کیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟
از Yethrosh
فلسفہ نوع انسانی کی صدیوں پر مشتمل عقلی اور فکری کاوشوں اور اہل عقل و دانش کی دماغ سوزیوں کا مظہر ہے جس کا دائرہ کائنات سے گزر کر انسان کی ذات اور اس کے اعمال و افعال تک پھیلا ہوا ہے۔ ازمنہ قدیم میں فلسفہ کا دائرہ بہت وسیع تھا، چنانچہ طبیعیات و مابعد الطبیعیات، منطق و ریاضیات اور اخلاقیات و سیاسیات سب فلسفہ کے ذیل میں آتے تھے۔ اس دور کے فلسفیوں نے کائنات کی اصل (ἀρχή) کو تلاش کرنے اور وجود کے اسرار کو عقل کے ذریعے حل کرنے کی طرح ڈالی۔ فلاسفہ کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے اپنے افکار کے ذریعہ انسانی شعور کو توہمات کے تنگ و تاریک غاروں ( افلاطون کی تمثیلِ غار allegory of the cave کے مناظر کو ذہن میں تازہ کر لیں) سے نکال کر اسے استدلال و براہین کی روشنی بخشی۔ فلسفہ آج بھی تمام جدید علوم کی اساس کہلاتا ہے، کیونکہ اس کی مدد سے انسانوں نے حقائقِ اشیا کو ان کے جوہر میں دیکھنے کا فن سیکھا اور اسی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فلسفہ محض ماضی کی موشگافیوں کی حکایت نہیں، بلکہ عصر حاضر میں ابھرنے والے پیچیدہ فکری سوالات کو سمجھنے کی کلید بھی فراہم کرتا ہے۔
لیکن اس وقت فلسفہ کا تعارف یا اس کی اہمیت و ماہیت پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں ہے۔ بلکہ گذشتہ دنوں تین بزرگوں کے ملفوظ ہماری نظر سے گذرے جن میں خصوصاً فلسفۂ قدیمہ کی شناعت یا عدم افادیت کا ذکر تھا، اور اس امر پر زور دیا گیا تھا کہ مدارس میں فلسفہ قدیم کی تدریس اب مفید نہیں یا شرعی مضرتوں کی موجب ہے۔ پہلے یہ تینوں ملفوظ ملاحظہ فرمائیں، اس کے بعد ان پر گفتگو کریں گے۔
ملفوظ اول مولانا رشید احمد گنگوہی:
"فلسفہ محض بیکار امر ہے، اس سے کوئی نفع معتد بہ حاصل نہیں سوائے اس کے، دوچار سال ضائع ہوں اور آدمی خر دماغ، غبی دینیات سے ہو جائے، فہم کج وکور فہم شرعیات سے ہو جائے اور کلمات کفریہ زبان سے نکال کر ظلمات فلاسفہ میں قلب کو کدورت ہو جائے اور کوئی فائدہ نہیں؛ لہذا اس فن خبیث کو مدرسہ سے اخراج دیا تھا، چنانچہ ایک سال سے اس کی پڑھائی مدرسہ دیوبند سے موقوف کر دی گئی ہے، مگر بعض بعض مدرسین اور طلبہ کو خیال اس کا چلا جاتا ہے اور شاید خفیہ خفیہ درس بھی اس کا ہوتا ہے۔”
ملفوظ دوم مولانا شبلی نعمانی بقلم سید سلیمان ندوی:
"اس اصلاحی تحریک کی دو دفعات پر مولانا کو بہ شدت اصرار تھا، ایک یہ کہ قدیم یونانی فلسفہ کی کتابیں نکال کر جدید فلسفہ کی کتابیں داخل کی جائیں، دوسری یہ کہ علما تعلیم یافتوں کی اصلاح، یورپ میں تبلیغ اور مستشرقین یورپ کے اعتراضات کے جواب اور غلطیوں کی اصلاح کے لیے انگریزی پڑھیں، اس سلسلہ میں دو واقعے مجھے یاد آئے، ایک دفعہ تنہائی تھی تو خاکسار نے عرض کیا کہ قدیم فلسفہ و منطق کی کتابوں کو نصاب سے خارج کرنے سے آپ کا مقصد کیا ہے، فرمایا یہ یونانی علوم نہ ہمارے مذہبی علوم ہیں اور نہ ہمارے مذہب کی فہم و معرفت ان پر موقوف ہے، امام غزالی اللہ نے اپنے زمانہ میں ان علوم کو علما کے نصاب میں اس لیے داخل کیا تاکہ ان یونانی علوم کے اثر سے جن کو اس زمانہ میں زیادہ تر باطنیوں نے پھیلا رکھا تھا، علمائے اسلام واقف ہو کر اس زمانہ کے الحاد کا مقابلہ کر سکیں لیکن اب نہ وہ ملحد رہے نہ وہ یونانی علوم رہے، نہ ان کے ان مسائل کی صحت کا یقین عقل کے مدعیوں کو رہا، اس لیے ان کا اثر خود بہ خود زائل ہو گیا، اور اب ان سے اسلام کو کسی گزند کا خوف نہیں رہا، اب اس کی جگہ نئے علوم ہیں، نئے مسائل ہیں، نئی تحقیقات ہیں، اب اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے علما انہی چیزوں سے واقف ہو کر اسلام کی نئی مشکلات کا حل نکالیں اور نئے شبہات کے تحقیقی جواب دیں۔”
(حیات شبلی صفحہ 13)
ملفوظ سوم مولانا محمد علی مونگیری:
"اس زمانہ میں حالت بدل گئی ہے وہ اعتراضات جو پہلے فلسفہ میں کئے گئے اب انہیں کوئی نہیں پوچھتا اور نہ وہ فرقے اعتراضات کرنے والے باقی رہے اب ان کے اعتراضات اور جوابات سیکھنے کی ضرورت نہ رہی، اب نیا عالم، نیا دانہ، نیا پانی ہے، جدید فلسفہ کی بنا پر اس زمانہ کے مخالفین اسلام نے نئے نئے قسم کے اعتراضات کئے جو پہلے نہ تھے ، ان کا شافی طور پر جواب دینا قدیم فلسفہ کے جاننے سے نہیں ہو سکتا، اگرچہ کوئی کیسا ہی دعوی کرے، وجہ اس کی یہ ہے کہ معترض کا جواب شافی اس وقت ہو سکتا ہے کہ اس کے منتہائے اعتراض کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کس بنا پر اس نے اعتراض کیا ہے۔”