سود کی لعنت اور اس کا علاج
سود کی لعنت اور اس کا علاج (قسط-1) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اسلام نے سود کو نہایت مذموم ، حد درجہ ناپسندیدہ گناہ اور ظالمانہ فعل قرار دیا ہے ، قرآن مجید میں چار آیتوں میں سود کی مذمت اور ممانعت ہے ، ارشاد فرمایا گیا کہ سود خوار قیامت کے دن اس طرح اٹھیں گے کہ گویا وہ آسیب زدہ ہیں ، (البقرۃ : ۲۷۵) یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر سود چھوڑنے کو تیار نہ ہو تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ، (البقرۃ : ۲۷۸) یہودی سود خواری میں پیش پیش تھے ، ان کی اس بری حرکت کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ، (النساء : ۶۰) یہ بھی ارشاد ہوا کہ سود کا لین دین مال میں اضافہ کے لئے کرتے ہو ؛ لیکن اللہ کے نزدیک اس سے مال میں حقیقی اضافہ نہیں ہوگا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے جذبہ سے جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، اس میں اللہ کی طرف سے برکت ہوگی اور کئی چند اضافہ ہوگا ۔ (الروم : ۳۹) سود کی مذمت رسول اللہ ﷺ نے سود کی اس درجہ مذمت فرمائی ہے کہ کم گناہ ہوں گے ، جن کی اس درجہ مذمت کی گئی ہوگی ، اور اس کا کم تر درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے ، (مستدرک حاکم : ۲؍۳۷، علی شرط الشیخین ) حضرت عبد اللہ بن حنظلہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کے ایک درہم کو چھتیس زنا سے بڑھ کر قرار دیا ہے ، (الترغیب والترہیب : ۳؍۷) عوف بن مالک ؓ راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان گناہوں سے خوب بچو ، جو بخشے نہیں جائیں گے ، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سود کھانے والا قیامت کے دن مخبوط الحواس مجنون کی صورت میں اُٹھایا جائے گا ۔( مجمع الزوائد : ۴؍۱۱۰) ایک موقع پر آپ ﷺ نے سات مہلک چیزوں کا ذکر کیا ، اور ان اُمور کو…
Read more

