ساس ، جو کبھی بہو تھی-
از : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
[ ازدواجی زندگی کے 35 برس پورے ہونے پر اہلیہ کے بارے میں کچھ باتیں ، جو بہوؤں کے لیے مفید ہوں گی اور ساسوں کے لیے بھی – ]
میں اپنا اور اپنے گھر والوں : بیوی ، بہو اور پوتوں کا کچھ ذکر کرتا ہوں تو میرے بعض احباب اسے خود ستائی اور ریاکاری پر محمول کرتے ہیں ، حالاں کہ اللہ گواہ ہے ، میرا ارادہ صرف اصلاح اور تربیت ہوتا ہے – میں چاہتا ہوں کہ جو اچھی باتیں ہوں وہ میری بہنیں اور بیٹیاں اختیار کریں ، تاکہ ان کی زندگی میں بھی حسن پیدا .ہو اور خوش گواری آئے –
میرے ساتھ اہلیہ کے علاوہ بہو اور دو پوتے (ابراہیم اور اسماعیل) رہتے ہیں – [ میرا بیٹا ملازمت کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم ہے – ] اہلیہ جب بہو تھیں تو ان کے تعلقات اپنی ساس سے بہت خوش گوار تھے اور اب ساس ہیں تو اپنی بہو سے ان کے تعلقات مثالی ہیں –
میں بچپن سے وطن سے دوٗر رہا – شادی کے بعد بھی – والد صاحب نے پابند کر رکھا تھا کہ چاہے جہاں رہو ، عید الفطر اور عید الاضحٰی کے مواقع پر گھر ضرور آنا –
میں نے ہمیشہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کی – اہلیہ میرے ساتھ جاتیں تو وہ میری امّی کے لیے خاص طور پر کپڑے ، چوڑیاں اور دوسری چیزیں لے کر جاتیں – جتنے دن گھر پر رہتیں ان کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھتیں – ان کے کپڑے دھو دیتیں – سر میں کنگھی کرتیں اور تیل لگاتیں –
میری امّی کی زبان میں کینسر تشخیص ہوا – چھوٹا بھائی آپریشن کروانے کے لیے انھیں ممبئی لے گیا – بعد میں ابو کو بھی وہاں لے جانے کا پروگرام بنا تو اہلیہ نے بھی ساتھ جانے کی ضد کی اور جاکر رہیں – امی کے بڑھاپے میں اہلیہ نے خاص طور پر ان کو ہر ممکن آرام پہنچانے کی کوشش کی – باتھ روم میں بیٹھنے میں دشواری ہونے لگی تو ان کے لیے لیٹرین والی کرسی لاکر دی – شلوار کا آزار بند کھولنے اور باندھنے میں دشواری ہونے لگی تو الاسٹک ڈال دیا – اس طرح کے چھوٹے چھوٹے بہت سے کام کیے جو ایک ماں اپنے چھوٹے بچے کے لیے کرتی ہے –
شاید اسی کا اثر تھا کہ امّی کی زبان پر ہر وقت اپنی بہو کے لیے دعائیں رہتی تھیں – وہ زور زور سے دعا دیتی تھیں – پہلی بیٹی کے انتقال کے بعد بیٹا پیدا ہوا تو وہ کہا کرتی تھیں : ” اللہ تعالیٰ ایک سے ہزار کرے گا – “ ہم دو بھائی اور دو بہن تھے – امی نے جتنی دعائیں میری اہلیہ کو دیں اتنی ہم میں سے کسی کو نہیں دیں – میں سوچتا تھا : ” آخر کیوں وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو اتنی دعائیں نہیں دیتیں جتنی اپنی بہو کو دیتی ہیں؟
“ میری دو بیٹیاں پیدائش کے بعد ہی اللہ کو پیاری ہوگئیں – اہلیہ نے اپنی دو بھتیجیوں کو اپنے ساتھ رکھ کر ان کی تعلیم و تربیت کا نظم کیا – ان کی شادی کے بعد وہ پھر تنہا رہ گئیں تو انھوں نے بہو لانے کا فیصلہ کرلیا – میں نے اپنے چچا زاد بھائی اخلاق احمد ندوی سے بات کی تو وہ بہ خوشی تیار ہوگئے – میری بہو صالحہ نے ایک دینی مدرسہ سے تعلیم حاصل کی ہے – گھر پر زیادہ نہ رہ پانے کی وجہ سے اسے گھریلو کاموں میں مہارت نہیں تھی – اس سے روٹی گول نہیں بنتی تھی ، انواع و اقسام کے کھانے پکانا نہیں آتا تھا – اہلیہ نے کہا : ” کوئی بات نہیں ، میں سب سکھادوں گی – “ گھر پر کبھی ساس بہو کی نوک جھوک ، بلکہ من موٹاؤ نہیں ہوا – صالحہ ہم لوگوں کا بہت خیال رکھتی ہے – اہلیہ مجموعۂ امراض ہیں – ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہوجانے کے بعد سے چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے – بہو ان کا سہارا بنی ہوئی ہے – دونوں گھر کا کام مل جل کر کرتے ہیں ، بلکہ زیادہ تر کام بہو خوشی خوشی کرتی ہے – گھر کے باہر کے کام بھی پہلے اہلیہ کرتی تھیں، اب بہو کرتی ہے ، دونوں نے مجھے آزاد کررکھا ہے – کبھی بہو کو اپنی ساس کے سر میں تیل لگاتے اور کنگھی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں : مثل مشہور ہے : جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے ، جیسا کرو گے ویسا ہی اس کا پھل ملے گا – اہلیہ نے جو کچھ اپنی ساس کے ساتھ کیا ویسا ہی ان کی بہو ان کے ساتھ کررہی ہے –
میرے سامنے بہو اور ساس کے درمیان تلخ تعلقات کے کیسز آتے ہیں تو بہت تعجّب ہوتا ہے –
میں سوچتا ہوں : کیسی بہوئیں ہیں جو اپنی ساسوں کی خدمت کرکے ان کا پیار نہیں حاصل کرسکیں؟
مجھے ان بہوؤں پر بہت حیرت ہوتی ہے جو اپنے شوہروں سے کہتی ہیں : ” میں آپ کے ماں باپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی ، ان کی خدمت میری ذمے داری نہیں ، مجھے الگ گھر لے کر دیجیے – “ کیا ساس سسر رشتے داروں میں نہیں آتے؟ کیا صلہ رحمی کے احکام ان سے متعلق نہیں ہیں؟
مجھے ان ساسوں پر بہت حیرت ہوتی ہے جو اپنی بہوؤں کو بیٹیوں جیسا پیار نہیں دے پاتیں ، جو ان کے کاموں کو خوردبین لگاکر دیکھتی ہیں اور معمولی کمی یا کوتاہی پر سخت سست کہنے لگتی ہیں – اگر وہ بہوؤں سے بیٹیوں جیسا پیار کریں تو ضرور بہوؤں کو بھی ان پر جان نچھاور کرتا ہوا پائیں گی –