امام غزالی علم و دانش کے پیکر تھے
غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر
____________________
میرا آج کا یہ خاص مضمون امام غزالی کے بارے میں ایک مختصر تعارف پر مبنی ہے ، اور جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ امام غزالی کی علمی و دینی خدمات کے بارے میں جاننے اور ان کی گراں قدر کتابوں کے مطالعہ کرنے کی طرف راغب ہوں ۔
___________________
فارس ( موجودہ ایران ) کے ممتاز عالم دین امام غزالی ( 1058ء -1111ء ) کا پورا نام ابو حامد محمد بن محمد طوسی شافعی تھا ، اور طہران کے ضلع طوس میں ہجری کلینڈر کے مطابق 450 ھ میں پیدا ہوئے تھے ۔
اللہ تعالی نے ان کو بیشمار اور گوناگوں علمی و فکری صلاحیتوں سے نوازا تھا ، اور علمی لحاظ سے ان کی جلالت کا عالم یہ ہوتا تھا کہ ان کے درس و تدریس میں روزانہ تین سو کے قریب علماء ، امراء اور روسا بالتزام حاضر ہوتے تھے ، امام غزالی فلسفہ پر ید طولٰى رکھتے تھے ، اور علم کلام میں ان کو وہی مقام حاصل تھا ، جو ارسطو کو منطق میں تھا ، ان کی ذہنی ، فکری ، علمی اور مجتہدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ان کی ساری زندگی حصول علم کے ساتھ ساتھ مطالعہ و تحقیق میں گزری ہے ، اور ان کے زمانے میں مسلمانوں میں عقائد کے حوالے سے جو بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، اور اخلاقیات میں بھی وہ تنزل کے شکار تھے ، تو ان کے لئے وہ ہر وقت فکر مند رہتے تھے ، اور اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ ان کی اصلاح کی کوشش کرتے تھے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے زمانہ کے بڑے بڑے بادشاہوں اور امراء کو خطوط لکھ کر انہیں اصلاح عقائد کی دعوت دیتے تھے ۔
امام غزالی نے بہت سی ضخیم کتابیں لکھی ہیں ، لیکن ان کی مشہور کتاب ” احیاء علوم الدین ” ہے ، اور بعد میں یہی کتاب ان کی پہچان بھی بن گئی ہے ، اور آج بھی اس کتاب کو ہر مکتب فکر کے لوگ پسند کرتے ہیں ، اور اس کا ذوق و شوق کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں ۔
اگرچہ اس کتاب میں صحیح روایات کے ساتھ ساتھ غیر صحیح روایات بھی پائی جاتی ہیں ، لیکن اب اس کتاب کی تخریج بھی ہوئی ہے ، اور اس کا نیا ایڈیشن قاہرہ سے ضخیم پانچ جلدوں میں تخریج کے ساتھ شائع ہوچکا ہے ، اور میرے پاس بھی اس کتاب کا یہی عربی ایڈیشنش موجود ہے ، اور اس کا اردو ایڈیشن بھی دستیاب ہے ، تو نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اس کتاب کا خصوصیت کے ساتھ مطالعہ کریں ، کیونکہ اس طرح کی کتابیں لکھنا آج کے دور میں ممکن نہیں رہا ہے ۔
امام غزالی کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی نے ایک تحقیقی کتاب ، الغزالی ، کے نام سے لکھی ہے ، جو تذکرہ شخصیات کے حوالے سے ایک شاہکار کتاب ہے ، اور اس کے علاوہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے اپنی معرکہ آرا کتاب ” تاریخ دعوت و عزیمت ” کے جلد اول میں ” امام غزالی” کے عنوان سے 67 صفحات (131 تا 196) كا ایک طویل اور بصیرت افروز مضمون لکھا ہے ، جو قابل مطالعہ ہے ، چنانچہ اس کتاب میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ایک جگہ پر امام غزالی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں ۔
” امام غزالی صرف ایک بلند پایہ فقیہ ، ایک صاحب اجتہاد متکلم اور ایک صاحب دل صوفی نہیں ہیں ، اخلاقیات اسلامی اور فلسفہ اخلاق کے ایک نامور مصنف اور ایک دقیق النظر اور نکتہ رس ، ماہر اخلاق و نفسیات بھی ہیں ، اخلاق اسلامی اور فلسفہ اخلاق کی کوئی تاریخ ان کے تذکرہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ، احیاء العلوم اس موضوع پر بھی ان کا ایک کار نامہ ہے ، امراض قلب اور کیفیات نفسانی پر انہوں نے جو کچھ لکھا ہے ، وہ ان کی دقت نظر اور سلامت فکر کا نمونہ ہے "
( تاریخ دعوت و عزیمت : ج 1ص168)
پروفیسر اختر الواسع نے بھی امام غزالی پر ایک کتاب ” پیکر دین و دانش امام غزالی ” کے نام سے مرتب کی ہے ، اس میں اہل دانش کے اٹھارہ گراں قدر مضامین شامل ہیں ، اور کتاب کا ہر مضمون قابل مطالعہ ہے ، اور یہ کتاب 2015ء میں نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے ، اور اس کے صفحات کی تعداد 338 ہے ، چنانچہ اس میں ایک جگہ پر ایک واقعہ ان سطور کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔
” بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام غزالی مدت سے ترک دنیا کا ارادہ کر رہے تھے ، مگر دنیاوی تعلقات کی بندشوں نے ایسا پکڑ رکھا تھا کہ چھوڑنا مشکل تھا ، چنانچہ ایک دن امام غزالی وعظ کہہ رہے تھے کہ ان کے چھوٹے بھائی امام احمد غزالی ، جو خود ایک صاحب حال صوفی بزرگ تھے ، وہاں سے گزرے اور یہ اشعار پڑھے ؛
واصبحت تهدى ولا تهدي و تسمع وعظا و لا تسمع قبا حجر الشجر حتٰى متٰى تسن الحديد و لا تقطع
تم دوسروں کو ہدایت کرتے ہو ، مگر خود ہدایت نہیں پاتے ہو ۔ اور وعظ سناتے ہو ، لیکن خود وعظ نہیں سنتے ۔تم کب تک پتھر کی مثال بنتے رہو گے ؟ تم لوہے کو تیز کرتا رہے گا ، لیکن خود نہ کاٹے گا "
( پیکر دین و دانش أمام غزالی : ص 107)
حقیقت یہ ہے کہ امام غزالی اسلامی تاریخ کی ان عظیم اور ہمہ جہت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فقہ، کلام، فلسفہ اور تصوف سبھی میدانوں میں گہرا اثر چھوڑا۔ اگرچہ وہ شافعی المسلک تھے، مگر فکر و نظر کے اعتبار سے کسی ایک دائرے تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا، اس کی کمزوریوں کو واضح کیا اور عقل و وحی کے باہمی تعلق کو متوازن انداز میں پیش کیا۔ ان کی مشہور تصنیف تہافۃ الفلاسفہ اسی علمی جدوجہد کی نمائندہ ہے۔
تصوف کے میدان میں امام غزالیؒ کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے شریعت اور طریقت کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ لازم و ملزوم ثابت کیا۔ ان کی شہرۂ آفاق کتاب ” احیاء علوم الدین ” دین کے ظاہری اعمال اور باطنی اصلاح دونوں کو یکجا کرتی ہے اور اخلاقی و روحانی تربیت کا ایک جامع نظام پیش کرتی ہے۔
مختصر یہ کہ امام غزالیؒ نے عقل، نقل اور روحانیت کے درمیان اعتدال کی راہ دکھائی اور اسلامی فکر کو انتہا پسندی اور جمود دونوں سے بچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی فکر آج بھی علم و عمل کے متلاشی افراد کے لئے رہنمائی کا مضبوط ذریعہ ہے۔
امام غزالی کا انتقال طہران کے ضلع طوس میں 505 ھ میں 55 سال کی عمر میں ہوا تھا ، اور ان کا مقبرہ طہران ایران میں ہی ہے ۔