سالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دل
شروع کرتا ہوں اس مسجود حقیقی کے نام مقدس سے جس نے اس عالم پر بہار کو وجود مسعود بخشا۔
دوستو ! آج جب سال 2025 اپنے گردش ایام مکمل کر کے پردۂ خفا میں سما چکا ہے اور سال 2026 نئی صبح کی مانند افق پر جلوہ گر ہو رہا ہے تو یہ لمحہ محض شور و غوغا, آتش بازی اور رسمی مبارک بادوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے, یقینا دل میں ایک ہلکی سی خوشی کا پیدا ہونا فطری ہے, اس لیے کہ حق جل مجدہ نے اس وجود فانی کو ایک مزید سال عطا فرمایا , ایک اور موقع فراہم کیا کہ ہم مرضئ حق کے مطابق اپنی زندگی کو سنوار سکیں , بگڑی راہوں کو درست کر سکیں , لیکن یہ خوشی اگر شکر , سنجیدگی اور وقار کے دائرے میں نہ ہو تو جلد ہی غفلت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
سال کا بدل جانا دراصل کیلنڈر کا بدلنا ہے , مگر خود انسان کا بدلنا ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے , یہی وجہ ہے کہ سالِ نو ہمیں دعوت احتساب دیتا ہے کہ ہم ذرا ٹھہر کر اپنے دل کے بند دروازے کھولیں اور خود سے سوال کریں کہ سالِ ماضی (2025) میں ہم نے کن مقاصد کا تعین کیا تھا ؟ کتنے خواب تھے جو ہم نے بڑی امیدوں کے ساتھ باندھے تھے ؟ کیا وہ مقاصد و خواب تعبیر تک پہنچے یا صرف وعدوں کی فہرست بن کر رہ گئے ؟
ساتھیو ! اگر اہداف پورے نہ ہو سکے تو یہ لمحہ شکوہ کا نہیں , ملامت نفس اور اظہار رنج و غم کا نہیں بلکہ ہمیں خاموشئ مکاں میں بیٹھ کر صدق دل سے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہماری نیت کمزور تھی ؟ کیا ہم نے عزم کے بجائے وقتی جوش و جذبات پر بھروسہ کیا یا پھر ہم نے اپنی کوتاہیوں کو حالات کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیا ؟ درحقیقت کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو اپنے ماضی سے سبق لے کر حال و مستقبل کو روشن و تابناک بنانے کا عزم مصمم رکھتا ہے۔
عزیزو ! سال نو (New Year 2026) کا سب سے قیمتی تحفہ احتساب دل ہے یہ وہ خاموش عدالت ہے جہاں کوئی وکیل ہوتا ہے نہ کوئی گواہ , بس انسان اور اس کا ضمیر , یہاں ہمیں یہ فکر کرنی ہے کہ گذشتہ سال ہم سے کون کون سی کوتاہیاں سرزد ہوئیں ؟ کتنی بار ہم نے حق بات جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر لیں ؟ کتنے دل ہم سے بیزار و افسردہ ہوئے ؟ کتنے وعدے ہم نے توڑے ؟ کتنے مواقع ایسے تھے جہاں ہم کسی کا سہارا بن سکتے تھے مگر خاموش تماشائی بنے رہے۔
ساتھ ہی یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ ہم نے کس کس کا ہاتھ تھاما ؟ کس کی پریشانی بانٹی ؟ كس کو اپنی مصروفیات کے باوجود وقت دیا ؟ اس لیے کہ زندگی صرف اپنی اصلاح کا نام نہیں بلکہ دوسروں کی غمخواری اور آسانی پیدا کرنے کا بھی نام ہے اگر ہمارا سال گزشتہ(2025) کسی کے لیے راحت کا سبب بنا تو یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔
دوستو ! اسلام ہمیں نہ تو بے مہار خوشی کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی مایوسی کی , سال نو کی آمد پر شکر کے چند کلمات , دل میں امید کی ہلکی سے کرن اور آئندہ کے لیے نیک ارادے یہی وہ خوشی ہے جو انسان کو اعلی مقام پر فائز کرتی ہے ۔ اصل جشن یہ نہیں کہ ہم رات بھر جاگیں بلکہ حقیقی جشن یہ ہے کہ ہم اپنی رداء غفلت سے باہر نکل کر احساس و شعور کو بیدار کریں۔
2026 ہم سے یقینا یہ مطالبہ رکھتا ہے کہ ہم اپنے اہداف( Goals) کو سنجیدگی سے متعین کریں , ایسے اہداف جو محض خواہش نہ ہوں بلکہ عملی منصوبہ ہوں جو زبان تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار میں ڈھلیں , اگر ہم اس نئے سال میں بہتر انسان , زیادہ ذمہ دار , زیادہ باخلاق اور زیادہ مفید بننے کا سچا ارادہ کر لیں تو یہی سال نو کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
راقم السطور انیہں چند کلمات کے ساتھ قلمِ نوخیز کو پرسکون کرتا ہےکہ سالِ نو ( New Year 2026 )نا محض جشن کا موقع ہے اور نا صرف ندامت و افسردگی کا بلکہ یہ امید , احتساب اور اصلاح کا حسین امتزاج ہے , اگر یہ نیا سال ہمارے دل میں کچھ بننے کی تڑپ , کچھ بدلنے کی آرزو اور کچھ سر کر لینے کا حوصلہ پیدا کر دے تو یقین جانیے یہی حقیقی جشن ہے , ایسا جشن جو رب کو بھی پسند ہے اور انسان کو بھی سنوارنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
از قلم :محمد عمران خیرآبادی
متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء ( لکھنؤ )