ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور
از : مولانا ابو الجیش ندوی
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ادارے بن جاتی ہیں، رجحانات کو جنم دیتی ہیں اور آنے والی نسلوں کی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ (1945–2026) ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے علم، تحقیق، ادارہ سازی اور ملت کی اجتماعی قیادت کو ایک وحدت میں پرو دیا۔ ان کی زندگی ایک ایسا سفر تھی جو جذباتی ردعمل سے ہٹ کر ڈیٹا پر مبنی فکر کی طرف مائل کرتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور علمی تشکیل
ڈاکٹر منظور عالمؒ 9 اکتوبر 1945 کو مدھوبنی، بہار میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے معاشیات میں PhD حاصل کی۔ یہ وہی دور تھا جب ان کے اندر اسلامی فکر اور عصری سماجی علوم کے امتزاج کا وژن ابھرا۔ بعد میں سعودی عرب منتقل ہوئے، جہاں اسلامی معیشت پر تدریس و مشاورت کی اور سعودی وزارتِ خزانہ کے اقتصادی مشیر رہے۔ مدینہ منورہ کے King Fahd Qur’an Printing Complex میں قرآن ترجمہ کے قومی منصوبے کے چیف کوآرڈینیٹر کے طور پر ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS): فکر کی ادارہ سازی
1986 میں نئی دہلی میں قائم ہونے والا Institute of Objective Studies (IOS) ڈاکٹر منظور عالمؒ کے فکری وژن کا عملی مظہر تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جذبات کے بجائے تحقیق اور پالیسی پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔ IOS نے:
410 سے زائد تحقیقی منصوبے مکمل کیے
400 سے زیادہ معیاری اشاعتیں شائع کیں
1200 سے زائد کانفرنسیں، سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کیں
یہ ادارہ تعلیم، معاشیات، سماجی انصاف، اقلیتی حقوق، فرقہ واریت اور ثقافتی شناخت جیسے شعبوں میں ہندوستانی مسلم فکر کا معتبر مرکز بن گیا۔ انہوں نے تحقیق کو محض علمی ورزش نہیں بلکہ ملت کے اجتماعی فیصلوں کی بنیاد بنایا۔
آل انڈیا ملی کونسل: فکر سے عمل کی طرف
IOS اگر فکر کا مرکز تھا تو آل انڈیا ملی کونسل (AIMC) اس کی سماجی و سیاسی ترجمانی تھی۔ 1992 میں قائم ہونے والی اس تنظیم کے جنرل سکریٹری کے طور پر ڈاکٹر منظور عالمؒ نے:
بھارتی مسلمانوں کے اتحاد اور اجتماعی آواز کو منظم کیا
آئینی حقوق، سیکولر اقدار اور جمہوری فریم ورک کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا
فرقہ واریت، ناانصافی اور سیاسی حاشیہ بندی کے خلاف مدلل موقف اپنایا
ان کا خاص امتیاز یہ تھا کہ وہ نہ اشتعال انگیز سیاست کے حامی تھے اور نہ مصلحت کی خاموشی کے؛ وہ فکری مزاحمت کے علمبردار رہے۔
علمی و تصنیفی خدمات
ڈاکٹر منظور عالمؒ کی تصانیف آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے فکری سرمائے کا لازمی جزو ہیں۔ نمایاں کتب یہ ہیں:
Perspectives (مضامین کا مجموعہ)
Perspectives on Islamic Economics
Exclusion of Muslims in India
Islamic Studies and the Future of India
The Role of Muslims in Indian Freedom Struggle (چار جلدیں)
An Encyclopaedic Compendium of Muslim Communities of the World
100 Great Muslim Leaders of the 20th Century
یہ آخری کتاب خاص طور پر اہم ہے، جو ہندوستانی مسلمانوں کو عالمی مسلم تاریخ سے جوڑتی ہے اور احساسِ کمتری کی بجائے تاریخی شعور جگاتی ہے۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی اراکین اور متعدد عالمی اداروں سے وابستہ رہے۔
فکری امتیازات
ان کی فکر کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں:
اسلام اور جدید سماجی علوم کا بامعنی امتزاج
جذبات کی بجائے تحقیق پر اعتماد
احتجاج کی جگہ پالیسی مکالمہ
شناخت کی بجائے شمولیت (Participation) کا تصور
اقلیت ہونے کو کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی قوت سمجھنا
انتقال اور فکری ورثہ
13 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔ بظاہر ایک فرد چلا گیا مگر ایک عہد ختم ہوا۔ IOS، AIMC، ان کی کتابیں اور تربیت یافتہ شاگرد آج بھی دلیل، انصاف اور اجتماعی بصیرت کی اس فکر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
حاصل تحریر
ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ ان رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے شکایت کی سیاست کو چھوڑ کر فکر کی تشکیل کا راستہ چنا۔ ان کی زندگی ہمیں درس دیتی ہیں کہ قومیں نعروں سے نہیں، علم، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔