Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
19.06.2026
Trending News: نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
19.06.2026
Trending News: نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  1. Home
  2. بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • نومبر 28, 2025
  • 0 Comments

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی
ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

"یہ صرف مغربی تہذیب ہی ہے جس نے اپنی حالیہ صدیوں میں مشرقی تہذیبوں سے ایسی دوری اختیار کی کہ محسوس ہوتا ہے دونوں کے درمیان نہ کوئی مشترک قدر باقی رہی، نہ تقابل کی کوئی بنیاد، اور نہ ہی مفاہمت ومصالحت کی کوئی زمین جس پر دوبارہ کھڑا ہوا جا سکے”۔
یہ رائے فرانسیسی نو مسلم فلسفی عبد الواحد یحییٰ (رینے گینوں، م: 1951ء) نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد اپنی مشہور کتاب (East and West, 1924) کی تصنیف کے دوران لکھی تھی، یہ فرانسیسی سے انگریزی ترجمہ کا عنوان ہے، عربی کتاب "الشرق والغرب” (مشرق ومغرب) کے نام سے چھپی تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب مغربی دنیا ایک ایسے داخلی تصادم کی تیاری کر رہی تھی جس کے تاریک مظاہر بعد ازاں دوسری جنگ عظیم میں پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے۔
عبد الواحد یحییٰ نے اپنی زندگی کا رُخ پوری طرح مشرق کی جانب موڑ لیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنا بقیہ زمانہ قاہرہ میں تصوف اور خلوت گزینی میں گزاریں گے، وہ اپنے وطن سے ہجرت کرکے چلے آئے، اور پیچھے وہ یورپ رہ گیا جو باہم برسر پیکار قومیتوں کے بھنور میں ڈوب رہا تھا، وہ قومیتیں جو نسل برتر کے تمغہ بردار ہونے کی دعوے دار تھیں، اور اس کشمکش میں مبتلا تھیں کہ طاقت ور کون ہے، اور کون کمزور اقوام کو اپنی نو آبادیات میں نوچ کھانے کی زیادہ سکت رکھتا ہے۔

جنگ عظیم اپنے اختتام کو پہنچی، اور اس ہولناک تصادم نے یورپ کی قومیت پرست اور عوامی حمایت کی خواہش مند Populist سیاست—یا یوں کہیے "قدیم مغرب”—کو شکست فاش سے دوچار کر دیا، اس بربادی نے مغرب کو مجبور کیا کہ وہ کسی ایسے متبادل کی جستجو کرے جو اسے قومیت کے خون آشام بندھن سے رہائی دلائے، یہی وہ مرحلہ تھا جس نے ایک نئے مغربی نمونے کے لیے فضا ہموار کی، ایک ایسا نمونہ جسے "نیا مغرب” کہا گیا، جو دوسری جنگ عظیم کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی حقیقت بن کر ابھرا۔

اس مشکل کا حل سب سے آخری مغربی کنارے سے ہی سامنے آیا، وہ خطہ جو نہ صرف جغرافیائی طور پر بلکہ ذہنی اور نظریاتی طور پر بھی اپنی انتہا پر تھا، جیسا کہ گینوں نے بیان کیا، اور وہ تھا امریکہ، امریکہ نے یہ دیکھا کہ مسئلے کا حل قومیت پرستی کی شدت کو کم کرنے اور ایک "مغرب جدید” کے قیام میں مضمر ہے، یہی نیا مغرب اس اتحاد کی شکل میں نمودار ہوا جسے "آزاد دنیا” یا "مغربی بلاک” کہا گیا، اور جس کی بنیاد نیٹو نے رکھی، تاکہ اس بڑے عالمی اتحاد کا مقابلہ کیا جا سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں وجود میں آیا اور "مشرقی بلاک” کے نام سے مشہور ہوا، یہ نیا مغرب اپنی کئی پرانی پرتیں اتار چکا تھا، اور بہت سی قومیت پرست قدروں کو ترک کر چکا تھا، اس نے ثقافتی پاکیزگی کے بوجھ کو تھوڑا ہلکا کیا، اور ایک ایسے وجود میں بدلنے کو قبول کیا جو پہلے صرف نسلی حلقے تک محدود تھا، لیکن اب زیادہ کھلا اور اپنے دروازے سب کے لیے کھول دیئے۔

اور اس نئے عالمی منظرنامے میں عالمگیریت اور عالمی تہذیب کے تصورات ابھرے، اور سرحدوں سے ماورا اقدار زور پکڑنے لگیں، یہ بیانیہ عام ہوا کہ دنیا ایک ہی گاؤں کی مانند ہے، اور یہ کہ خود مختاریاں اور سرحدیں انسانی ترقی کے اس بہاؤ کے سامنے ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں، اس نئے نظام میں غیر مغربی ممالک بھی اس دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زندگی مغربی طرز زندگی کے مطابق گزاریں، یہی ماحول جاپان اور جنوبی کوریا کے مغربی محاذ میں شامل ہونے، معاشی اور دفاعی نظام میں مکمل انضمام، اور ترکی کو نیٹو میں شمولیت کی جانب مائل کرنے کا سبب بنا۔
یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ یا "مغرب اقصی” ہی تھا جو اس کا ضامن بن سکا، اور جس نے باقی ماندہ مغربی دنیا کو بچانے کی ذمہ داری اٹھائی، تاکہ وہ اس زبردست لہر کا مقابلہ کر سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں ابھری تھی، یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا اگر اس کے مقابل ایک متضاد وجود نہ سامنے آتا، جسے "مشرقی دنیا” یا سوویت یونین کے گرد مرکوز بلاک کہا گیا، جس کے کئی حصے خود یورپ میں بھی شامل تھے، مغربی ممالک کی خود شناسی یا خود بینی کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت صرف دوسروں سے علیحدگی کے ذریعے ہی حاصل کرتے ہیں، اور اپنی روشنی اسی "سیاہ چہرے” کے ذریعے نمایاں کرتے ہیں جو انہوں نے دوسروں کے لیے تخلیق کیا ہوتا ہے، یہی سوچ انہیں جمع ہونے اور اپنے حلقے کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اگرچہ عالمگیریت کا دور زور پکڑ رہا ہے، مگر خود پسندی میں مبتلا سفید فام مغربی اقوام غیر یورپی قوموں کو مکمل شمولیت کی اجازت نہیں دیتی ہیں، مغرب کا جوہر "یگانہ ومنفرد اور غیر عالمی” ہے، جیسا کہ سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں کہا ہے، چاہے وہ آزادی اور مساوات کے اصولوں کا اعلان کرے اور دعویٰ کرے کہ یہ ہر زمانے اور ہر جگہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ "آزاد دنیا” بظاہر اپنی رخصت کی تیاری کر رہی ہے، اور اس تبدیلی کا محور امریکی صدر ٹرمپ کی دوسری مدت ہے، ٹرمپ کے نزدیک پرانے عالمی اتحاد برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ ایک کھلا قوم پرست ہے اور "آزاد دنیا‘” کے تصور پر یقین نہیں رکھتا، اس کے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ "نیا مغرب” (امریکہ) یورپ یا پرانے مغرب کے بوجھ سے آزاد ہو جائے اور اسے اپنی راہ پر خاموشی سے جانے دیا جائے، اس رویے نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن کو اپریل میں یہ افسوسناک بیان دینے پر مجبور کیا:
"وہ مغرب، جسے ہم جانتے تھے، اب موجود نہیں”، اسی طرح فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا:
"یورپ آج فنا پذیر ہے، اور اس کا زوال ممکن ہے”۔
یہ مغربی دنیا کا متزلزل وجود، جس کا ذکر یورپی کمیشن کی صدر نے کیا اور جس سے فرانسیسی صدر بھی فکرمند ہیں، اگر مکمل طور پر اپنی تمام جہتوں میں ظاہر ہو جائے، تو یہ ایک پیچیدہ نظام کے زوال اور تحلیل کا سبب بنے گا، درحقیقت، یہ عالمی سطح پر قائم عالمگیریت پر مبنی اقدار، عالمی ماحولیاتی معاہدے، انسانی حقوق، اور نیوکلیئر پھیلاؤ کی روک تھام کے بین الاقوامی معاہدات کے پورے نظام کا خاتمہ ہوگا۔
تو کیا جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ واقعی اس مغرب جدید کا خاتمہ ہے جسے ہم گزشتہ دہائیوں میں جانتے آئے ہیں، یا یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، جو شاید پرانے دور کی طرف بھی لوٹ سکتا ہے؟ کیا ہم "تیسرا مغرب” دیکھ رہے ہیں، جو پرانے اور نئے، قوم پرست اور لبرل عناصر کے ملاپ سے تشکیل پا رہا ہے؟ کیا "آزاد دنیا” کا زمانہ ختم ہو چکا ہے؟ اور کیا ہم مغرب کے اندر شدید داخلی تقسیم دیکھیں گے، جیسے 1945 کے بعد یورپ دو حصوں میں تقسیم ہوا، اور آج امریکہ بھی دو متضاد نظریاتی دھڑوں—قدیم قوم پرست اور جدید عالمگیریت پسند—میں بٹا ہوا ہے؟
مغرب کی روح کو سمجھنے کے لیے کوئی ایک ہی تصور کافی نہیں ہے، مختلف خیالات، تحریکوں اور تاریخی اقدامات نے مل کر آج کا مغرب تشکیل دیا، جیسے مذہبی اصلاحات، فرانسیسی انقلاب، فلسفۂ روشن خیالی، اور صنعتی انقلاب وغیرہ؛ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جدید مغرب اپنے حقیقی مفہوم میں قومیت کے تصور کے ساتھ ہی وجود میں آیا، جو ایک ایسے نظام سے عبارت ہے جس میں نئے دوست بنائے جارہے ہیں تو پرانے دور بھی کئے جاسکتے ہیں، یہی اصل مغرب ہے، نہ کہ وہ مغرب جو فلسفے میں غرق اور اس کے سحر میں گرفتار بنا کر دکھایا جاتا ہے، اور ہمیں اسی خیالی اور پیچیدہ مغرب کو ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی انتظامیہ یورپی شدت پسند دائیں بازو کو ایک "وقتی اتحادی” کے طور پر دیکھتی ہے، جو اس عالمی فکر کے خلاف جنگ میں شریک ہے جس کی نمائندگی یورپی یونین کرتی ہے، اس کے برعکس، یورپی دائیں بازو کے کئی رہنما ٹرمپ کو اپنی تحریک کا حمایتی اور اپنی نظریاتی فتح کی علامت سمجھتے ہیں، ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں جیسے جبری ہجرت، میڈیا اور اقلیتی حقوق کے معاملات نے یورپ میں غیر لبرل رہنماؤں کے لیے تحریک اور جواز فراہم کیا ہے۔

اس طرح، ہم ایک نئی "قوم پرست بین الاقوامیت” کے ابھرنے کا مشاہدہ کرتے ہیں، یا جیسا کہ کچھ اسے کہتے ہیں، "آزاد خیالی کے بعد کا انقلاب”، جو کانفرنسوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور سرحد پار مالی معاونت کے ذریعے تشکیل پا رہی ہے اور اس رجحان کی حمایت کر رہی ہے،
تو کیا ہم واقعی اُس جدید مغرب کے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں جسے ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں تک پہچانا؟ یا یہ مغربی تہذیب کے ایک نئے مرحلے—اور شاید کسی پرانے مرحلے کی طرف واپسی—کی شروعات ہے؟

دوسری جنگِ عظیم کے بعد قوم پرست اور سامراجی مغرب نے خود کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک "عالمی لبرل” روپ اختیار کرلیا تھا؛ لیکن آج، جب اس کے اندرونی ڈھانچے میں دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اس لبرل لباس کو اتار کر اپنے پرانے قوم پرستانہ قالب کی طرف لوٹ رہا ہے، عبد الواحد یحییٰ نے تقریباً ایک صدی پہلے کہا تھا کہ مغرب کا بحران بنیادی اور دائمی ہے، صرف وقتی نہیں، آج وہی بحران سیاسی وتہذیبی انتشار کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ممکن ہے کہ ہم جلد ہی ایک "تیسرے مغرب” کی تشکیل دیکھیں، ایسا مغرب جو پرانے قوم پرست مزاج اور نئے لبرل تصور کا امتزاج ہو، مغرب کے اندر ہمیشہ کچھ حلقے مثلا نسل پرست، قوم پرست، یا قدامت پسند عالمی لبرل نظام کی مزاحمت کرتے رہے ہیں، اسی بنیاد پر ممکن ہے کہ آنے والا مغرب "آزاد دنیا” کے عالمی عنوان سے دستبردار ہو کر خود کو ایک محدود تہذیبی شناخت تک محدود کر دے۔

مغرب کا مستقبل اس کے اپنے رہنماؤں اور عوام کے فیصلوں پر منحصر ہوگا، جیسا کہ ماکرون نے خبردار کیا: "یورپ کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں ہے؛ اگر ہم درست انتخاب نہ کریں تو یہ مر سکتا ہے”.

اگر مغرب نے سخت قوم پرستی اور مکمل بند ذہنیت کا راستہ اپنایا، تو ممکن ہے کہ "امریکی امن” کا دور ختم ہو جائے اور دنیا ایک نئے دور کے انتشار میں داخل ہو جائے، بالکل ویسے ہی جیسے 1930 کی دہائی میں لیگ آف نیشنز کے زوال کے بعد ہوا تھا۔

اور اگر بین الاقوامی تعاون کے حامی اس بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے میں کامیاب ہو گئے، تو مغرب شاید ایک نئے، کثیر الجہتی نہ کہ یک رخی سانچے میں دوبارہ ابھر سکے، ایسا سانچہ جو بدلتے ہوئے حالات کو اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے بغیر اپنے اندر جذب کر لے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

سادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکر

Related Posts

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • hira-online.comhira-online.com
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • جون 6, 2026
  • 0 Comments
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) آج ہندوستان و پاکستان کے متعدد اہلِ علم حضرات نے مجھے توجہ دلائی کہ فلاں شخص کو گمراہ قرار دینے کی مہم چلائی جائے، اسے بے اعتبار کر دیا جائے، بلکہ اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے، اس نوع کی تحریک وقت کا اہم فریضہ اور سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔ کیا کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا بھی کوئی فریضہ اور کارنامہ ہے؟ کیا واقعی ہماری عقلوں کے دریچے اس طرح کچکچا کر بند ہو گئے ہیں کہ ہم اس غلاظت کے علاوہ کوئی اور دینی و علمی فریضہ نہیں سوچ سکتے؟ حیف اس کند ذہنی پر! دریغ اس پست عقلی پر! لعنت اس تنگ نظری پر! کیا ہم نے حدیث کی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ یہی وہ خصلتِ شنیعہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘۔ یہ بدبو دار اور گندی چیز ہے، اس سے دور رہیں۔ کیا ہمیں سنت و فقہ کا یہ سبق یاد نہ رہا کہ کسی مسلمان کو گمراہ یا کافر کہنا گناہِ کبیرہ اور جرمِ عظیم ہے؟ جب مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر گمراہی کی تہمت دھرتے ہیں تو ان میں سے کسی کی جیت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہارتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں، ان کے اندر ایک دوسرے سے نفرت بڑھتی ہے، دشمنی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہنستے ہیں اور اس دین کا مذاق اڑاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان نوجوان ہم سے اتنا بدظن بلکہ بیزار ہو جاتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہر سمت تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ تھا، مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کے تصفیے ہندو راجاؤں اور انگریز حکمرانوں کی عدالتوں میں کرا رہے تھے، ان کی تفصیلات سے اس وقت کے پرچے اور کتابیں پُر ہیں۔ کچھ درد…

Read more

Continue reading
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • بشیر بدر
  • بشیر بدر حیات و خدمات
  • مئی 28, 2026
  • 0 Comments
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

ڈاکٹر بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن بابایک تحقیقی و ادبی جائزہ تمہید اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض شاعر نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تہذیبی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر انہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو نہ صرف ایک نئی تازگی عطا کی بلکہ اسے عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت بھی بخشی۔ ان کی شاعری محبت، تنہائی، انسانی رشتوں، سماجی تغیرات اور داخلی احساسات کی شاعری ہے۔ انہوں نے غزل کو روایتی پیچیدگیوں سے نکال کر سادہ، رواں اور عام فہم زبان عطا کی جس کی وجہ سے ان کے اشعار خواص و عوام دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔ ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال 28 مئی 2026ء کو ہوا اور ان کے ساتھ اردو غزل کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے شاعر سے محروم ہوگئی جس نے غزل کو نئی نسل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پیدائش اور ابتدائی زندگی ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں ہوئی۔ بعض روایات میں کانپور کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم عمومی طور پر ایودھیا کو ان کی جائے پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے والد سید محمد نظیر علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے جس کا اثر بشیر بدر کی شخصیت پر بھی نمایاں ہوا۔ بچپن ہی سے انہیں شعر و ادب سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ نوجوانی کے زمانے تک ان کی ادبی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں اور وہ اپنے کلام کی اشاعت کے خواہش مند تھے۔ ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب ان کے اشعار معروف ادبی جریدے “نگار” میں شائع ہوئے۔ تعلیم اور علمی خدمات ڈاکٹر بشیر بدر نے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے اردو ادب میں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026
  • ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام 08.06.2026
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) 06.06.2026
  • یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 29.05.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں
Blog

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

  • hira-online.com
  • جون 8, 2026
سیرت و شخصیات

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  • hira-online.com
  • جون 6, 2026
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
مضامین و مقالات

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

  • hira-online.com
  • مئی 29, 2026
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top