Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
15.07.2026
Trending News: عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
15.07.2026
Trending News: عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  1. Home
  2. بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • نومبر 28, 2025
  • 0 Comments

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی
ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

"یہ صرف مغربی تہذیب ہی ہے جس نے اپنی حالیہ صدیوں میں مشرقی تہذیبوں سے ایسی دوری اختیار کی کہ محسوس ہوتا ہے دونوں کے درمیان نہ کوئی مشترک قدر باقی رہی، نہ تقابل کی کوئی بنیاد، اور نہ ہی مفاہمت ومصالحت کی کوئی زمین جس پر دوبارہ کھڑا ہوا جا سکے”۔
یہ رائے فرانسیسی نو مسلم فلسفی عبد الواحد یحییٰ (رینے گینوں، م: 1951ء) نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد اپنی مشہور کتاب (East and West, 1924) کی تصنیف کے دوران لکھی تھی، یہ فرانسیسی سے انگریزی ترجمہ کا عنوان ہے، عربی کتاب "الشرق والغرب” (مشرق ومغرب) کے نام سے چھپی تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب مغربی دنیا ایک ایسے داخلی تصادم کی تیاری کر رہی تھی جس کے تاریک مظاہر بعد ازاں دوسری جنگ عظیم میں پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے۔
عبد الواحد یحییٰ نے اپنی زندگی کا رُخ پوری طرح مشرق کی جانب موڑ لیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنا بقیہ زمانہ قاہرہ میں تصوف اور خلوت گزینی میں گزاریں گے، وہ اپنے وطن سے ہجرت کرکے چلے آئے، اور پیچھے وہ یورپ رہ گیا جو باہم برسر پیکار قومیتوں کے بھنور میں ڈوب رہا تھا، وہ قومیتیں جو نسل برتر کے تمغہ بردار ہونے کی دعوے دار تھیں، اور اس کشمکش میں مبتلا تھیں کہ طاقت ور کون ہے، اور کون کمزور اقوام کو اپنی نو آبادیات میں نوچ کھانے کی زیادہ سکت رکھتا ہے۔

جنگ عظیم اپنے اختتام کو پہنچی، اور اس ہولناک تصادم نے یورپ کی قومیت پرست اور عوامی حمایت کی خواہش مند Populist سیاست—یا یوں کہیے "قدیم مغرب”—کو شکست فاش سے دوچار کر دیا، اس بربادی نے مغرب کو مجبور کیا کہ وہ کسی ایسے متبادل کی جستجو کرے جو اسے قومیت کے خون آشام بندھن سے رہائی دلائے، یہی وہ مرحلہ تھا جس نے ایک نئے مغربی نمونے کے لیے فضا ہموار کی، ایک ایسا نمونہ جسے "نیا مغرب” کہا گیا، جو دوسری جنگ عظیم کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی حقیقت بن کر ابھرا۔

اس مشکل کا حل سب سے آخری مغربی کنارے سے ہی سامنے آیا، وہ خطہ جو نہ صرف جغرافیائی طور پر بلکہ ذہنی اور نظریاتی طور پر بھی اپنی انتہا پر تھا، جیسا کہ گینوں نے بیان کیا، اور وہ تھا امریکہ، امریکہ نے یہ دیکھا کہ مسئلے کا حل قومیت پرستی کی شدت کو کم کرنے اور ایک "مغرب جدید” کے قیام میں مضمر ہے، یہی نیا مغرب اس اتحاد کی شکل میں نمودار ہوا جسے "آزاد دنیا” یا "مغربی بلاک” کہا گیا، اور جس کی بنیاد نیٹو نے رکھی، تاکہ اس بڑے عالمی اتحاد کا مقابلہ کیا جا سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں وجود میں آیا اور "مشرقی بلاک” کے نام سے مشہور ہوا، یہ نیا مغرب اپنی کئی پرانی پرتیں اتار چکا تھا، اور بہت سی قومیت پرست قدروں کو ترک کر چکا تھا، اس نے ثقافتی پاکیزگی کے بوجھ کو تھوڑا ہلکا کیا، اور ایک ایسے وجود میں بدلنے کو قبول کیا جو پہلے صرف نسلی حلقے تک محدود تھا، لیکن اب زیادہ کھلا اور اپنے دروازے سب کے لیے کھول دیئے۔

اور اس نئے عالمی منظرنامے میں عالمگیریت اور عالمی تہذیب کے تصورات ابھرے، اور سرحدوں سے ماورا اقدار زور پکڑنے لگیں، یہ بیانیہ عام ہوا کہ دنیا ایک ہی گاؤں کی مانند ہے، اور یہ کہ خود مختاریاں اور سرحدیں انسانی ترقی کے اس بہاؤ کے سامنے ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں، اس نئے نظام میں غیر مغربی ممالک بھی اس دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زندگی مغربی طرز زندگی کے مطابق گزاریں، یہی ماحول جاپان اور جنوبی کوریا کے مغربی محاذ میں شامل ہونے، معاشی اور دفاعی نظام میں مکمل انضمام، اور ترکی کو نیٹو میں شمولیت کی جانب مائل کرنے کا سبب بنا۔
یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ یا "مغرب اقصی” ہی تھا جو اس کا ضامن بن سکا، اور جس نے باقی ماندہ مغربی دنیا کو بچانے کی ذمہ داری اٹھائی، تاکہ وہ اس زبردست لہر کا مقابلہ کر سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں ابھری تھی، یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا اگر اس کے مقابل ایک متضاد وجود نہ سامنے آتا، جسے "مشرقی دنیا” یا سوویت یونین کے گرد مرکوز بلاک کہا گیا، جس کے کئی حصے خود یورپ میں بھی شامل تھے، مغربی ممالک کی خود شناسی یا خود بینی کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت صرف دوسروں سے علیحدگی کے ذریعے ہی حاصل کرتے ہیں، اور اپنی روشنی اسی "سیاہ چہرے” کے ذریعے نمایاں کرتے ہیں جو انہوں نے دوسروں کے لیے تخلیق کیا ہوتا ہے، یہی سوچ انہیں جمع ہونے اور اپنے حلقے کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اگرچہ عالمگیریت کا دور زور پکڑ رہا ہے، مگر خود پسندی میں مبتلا سفید فام مغربی اقوام غیر یورپی قوموں کو مکمل شمولیت کی اجازت نہیں دیتی ہیں، مغرب کا جوہر "یگانہ ومنفرد اور غیر عالمی” ہے، جیسا کہ سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں کہا ہے، چاہے وہ آزادی اور مساوات کے اصولوں کا اعلان کرے اور دعویٰ کرے کہ یہ ہر زمانے اور ہر جگہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ "آزاد دنیا” بظاہر اپنی رخصت کی تیاری کر رہی ہے، اور اس تبدیلی کا محور امریکی صدر ٹرمپ کی دوسری مدت ہے، ٹرمپ کے نزدیک پرانے عالمی اتحاد برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ ایک کھلا قوم پرست ہے اور "آزاد دنیا‘” کے تصور پر یقین نہیں رکھتا، اس کے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ "نیا مغرب” (امریکہ) یورپ یا پرانے مغرب کے بوجھ سے آزاد ہو جائے اور اسے اپنی راہ پر خاموشی سے جانے دیا جائے، اس رویے نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن کو اپریل میں یہ افسوسناک بیان دینے پر مجبور کیا:
"وہ مغرب، جسے ہم جانتے تھے، اب موجود نہیں”، اسی طرح فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا:
"یورپ آج فنا پذیر ہے، اور اس کا زوال ممکن ہے”۔
یہ مغربی دنیا کا متزلزل وجود، جس کا ذکر یورپی کمیشن کی صدر نے کیا اور جس سے فرانسیسی صدر بھی فکرمند ہیں، اگر مکمل طور پر اپنی تمام جہتوں میں ظاہر ہو جائے، تو یہ ایک پیچیدہ نظام کے زوال اور تحلیل کا سبب بنے گا، درحقیقت، یہ عالمی سطح پر قائم عالمگیریت پر مبنی اقدار، عالمی ماحولیاتی معاہدے، انسانی حقوق، اور نیوکلیئر پھیلاؤ کی روک تھام کے بین الاقوامی معاہدات کے پورے نظام کا خاتمہ ہوگا۔
تو کیا جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ واقعی اس مغرب جدید کا خاتمہ ہے جسے ہم گزشتہ دہائیوں میں جانتے آئے ہیں، یا یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، جو شاید پرانے دور کی طرف بھی لوٹ سکتا ہے؟ کیا ہم "تیسرا مغرب” دیکھ رہے ہیں، جو پرانے اور نئے، قوم پرست اور لبرل عناصر کے ملاپ سے تشکیل پا رہا ہے؟ کیا "آزاد دنیا” کا زمانہ ختم ہو چکا ہے؟ اور کیا ہم مغرب کے اندر شدید داخلی تقسیم دیکھیں گے، جیسے 1945 کے بعد یورپ دو حصوں میں تقسیم ہوا، اور آج امریکہ بھی دو متضاد نظریاتی دھڑوں—قدیم قوم پرست اور جدید عالمگیریت پسند—میں بٹا ہوا ہے؟
مغرب کی روح کو سمجھنے کے لیے کوئی ایک ہی تصور کافی نہیں ہے، مختلف خیالات، تحریکوں اور تاریخی اقدامات نے مل کر آج کا مغرب تشکیل دیا، جیسے مذہبی اصلاحات، فرانسیسی انقلاب، فلسفۂ روشن خیالی، اور صنعتی انقلاب وغیرہ؛ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جدید مغرب اپنے حقیقی مفہوم میں قومیت کے تصور کے ساتھ ہی وجود میں آیا، جو ایک ایسے نظام سے عبارت ہے جس میں نئے دوست بنائے جارہے ہیں تو پرانے دور بھی کئے جاسکتے ہیں، یہی اصل مغرب ہے، نہ کہ وہ مغرب جو فلسفے میں غرق اور اس کے سحر میں گرفتار بنا کر دکھایا جاتا ہے، اور ہمیں اسی خیالی اور پیچیدہ مغرب کو ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی انتظامیہ یورپی شدت پسند دائیں بازو کو ایک "وقتی اتحادی” کے طور پر دیکھتی ہے، جو اس عالمی فکر کے خلاف جنگ میں شریک ہے جس کی نمائندگی یورپی یونین کرتی ہے، اس کے برعکس، یورپی دائیں بازو کے کئی رہنما ٹرمپ کو اپنی تحریک کا حمایتی اور اپنی نظریاتی فتح کی علامت سمجھتے ہیں، ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں جیسے جبری ہجرت، میڈیا اور اقلیتی حقوق کے معاملات نے یورپ میں غیر لبرل رہنماؤں کے لیے تحریک اور جواز فراہم کیا ہے۔

اس طرح، ہم ایک نئی "قوم پرست بین الاقوامیت” کے ابھرنے کا مشاہدہ کرتے ہیں، یا جیسا کہ کچھ اسے کہتے ہیں، "آزاد خیالی کے بعد کا انقلاب”، جو کانفرنسوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور سرحد پار مالی معاونت کے ذریعے تشکیل پا رہی ہے اور اس رجحان کی حمایت کر رہی ہے،
تو کیا ہم واقعی اُس جدید مغرب کے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں جسے ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں تک پہچانا؟ یا یہ مغربی تہذیب کے ایک نئے مرحلے—اور شاید کسی پرانے مرحلے کی طرف واپسی—کی شروعات ہے؟

دوسری جنگِ عظیم کے بعد قوم پرست اور سامراجی مغرب نے خود کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک "عالمی لبرل” روپ اختیار کرلیا تھا؛ لیکن آج، جب اس کے اندرونی ڈھانچے میں دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اس لبرل لباس کو اتار کر اپنے پرانے قوم پرستانہ قالب کی طرف لوٹ رہا ہے، عبد الواحد یحییٰ نے تقریباً ایک صدی پہلے کہا تھا کہ مغرب کا بحران بنیادی اور دائمی ہے، صرف وقتی نہیں، آج وہی بحران سیاسی وتہذیبی انتشار کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ممکن ہے کہ ہم جلد ہی ایک "تیسرے مغرب” کی تشکیل دیکھیں، ایسا مغرب جو پرانے قوم پرست مزاج اور نئے لبرل تصور کا امتزاج ہو، مغرب کے اندر ہمیشہ کچھ حلقے مثلا نسل پرست، قوم پرست، یا قدامت پسند عالمی لبرل نظام کی مزاحمت کرتے رہے ہیں، اسی بنیاد پر ممکن ہے کہ آنے والا مغرب "آزاد دنیا” کے عالمی عنوان سے دستبردار ہو کر خود کو ایک محدود تہذیبی شناخت تک محدود کر دے۔

مغرب کا مستقبل اس کے اپنے رہنماؤں اور عوام کے فیصلوں پر منحصر ہوگا، جیسا کہ ماکرون نے خبردار کیا: "یورپ کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں ہے؛ اگر ہم درست انتخاب نہ کریں تو یہ مر سکتا ہے”.

اگر مغرب نے سخت قوم پرستی اور مکمل بند ذہنیت کا راستہ اپنایا، تو ممکن ہے کہ "امریکی امن” کا دور ختم ہو جائے اور دنیا ایک نئے دور کے انتشار میں داخل ہو جائے، بالکل ویسے ہی جیسے 1930 کی دہائی میں لیگ آف نیشنز کے زوال کے بعد ہوا تھا۔

اور اگر بین الاقوامی تعاون کے حامی اس بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے میں کامیاب ہو گئے، تو مغرب شاید ایک نئے، کثیر الجہتی نہ کہ یک رخی سانچے میں دوبارہ ابھر سکے، ایسا سانچہ جو بدلتے ہوئے حالات کو اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے بغیر اپنے اندر جذب کر لے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

سادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکر

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 3, 2026
  • 0 Comments
شبلی روایت اور تجدید کا معیار

شبلی: روایت اور تجدید کا معمار از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ عربی اور اردو کے معتبر ادیب، عالم اور داعی، مولانا محمد یوسف صدیقی ندوی بھوپالی نے درجِ ذیل استفسار فرمایا: فضیلت مآب ڈاکٹر صاحب السلام علیکم، علامہ شبلی نعمانی کی عبقری شخصیت، جو جامع الکمالات، ہر فن مولیٰ تھی، بلکہ وہ تو جدت و تخلیق، ابداع وایجاد کے امام تھے مگر برصغیر کے علماء نے وہ مقام نہیں عطا کیا جس کے وہ حق دار تھے – اس کے پس پردہ کیا عوامل و محرکات کار فرما تھے ۔ اس کا منصفانہ جواب عنایت فرمائیے – بہت شکریہ جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے ایک نہایت دقیق، منصفانہ اور تاریخِ افکار سے گہرا تعلق رکھنے والا سوال اٹھایا ہے۔ اس کا جواب جذبات کی سطح پر نہیں، بلکہ تاریخ، فکر اور علمی روایت کے تناظر میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ کہنا درست نہیں کہ علامہ شبلی نعمانیؒ کو سرے سے ان کا مقام نہیں ملا؛ صحیح بات یہ ہے کہ ان کی شخصیت کی وسعت، ان کے افکار کی ہمہ گیری اور ان کی خدمات کی گہرائی کا وہ جامع اور ہمہ گیر اعتراف نہ ہوسکا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ اس کا سبب ان کی علمی قامت میں کوئی کمی نہ تھی، بلکہ وہ خود اپنے عہد کے پیمانوں سے بلند تھے۔ بعض شخصیتیں زمانے کی پیداوار ہوتی ہیں اور بعض زمانے کے معیار بدل دیتی ہیں؛ شبلیؒ دوسری قسم کی شخصیت تھے۔ وہ اپنے دور کے محض شارح نہ تھے، بلکہ اس کے معمار تھے؛ محض وارث نہ تھے، بلکہ تجدید و تخلیق کے امین تھے۔ برصغیر کی فکری تاریخ میں شبلیؒ کی مثال اس دریا کی سی ہے جو قدیم پہاڑوں کے دامن سے نکلتا ہے، اپنے سرچشموں سے وفادار بھی رہتا ہے اور نئی زمینوں کو سیراب بھی کرتا ہے۔ ان کی شخصیت میں روایت کی گہرائی، تحقیق کی وسعت، تنقید کی بصیرت، ادب کی لطافت، تاریخ کا شعور، تعلیم کی اصلاح اور اجتہاد کی جرأت ایک ایسے حسین امتزاج کے ساتھ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 3, 2026
  • 0 Comments
اہل بیت اور اہل سنت

اہل بیت اور اہل سنت (دوسری قسط) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  آپ ﷺ نے عمومی طور پر اہل بیت کی جو فضیلت بیان فرمائی ہے ، اس کے بعد کسی صاحب ایمان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اہل بیت کی ناقدری کرے ، یا ان کی شان میں بدگوئی کرے ، حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے مکہ ومدینہ کے درمیان مقام خُم میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارے درمیان دو بہت ہی وزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ایک : کتاب اللہ ، جس میں ہدایت اور روشنی ہے ؛ لہٰذا تم کتاب اللہ کو پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رہو ، دوسرے : میرے اہل بیت ، پھر آپ نے تین بار فرمایا : میں تم کو اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، (مسلم عن زید بن ارقم: ۲۴۰۸) حج کے کثیر مجمع میں یوم عرفہ کو بھی آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تم لوگوں کے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر ان کو پکڑے رہے تو گمراہ نہ ہوگے ، ایک : کتاب اللہ ، دوسرے : میرا خاندان یا میرے اہل بیت ۔ (ترمذی عن جابر بن عبداللہ: ۳۷۶۶) علماء اہل سنت والجماعۃ نے ہمیشہ اہل بیت کو اپنی آنکھوں کا نور بنایا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خلیفۂ راشد کہا ، اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے بارے میں یہ نقطۂ نظر رکھا کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ وہ خطا پر تھے ؛ البتہ یہ اجتہادی خطاء تھی ، اور اجتہادی خطاء قابل گرفت نہیں ہوتی ، اوراس کی بناء پر طعن نہیں کیا جا سکتا ، اسی طرح حضرت معاویہؓ کی طرف سے یزید کی جانشینی بھی ان کی ایک اجتہادی خطاء تھی ، جہاں تک یزید کی بات ہے تو اُمت کے کسی معتبر عالم نے اس کی بادشاہت کو برحق قرار دینے کی کوشش نہیں کی ؛ بلکہ سلف صالحین…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد 10.07.2026
  • مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش 10.07.2026
  • میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل 09.07.2026
  • آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی 09.07.2026
  • نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار) 09.07.2026
  • فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیں 05.07.2026
  • شبلی روایت اور تجدید کا معیار 03.07.2026
  • اہل بیت اور اہل سنت 03.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد
مضامین و مقالات

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش
اسلامیات

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل
مضامین و مقالات

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از :  شان محمد ندوی
فقہ و اصول فقہ

نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
مضامین و مقالات

فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیں

  • hira-online.com
  • جولائی 5, 2026
سیرت و شخصیات

شبلی روایت اور تجدید کا معیار

  • hira-online.com
  • جولائی 3, 2026
سیرت و شخصیات

اہل بیت اور اہل سنت

  • hira-online.com
  • جولائی 3, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top