Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

  1. Home
  2. دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 1, 2025
  • 2 Comments


مفتی محمد اعظم ندوی

عالمی معیشت کو اکثر ایک بلند پرواز طیارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے، مگر حقیقت اس چمکدار تمثیل سے کہیں زیادہ تلخ، پیچیدہ اور طبقاتی تضاد سے بھری ہوئی ہے، سرمایہ داری کے ایندھن سے اڑان بھرنے والی یہ پرواز، درحقیقت، صرف چند مراعات یافتہ طبقات کو فرسٹ کلاس آسائش فراہم کرتی ہے، جب کہ اکثریت کے لیے یہ ایک تھکا دینے والی جدوجہد، معاشی غلامی اور زمین سے جڑی محرومیوں کا سفر ہے، آکسفیم Oxfam کی 2024 کی رپورٹ (Vision IAS، فروری 2025) کے مطابق، دنیا کی 44 فیصد آبادی عالمی بینک کے غربت کے طے شدہ معیار — یعنی $6.85 (Purchasing Power Parity یعنی قوت خرید کے توازن) — سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جب کہ دنیا کے صرف 1 فیصد امیر ترین افراد کے پاس عالمی دولت کا تقریباً 45 فیصد حصہ موجود ہے، رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ 2024 میں ارب پتیوں کی دولت میں اضافہ 2023 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے ہوا، اور ان کی 60 فیصد دولت محنت سے نہیں بلکہ وراثت، اجارہ داری، اور بدعنوانی سے حاصل ہوئی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، ترقی پذیر ممالک کو ایسے قرضوں کے جال میں الجھاتے ہیں جو ان کی معاشی خود مختاری کو سلب کر لیتے ہیں، ان اداروں کی پالیسیاں وسائل کی لوٹ مار اور مقامی صنعتوں کے انہدام کا سبب بنتی ہیں، افریقہ سے لیتھیم، سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کی کان کنی کا معاملہ ہو یا لاطینی امریکہ کے زرعی خطوں کو کمپنیوں کو جاگیر بنانے کا عمل، سب کچھ "ترقی” کے خوبصورت پردے میں ایک منظم استحصال ہے، عالمگیریت کے نام پر تجارت کے جو معاہدے تھوپے جاتے ہیں، وہ طاقتور اقوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، جب کہ کمزور ممالک اپنی ثقافت، خود کفیل ہونے کی طاقت، اور اختیارات سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کو ترقی کا نیا افق بتایا جاتا ہے، مگر درحقیقت، یہ بھی عدم مساوات کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ بن گئی ہے، اربوں ڈالر کمانے والی کمپنیوں مثلا ایمیزون اور گوگل کے ورکرز کم سے کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ خود کار نظاموں نے انسانوں کی جگہ لے لی ہے، سبز توانائی کا بیانیہ بھی اپنی جگہ ایک دکھاوا بن چکا ہے، کیونکہ اس کے لیے معدنیات کی کان کنی ماحول اور انسان دونوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، یہ ترقی نہیں بلکہ تباہی کے راستے کی نئی شکل ہے، جہاں کارپوریٹ مفادات، انسانیت، ماحول اور ثقافت سب پر بھاری ہے، اقبال نے کیا غلط کہا تھا:
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اس معاشی اڑان کا مقابلہ اسلامی اصولوں سے کیا جائے، تو ہمیں یہاں ایک ایسا متوازن، منصفانہ اور پائیدار نظام نظر آتا ہے جو دولت کے ارتکاز کو ناپسند کرتا ہے، قرآن کی صاف ہدایت ہے کہ "تاکہ مال تمہارے چند دولت مندوں کے درمیان نہ گردش کرتا رہے” (الحشر: 7)۔ زکوٰۃ، وراثت، ربا کی ممانعت، اور شراکتی مالیات جیسے اصول اس تصور معیشت کی بنیاد ہیں جو نہ صرف غربت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور فطری توازن کو بھی فروغ دیتا ہے، سرکلر اکانومی کو بھی اسلامی تصور کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے جو فضول خرچی کی ممانعت اور وسائل کے معتدل استعمال پر زور دیتا ہے، جو ماحولیاتی تباہی کے سد باب میں معاون ہے۔

اسلامی تعلیمات عالمگیریت کو استحصال کے بجائے باہمی تعاون کے ایک موقع کے طور پر پیش کرتی ہیں، قرآن کے اصول "تعاون کرو نیکی اور تقویٰ میں” (المائدہ: 2) کی روشنی میں ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو کمزور اقوام کو استحصال سے بچائے اور مقامی خود مختاری کو تقویت دے، عالمی معیشت کی اصلاح صرف اعداد و شمار کی ترتیب یا بیانیہ سازی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی، فکری اور تہذیبی جدوجہد ہے—ایسی جدوجہد جو انسان اور انسانیت کو سرمایہ دارانہ نظام کے پنجۂ استبداد سے آزاد کرا سکے، اور ایک ایسے عالمی نظم کی راہ ہموار کرے جس میں ہر فرد کو ترقی، عزت اور خود مختاری کا حق میسر ہو۔
دنیا اسلامک بینکنگ کی جانب ٹکٹکی لگائے بیٹھی ہے، اور واقعی اس میں معاشی ریل کو پٹری پر لانے کی صلاحیت۔موجود ہے بشرطیکہ یہ خود ٹریک سے نہ اترے، اس سلسلہ میں اسلامی بینکاری کے پچاس سالہ سفر پر مبنی محمد زکریا فضل کا مضمون "خمسون عامًا من المصرفية الإسلامية في خدمة اقتصاد المعنى” (الجزیرہ، 23 اپریل 2025) قابل مطالعہ ہے، جو دراصل اسی تلخ حقیقت کا فکری تسلسل ہے جس کی نشاندہی ہم نے عالمی معیشت کی فرضی اڑان کے تناظر میں کی، جہاں ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام چند ہاتھوں میں دولت اور طاقت کے ارتکاز کو خوشحالی کا نام دے کر پوری دنیا کو معاشی غلامی کی پرواز پر سوار کر رہا ہے، وہیں مضمون نگار اسلامی مالیات کو "اقتصاد المعنیٰ” یعنی معنویت پر مبنی معیشت کے طور پر متعارف کراتے ہیں، جہاں پیسہ صرف شرح منافع کا پیمانہ نہیں بلکہ انسانی وقار، عدل، اور زمین کی تعمیری خدمت کا ذریعہ ہے، وہ اس باب میں ڈاکٹر احمد النجار کے ابتدائی اقدامات سے لے کر آج کے 4.5 ٹریلین ڈالر کے مالیاتی دائرے تک اسلامی بینکاری کی فکری روح کو یاد دلاتے ہیں، اور سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا موجودہ ادارے اب بھی اس مشن پر قائم ہیں یا صرف شرعی لیبل لگا کر سرمایہ دارانہ منڈی کے تابع ہو چکے ہیں؟ اس تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر عالمی معیشت کو واقعی انصاف، پائیداری اور مقصدیت کی طرف موڑنا ہے تو صرف تنقید کافی نہیں — ایک ایسا جامع متبادل نظام درکار ہے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو، اور جس کی بنیاد "کس لیے کمایا؟” اور "کس پر خرچ کیا؟” جیسے سوالات پر ہو، نہ کہ صرف "کتنا کمایا؟” پر۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

خوشگوار ازدواجی زندگی کے تقاضے
"عید مبارک”

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ٹیکس
  • ٹیکس دینا کیسا ہے
  • اگست 5, 2026
  • 0 Comments
ٹیکس میں سود کی رقم دینا

ٹیکس میں سود کی رقم دینا ٹیکس جو حکومت عوام سے وصول کرتی ہے وہ دو طرح کے ہیں ۔ بعض منصفانہ ہیں اور خود اسلام میں ان کی گنجائش ہے مثلا پانی ، روشنی ، سڑک ، ہسپتال ، لائبریری اور پارک وغیرہ سہولتوں کے بدلے بلدیہ جو ٹیکس لیا کرتی ہے وہ اس کا فائدہ محسوس طور پر ہماری طرف لوٹا دیتی ہے ۔ دوسرے قسم کے ٹیکس ایسے ہیں جن کو غیر منصفانہ اور ناواجبی کہا جاسکتا ہے ۔ مثلا انکم ٹیکس جو بسا اوقات اسی فی صد تک پہنچ جاتا ہے شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ ہونے کے علاوہ واقعہ ہے کہ اس قسم کے ٹیکس غیر معقول بھی ہیں کہ ایک شخص اپنے گاڑھے پسینہ سے جو کچھ حاصل کرے آپ اس کا اسی فی صد اجتماعی مفاد کے لئے وصول کر لیں۔ پہلی قسم کے ٹیکس میں بینک کی سودی رقم دینا درست نہ ہو گا اس لئے کہ وہاں سود دینا گویا اپنی ذات میں سود کا استعمال ہوگیا اس لئے کہ وہ بھی ان قومی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور فقہاء نے ایسے ٹیکس کی اجازت دی ہے جیسا کہ ابوالحسن مرغینانی کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے : فان اريد بها ما يكون بحق ككرى النهر المشترك واجر الحارس والموظف لتجهيز الجيش وفداء الاسارى وغيرها جازت الكفالة بها على الاتفاق – اگر اس سے وہ ٹیکس مراد ہیں جو جائز اور صحیح ہیں جیسے مشترک نہر کا کھودنا پولیس کی اجرت ، فوج کا انتظام کرنے والوں کی تنخواہ جو سب پر ڈال دی جائے یا قیدیوں کو کافروں کی قید سے چھڑانے کے لئے عطیات تو بالاتفاق ان کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ دوسری قسم کے ٹیکس میں یہ رقم دی جاسکتی ہے کہ اس طرح یہ مال حرام اس حکومت یا ادارہ کو پہونچتا ہے جس نے یہ مال امانت داروں کو سود کے نام سے دیا ہے ۔ جدید فقہی مسائل  : ج : 1 ص: (421 )

Read more

Continue reading
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading

One thought on “دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام”

  1. IT نے کہا:
    18.05.2025 وقت 01:08
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو فطرت کے سیلاب سے زیادہ اپنے اندر کے سیلاب سے ڈرنا چاہیے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہماری اخلاقیات اور ایمان کی کمزوری ہی ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے؟ یہ تحریر مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں۔ کیا ہم واقعی اپنے کردار کی تباہی کو سمجھتے ہیں یا صرف ظاہری مشکلات پر توجہ دیتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کی اصلاح پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ اخلاقیات کی کمی ہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟
    Reply
  2. Business نے کہا:
    20.05.2025 وقت 10:10
    یہ تحریر بہت گہرے معنی رکھتی ہے اور ہمیں اخلاقیات اور ایمان کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کیا ہم واقعی اپنے اخلاقی اقدار کو اتنا نظرانداز کر چکے ہیں کہ یہ سیلاب، زلزلہ، طوفان اور سونامی کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کی دنیا کو سنبھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم مادی نقصانات پر تو توجہ دیتے ہیں لیکن اخلاقی اور روحانی تباہی کو نظرانداز کر دیتے ہیں؟ یہ تحریر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں ہم اپنے اخلاقی اقدار کو بچانے کے لیے کون سے اقدامات کر سکتے ہیں؟
    Reply

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026
  • بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا 05.08.2026
  • قسطوں پر سامان کی فروخت 05.08.2026
  • عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟ 05.08.2026
  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

قسطوں پر سامان کی فروخت

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top