Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
15.06.2026
Trending News: مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائد
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
15.06.2026
Trending News: مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائد
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

  1. Home
  2. دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 1, 2025
  • 2 Comments


مفتی محمد اعظم ندوی

عالمی معیشت کو اکثر ایک بلند پرواز طیارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے، مگر حقیقت اس چمکدار تمثیل سے کہیں زیادہ تلخ، پیچیدہ اور طبقاتی تضاد سے بھری ہوئی ہے، سرمایہ داری کے ایندھن سے اڑان بھرنے والی یہ پرواز، درحقیقت، صرف چند مراعات یافتہ طبقات کو فرسٹ کلاس آسائش فراہم کرتی ہے، جب کہ اکثریت کے لیے یہ ایک تھکا دینے والی جدوجہد، معاشی غلامی اور زمین سے جڑی محرومیوں کا سفر ہے، آکسفیم Oxfam کی 2024 کی رپورٹ (Vision IAS، فروری 2025) کے مطابق، دنیا کی 44 فیصد آبادی عالمی بینک کے غربت کے طے شدہ معیار — یعنی $6.85 (Purchasing Power Parity یعنی قوت خرید کے توازن) — سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جب کہ دنیا کے صرف 1 فیصد امیر ترین افراد کے پاس عالمی دولت کا تقریباً 45 فیصد حصہ موجود ہے، رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ 2024 میں ارب پتیوں کی دولت میں اضافہ 2023 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے ہوا، اور ان کی 60 فیصد دولت محنت سے نہیں بلکہ وراثت، اجارہ داری، اور بدعنوانی سے حاصل ہوئی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، ترقی پذیر ممالک کو ایسے قرضوں کے جال میں الجھاتے ہیں جو ان کی معاشی خود مختاری کو سلب کر لیتے ہیں، ان اداروں کی پالیسیاں وسائل کی لوٹ مار اور مقامی صنعتوں کے انہدام کا سبب بنتی ہیں، افریقہ سے لیتھیم، سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کی کان کنی کا معاملہ ہو یا لاطینی امریکہ کے زرعی خطوں کو کمپنیوں کو جاگیر بنانے کا عمل، سب کچھ "ترقی” کے خوبصورت پردے میں ایک منظم استحصال ہے، عالمگیریت کے نام پر تجارت کے جو معاہدے تھوپے جاتے ہیں، وہ طاقتور اقوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، جب کہ کمزور ممالک اپنی ثقافت، خود کفیل ہونے کی طاقت، اور اختیارات سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کو ترقی کا نیا افق بتایا جاتا ہے، مگر درحقیقت، یہ بھی عدم مساوات کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ بن گئی ہے، اربوں ڈالر کمانے والی کمپنیوں مثلا ایمیزون اور گوگل کے ورکرز کم سے کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ خود کار نظاموں نے انسانوں کی جگہ لے لی ہے، سبز توانائی کا بیانیہ بھی اپنی جگہ ایک دکھاوا بن چکا ہے، کیونکہ اس کے لیے معدنیات کی کان کنی ماحول اور انسان دونوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، یہ ترقی نہیں بلکہ تباہی کے راستے کی نئی شکل ہے، جہاں کارپوریٹ مفادات، انسانیت، ماحول اور ثقافت سب پر بھاری ہے، اقبال نے کیا غلط کہا تھا:
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اس معاشی اڑان کا مقابلہ اسلامی اصولوں سے کیا جائے، تو ہمیں یہاں ایک ایسا متوازن، منصفانہ اور پائیدار نظام نظر آتا ہے جو دولت کے ارتکاز کو ناپسند کرتا ہے، قرآن کی صاف ہدایت ہے کہ "تاکہ مال تمہارے چند دولت مندوں کے درمیان نہ گردش کرتا رہے” (الحشر: 7)۔ زکوٰۃ، وراثت، ربا کی ممانعت، اور شراکتی مالیات جیسے اصول اس تصور معیشت کی بنیاد ہیں جو نہ صرف غربت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور فطری توازن کو بھی فروغ دیتا ہے، سرکلر اکانومی کو بھی اسلامی تصور کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے جو فضول خرچی کی ممانعت اور وسائل کے معتدل استعمال پر زور دیتا ہے، جو ماحولیاتی تباہی کے سد باب میں معاون ہے۔

اسلامی تعلیمات عالمگیریت کو استحصال کے بجائے باہمی تعاون کے ایک موقع کے طور پر پیش کرتی ہیں، قرآن کے اصول "تعاون کرو نیکی اور تقویٰ میں” (المائدہ: 2) کی روشنی میں ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو کمزور اقوام کو استحصال سے بچائے اور مقامی خود مختاری کو تقویت دے، عالمی معیشت کی اصلاح صرف اعداد و شمار کی ترتیب یا بیانیہ سازی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی، فکری اور تہذیبی جدوجہد ہے—ایسی جدوجہد جو انسان اور انسانیت کو سرمایہ دارانہ نظام کے پنجۂ استبداد سے آزاد کرا سکے، اور ایک ایسے عالمی نظم کی راہ ہموار کرے جس میں ہر فرد کو ترقی، عزت اور خود مختاری کا حق میسر ہو۔
دنیا اسلامک بینکنگ کی جانب ٹکٹکی لگائے بیٹھی ہے، اور واقعی اس میں معاشی ریل کو پٹری پر لانے کی صلاحیت۔موجود ہے بشرطیکہ یہ خود ٹریک سے نہ اترے، اس سلسلہ میں اسلامی بینکاری کے پچاس سالہ سفر پر مبنی محمد زکریا فضل کا مضمون "خمسون عامًا من المصرفية الإسلامية في خدمة اقتصاد المعنى” (الجزیرہ، 23 اپریل 2025) قابل مطالعہ ہے، جو دراصل اسی تلخ حقیقت کا فکری تسلسل ہے جس کی نشاندہی ہم نے عالمی معیشت کی فرضی اڑان کے تناظر میں کی، جہاں ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام چند ہاتھوں میں دولت اور طاقت کے ارتکاز کو خوشحالی کا نام دے کر پوری دنیا کو معاشی غلامی کی پرواز پر سوار کر رہا ہے، وہیں مضمون نگار اسلامی مالیات کو "اقتصاد المعنیٰ” یعنی معنویت پر مبنی معیشت کے طور پر متعارف کراتے ہیں، جہاں پیسہ صرف شرح منافع کا پیمانہ نہیں بلکہ انسانی وقار، عدل، اور زمین کی تعمیری خدمت کا ذریعہ ہے، وہ اس باب میں ڈاکٹر احمد النجار کے ابتدائی اقدامات سے لے کر آج کے 4.5 ٹریلین ڈالر کے مالیاتی دائرے تک اسلامی بینکاری کی فکری روح کو یاد دلاتے ہیں، اور سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا موجودہ ادارے اب بھی اس مشن پر قائم ہیں یا صرف شرعی لیبل لگا کر سرمایہ دارانہ منڈی کے تابع ہو چکے ہیں؟ اس تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر عالمی معیشت کو واقعی انصاف، پائیداری اور مقصدیت کی طرف موڑنا ہے تو صرف تنقید کافی نہیں — ایک ایسا جامع متبادل نظام درکار ہے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو، اور جس کی بنیاد "کس لیے کمایا؟” اور "کس پر خرچ کیا؟” جیسے سوالات پر ہو، نہ کہ صرف "کتنا کمایا؟” پر۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

خوشگوار ازدواجی زندگی کے تقاضے
"عید مبارک”

Related Posts

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 14, 2026
  • 0 Comments
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ ​بھارت کی موجودہ سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں جمہوریت کے روایتی طریقے اور انتخابی حکمتِ عملیاں اپنی افادیت کھوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں انڈیا (INDIA) اتحاد کے حالیہ اجلاس میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کا بیان محض ایک سیاسی تقریر نہیں، بلکہ بھارتی اپوزیشن کی بقا اور مستقبل کی سیاست کا ایک نیا مینی فیسٹو (Manifesto) بن کر سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپوزیشن کو واضح لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ اب روایتی سیاست کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے—اور وہ ہے "مسلسل مزاحمت”۔ ​راہل گاندھی کا بیانیہ: راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے اجلاس میں اپوزیشن سے کہا ہے کہ اسے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، جب انتخابات منصفانہ نہیں ہیں تو مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔ راہل نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کے وجود پر بات کی ہے اور اس کے مستقبل پر بھی۔ ایک بات وہ بالکل واضح طور پر کہہ رہے ہیں: بھارت کے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں آر ایس ایس (RSS) کا بھی خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مزاحمت کے راستے پر چلیں گے تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظام کو شکست دے دیں گے۔” ​اس بیان کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں یہ بنیادی سوالات بھی گونجنے لگے ہیں کہ: کیا کانگریس اور اپوزیشن کے پاس آر ایس ایس جیسی گہری جڑیں رکھنے والی تنظیم سے لڑنے کا حوصلہ، صبر اور تنظیمی ڈھانچہ ہے؟ کیا اپوزیشن جماعتیں راہل کی طرح ہر روز مزاحمت کے لیے تیار ہیں، اور کیا خود راہل ہر روز اس محاذ پر صفِ اول میں نظر آئیں گے؟ ​تقریر کا گہرائی سے تجزیہ اور بنیادی ستون​اگر اس تقریر کا سیاسی, سماجی اور تنظیمی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے، تو اس کے تین بنیادی ستون سامنے آتے ہیں: ​1. انتخابی سیاست سے آگے کا…

Read more

Continue reading
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • توحید
  • توحید قرآن و حدیث کی روشنی میں
  • جون 12, 2026
  • 0 Comments
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں تمہید دنیا میں انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی گئی ہیں، لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ایمان اور توحید کی نعمت ہے۔ یہی وہ دولت ہے جس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے، کتابیں نازل کی گئیں، جہاد کیے گئے، اور اللہ کے نیک بندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے شہادت قبول کرلی مگر کلمۂ توحید سے دستبردار نہ ہوئیں، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون کے ظلم کو برداشت کیا مگر توحید کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی وہ عظیم دولت ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار مصائب برداشت کیے۔ توحید اسلام کی بنیاد، ایمان کی روح اور نجاتِ آخرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا سب سے قیمتی سرمایہ یہی عقیدہ ہے۔ توحید کا معنی و مفہوم توحید کا لغوی معنی ہے: کسی کو ایک ماننا اور یکتا تسلیم کرنا۔ شرعی اصطلاح میں توحید سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، افعال اور عبادات میں یکتا اور بے شریک ماننا۔ یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق، مشکل کشا، حاجت روا اور عبادت کے لائق واحد معبود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: عقیدۂ توحید انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مرکز تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی نقطہ توحید تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کی دعوت کا محور صرف اور صرف توحید تھا۔ توحید انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا: اس آیت سے واضح ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد دنیا کمانا، شہرت حاصل کرنا یا عیش و آرام نہیں بلکہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت اور توحید کا قیام ہے۔ توحید عبادات کی قبولیت…

Read more

Continue reading

One thought on “دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام”

  1. IT نے کہا:
    18.05.2025 وقت 01:08
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو فطرت کے سیلاب سے زیادہ اپنے اندر کے سیلاب سے ڈرنا چاہیے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہماری اخلاقیات اور ایمان کی کمزوری ہی ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے؟ یہ تحریر مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں۔ کیا ہم واقعی اپنے کردار کی تباہی کو سمجھتے ہیں یا صرف ظاہری مشکلات پر توجہ دیتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کی اصلاح پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ اخلاقیات کی کمی ہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟
    Reply
  2. Business نے کہا:
    20.05.2025 وقت 10:10
    یہ تحریر بہت گہرے معنی رکھتی ہے اور ہمیں اخلاقیات اور ایمان کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کیا ہم واقعی اپنے اخلاقی اقدار کو اتنا نظرانداز کر چکے ہیں کہ یہ سیلاب، زلزلہ، طوفان اور سونامی کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کی دنیا کو سنبھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم مادی نقصانات پر تو توجہ دیتے ہیں لیکن اخلاقی اور روحانی تباہی کو نظرانداز کر دیتے ہیں؟ یہ تحریر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں ہم اپنے اخلاقی اقدار کو بچانے کے لیے کون سے اقدامات کر سکتے ہیں؟
    Reply

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026
  • ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام 08.06.2026
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) 06.06.2026
  • یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 29.05.2026
  • بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ 28.05.2026
  • مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام 23.05.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں
Blog

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

  • hira-online.com
  • جون 8, 2026
سیرت و شخصیات

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  • hira-online.com
  • جون 6, 2026
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
مضامین و مقالات

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

  • hira-online.com
  • مئی 29, 2026
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
سیرت و شخصیات

بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

  • hira-online.com
  • مئی 28, 2026
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
سیرت و شخصیات

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام

  • hira-online.com
  • مئی 23, 2026
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top