اصلاحِ امت
جہاد۔ضرورت و فضیلت
آدم علی ندوی
مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ
جہاد امت کا اجتماعی فریضہ:اسلام ایک مکمل دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور عبادات اربعہ کی طرح اور بھی فرائض متعین کرتا ہے، انہی اہم فرائض میں سے ایک فریضہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جو قرآن و سنت متواتر کی روشنی میں قیامت تک امت پر لازم ہے۔
جہاد کی فرضیت:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” (البقرہ: 216)یہ آیت بتاتی ہے کہ جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جیسے روزہ یا نماز۔جہاد کی فرضیت و تاکید کے لئے "کتب علیکم القتال” کی تعبیر اسی طرح آئی ہے جیسے روزہ کی فرضیت کے لئے۔ اگرچہ یہ نفس پر بھاری معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ امت کی عزت، تحفظ اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔” (ابو داود-33)اس کا مطلب ہے کہ یہ فرض کسی زمانے یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ ہے۔ امت کو ہر وقت اپنی مادی اور روحانی طاقت کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔
جہاد صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے میں شریک ہے:کچھ لوگ میدانِ جنگ میں لڑ کر۔کچھ اپنے مال کے ذریعے مدد کر کے۔کچھ قلم اور زبان سے اسلام کا دفاع کر کے۔نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص نہ جہاد کرے اور نہ دل میں نیت رکھے، وہ نفاق پر مرتا ہے۔” (مسلم-4931)جہاد کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ:باطل کو ختم کرنا،دینِ حق کو غالب کرنا،امت کو ظلم سے بچانا،اور اسلام کی عزت قائم کرنا ہے۔قرآن نے واضح فرمایا:”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔” (البقرہ: 193)جہاد ایک لازمی فریضہ ہے جس سے امتِ مسلمہ کو ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی تیاری ہر وقت برقرار رکھے، فنونِ حرب سیکھے اور انہیں چھوڑ نہ دے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو تیر اندازی سیکھے اور پھر اسے چھوڑ دے، اس نے ہم سے تعلق توڑ لیا۔”( ابوداود-2513)یعنی جہاد صرف جنگ کے وقت نہیں بلکہ ہر دور میں تیاری، مشق اور ہمت قائم رکھنے کا نام ہے۔یہ صرف میدانِ جنگ کی لڑائی نہیں بلکہ اسلام کی حفاظت، دین کی سربلندی اور امت کے وقار کا نام ہے۔ ہر مسلمان کو اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق اس میں شریک ہونا چاہیے۔ یہی امت کی بقا اور عزت کا راز ہے۔
جہاد کا مفہوم اور حقیقت:
اسلام نہ صرف عبادات اور اخلاقیات کی تعلیم دیتا ہے بلکہ اجتماعی و سیاسی زندگی کے اصول بھی بیان کرتا ہے۔ اس میں جہاد کا تصور ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے آج جہاد کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی ہیں۔ بعض لوگ اسے ظلم اور جبر کا نام دیتے ہیں اور بعض اسے محض دفاعی عمل سمجھتے ہیں۔ جبکہ قرآن و سنت کی روشنی میں جہاد کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ جامع اور عظیم ہے۔
جہاد کی تعریف:
علماء کے نزدیک جہاد کی تعریف یوں ہے:جہاد یہ ہے کہ انسان اللہ کے راستے میں اپنی پوری طاقت اور کوشش صرف کرے، خواہ قتال کی صورت میں، یا مال کے ذریعے، یا رائے و مشورے کے ذریعے، یا مسلمانوں کی تعداد بڑھا کر، یا کسی اور طریقے سے۔لہٰذا جہاد کا مقصد صرف قتال نہیں بلکہ ہر وہ کوشش جو اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ہو، جہاد کے دائرے میں آتی ہے۔البتہ قتال اس کا اعلی درجہ ہے۔
جہاد کی اصل وجہ:
جہاد کا مقصد جزیہ لینا نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کفار اسلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے، اور جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں مانتے، اور دینِ حق کو قبول نہیں کرتے، یہ اہل کتاب میں سے ہیں۔ یہاں تک کہ ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔”(التوبہ: 29)یہاں جہاد کی اصل وجہ کفر کو بیان کیا گیا ہے۔ جزیہ صرف قتال کو روکنے کا سبب ہے، نہ کہ جہاد کی اصل علت۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”اے ایمان والو! اپنے قریب کے کافروں سے جنگ کرو، اور وہ تمہارے اندر سختی پائیں۔”(التوبہ: 123)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ جہاد کی اصل وجہ کفار کا کفر ہے، نہ کہ مال و دولت یا زمین حاصل کرنا۔
فی سبیل اللہ” کا مفہوم:
قرآن نے جہاد کو ہمیشہ "فی سبیل اللہ” سے مقید کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جہاد صرف اللہ کی رضا اور اس کے دین کو غالب کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "قرآن میں کہیں یہ کہہ کر قتال فی سبیل اللہ کی رغبت نہیں دلائی گئی کہ اسکے عوض تمہیں دنیا کی دولت اور حکومت ملے گی، بلکہ اس کے برعکس ہر جگہ جہاد فی سبیل اللہ کے عوض صرف خدا کی خوشنودی اور صرف اللہ کے یہاں بڑا درجہ ملنے اور عذاب الیم سے محفوظ رہنے کی توقع دلائی گئی ہے ۔”(ابوالاعلیٰ مودودی، الجہاد فی الاسلام-39۔مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی ۔2009)
اسلامی فتوحات کبھی بھی دنیاوی غلبہ یا استعماری عزائم کے لیے نہیں تھیں۔ بلکہ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچے، ظلم کے نظام ٹوٹیں، اور لوگ آزاد ہو کر اللہ کی بندگی اختیار کریں۔
جہاد اور ظلم و استعمار کا فرق:
اسلامی فتوحات اور مغربی استعماری فتوحات میں بنیادی فرق ہے۔اسلامی جہاد کا مقصد انسانوں کو ظلم سے نجات دلانا اور انہیں اسلام کے عدل و نور تک پہنچانا ہے۔جبکہ استعماری جنگوں کا مقصد قوموں کو غلام بنانا اور ان کے وسائل لوٹنا ہے۔قرآن کہتا ہے:”تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے قتال نہیں کرتے جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔”(النساء: 75)یہ آیت جہاد کے اصل مقاصد کو بیان کرتی ہے کہ جہاد ظلم کو ختم کرنے اور کمزوروں کی مدد کے لیے ہے۔
نیت اور اخلاص کی اہمیت:اسلام نے واضح کر دیا ہے کہ جہاد کا اجر صرف اخلاصِ نیت پر موقوف ہے۔ اگر کوئی شہرت، مال یا غیراللہ کی خاطر جہاد کرے تو اسے کوئی اجر نہیں ملتا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے، وہی اللہ کی راہ میں ہے۔”(صحیح بخاری، حدیث 2810؛صحیح مسلم، حدیث 1904)اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا:”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔”(صحیح بخاری، حدیث1
؛ صحیح مسلم، حدیث 190
غنیمت اور اجر:
جہاد میں مال غنیمت حاصل کرنا جائز ہے لیکن اگر نیت صرف غنیمت کی ہو تو اجر ختم ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو لشکر جہاد کے لیے نکلا، اگر انہیں غنیمت بھی ملی اور وہ سلامت لوٹ آئے، تو انہوں نے اپنے اجر کا دو تہائی دنیا میں ہی پا لیا۔ اور جو لشکر غنیمت کے بغیر لوٹا اور نقصان اٹھایا، ان کا اجر پورا ہے۔”(صحیح مسلم، حدیث 1906)اسلامی شریعت میں جہاد کا مقصد کسی قوم پر ظلم، زمین پر قبضہ یا دولت اکٹھی کرنا نہیں ہے۔ بلکہ جہاد کی اصل وجہ کفار کا کفر اور اسلام کی دعوت سے انکار ہے۔ اور جہاد کا مقصد صرف "فی سبیل اللہ” ہونا چاہیے یعنی اللہ کا کلمہ بلند کرنا، ظلم کو مٹانا اور انسانیت کو عدل و انصاف کے نظام سے روشناس کرانا۔جہاد کا اجر نیت پر منحصر ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جہاد کو خالص اللہ کے لیے کرے، نہ کہ کسی دنیاوی مفاد یا شہرت کے لیے۔
جہاد فی سبیل اللہ کا ثواب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔ جو مسلمان اپنی جان اور مال اللہ کی رضا اور اعلاءِ کلمۃ اللہ کے لیے قربان کرے، اس کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ یہ وعدہ ایسا وعدہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے ان کے لیے جنت ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔ یہ پکا وعدہ ہے اس پر تورات، انجیل اور قرآن میں۔ اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ سو خوشیاں مناؤ اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔”(التوبہ: 111)یہ آیت دراصل ایک عظیم سودا بیان کرتی ہے۔ مسلمان نے اپنی جان اور مال اللہ کو بیچ دیے اور اس کے بدلے جنت خرید لی۔ جب یہ بیعت ہو گئی تو مومن کے پاس اپنی جان یا مال پر کوئی حق باقی نہیں رہتا۔ وہ سب اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے ہیں۔ اب مسلمان کے لیے راستہ یہی ہے: جہاد، قتال، شہادت یا فتح۔جو مسلمان اس بیعت پر قائم رہے وہی حقیقی مومن ہے۔ جو اس بیعت کو توڑ دے، وہ دراصل اپنے ایمان میں کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے فرمایا: "بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں، ان کے لیے جنت ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔”چاہے وہ قتل کرے یا قتل ہو جائے، دونوں صورتوں میں جنت اس کا مقدر ہے۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا، صرف جہاد کے لیے اور مجھ پر ایمان لاتے ہوئے، تو اللہ اس کے ذمہ یہ کر لیتا ہے کہ یا تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا اسے اس کے گھر واپس لوٹائے گا اس حال میں کہ اسے اجر یا غنیمت ملے گی۔”(صحیح بخاری-2787 صحیح مسلم-1876)
عبداللہ بن رواحہؓ نے بیعتِ عقبہ کے موقع پر کہا: "یا رسول اللہ! اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے شرط رکھ لیجیے۔”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں اپنے رب کے لیے یہ شرط رکھتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنے لیے شرط یہ رکھتا ہوں کہ جس طرح اپنی جانوں اور مالوں کا دفاع کرتے ہو اسی طرح میرا بھی دفاع کرو۔”صحابہؓ نے پوچھا: "اگر ہم ایسا کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟”آپ ﷺ نے فرمایا: "جنت۔”وہ سب بیک زبان بولے: "یہ سودا تو کامیاب سودا ہے، ہم اس سے ہرگز پیچھے نہ ہٹیں گے۔”(سیرت ابن ہشام-ج2/ص-41-42/دار الفکر)اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاد کو "نفع بخش تجارت” قرار دیا: "اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے؟ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں جنتوں میں داخل کرے گا… اور تمہیں وہ چیز بھی دے گا جو تمہیں بہت پسند ہے، یعنی اللہ کی طرف سے مدد اور جلدی فتح۔ اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔”(الصف: 10-13)یہاں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ جہاد ہی وہ تجارت ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں نفع بخش ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "مدینہ والوں اور ان کے گرد رہنے والے دیہاتیوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہیں یا اپنی جانوں کو آپ کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں۔ یہ اس لیے کہ جو بھی وہ اللہ کی راہ میں پیاس، تکلیف یا بھوک برداشت کرتے ہیں یا کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے، یا دشمن سے کوئی چیز حاصل کرتے ہیں، ان سب پر ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقیناً اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔”(التوبہ: 120)یہاں تک کہ جہاد کے دوران مجاہد کے پاؤں پر لگنے والی دھول کو بھی رسول اللہ ﷺ نے جنت کا ذریعہ قرار دیا۔حدیث میں ہے:”جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوئے، اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔”(صحیح بخاری-2811)جہاد فی سبیل اللہ محض ایک عمل نہیں بلکہ یہ ایمان کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کا وعدہ فرمایا، اور جو اس راہ میں پیچھے ہٹتا ہے اس پر نفاق کا اندیشہ ہے۔ صحابہ کرامؓ نے اس بیعت کو سچے دل سے نبھایا اور دنیا پر غالب آئے۔ آج بھی مسلمانوں کی اصل کامیابی جہاد فی سبیل اللہ میں ہی ہے۔”پس خوشیاں مناؤ اس بیع پر جو تم نے اللہ سے کی، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔”(التوبہ: 111)
ایمان کے بعد سب سے اعلیٰ عمل — جہاد فی سبیل اللہ:
ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ﷺ سب اعمال کی بنیاد ہے۔ لیکن اس ایمان کے بعد سب سے افضل اور اعلیٰ عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار اس کی فضیلت اور ثواب بیان کیا گیا ہے، حتیٰ کہ کسی اور نیک عمل کو جہاد کے برابر قرار نہیں دیا گیا۔صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے:”ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا کوئی عمل نہیں ملتا۔ پھر فرمایا: کیا تم یہ کرسکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم اپنے مسجد میں مسلسل قیام کرو اور کبھی نہ تھکو، اور روزے رکھو اور کبھی نہ توڑو؟”اس شخص نے کہا: "یا رسول اللہ! یہ تو کسی کے بس کی بات نہیں۔”(بخاری-2785مسلم-1888)اس سے واضح ہوتا ہے کہ جہاد کی فضیلت اتنی عظیم ہے کہ کوئی دوسرا عمل اس کے برابر نہیں۔حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: "کون سا عمل سب سے افضل ہے؟”آپ ﷺ نے فرمایا: "ایمان باللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔”پوچھا گیا: "پھر کون سا؟” فرمایا: "جہاد فی سبیل اللہ، جو اعمال کا سنام (سب سے بلند چوٹی) ہے۔”پوچھا گیا: "پھر کون سا؟” فرمایا: "حج مبرور۔”(ترمذی-1658حدیث حسن صحیح)صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے:”ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! سب سے افضل انسان کون ہے؟”آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ مؤمن جو اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔”پوچھا: "پھر کون؟”فرمایا: "وہ شخص جو کسی وادی یا پہاڑ کی چوٹی پر ہو، اللہ کی عبادت کرے، لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔”(بخاری-2786)حافظ ابن حجرؒ (فتح الباری) لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کرنے والا مؤمن سب سے اعلیٰ درجے پر ہے کیونکہ وہ اپنی جان اور مال اللہ کی خاطر قربان کرتا ہے اور دوسروں کے لیے نفع رساں بنتا ہے۔( فتح الباری ج6/ص9/دار الحدیث القاہرہ/2004)
غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں سب سے بہترین اور سب سے برے لوگ کون ہیں؟بہترین وہ ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی سواری پر یا پیدل جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ موت اسے آلے۔ اور سب سے برا وہ ہے جو قرآن پڑھے لیکن اس پر عمل نہ کرے۔”(نسائی-3106)اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:”سب سے بہتر معاش وہ ہے جو شخص گھوڑے کی لگام تھامے اللہ کی راہ میں نکلتا ہے، جہاں کہیں خطرہ یا آواز سن لے فوراً جہاد کے لیے پہنچ جائے۔ یا وہ شخص جو کسی وادی یا پہاڑ کی چوٹی پر ہو، نماز قائم کرے، زکوٰۃ دے اور اپنے رب کی عبادت کرتا رہے یہاں تک کہ موت آ جائے۔”(مسلم-1889)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہر امت کی رہبانیت (راہبوں کی طرح دنیا سے کنارہ کشی) ہوتی ہے، اور میری امت کی رہبانیت جہاد ہے۔”(مسنداحمد /ج5/ص251/حدیث نمبر 22180/ تحقیق شعیب الارنوؤط)یعنی سابقہ امتوں میں عبادت کے لیے تنہائی اختیار کی جاتی تھی، لیکن اسلام میں یہ رواج نہیں۔ اسلام کی "رہبانیت” جہاد ہے کیونکہ اس میں دنیا سے بے رغبتی، دین کے لیے قربانی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، اور سب سے اعلیٰ مقام یعنی شہادت شامل ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کا نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔”(بخاری-2792مسلم-1880)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص اللہ کی راہ میں ایک اونٹنی کے دودھ دوہنے کے وقت (یعنی تھوڑے سے وقت) جتنا بھی جہاد کرے، اس کے لیے جنت واجب ہے۔”(ترمذی-1650 : حدیث صحیح)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جنت میں اللہ نے مجاہدین کے لیے سو درجے تیار کیے ہیں، ہر دو درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔”(بخاری-2790)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔”(بخاری-3024 مسلم-1742)
یہ حدیث نہ صرف جہاد کی فضیلت بتاتی ہے بلکہ مجاہدین کو یہ یقین دلاتی ہے کہ شہادت ہی جنت کا سیدھا راستہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”حضرت سلیمانؑ نے کہا کہ آج رات میں سو عورتوں کے پاس جاؤں گا تاکہ ہر ایک اللہ کی راہ میں مجاہد کو جنم دے۔ لیکن انہوں نے ‘ان شاء اللہ’ نہ کہا، نتیجہ یہ نکلا کہ صرف ایک عورت نے ادھورے انسان کو جنم دیا۔ اگر وہ ‘ان شاء اللہ’ کہہ دیتے تو سب کے سب مجاہد ہوتے۔”(بخاری-3424)حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص اولاد کی نیت جہاد کے لیے کرے تو اسے اجر ملے گا، چاہے اولاد مجاہد بنے یا نہ بنے۔(فتح الباری /ج6/ص530)ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ﷺ سب اعمال کی بنیاد ہے۔ایمان کے بعد سب سے اعلیٰ اور افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔جہاد وہ "رہبانیت” ہے جسے اسلام نے امت کے لیے پسند کیا ہے۔قرآن و حدیث میں جہاد کی عظیم فضیلت، مجاہدین کے بلند درجات، اور انعامات کا بار بار ذکر آیا ہے۔جہاد نہ صرف فرد کے ایمان کی تکمیل ہے بلکہ امت کی عزت و سربلندی کا بھی ضامن ہے۔
جہاد سے غفلت، اس کے نتائج:
قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جو شخص قدرت کے باوجود جہاد سے پہلو تہی کرے وہ اپنے ایمان کے دعوے میں سچا نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر اور استطاعت رکھنے کے باوجود جہاد سے پیچھے ہٹ جائے، وہ دراصل اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا حقیقی مؤمن نہیں۔ قرآن کہتا ہے:”جو لوگ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ جہاد کے لئے جانے کی اجازت نہیں مانگتے۔ اجازت تو وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں۔”(التوبہ: 44-45)یہ آیت بتائی ہے کہ ایمان والا کبھی جہاد سے نہیں رکتا بلکہ ہر حال میں اللہ کی رضا کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سخت وعید سنائی ہے کہ اگر انسان اپنے والدین، اولاد، رشتہ دار، مال و تجارت اور رہائش کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور جہاد فی سبیل اللہ پر ترجیح دے تو وہ اللہ کے عذاب کے مستحق ہیں۔ "کہہ دو: اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، خاندان، وہ مال جو تم نے کمائے، وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے ڈرتے ہو، اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ اپنا فیصلہ نافذ کرے، اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔”(التوبہ: 24)نبی اکرم ﷺ نے بھی جہاد سے روگردانی پر سخت وعید بیان فرمائی: ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب تم عینۃ (سود کے مشابہ بیع) میں مشغول ہو جاؤ، گائے کی دُم پکڑ لو، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ اور جہاد چھوڑ دو تو اللہ تم پر ذلت مسلط کرے گا، یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹو۔”(ابو داود: 3462) ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص جہاد نہ کرے، نہ مجاہد کو سامان دے اور نہ اس کے اہل و عیال کی کفالت کرے تو اللہ اسے قیامت سے پہلے کسی مصیبت میں مبتلا کرے گا۔”(ابو داود: 2503)
غزوۂ تبوک اور متخلفین کا انجام:
غزوۂ تبوک آخری غزوہ تھا جس میں نبی ﷺ نے سب مسلمانوں کو عام حکم دیا۔ اس وقت سخت گرمی، قحط اور پھل پکنے کا زمانہ تھا۔ اس کے باوجود مخلص مسلمان نکل کھڑے ہوئے لیکن کچھ منافقین اور تین سچے مسلمان پیچھے رہ گئے:منافقین نے جھوٹے بہانے بنائے، اللہ نے ان پر حکم نازل کیا کہ وہ جہاد میں شریک نہیں ہو سکتے اور نہ ان پر نمازِ جنازہ پڑھنی ہے۔(التوبہ: 84)تین مؤمنین (کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع، ہلال بن امیہ) بلا عذر پیچھے رہ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان سے بات نہ کریں اور یہ اپنی بیویوں سے الگ رہیں۔ یہ سزا پچاس دن تک جاری رہی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی۔(التوبہ: 117-118)یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام وقت کو حق حاصل ہے کہ جہاد سے بلاعذر پیچھے رہنے والوں پر تعزیری احکام نافذ کرے۔ان آیات و احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ قدرت کے باوجود جہاد سے غفلت منافقت یا ایمان کی کمزوری ہے۔ جو لوگ دنیاوی رشتوں اور مال کو اللہ و رسول اور جہاد پر ترجیح دیں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہیں۔امام وقت کو حق حاصل ہے کہ جہاد سے غافل رہنے والوں پر اجتماعی دباؤ ڈالے اور انہیں توبہ کی طرف لائے۔ مخلص مسلمان اگر کبھی کمزوری سے پیچھے رہ جائیں تو صدق دل سے توبہ ان کے لئے مغفرت کا سبب بن جاتی ہے۔