح میت نے وصیت نہ کی ہو اور ورثہ اس کی آنکھ کا قرنیہ کسی ضرورت مند شخص کو منتقل کرنا چاہیں تو اس کی بھی شرعاً اجازت ہے ۔        ( 3) اگر کوئی شخص کسی ایکسیڈنٹ یا حادثہ کا شکار ہوا اور اس کی آنکھ پر ایسی ضرب آئی جس کی وجہ سے اس کی آنکھ کا نکالنا ضروری ہو گیا ، یا کسی شدید بیماری کی وجہ سے اس کی آنکھ کا نکالنا ضروری ہو گیا ، اور اس کی آنکھ کا قرنیہ طبّی نقطۂ نظر سے قابلِ استعمال ہو تو ایسی صورت میں اس کا قرنیہ دوسرے ضرورت مند کو منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ مولا نا عظمت اللہ میر کشمیری (نوٹ: تجویز 2 کی دونوں شقوں کے ساتھ راقم اتفاق نہیں رکھتا ہے – )

Read more