Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.03.2026
Trending News: جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآن
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
05.03.2026
Trending News: جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآن
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

  1. Home
  2. دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 1, 2025
  • 2 Comments


مفتی محمد اعظم ندوی

عالمی معیشت کو اکثر ایک بلند پرواز طیارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے، مگر حقیقت اس چمکدار تمثیل سے کہیں زیادہ تلخ، پیچیدہ اور طبقاتی تضاد سے بھری ہوئی ہے، سرمایہ داری کے ایندھن سے اڑان بھرنے والی یہ پرواز، درحقیقت، صرف چند مراعات یافتہ طبقات کو فرسٹ کلاس آسائش فراہم کرتی ہے، جب کہ اکثریت کے لیے یہ ایک تھکا دینے والی جدوجہد، معاشی غلامی اور زمین سے جڑی محرومیوں کا سفر ہے، آکسفیم Oxfam کی 2024 کی رپورٹ (Vision IAS، فروری 2025) کے مطابق، دنیا کی 44 فیصد آبادی عالمی بینک کے غربت کے طے شدہ معیار — یعنی $6.85 (Purchasing Power Parity یعنی قوت خرید کے توازن) — سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جب کہ دنیا کے صرف 1 فیصد امیر ترین افراد کے پاس عالمی دولت کا تقریباً 45 فیصد حصہ موجود ہے، رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ 2024 میں ارب پتیوں کی دولت میں اضافہ 2023 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے ہوا، اور ان کی 60 فیصد دولت محنت سے نہیں بلکہ وراثت، اجارہ داری، اور بدعنوانی سے حاصل ہوئی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، ترقی پذیر ممالک کو ایسے قرضوں کے جال میں الجھاتے ہیں جو ان کی معاشی خود مختاری کو سلب کر لیتے ہیں، ان اداروں کی پالیسیاں وسائل کی لوٹ مار اور مقامی صنعتوں کے انہدام کا سبب بنتی ہیں، افریقہ سے لیتھیم، سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کی کان کنی کا معاملہ ہو یا لاطینی امریکہ کے زرعی خطوں کو کمپنیوں کو جاگیر بنانے کا عمل، سب کچھ "ترقی” کے خوبصورت پردے میں ایک منظم استحصال ہے، عالمگیریت کے نام پر تجارت کے جو معاہدے تھوپے جاتے ہیں، وہ طاقتور اقوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، جب کہ کمزور ممالک اپنی ثقافت، خود کفیل ہونے کی طاقت، اور اختیارات سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کو ترقی کا نیا افق بتایا جاتا ہے، مگر درحقیقت، یہ بھی عدم مساوات کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ بن گئی ہے، اربوں ڈالر کمانے والی کمپنیوں مثلا ایمیزون اور گوگل کے ورکرز کم سے کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ خود کار نظاموں نے انسانوں کی جگہ لے لی ہے، سبز توانائی کا بیانیہ بھی اپنی جگہ ایک دکھاوا بن چکا ہے، کیونکہ اس کے لیے معدنیات کی کان کنی ماحول اور انسان دونوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، یہ ترقی نہیں بلکہ تباہی کے راستے کی نئی شکل ہے، جہاں کارپوریٹ مفادات، انسانیت، ماحول اور ثقافت سب پر بھاری ہے، اقبال نے کیا غلط کہا تھا:
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اس معاشی اڑان کا مقابلہ اسلامی اصولوں سے کیا جائے، تو ہمیں یہاں ایک ایسا متوازن، منصفانہ اور پائیدار نظام نظر آتا ہے جو دولت کے ارتکاز کو ناپسند کرتا ہے، قرآن کی صاف ہدایت ہے کہ "تاکہ مال تمہارے چند دولت مندوں کے درمیان نہ گردش کرتا رہے” (الحشر: 7)۔ زکوٰۃ، وراثت، ربا کی ممانعت، اور شراکتی مالیات جیسے اصول اس تصور معیشت کی بنیاد ہیں جو نہ صرف غربت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور فطری توازن کو بھی فروغ دیتا ہے، سرکلر اکانومی کو بھی اسلامی تصور کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے جو فضول خرچی کی ممانعت اور وسائل کے معتدل استعمال پر زور دیتا ہے، جو ماحولیاتی تباہی کے سد باب میں معاون ہے۔

اسلامی تعلیمات عالمگیریت کو استحصال کے بجائے باہمی تعاون کے ایک موقع کے طور پر پیش کرتی ہیں، قرآن کے اصول "تعاون کرو نیکی اور تقویٰ میں” (المائدہ: 2) کی روشنی میں ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو کمزور اقوام کو استحصال سے بچائے اور مقامی خود مختاری کو تقویت دے، عالمی معیشت کی اصلاح صرف اعداد و شمار کی ترتیب یا بیانیہ سازی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی، فکری اور تہذیبی جدوجہد ہے—ایسی جدوجہد جو انسان اور انسانیت کو سرمایہ دارانہ نظام کے پنجۂ استبداد سے آزاد کرا سکے، اور ایک ایسے عالمی نظم کی راہ ہموار کرے جس میں ہر فرد کو ترقی، عزت اور خود مختاری کا حق میسر ہو۔
دنیا اسلامک بینکنگ کی جانب ٹکٹکی لگائے بیٹھی ہے، اور واقعی اس میں معاشی ریل کو پٹری پر لانے کی صلاحیت۔موجود ہے بشرطیکہ یہ خود ٹریک سے نہ اترے، اس سلسلہ میں اسلامی بینکاری کے پچاس سالہ سفر پر مبنی محمد زکریا فضل کا مضمون "خمسون عامًا من المصرفية الإسلامية في خدمة اقتصاد المعنى” (الجزیرہ، 23 اپریل 2025) قابل مطالعہ ہے، جو دراصل اسی تلخ حقیقت کا فکری تسلسل ہے جس کی نشاندہی ہم نے عالمی معیشت کی فرضی اڑان کے تناظر میں کی، جہاں ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام چند ہاتھوں میں دولت اور طاقت کے ارتکاز کو خوشحالی کا نام دے کر پوری دنیا کو معاشی غلامی کی پرواز پر سوار کر رہا ہے، وہیں مضمون نگار اسلامی مالیات کو "اقتصاد المعنیٰ” یعنی معنویت پر مبنی معیشت کے طور پر متعارف کراتے ہیں، جہاں پیسہ صرف شرح منافع کا پیمانہ نہیں بلکہ انسانی وقار، عدل، اور زمین کی تعمیری خدمت کا ذریعہ ہے، وہ اس باب میں ڈاکٹر احمد النجار کے ابتدائی اقدامات سے لے کر آج کے 4.5 ٹریلین ڈالر کے مالیاتی دائرے تک اسلامی بینکاری کی فکری روح کو یاد دلاتے ہیں، اور سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا موجودہ ادارے اب بھی اس مشن پر قائم ہیں یا صرف شرعی لیبل لگا کر سرمایہ دارانہ منڈی کے تابع ہو چکے ہیں؟ اس تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر عالمی معیشت کو واقعی انصاف، پائیداری اور مقصدیت کی طرف موڑنا ہے تو صرف تنقید کافی نہیں — ایک ایسا جامع متبادل نظام درکار ہے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو، اور جس کی بنیاد "کس لیے کمایا؟” اور "کس پر خرچ کیا؟” جیسے سوالات پر ہو، نہ کہ صرف "کتنا کمایا؟” پر۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

خوشگوار ازدواجی زندگی کے تقاضے
"عید مبارک”

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • رمضان المبارک
  • روزہ
  • فروری 20, 2026
  • 0 Comments
روزہ، ایک جامع نظامِ تربیت

روزہ، ایک جامع نظامِ تربیت مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللّٰه علیہ نے لکھا ہے: صوم یا روزہ، اصطلاحِ شریعت میں اُسے کہتے ہیں کہ انسان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اپنے کو کھانے پینے اور عملِ زوجیت سے روکے رہے، جو روزے فرض ہیں، وہ ماہِ رمضان کے ہیں، غیبت، بد زبانی وغیرہ زبان کے تمام گناہوں سے روزے میں بچے رہنے کی سخت تاکیدیں، حدیث میں آئی ہیں۔ جدید و قدیم سب طبیں اس پر متفق ہیں کہ روزہ جسمانی بیماریوں کے دور کرنے کا بہترین علاج اور جسمِ انسانی کے لیے ایک بہترین مصلح ہے، پھر اس سے سپاہیانہ ہمت اور ضبطِ نفس کی روح، جو ساری امت میں تازہ ہوجاتی ہے، اس کے لحاظ سے بھی مہینہ بھر کی یہ سالانہ مشق، ایک بہترین نسخہ ہے۔ (تفسیرِ ماجدیؒ، جلد اول، صفحہ: ۳۲۹/

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • فروری 18, 2026
  • 0 Comments
ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی ​ماہِ رمضان کے استقبال کا ایمان افروز خطبہ ​اے مسلمانو! دیکھو، تمہارے مہمان (رمضان) کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور اس کی خوشبو پھیل چکی ہے۔ یہ بہترین اترنے والا، سب سے افضل آنے والا اور دلوں کا معزز ترین مہمان ہے۔ دل اس کے مشتاق اور روحیں اس کے لیے بے قرار ہیں۔ پس اس کی آمد کا انتظار کرو اور اس کے پہنچنے کی راہ تکو، کیونکہ اس کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے اور اس کا بہترین استقبال کرنا شرافت و مروت ہے۔ ​اللہ کے بندو!تمہارا یہ مہمان ہلکا پھلکا اور نرم مزاج ہے۔ یہ بلند صفات، کریمانہ عادات اور وسیع نوازشات والا مہمان ہے۔ یہ مہمان ہے تو سہی مگر عام مہمانوں جیسا نہیں؛ یہ تمہارے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے نہیں آتا، نہ ہی کسی سوال کے لیے تمہاری زیارت کرتا ہے، بلکہ یہ ایسا مہمان ہے جو دیتا ہے مگر لیتا کچھ نہیں، نوازتا ہے مگر احسان نہیں جتاتا، خوشیاں بانٹتا ہے اور پریشان نہیں کرتا۔​پس خبردار! اس مہمان کو اپنے لیے ایسا ڈراونا خواب نہ بنانا جو تمہاری لذتوں کو کاٹ دے، یا ایسا بوجھ نہ سمجھنا جو تمہاری زندگی کو اجیرن کر دے اور تمہاری عادتوں کو بدل دے۔ اور خبردار! اس مہمان کی موجودگی میں کام کے بہانے اپنی جگہوں کو نہ چھوڑنا، نہ ہی سیاحت و سفر کے مقصد سے اپنی ذمہ داریوں (سرحدوں) سے دور ہونا۔ بلکہ اپنے نفسوں کو تیار کرو، اپنے ارادوں کو مضبوط کرو، اپنے اوقات کو (عبادت کے لیے) فارغ کرو، اپنے رب کی رحمتوں کے سامنے دستِ دعا پھیلاؤ اور اپنے مہینے کے فضائل کو غنیمت جانو۔ ​اے (رمضان کے) مشتاقو!تمہارا یہ معزز مہینہ مبارک ہے؛ اس کی راتیں فضائل و انعامات سے بھرپور ہیں، اس کے دن نفیس تحفوں اور بخششوں والے ہیں، اور اس کے لمحات رحمتوں اور کرامتوں کے حامل ہیں۔ یہ بھلائی اور احسان کا مہینہ ہے؛ اس نے کتنے ہی زخموں پر مرہم رکھا، کتنے ہی مصیبت زدوں کو دلاسا دیا…

Read more

Continue reading

One thought on “دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام”

  1. IT نے کہا:
    18.05.2025 وقت 01:08
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو فطرت کے سیلاب سے زیادہ اپنے اندر کے سیلاب سے ڈرنا چاہیے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہماری اخلاقیات اور ایمان کی کمزوری ہی ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے؟ یہ تحریر مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں۔ کیا ہم واقعی اپنے کردار کی تباہی کو سمجھتے ہیں یا صرف ظاہری مشکلات پر توجہ دیتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کی اصلاح پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ اخلاقیات کی کمی ہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟
    جواب دیں
  2. Business نے کہا:
    20.05.2025 وقت 10:10
    یہ تحریر بہت گہرے معنی رکھتی ہے اور ہمیں اخلاقیات اور ایمان کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کیا ہم واقعی اپنے اخلاقی اقدار کو اتنا نظرانداز کر چکے ہیں کہ یہ سیلاب، زلزلہ، طوفان اور سونامی کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کی دنیا کو سنبھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم مادی نقصانات پر تو توجہ دیتے ہیں لیکن اخلاقی اور روحانی تباہی کو نظرانداز کر دیتے ہیں؟ یہ تحریر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں ہم اپنے اخلاقی اقدار کو بچانے کے لیے کون سے اقدامات کر سکتے ہیں؟
    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ 05.03.2026
  • بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ 05.03.2026
  • روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں 01.03.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 01.03.2026
  • رمضان المبارک اور برادران وطن 25.02.2026
  • اسقاط حمل کا مسئلہ 25.02.2026
  • سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟ 25.02.2026
  • جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد 22.02.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ

  • hira-online.com
  • مارچ 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ

  • hira-online.com
  • مارچ 5, 2026
Blog

روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • مارچ 1, 2026
Blog

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • مارچ 1, 2026
Blog

رمضان المبارک اور برادران وطن

  • hira-online.com
  • فروری 25, 2026
فقہ و اصول فقہ

اسقاط حمل کا مسئلہ

  • hira-online.com
  • فروری 25, 2026
فقہ و اصول فقہ

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟

  • hira-online.com
  • فروری 25, 2026
قرآن و علوم القرآن

جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد

  • hira-online.com
  • فروری 22, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top