Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

طبقاتی نظام ، ایک تعارف

  1. Home
  2. طبقاتی نظام ، ایک تعارف

طبقاتی نظام ، ایک تعارف

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • جنوری 16, 2026
  • 0 Comments

طبقاتی نظام ، ایک تعارف
مولانا ڈاکٹر احمد نور عینی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد


بھارت کا طبقاتی نظام دنیا کا آٹھواں بل کہ پہلا عجوبہ ہے، یہ طبقاتی تقسیم پر مبنی ہے، طبقات اورذات پات میں انسانوں کی تقسیم بھارتی سماج کی خصوصیت بھی ہے اور یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ بھی، ایک ایسا مسئلہ جو تقریبا چار ہزار سالہ قدیم تاریخ رکھتا ہے، یہ در اصل غلامی کا ایک نظام ہے جس کے سہارےنسل پرست قوم اپنے تسلط کے استحکام وبقا کے مقصد میں تاریخ کے مختلف ادوار میں کامیاب رہی ہے، اس طبقاتی نظام کے ڈھانچے، تاریخی پس منظر، اس کی خصوصیات اور اس سے متعلق اصطلاحات اور بھارتی سماج پر پڑنے والے اس کے برے اثرات سے واقف ہونا ضروری ہے۔


بھارتی سماج بنیادی طور پر دو قسموں پر منقسم ہے: سْوَرْنْ اور اَوَرْنْ۔ سورن یعنی سماج کا وہ حصہ جو طبقاتی نظام میں داخل ہے، اورن یعنی سماج کا وہ حصہ جو طبقاتی نظام سے خارج ہے، سماج کی جو اکائیاں گاؤں کے اندر ہی آباد رہیں وہ طبقاتی نظام میں داخل اور شامل ہیں، اور جو اکا ئیاں آبادی یعنی گاؤں سے باہر چلی گئیں وہ طبقاتی نظام سے خارج قرار پائیں، خارج ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا درجہ بڑھا ہوا ہے، بل کہ اورن کی ذاتیں سورن کی سب سے نچلی ذات سے بھی بدتر وحقیر تر سمجھی جاتی ہیں۔ سورن کے دو حصے ہوجاتے ہیں: دُوِجَہْ اور شُوْدْرْ۔دویجہ کا مطلب ہے دومرتبہ جنم لینے والا، ایک مخصوص عمر کو پہنچنے کے بعد جب جنیو باندھا جاتا ہےتو اس وقت جنیو دھاری کا دوبارہ جنم ہوتا ہے، جنیو باندھنے کی یہ رسم اُپانیان کہلاتی ہے۔


دویجہ تین طبقات پر مشتمل ہے: برہمن، چھتری اور ویش۔ انہی تینوںکے مردوں کو جنیو باندھنے کا حق ہے،اور انہی تینوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور علم دینے کا حق صرف برہمن کو ہے۔ مورخین کے بیان کے مطابق یہ تینوں آریائی نسل کے ہیں،آریہ وہ قوم ہے جس نے زائد از تین ہزار سال قبل یوریشیا سے آکر بھارت پر حملہ کیا تھا، ۲۰۰۱ء میں شائع ہونے والی مائیکل بام شاد کی ڈی این اے رپورٹ نے بھی اس کی تائید کی ہے اونچی ذاتوں یعنی برہمن چھتری ویش کے مردوں کا ڈی این اے ودیشی ہے۔ برہمن کا ودیش سے آنا تو تاریخی وسائنسی حقیقت ہے، لیکن چھتری میں جتنی سماجی اکائیاں آتی ہیں وہ سب کی سب آریہ اور ودیشی ہوں ایسا ضروری نہیں، تاریخ کے مختلف دور میں دیش کے مختلف حصوں میں مولنواسی غیر آریائی نسل کے راجہ بھی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کو چھتری میں شمار کیا گیا، عہد جدید کی برہمنیت مخالف تحریک کے بانی جیوتی با پھلے نے اناریہ راجاؤں کو چھتری کہا ہے، اسی طرح چھتری طبقہ کے بعض سماجی قائدین کا یہ دعوی ہے کہ وہ آریائی یا ودیشی نہیں بل کہ مولنواسی غیر آریائی ہیں۔ یہاں شیواجی کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے، شیوا جی نے جب باضابطہ تاج پوشی کی تقریب منعقد کرنا چاہی تو ان کے شودر ہونے کی وجہ سے کوئی پنڈت ان کی تاجپوشی کے لیے تیار نہیں ہوا، بہت مشکل سے وارانسی سے گاگابھٹ اس کے لیے آمادہ ہوا اور اس نے بہت سارا مال ودولت اینٹھ کر شیواجی کی کنڈلی چھتری ونش سے ملا دی، تاریخ میں ایسا بہت ہوا ہے، اور چھتری ہونا چوں کہ فخر کی بات تھی کہ اس سے سماجی حیثیت کافی اونچی ہو جاتی تھی اس لیے شودر ونش سے آنے والا راجہ اپنے کو چھتری کہلانے میں ہی فخر محسوس کرتا۔ اسی طرح ویش ورن میں بھی سارے لوگ ودیشی آریائی ہوں کوئی ضروری نہیں ہے، مال وجائیداد کے حصول میں کسی طرح سے کامیابی ملنے پر بہت سے لوگ اپنی سماجی حیثیت بلند کرنے کے لیے ویش ورن میں بھی شامل ہوئے ہیں۔


ان تینوں طبقات کے فرائض منوسمرتی میں یوں درج ہیں: وید پڑھنا، وید پڑھانا، یگیہ کرنا، یگیہ کرانا، دان دینا، دان لینا۔ یہ چھ کرم براہمن کے لیے بنائے۔ رعایا کی حفاظت کرنا، دان دینا، یگیہ کرنا، وید پڑھنا، دنیا کی نعمتوں میں دل نہ لگانا یہ پانچ کرم چھتری کے لیے مقرر کیے۔ چار پایوں کی حفاظت کرنا، دان دینا، یگیہ کرنا، وید پڑھنا، تجارت کرنا، سود لینا، کھیتی کرنا، یہ سات کرم ویشوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔ (منوسمرتی: ادھیائے: ۱، اشلوک: ۸۸، ۸۹، ۹۰) منوسمرتی میں یہ بات لکھی ہے کہ ویش کو وید پڑھنے کی اجازت ہے، جب کہ البیرونی نے یہ وضاحت کی ہے کہ ویش کو وید پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے ابتدا میں ویش کو وید پڑھنے کی اجازت نہ رہی ہو، بعد میں اجازت دی گئی ہو۔


سورن کا دوسرا حصہ شودر ہے، یہ بھارتی مولنواسی طبقہ ہے جسے برہمنی مت کے طبقاتی نظام میں نیچ سمجھا جاتا ہے، یہ طبقہ تین ہزار سے زائد ذاتوں پر مشتمل ہے، ان ذاتوں کو پچھڑی ذاتیں بھی کہا جاتا ہے، او بی سی میں آنے والی زیادہ تر ذاتیں اسی ورن سے تعلق رکھتی ہیں، ان کی پھر تین سطحیں ہو جاتی ہیں: اعلی، اوسط اور ادنی۔ اعلی درجہ کے شودر میں وہ اکائیاں آتی ہیں جو کسی وجہ سے اپنی سماجی حیثیت کسی حد تک کچھ اوپر اٹھانے میں کامیاب ہوگئیں، ان لوگوں کے اندر شودر کی دیگر اکائیوں کی بہ نسبت اپنے کو برتر سمجھنے کی نفسیات ہوتی ہے، طبقاتی نظام کی وجہ سے ان کے اندر برتری کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے یہ لوگ طبقاتی نظام کے خلاف عام طور پر باغیانہ جذبہ نہیں رکھتے، اور شعوری یا غیر شعوری طور پر برہمنواد کے حق میں استعمال ہوجاتے ہیں، ان میں مراٹھا، ریڈی، جاٹ اور پٹیل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ادنی درجہ میں شودر کی وہ اکائیاں آتی ہیں جو خدمات انجام دیتی ہیں یا دستکاری کے پیشہ سے وابستہ ہیں، یہ شودر سماج کی دیگر اکائیوں کی بہ نسبت سماجی امتیاز کا زیادہ شکار ہیں، اور پست سماجی حیثیت کی وجہ سے دلتوں سے قریب سمجھی جاتی ہیں، اسی قربت کی وجہ سے بعض ذاتیں ایسی ہیں جو ایک ریاست میں او بی سی میں آتی ہیں اور دوسری میں ایس سی میں، یہ عام طور پر احساس کمتری کی نفسیات کا شکار رہتی ہیں، اور اپنے سے اونچی شودر ذاتوں سے حسد اور رقابت کے جذبات رکھتی ہیں۔ ان میں دھوبی، نائی، کمہار وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اوسط درجہ میں وہ اکائیاں آتی ہیں جو ان دونوں کے درمیان کی ہیں، جیسے یادو، کرمی ، کوئری وغیرہ۔ ان میں جن ذاتوں کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کا موقع ملا وہ اعلی درجہ کے شودر کے قریب پہنچ گئیں، اور جنھیں اپنی حیثیت کو اوپر اٹھانے کا کوئی موقع نہیں مل سکا وہ اپنے پرانے مقام پر ہی رہیں۔ شودر کو حقوق سے تو محروم کیا گیا لیکن انھیں اچھوت نہیں بنایا گیا، اس کی وجہ سے اونچی ذاتوں سے ان کا تعامل رہا،چھوت چھات کے عدم نفاذ، اونچی ذاتوں کے ساتھ ان کی رہائش اور ان کے ساتھ تعامل وہ اہم اسباب ہیں جن کی بنا پر برہمنواد کی ذہنی غلامی نے انھیں زیادہ بری طرح جکڑا، موجودہ دور میں ’’ہندو مذہب‘‘ کا نشہ سب سے زیادہ اسی طبقہ کو چڑھا ہوا ہے، مذہبی جذبات میں پاگل پن کی حد تک مبتلا ہے، اس کی یہی نفسیات ہندوتو کے لیے سب سے بڑا سہارا فراہم کر رہی ہے۔


شودر کا کام منوسمرتی میں یوں درج ہے: شودر کے لیے ایک ہی کرم پربھو نے ٹھیرایا، یعنی صدق دل سے ان تینوں کی خدمت کرنا۔ (منوسمرتی: ادھیائے: ۱، اشلوک: ۹۱)۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ طبقاتی نظام میں شودر گو سورن یعنی طبقاتی نظام کا حصہ ہے؛ لیکن عام بول چال میں سورن کا لفظ اونچی ذاتوں یعنی برہمن، چھتری ، ویش کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے جب سورن مطلق بولا جائے تو عموما شودر اس میں داخل نہیں ہوتا ۔


سورن کے چار طبقات کے بعد اورن کے دوحصے ہوجاتے ہیں: اچھوت اور آدی واسی، اَچُھوْتْ (Untouchable)وہ طبقہ ہے جو گاؤں کے باہر مضافات میں آباد ہوا، اور گاؤں کے اندر رہنے والے شودر سے بھی بدتر اور حقیر تر سمجھا گیا، آج بھی پرانے گاؤں کے اطراف جو غیر مسلم آبادی بستی ہے وہ انہی لوگوں کی ہوتی ہے، یہ طبقہ برہمنی نظام میں اچھوت قرار دیا گیا، یعنی ان کے چھونے سے انسان ناپاک ہوجاتا ہے، عام بول چال میں انہی کو ’’دلت‘‘ کہا جاتا ہے۔ عام طور سے شودر کو بھی دلت سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ دلت کا مرتبہ طبقاتی نظام میں شودر کے بعد آتا ہے، ڈاکٹر امبیڈکر اسی طبقے سے تعلق رکھتے تھے، امبیڈکر کے بدھ مت قبول کرنے کی وجہ سے اس طبقے کا بدھ مت کی طرف رجوع روز افزوں ہے، دوسری طرف ہندوتوادیوں کی طرف سے انھیں ہندو بنانے کا کام بھی جاری ہے۔


آدی واسی کا معنی ہے قدیم باشندے، اس سے وہ قبائل مراد ہیں جوپہاڑوں اور جنگلوں میں آباد ہوئے، یہ لوگ بھی شودر سے بدتر اور حقیر تر سمجھے گئے، آبادی سے کٹ کر رہنے کی وجہ سے ان کا بڑا حصہ تہذیب وتمدن کی رفتار کے ساتھ نہ چل سکا۔ یہ لوگ بھارت کے قدیم ترین باشندے ہیں، ان کا مستقل دھرم اور ان کی علیحدہ تہذیب ہے، ان کے دھرم میں سناتنی دیوی دیوتاؤں اور پورانی بھگوانوں کا کوئی گذر نہیں، اور ان کی تہذیب میں برہمن کی پیشوائی کی کوئی جگہ نہیں۔ یہ لوگ اپنے دھرم کو شرنا دھرم کہتے ہیں، جس میں پراکرتی (فطرت) اور مظاہر فطرت کی عبادت کو اہمیت دی گئی ہے، ان کے رسوم کی ادائیگی کے لیے برہمنوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انگریزوں نے ان کے سماجی اعتزال سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان میں تبشیری مبلغین کو سرگرم کیا، جس کی وجہ سے آدی واسی کی ایک بڑی تعداد عیسائی ہوگئی، جنھیں دوبارہ ہندو بنانے کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
طبقات کی تقسیم میں عمودی ترتیب پر برتر وکمتر والی درجہ بندی بالکل واضح اور حتمی ہے، وہ اس طور پر کہ برہمن سب سے افضل وبرتر ہے، اس کے بعد چھتری ہے جو برہمن سے کمتر اور ویش سے برتر ہے، پھر ویش ہے جو چھتری سے کمتر اور شودر سے برتر ہے، اخیر میں شودر ہے جو چاروں ورنوں میں سب سے کمتر ہے، اتی شودر جو چاروں ورنوں سے باہر ہونے کی وجہ سے اورن کہلاتے ہیں وہ شودر سے بھی کمتر وبد تر ہے۔ بدتری وبرتری کی یہی ترتیب ہے، اور یہ ترتیب پیدائش اور جنم کی بنیاد پر ہے، اپستمبا دھرم سوتر میں ہے: طبقات چار ہیں: برہمن، چھتری، ویش اور شودر، ان میں ہر طبقہ اپنے بعد والے طبقے سے پیدائش کی بنیاد پر افضل ہے۔(اپستمبا دھرم سوتر: 1: 1: 1: 4،5)
یہاں پر ورن (طبقہ) اور ذات میں جو فرق ہے اسے واضح کردینا مناسب ہوگا، ورن میں چار طبقات برہمن، چھتری، ویش اور شوددر آتے ہیں، ان کے اندر کی جو ذیلی اکائیاں ہیں انہیں ذات کہتے ہیں ، مثلا شودر ایک ورن ہے، پھر اس کے اندر تین ہزار سے زائد ذاتیں ہیں۔ورن کی اونچ نیچ والی ترتیب تو بالکل واضح اور حتمی ہے، البتہ ورن کے بر عکس ذات کی تقسیم میں نہ کوئی حتمی عمودی ترتیب ہے اور نہ برتر وکمتر کی واضح درجہ بندی، مختلف اصولی باتوں کے پیش نظر ذاتیں برتر وکمتر سمجھی جاتی ہیں یا اپنی برتری اور دوسری ذات کی کمتری کا دعوی کرتی ہیں، برتری وکمتری کے اصول بھی ایسے حتمی نہیں ہیں کہ ان کے پائے جانے کی صورت میں کسی ذات کا بہر صورت برتر یا کمتر ہونا حتمی طور پر طے ہوجائے، اسی طرح کبھی زمان ومکان کی تبدیلی سے بھی برتر یا کمتر سماجی حیثیت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ایم این سرینواس کی کتاب ’جدید ہندوستان میں ذات پات‘ میں درج مضمون ’ورن اور ذات‘۔


اس طبقاتی نظام کا بھارتی سماج پر اثر یہ پڑا کہ افضل وارذل ہونے کی سوچ پیدا ہوئی، ہر ذات اپنے سے کمتر ذات کو حقیر سمجھنے لگی، اور اپنے سے اونچی ذات سے حسد کرنے لگی، یوں سماج کی مختلف اکائیوں کارشتہ آپس میں نفرت، عداوت، اور حسد وحقارت کی بنیاد پر استوار ہوا، جس کی وجہ سے دوریاں بڑھیں، غیریت کی دیواریں اٹھیں، ایک دوسرے پر اعتماد نہ رہا، سچھوت اور اچھوت کے فارمولے نے بھارتی مولنواسی قوموں کو دو دشمن قوموں میں بانٹ دیا، نہ صرف بانٹ دیا بل کہ ایک دوسرے سےکا ٹ دیا اور ایسا کاٹا کہ آج تک یہ دونوں آپس میں مل نہ سکے، تقسیم در تقسیم کی پالیسی سے سماج دسیوں ہزار ٹکڑیوں میں بٹ گیا، ہر ٹکڑی بس اپنی ذات تک محدود ہوگئی، ہر شخص ذات کی باہر کی دنیا سے بے پروا ہوگیا، بے حسی بڑھی، بس اپنی ذات کا مفاد ہی مقصود ہوگیا، ایک دوسرے سے اعتماد اٹھا، پڑھنے لکھنے کے حق سے منظم محرومی کی وجہ سے مولنوسی قومیں توہمات کی دنیا میں آباد ہوئیں، برہمنواد نے اس دنیا کو دیومالائی کہانیوں سے ایسا سجایا کہ علم وفہم سے محروم قومیںنسل پرست قوم کو دل دے بیٹھیں،اس کے چرنوں میں گر گئیں، طبقاتی نظام کو حاصل مذہبی تقدس کی وجہ سے سماج کی اس برائی کو برائی سمجھ کر اس کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائےلوگ اسے مذہب سمجھ کر مصائب جھیلتے رہے، اور ساتھ میں گذشتہ جنم کے برے کرم پر اپنے آپ کو کوستے رہے،نہ جذبۂ حریت رہا نہ احساس مظلومیت، نہ مرکزیت رہی نہ مقصدیت، نہ آپسی اتحاد رہا نہ باہمی اعتماد، نتیجہ یہ ہوا کہ برہمنوادی طبقاتی نظام کے خلاف ہمہ گیر وپائیدار بغاوت کھڑی نہ ہوسکی، اگر کبھی ہوئی بھی تو وہ برہمنواد کا پلٹ وار نہ سہہ سکی۔


عصر حاضر میں طبقاتی نظام کا بنیادی ڈھانچہ اور اور اساسی مقصد تو وہی ہے جو ہمیشہ سے رہا ہے؛ لیکن اس کی خصوصیات میں کچھ فرق نظر آتاہے، اور اس فرق کی دو بنیادی وجہیں ہیں، ایک جمہوری دور کی مجبوری اور دوسرے ہندوتو کی سازش۔جمہوری دور اور سیکولر دستور کی وجہ سے بعض امور میں کچھ تبدیلی آئی ہے، مثلا: پیشہ بدلنے، اپنی مرضی کا پیشہ اختیار کرنے، تعلیم حاصل کرنے، سرکاری ملازمت کرنے، حکومتی نظام میں حصہ لینے، بین ذاتی شادی کرنے وغیرہ کا حق ان قوموں کو بھی حاصل ہو گیا جنھیں شودر واتی شودر بنا کر ان سے یہ سارے حقوق سلب کر لیے گئے تھے۔ ہندوتو کی وجہ سے جو تبدیلی آئی ان میں اہم یہ ہے کہ احساس کمتری کا شکار پست وپسماندہ ذاتوں میں خود اعتمادی کی نفسیات پیدا ہوئی، اگرچہ یہ سراب ہے، اور ان کی خوش فہمی کیے سوا کچھ نہیں، لیکن بہر حال نفسیات میں تبدیلی آئی ہے، اسی طرح ہندو ایکتا کے تصور نے ان کی بزدلی کی اس نفسیات کو کافی حد تک تبدیل کیا ہے جس کی شکایت امبیڈکر نے اپنی کتاب ذات پات کے خاتمہ میں کی ہے، نیز تہواروں کی ہندوتوادی منظم سرپرستی اور اس کے تئیں ہندوتو کے ٹھیکیداروںکی با مقصد دلچسپی نے ہزاروں ٹکریوں میں بٹے پست طبقات وپسماندہ سماج کے اندر اجتماعی وحدت کا احساس اور تہذیبی یکجہتی کا تصور دیا، اور ان تیوہاروں کے برہمنی کرن نے اس اجتماعی وحدت کا سرا برہمن کے جنیو سے وابستہ کر دیا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم منافرت کا ہمہ وقتی وہمہ جہتی پروپیگنڈہ نے انھیں ’’ہندو‘‘ بنانے میں اہم کردار کیا ہے۔ لیکن دستوری مجبوری کی وجہ سے مذکورہ حقوق کے مل جانے اور ہندوتو کی سازش وکوشش کی وجہ سے ان کی نفسیات ، ان کے نظریات اور رویہ میں تبدیلی آجانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بھارت سے ذات پات کا خاتمہ اور طبقاتی نظام کا انہدام ہوگیا، اونچ نیچ کی نفسیات، نسلی برتری والی قوم کا ورچسو اور غلبہ، ذہنی غلامی کی تاریک شب کوسپیدۂ سحر سے نا آشنا رکھنے کے لیے مندر کلچر کا فروغ اور مذہب کا استعمال، گائے گوبر گیتا کے نام پر مذہبی جذبات کا استحصال، شخصیات اور تہواروں کا برہمنی کرن،پالیسی سازی میں اونچی ذاتوں کا کلیدی کردار، مولنواسی قوموں کو تحفظات اور دیگر حقوق سے محروم کرنے اور محروم رکھنے کی سازش، کمنڈل بنام منڈل کا کھیل، محکوم قوموں کی آپس میں لڑائی، ایس سی، ایس ٹی کے ساتھ چھوت چھات، آدی واسی کو حاصل شیڈول ۵ اور شیڈول ۶ کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی، کرم کانڈ پر برہمن کی اجارہ داری، وغیرہ کئی امور ایسے ہیں جو طبقاتی نظام کی بنیادوں کو مضبوط کیے ہوئے ہیں۔

طبقاتی نظام: ایک تعارفمولانا ڈاکٹر احمد نور عینی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

بوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)
اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندوی

Related Posts

Quranic Arabic Grammar Course
  • hira-online.comhira-online.com
  • Quranic Arabic Grammar Course
  • فروری 1, 2026
  • 0 Comments
Quranic Arabic Grammar Course

Quranic Arabic Grammar Course (Ramadan Special – Level 1)📘 Duration: 1st Ramadan se 25th Ramadan⏰ Class Time: Rozana 1 Ghanta📚 Total Classes: 25Is Course mein aap kya seekhenge?1️⃣ Arabic Word Roots▪️ Quranic Arabic ka root system samajhna▪️ Lafzon ke meanings kaise bante hain2️⃣ Quranic Arabic Grammar▪️ Basic Nahw aur Sarf▪️ Qur’an ke jumlon ki structure3️⃣ Common Quranic Words▪️ Baar baar aane wale Qur’ani alfaaz▪️ Aasan yaad karne ke tareeqe4️⃣ Tafseer of Selected Verses▪️ Simple aur authentic tashreeh▪️ Qur’an ke paighaam ko samajhna5️⃣ Scientific Miracles of the Qur’an▪️ Qur’an aur modern science ki roshni mein6️⃣ Basic Arabic Conversation▪️ Rozmarra istemal ki Arabic▪️ Confidence ke saath bolna💰 Course Fee: Sirf ₹299/-⚠️ Limited seats available – Jaldi register karein!🌐 hira-online.com📸 Instagram: @al_hira_academy_1📱 Join us on WhatsApp📞 Contact: 8235826323✨ Is Ramadan Qur’an ki zaban seekhiye! ✨

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 27, 2026
  • 0 Comments
عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

عصرِ حاضر میں مکاتب کی اہمیت مکاتب اسلامی معاشرے کی دینی بنیاد کو مضبوط کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جب فکری یلغار، اخلاقی بگاڑ اور دینی غفلت عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں مکاتب کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں بچوں کو گھر اور معاشرے سے خودبخود دینی ماحول مل جاتا تھا، مگر آج یہ ماحول کمزور پڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ #مکاتب مکاتب وہ ادارے ہیں جہاں بچوں کو کم عمری ہی میں عقیدۂ توحید، کلمۂ طیبہ کی حقیقت، قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم، نماز، سنتِ نبوی ﷺ اور اسلامی اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔ یہی تعلیمات بچوں کے دل و دماغ میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتی ہیں اور انہیں گمراہ کن نظریات، فتنوں اور ارتداد جیسی خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مکتب میں حاصل ہونے والی دینی تربیت بچے کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے اور اسے اچھا مسلمان اور باکردار انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہر مسجد میں منظم انداز سے مکاتب قائم ہوں اور والدین بچوں کی دینی تعلیم کو ترجیح دیں تو ان شاء اللہ ہماری نسلیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہیں گی۔ بلاشبہ مکاتب امتِ مسلمہ کے ایمان کے محافظ اور مستقبل کے معمار ہیں۔

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top