علامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآن
9 غلام نبی کشافیآنچار صورہ سرینگر
ایک صحیح فکر و خیال شخص کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ تعمیری و اصلاحی باتوں کو مقدم رکھتا ہے ، لیکن اگر سوچ تعمیری نہ ہو ، تو پھر آدمی کے ذہن میں علم کے بجائے اختلافی چیزیں سمٹ کر رہ جاتی ہے ، اور وہ خالص کوڑے دان کی مانند ہوجاتا ہے ۔دنیا میں سوائے انبیاء کرام علیہم السلام کے ہر فرد سے اختلاف رائے کیا جاسکتا ہے ، اور اس کی کسی بات کو قبول یا رد بھی کیا جاسکتا ہے ، لیکن قرآن کے مطابق دانا و بینا وہ لوگ ہوتے ہیں، جو احسن پہلو کی تلاش کرکے اس کی اتباع کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور غیر احس باتوں کو عمومی طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔اس لئے میں اکثر نوجوانوں سے اس آیت پر غور کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی تلقین کرتا ہوں ۔اَلَّـذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٝ ۚ اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ هَدَاهُـمُ اللّـٰهُ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمْ اُولُو الْاَلْبَابِ ۔ ( الزمر : 18) جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں ، پھر اس کے احسن پہلو کی اتباع کرتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے ، اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں ۔ اس وقت جو مضمون میں آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں ، وہ ایک مشہور دیوبندی عالم علامہ شبیر احمد عثمانی کے بارے میں ہے ، اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خود بھی غور سے پڑھیں گے اور اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر بھی ضرور کریں گے ۔ _____________________
مشہور عالم دین اور مفسر قرآن علامہ شبیر احمد عثمانی (1887ء – 1949ء) بر صغیر کے چوٹی کے علماء میں سے تھے ، لیکن اللہ تعالی نے ان کو قرآن کی تفسیر لکھنے کی بدولت جو شہرت و مقبولیت عطا کی تھی ، وہ مشکل سے کسی کے نصیب میں ہوتی ہے ، کیونکہ انہوں نے جو تفسیری حواشی لکھے ہیں ، وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہیں ، جن کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو تحریر و تصنیف کے معاملہ میں قلم کی غیر معمولی روانی ، زبان و ادب میں ربط و ضبط اور تحریر و تصنیف میں کمال کی جامعیت و فصاحت اور کلام میں بے پناہ اثر انگیزی عطا فرمائی تھی ۔ سعودی عرب کی وساطت سے شاید ہی دنیا میں کوئی تفسیر یا ترجمہ قرآن اتنی بار شائع ہوا ہو ، جتنی بار تفسیر عثمانی شائع ہوئی ہو ۔ کیونکہ انہوں نے جو تفسیری حواشی لکھے ہیں ، آج بھی ان سے علماء استفادہ کرتے ہیں ۔
دراصل ان کی اس غیر معمولی مقبولیت کے پیچھے اخلاص عمل ، اشاعت قرآن کا جذبہ اور دعوت دین کی تڑپ کار فرما تھی کہ اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں تک آسان تفسیر و تشریح کے ساتھ پہنچ جائے ، اور واقعی ان کی تفسیر دعوت الی اللہ کے میدان میں ایک شہکار تفسیر ہے ، جس میں فقہی اور فلسفیانہ موشگافیوں سے مکمل پرہیز کیا گیا ہے ، اور تفسیری حواشی کے ذریعہ قارئین کو فہم قرآن تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔ لیکن امت مسلمہ پر ان کا ایک اور بڑا احسان بھی ہے ، جس کے بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے ، جیساکہ جب سعودی عرب میں قبر پرستی کے خلاف متشددانہ وہابی تحریک شروع ہوئی تھی ، جس سے قبر پرستی دنیا سے ختم تو نہیں ہوئی ، لیکن رد عمل میں پہلے سے زیادہ لوگ اس قبر پرستی میں مبتلا ہو گئے ، کیونکہ جو تحریک جارحانہ طریق کار کے ساتھ معرض وجود میں آتی ہے ، تو اس سے فائدہ تو کچھ حاصل نہیں ہوتا ، مگر رد عمل میں بہت کچھ سامنے آجاتا ہے ، چنانچہ اس متشددانہ تحریک کے رد عمل میں بھی برصغیر میں نئی جماعتیں اور نئے حلقے منصہ شہود پر نمودار ہوئے ۔ لیکن اس وہابی تحریک کے بہکاوے میں آکر سعودی حکومت نے انہدام مزارات کی لسٹ میں گنبد خضریٰ کا انہدام بھی شامل کیا تھا ، لیکن علامہ شبیر احمد عثمانی ان دنوں سفر حج پر تھے ، تو ان کی مداخلت سے روضہ نبوی کو انہدام سے بچا لیا گیا ہے ، چنانچہ اس واقعہ کی مختصر تفصیل اس طرح ہے ۔
” قبر پرستی کے خلاف اپنے عقائد کا مظاہرہ کرنے کے لئے سعودی حکومت نے انہدام مزارات کی فہرست میں گنبد خضریٰ کو بھی شامل کر رکھا تھا ، اور دنیا بھر کے تمام علمائے کرام بھی سعودی حکومت کے اس فیصلے کی تائید میں سر تسلیم خم کر چکے تھے ، لیکن علامہ شبیر احمد عثمانی نے اپنے اس دورے میں ( سفر حج کے دوران) شیخ سعود اور دیگر عرب علماء کے سامنے روضہ رسول کی عظمت کا اعتراف اور قبر پرستی سے اس کی مشابہت کا رد کرتے ہوئے ایسے ایسے دلائل پیش کئے کہ سعودی حکمران علامہ شبیر احمد عثمانی کی علمی و محبتٍ رسول سے سرشار شخصیت کے قائل ہو گئے ، حقیقت یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں پر علامہ شبیر احمد عثمانی کا یہ احسان عظیم ہے کہ آج انہی کی وجہ سے ہم اور آپ روضہ رسول کا بچشم خود دیدار کر رہے ہیں ، اگر علامہ عثمانی اس وقت بے باکی اور جرات مندی کے ساتھ سعودی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت نہ کرتے جس کے تحت سبز گنبد کو بھی منہدم کیا جانا تھا تو پھر ذرا تصور کیجئے آج کی نسل اس عظیم اور پٌر شکوہ سبز گنبد کا دیدار کیسے کرتی ؟ "( تذکرہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی : ص 101/ ایڈیشن 2018ء ، دیوبند)
واضح رہے شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ترجمہ قرآن پر علامہ شبیر احمد عثمانی نے جو تفسیری حواشی لکھتے تھے ، وہ مختصر ہونے کی وجہ سے اردو اور عربی تفاسیر پر بھاری نظر آرہے تھے ، اور پھر جب سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے اس تفسیر کی اشاعت کی وجہ سے غیر معمولی عالمی مقبولیت حاصل ہوئی ، اور چند ایک مکاتب فکر کو چھوڑ کر باقی ہر ایک مکتب فکر کے لوگ اس کے نسخے حاصل کرنا اپنی سعادت مندی سمجھتے تھے ، تو ہند و پاک کی جماعت اہلحدیث اس چیز کو کہاں برداشت کرنے والی تھی ، اس لئے اس جماعت کے سرغنوں نے سازش رچی اور سورہ فاتحہ کے ایک تفسیری نوٹ کو بنیاد بنا کر سعودی حکومت کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے ، اور تفسیر عثمانی کی اشاعت کو رکوا کر اس کی جگہ مولانا محمد صلاح الدین یوسف کی تفسیر کا انتخاب کرکے اشاعت کے لئے بھیج دیا ، اگرچہ اس نئی تفسیر کا ایک آدھ ایڈیشن سعودی حکومت کی طرف سے منظر عام پر آچکا ہے ، لیکن اگر نیت میں بگاڑ ہو ، اور تعصب و تنگ نظری کی بنیاد پر سازش رچی گئی ہو ، تو پھر اللہ تعالی بھی اس طرح کی شر انگیزی کے خلاف اپنی تدبیر کرتا ہے ، جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔ وَمَكَـرُوْا وَمَكَـرَ اللّـٰهُ ۖ وَاللّـٰهُ خَيْـرُ الْمَاكِرِيْنَ ۔ (آل عمران : 54)اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی ، اور اللہ بہتر ہے سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے ۔ لیکن اللہ تعالی کی مشیئت کو دیکھیے کہ مولانا صلاح الدین یوسف کی تفسیر کو علامہ شبیر احمد عثمانی کی تفسیر کے مقابلے میں صفر کے درجے میں بھی عالمی قبولیت اور پذیرائی حاصل نہ ہو سکی ، کیونکہ حقیقی پھل اسی پیڑ سے نکلتا ہے ، جو اخلاص کی زمین پر بویا جائے اور پھر کسی فکر و نظر اور مذہب و ملت سے اوپر اٹھ کر تمام لوگوں کی علمی پیاس بجھا کر ان کے لئے مرکز توجہ بن سکے ، اور یقیناً تائید الہی کے ساتھ ہر طرح کی مقبولیت اور پذیرائی صرف تفسیر عثمانی کو حاصل ہوسکی ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی کے حالات زندگی پر ایک ضخیم کتاب ” حیات عثمانی” بھی لکھی گئی ہے ، اور اس کے ایک مضمون میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر ” ترجمان القرآن ” اور علامہ شبیر احمد عثمانی کی تفسیر ” تفسیر عثمانی” کے درمیان ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے ، اور کئی آیات کے تفسیری حواشی کے درمیان مماثلت ثابت کی گئی ہے ، اور علامہ شبیر احمد عثمانی کے بعض تفسیر حواشی ایسے بھی نقل کئے گئے ہیں ، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد کے تفسیری حواشی پر برتری ثابت کی گئی ہے ، لیکن مجموعی طور پر پورا مضمون فہم قرآن کے حوالے سے قابل مطالعہ ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی بر صغیر کے عظیم مفسر ہی نہیں تھے ، بلکہ اعلیٰ پائے کے متکلم بھی تھے ، اور اپنے دور کے قادر الکلام علماء میں سے تھے ، نیز وہ مفسر قرآن کے علاوہ شارح حدیث بھی تھے ، چنانچہ صحیح مسلم کی شرح ” فتح الملہم شرح صحیح مسلم ” کے نام سے لکھی تھی ، اور اس شرح کو بھی علماء میں کافی زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی تھی ، اور آج بھی علامہ شبیر احمد عثمانی برصغیر میں جید عالم دین کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں ۔شیخ حسن بصری کا ایک قول ہے ۔ لو لا العلماء لصار الناس مثل البهائم ۔ اگر علماء نہ ہوں ، تو لوگ جانوروں کی مانند ہوجائیں گے ۔کسی شاعر نے صحیح کہا ہے ۔عالم کی ذات عالم انسانیت کی جاںعالم کی ذات جوہر خلقت کی ترجماںعالم کی ذات فہم و تفہم کا آسماںعالم کی ذات حکمت معبود کا نشاں _______________________
نیچے آپ علامہ شبلی احمد عثمانی کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔