Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
17.06.2026
Trending News: نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
17.06.2026
Trending News: نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حلال ذبیحہ کا مسئلہ

  1. Home
  2. حلال ذبیحہ کا مسئلہ

حلال ذبیحہ کا مسئلہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • فقہ و اصول فقہ
  • اکتوبر 31, 2025
  • 0 Comments

🔰حلال ذبیحہ كا مسئلہ

🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏

‎

عام تصور یه هے كه اگر چور كو چوكیدار بنا دیا جائے تو وه بھی چوری كرنے سے بچنے کی كوشش كرتا هے؛ مگر بدقسمتی كی بات هے كه وطن عزیز میں جو پارٹی بر سر اقتدار هے، اس كی بنیادی سوچ هی نفرت اور فرقه پرستی هے، اس نے دستور كا حلف اٹھایا هے، دستور نے مساوات، برابری اور تمام طبقه كے لوگوں كے لئے یكساں مذهبی آزادی كی بات كی هے، یه بات ان كے حلق سے اتر نهیں رهی هے، اگر یه صاحبِ عقل ودانش هوتے تو كم از كم ذمه دارانه عهده پر آنے كے بعد نفرت كے بول نهیں بولتے اور اپنی قَسَم كا ظاهری طور پر تو بھرم ركھتے؛

لیكن افسوس كه بی جے پی كے ذمه دار حكمران اور مختلف وزراء اعلیٰ نفرت كے بول بولنے میں ایك دوسرے پر سبقت لے جانے كی كوشش كر رهے هیں، خاص كر اس وقت اتر پردیش اور آسام كے وزیر اعلیٰ كی زبان تو ایسا لگتا هے كه زهر سے بھری هوئی شیشی هے، پارٹی میں اپنا نمبر بڑھانے كے لئے وه كوئی تعمیری كام تو نهیں كرتے هیں؛ مگر نفرت انگیز بول ایك سے بڑھ كر ایك بولتے هیں، اور دن ورات اقلیتوں كے خلاف بغض وعناد كا اظهار كرتے رهتے هیں، اسی كا ایك مظهر یه هے كه ابھی انھوں نے حلال ذبیحه پر نهایت هی ناشائسته بات كی هے، ان كا دعویٰ هے كه حلال سرٹیفیكشن كے ذریعه پچیس هزار كروڑ روپیه كمائے جاتے هیں اور دوسرا دعویٰ یه هے كه یه پیسے دهشت گردی، لَو جهاد اور مذهب كی تبدیلی میں استعمال هوتا هے، یه ایك جھوٹ كی بنیاد پر دوسرے جھوٹ كی تعمیر هے، انھوں نے جس بڑی رقم كے حاصل هونے كا دعویٰ كیا هے، اس كا كوئی ثبوت پیش نهیں كیا هے، مسلمانوں پر دهشت گردی كا الزام سراسر غلط هے، ملك میں اصل دهشت گرد تو سنگھ پریوار كے لوگ هیں، جنھوں نے بابائے قوم مهاتما گاندھی جی كا بے دردانه قتل كیا تھا، انھوں نے ملك بھر میں كتنے هی فسادات كروائے، سینكڑوں لوگوں كے خون سے ان كے هاتھ رنگے هوئے هیں، لَو جهاد ایك افسانه هے، جو آج تك ثابت نهیں كیا جا سكا، یه صرف پروپیگنڈه كا هتھیار هے، باقی كچھ نهیں هے، اور واضح طور پر یه مسلمانوں كی مذهبی آزادی پر حمله هے، مسلمانوں نے كبھی یه مطالبه نهیں كیا كه برادران وطن اس طریقه پر جانور ذبح كریں، جیسا كه هم كرتے هیں؛ بلكه هر قوم كو اپنے عقیده اور اپنے طریقه كے مطابق جانور كے ذبح كرنے كی اجازت هے،پھر بھی اس پر اعتراض كے كوئی معنیٰ نهیں هیں۔غور كیا جائے تو غذا انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے ؛

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں غذا کے وافر وسائل پیدا فرمائے ہیں ،غذا کا سب سے بڑا وسیلہ نباتات ہیں ، چاول ، گیہوں ، دال ، تیل اور ترکاریاں ، یہ سب یا تو نباتات ہیں، یا نباتات سے حاصل ہونے والی اشیاء ہیں ، بڑی حد تک انسانی غذا کا انحصار نباتات کی پیداوار ہی پر ہے ، اللہ تعالیٰ نے نباتات میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ ان کی افزائش میں کم محنت اور مدت درکار ہوتی ہے اور پیداوار کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان غذاؤں میں ایسی صلاحیت رکھی ہے کہ جسم کو جو وٹامن اور اجزاء مطلوب ہوتے ہیں ، وہ بڑی حد تک ان کے ذریعہ مہیا ہوجاتے ہیں ؛ اسی لئے بہت سے لوگ نباتاتی اشیاء کے ذریعہ ہی اپنی غذا کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔نباتات کے بعد انسانی خوراک کا دوسرا بڑا وسیلہ حیوانات ہیں ، گذشتہ زمانہ میں جب حمل و نقل کے ذرائع محدود بھی تھے اور سست رفتار بھی ، توصحرائی علاقوں میں زیادہ تر حیوانی غذاؤں پر لوگوں کا دار و مدار ہوتا تھا ، اسی طرح جنگلات میں ’ جہاں باضابطہ کھیتی نہیں ہوتی‘ تھی ، شکار کے جانور اور پھلوں کے ذریعہ آدمی اپنی ضرورت پوری کرتا تھا ؛ لیکن لحمی غذاؤں کی اہمیت ہر علاقہ میں بسنے والے لوگوں کے لئے رہی ہے ؛ کیوںکہ جسم کی بہت سی ضرورتیں لحمی غذاؤں کے ذریعہ ہی بہتر طورپر پوری ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان میں جو لذت رکھی ہے ، نباتات کے ذریعہ وہ حاصل نہیں ہوپاتی ہیں ؛ اسی لئے دنیا میں ہمیشہ لحمی غذاؤں سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے اور دنیا کے بیشتر مذاہب نے اس کی اجازت دی ہے ، مسلمان ، یہودی ، عیسائی اور بدھسٹ تو اس کو درست سمجھتے ہی ہیں ؛ لیکن ہندو مذہبی کتابوں میں بھی جانوروں کی قربانی اورجانوروں کے گوشت کو بطور غذا استعمال کرنے کا ذکر موجود ہے ۔غور کیا جائے تو قدرت کا اشارہ بھی یہی ہے ، جو جانور چارہ کھاتے ہیں ، ان کے اندر گوشت کو ہضم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ، وہ قدرتی طورپر چارہ خور ہوتے ہیں ، جو جانور قدرتی طورپر گوشت خور ہوتے ہیں ، وہ گوشت ہی کو ہضم کرتے ہیں ، طبعی طورپر وہ چارہ نہیں کھاتے ، اسی لئے کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ بھینسیں گوشت کھانے لگی ہوں اور شیروں نے گھاس پھوس کھانا شروع کردیا ہو ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کے معدہ میں دونوں طرح کی غذاؤں کو ہضم کرنے کی صلاحیت رکھی ہے ، اسی طرح جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے نوكیلے دانت دیئے ہیں ، جو کھانے والی چیزوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرنے کے کام آتے ہیں ، اس طرح ان کو ہضم کرنا آسان ہوجاتا ہے ، چارہ خور جانوروں کو چپٹے دانت دیئے گئے ہیں ، جو نباتاتی چیزوں کو چبانے کے کام آتے ہیں ، انھیں نوک دار دانت نہیں دیئے گئے ، جن کو گوشت وغیرہ کو کاٹنے میں استعمال کیا جاتا ہے ، اس کے برخلاف گوشت خور جانوروں کو نوکدار دانت دیئے گئے ہیں ، جو لحمی غذاؤں کو ٹکڑے کرنے اور کاٹنے کے کام آتے ہیں ، جیسے : کتے اور شیر وغیرہ ، انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کے دانت دیئے ہیں ، یہ سب قدرت کے اشارے ہیں ؛ تاکہ انسان اپنی غذا کے دائرے کو سمجھ لے ۔جب ہم غذاؤں پر شرعی نقطۂ نظر سے غور کرتے ہیں تو جمادات اور نباتات کا مسئلہ آسان اور واضح ہے ؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس نے کائنات کی تمام چیزوں کو انسان ہی کے لئے پیدا کیا ہے : ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الاَرْضِ جَمِیْعاً (البقرۃ : ۲۹) فقہاء نے اسی حکم ربانی کی روشنی میں یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ چیزوں میں اصل مباح ہونا ہے ، جب تک کہ اس کے حرام ہونے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو : الاصل فی الاشیاء الاباحۃ (البحر المحیط فی أصول الفقہ : ۱؍۲۱۲) لیکن حیوانات کا معاملہ اس سے مختلف ہے ، حیوانات اصل میں حرام ہیں ، جب تک کہ اس کے حلال ہونے کی شرعی دلیل فراہم نہ ہو ؛ اس لئے لحمی غذاؤں کے حلال ہونے کے لئے تین باتوں کا لحاظ ضروری ہے ، اول یہ کہ جس جانور کا گوشت ہے ، وہ خود حلال ہو ، ایسے جانوروں کی تعداد محدود ہے ، قرآن و حدیث میں اس سلسلہ میں اُصول بھی ذکر کردیئے گئے ہیں اور ان کی جزوی تفصیلات بھی مذکور ہیں ؛ چنانچہ تمام درندہ جانور حرام ہیں ، نیز رینگنے والے جاندار کیڑے مکوڑے وغیرہ بھی حرام کئے گئے ہیں ، اونٹ ، بیل ، بھینس ، بکرے ، ہرن ، مرغ میں نر و مادہ نیز پالتو و جنگلی جانور حلال کئے گئے ہیں ،

دوسری قابل لحاظ چیز یہ ہے کہ حلال جانور کے بھی بعض اجزاء حرام ہیں ، جس کا ذکر خود حدیث میں ہے اور وہ یہ ہیں : ’’ نر و مادہ کے اعضاء تناسل ، فوطے ، بہتا ہوا خون ، مثانہ ، پتھہ ، جس گوشت میں گرہ پڑ گئی ہو ‘‘ (کتاب الآثار : ۱۱۶) بعض فقہاء نے اِن پر اُس کا بھی اضافہ کیا ہے ، جس کو قصاب حضرات ’’ مغز حرام ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ، یہ کل آٹھ ہیں ، تیسری ضروری بات یہ ہے کہ وہ حلال جانور شرعی اُصولوں کے مطابق ذبح کیا گیا ہو ۔شرعی طریقہ پر ذبح کرنے کے سلسلہ میں دو باتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں ، اول یہ کہ جانور کی گردن سے چار نالیاں گزرتی ہیں : ایک غذا کی ، ایک سانس کی اور دو خون کی ، جن کو شہ ِرگ کہا جاتا ہے ، ذبح کے صحیح ہونے کے لئے ان میں سے تین کا اچھی طرح کٹ جانا ضروری ہے ، (الفتاویٰ الہندیہ : ۵؍۲۸۷) اس کا ایک فائدہ تو جانور کی تکلیف کو کم کرنا ہے ؛ کیوںکہ اگر دماغ کی طرف جانے والی خون کی سپلائی لائن کٹ جائے تو چند سکنڈ میں قوت احساس ختم ہوجاتی ہے ، دماغ کی موت ہوجاتی ہے اور تکلیف کا احساس باقی نہیں رہتا ، اس طرح جانور کو تکلیف کا احساس کم ہوتا ہے ، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ رگوں میں گردش کرتا ہوا خون اچھی طرح نکل جاتا ہے ، اس خون کے نکل جانے سے گوشت میں مضرِ صحت اثر باقی نہیں رہتا ، اگر خون اچھی طرح نہ بہہ پائے اور وہ جسم کے اندر ہی جذب ہوجائے تو خون میں صحت کو نقصان پہنچانے والے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور گوشت انسان کے لئے نقصاندہ ہوجاتا ہے ، غالباً مردار کے گوشت کو حرام قرار دینے کی حکمت یہی ہے ۔ذبح کے عمل کے درست ہونے کے لئے دوسری ضروری بات یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور پر اللہ کا نام لیا جائے ، اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ وہی جانور حلال ہے ، جو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو اور ایسے جانور کا گوشت کھانے سے منع فرمایا گیا ہے ، جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہو : وَلاَ تَأْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اﷲِ عَلَیْہِ(الانعام : ۱۲۱) احادیث میں اس کی اور بھی وضاحت آئی ہے ، یوں تو اصل مقصود جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لینا ہے ، خواہ کسی بھی طریقہ پر نام لیا جائے ؛

لیکن افضل طریقہ یہ ہے کہ ’’ بسم اللہ اللہ اکبر ‘‘ کہا جائے ، ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کے نام لینے کا یہ حکم ایمان وعقیدہ کے پہلو سے ہے ۔کیوںکہ دنیا کی مختلف مشرک قومیں ذبح اور قربانی کو مشرکانہ نقطۂ نظر سے انجام دیتی آئی ہے ، لوگ دیویوں اور دیوتاؤں کے نام پر جانوروں کو چھوڑتے تھے ، تہواروں میں ان کے نام سے قربانی کیا کرتے تھے ، استھانوں اور بتوں کی عبادت گاہوں پر جانوروں کے نذرانے پیش کیا کرتے تھے اور کھانے کے لئے بھی غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے ، گویا ذبح و قربانی کو وہ اپنے مشرکانہ عقائد کے اظہار کا ذریعہ بناتے تھے ، اس کی واضح مثال خود ہندوستان ہے ، عام طورپر برادران وطن گوشت خوری کو ناپسند کرتے ہیں اور زیادہ تر سبزی خور ہیں ، ان کو نہ صرف گائے کی قربانی پر اعتراض ہے ؛ بلکہ بڑا جانور بھی ناگوار خاطر ہے ؛ لیکن اس کے باوجود تہواروں میں ان کے یہاں بھی جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے ذہن میں عقیدۂ توحید کو راسخ کرنے اور مشرکانہ افکار سے انھیں بچانے کے لئے یہ تدبیر فرمائی کہ جن کاموں کو وہ شرک اور غیر اللہ کی تقدیس کے طورپر کرتے تھے ، ان ہی کو توحید کے سانچے میں ڈھال دیا گیا ، قربانی دینا چوںکہ ایک فطری جذبہ ہے اور گوشت انسان کی ایک فطری غذا ہے ؛ اس لئے آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے قربانی کے طریقہ کو باقی رکھا ، شرعی ذبیحہ کو حلال قرار دیا گیا ؛ لیکن ان کو شرک کی بجائے عقیدۂ توحید کا مظہر بنادیا کہ قربانی کی جائے ، مگر اللہ ہی کے نام پر ، جانور ذبح کیا جائے ؛ لیکن اللہ ہی کے نام سے ، غیر اللہ کے نام پر نہ قربانی جائز ہے اور نہ جانوروں کو چھوڑنا اور ذبح کرنا ، علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی اورکے نام پر جانور ذبح کرے تو اس کا کھانا حرام ہے ؛ کیوںکہ خود قرآن مجید میں اس کی صراحت ہے ، (المائدۃ : ۳) اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ اگر ذبح کرتے وقت قصداً اللہ کا نام چھوڑ دے تو اس صورت میں بھی ذبیحہ حلال نہیں ہوگا ۔ (الہدایہ : ۴؍۳۴۷)یہ بھی ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو ، (المائدۃ : ۴) غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہیں ؛ البتہ ایسے یہودی اور عیسائی جو اللہ تعالیٰ کے وجود کے قائل ہوں ، نبوت اور وحی پر ایمان رکھتے ہوں ، آخرت پر ان کا ایمان ہو ، وہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر ایمان رکھتے ہوں ؛ البتہ رسول اللہ ﷺپر ان کا ایمان نہ ہو ، تو اگرچہ یہ مسلمان نہیں ہیں ؛ لیکن کفر میں ان کا درجہ دوسرے غیر مسلموں کے مقابلہ کمتر ہے ؛ اس لئے عام غیر مسلموں کے مقابلہ ان کے حکم میں نرمی برتی گئی ہے ، ان کی عورتوں سے نکاح جائز قرار دیا گیا ہے اور ان کا ذبیحہ حلال ہے ، (المائدۃ : ۵)

لیکن اس سے صرف نام کے یہودی یا عیسائی مراد نہیں ہیں ، جو ملحد ہوں ، یا جو رسالت و آخرت کا انکار کرتے ہوں؛ مگر اپنے آپ کو برائے نام یہودی یاعیسائی کہتے ہوں ، ایسے نام نہاد یہودی وعیسائی کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے ؛ آج کل عام طورپر جو لوگ اپنے آپ کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں ، ان کی صورت ِحال یہی ہے کہ وہ زیادہ تر دہریہ ہیں ، خدا ، نبوت اور آخرت وغیرہ کے قائل نہیں ہیں — ہندوستان میں زیادہ تر جو غیر مسلم بھائی آباد ہیں ، یعنی ہندو ، سکھ ، بودھ وغیرہ ، ان کا ذبیحہ مطلقاً حرام ہے ؛ کیوںکہ وہ بہر حال اہل کتاب میں شامل نہیں ہیں ، اسی طرح اگر کوئی شخص حقیقت میں یہودی یا عیسائی ہو ، تب بھی جب تک وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لے اور بسم اللہ نہ کہے ، اس وقت تک ذبیحہ حلال نہیں ہوگا : لاتحل ذبیحۃ من تعمد ترک التسمیۃ مسلماً کان أو کتابیاً (ردالمحتار : ۵؍۱۹۰)

ان حالات میں مسلمانوں كو چاهئے كه ایك تو ایسے غیر قانونی حكم كے خلاف بڑے پیمانه پر عدالت سے رجوع كریں، اور اچھے وكلاء كے ذریعه مقدمه كی پیروی كریں، جانوروں كے غذائی استعمال كے لئے طبی نقطهٔ نظر سے حكومت كی طرف سے جو اُصول وضوابط مقرر هیں، اُن كا لحاظ ركھیں، برادران وطن كو شرعی طریقه كی اهمیت سمجھائیں ؛ تاكه لوگوں كی غلط فهمیاں دور هوں اور حكومت كچھ بھی كهے ، شریعت كے حكم پر اپنے آپ كو ثابت قدم رهیں۔= = =

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے ؟
ہیلتھ انشورنس

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • قربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟
  • مئی 19, 2026
  • 0 Comments
قربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟

قربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟ از : مفتی سلیم احمد خان قاسمی جواب:قربانی ہر اُس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہے ، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو ، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں، یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی)۔ قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔                                                     (شامی ج6،ص315)

Read more

Continue reading
بچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟
  • hira-online.comhira-online.com
  • بچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟
  • مئی 18, 2026
  • 0 Comments
بچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟

بچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟ از: مفتی سلیم احمد قاسمی جواب:صورتِ مسئولہ میں ایسی بکری جو بچہ نہ جن سکتی ہو، اس کی  قربانی جائز ہے ۔      فتاویٰ عالمگیری میں ہے: "ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها السعال، والعاجزة ‌عن ‌الولادة لكبر سنها.” (كتاب الأضحية،الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب،ج5،ص297)      شامی میں ہے : "تجوز التضحية بالمجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها سعال، والعاجزة ‌عن ‌الولادة لكبر سنها.” (كتاب الاضحیہ،ج6،ص325)

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026
  • ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام 08.06.2026
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) 06.06.2026
  • یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 29.05.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں
Blog

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

  • hira-online.com
  • جون 8, 2026
سیرت و شخصیات

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  • hira-online.com
  • جون 6, 2026
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
مضامین و مقالات

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

  • hira-online.com
  • مئی 29, 2026
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top