محمد رضی الاسلام ندوی
دار العلوم دیوبند میں اپنی حاضری درج کرنے کے لیے میں نے دو فوٹو لگائے تو بہت سے احباب نے توجہ دلائی کہ آپ نے صرف فوٹو لگادیے ، کچھ لکھنا بھی چاہیے تھا – اسی کی تعمیل میں چند سطریں تحریر کی جارہی ہیں –
دار العلوم (وقف) میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ پر منعقدہ سمینار (13، 14 دسمبر 2025) کا افتتاحی اجلاس پونے بارہ بجے ختم ہوا تو برادر مکرم ڈاکٹر محی الدین غازی نے کہا : ” اس وقت دار العلوم کے مہتمم اور شیخ الحدیث مولانا ابو القاسم نعمانی کا درس چل رہا ہوگا – چل کر اس میں شرکت کرلیتے ہیں – “ میرے ساتھ مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نائب امیر جماعت ، جناب عبد الجبار صدیقی سکریٹری جماعت اور ڈاکٹر رضوان احمد رفیقی فلاحی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت بھی تیار ہوگئے –
دار العلوم (وقف) کیمپس ہی میں ایک بیٹری رکشہ کھڑا ہوا تھا – ڈرائیور سے کہا : ” دار العلوم لے چلو -“ وہ فوراً تیار ہوگیا – تھوڑی دیر میں ہمیں گلیوں سے گھماتے ہوئے اس نے دار العلوم میں ‘مسجد رشید’ تک پہنچا دیا – بڑی خوب صورت اور پُر شکوہ مسجد تعمیر ہوئی ہے – کرایہ پوچھنے پر اس نے کہا : ” کرایہ دینے کی ضرورت نہیں – میں نانوتہ سے سمینار میں شرکت کرنے والوں کی خدمت ہی کے لیے آیا ہوں – “ رکشہ چلانے والے کے اس جواب نے بہت متاثر کیا – اس کے جذبۂ خدمت کو سلام – بانی دار العلوم مولانا محمد قاسم نانوتوی کے اخلاص ، خیر خواہی اور خدمت کے اثرات نسل در نسل اب تک محسوس کیے جاتے ہیں –
ایک طالب علم سے درسِ حدیث کے بارے میں معلوم کیا – اس نے بتایا کہ درس 12 بجے ختم ہوجاتا ہے – بہت افسوس اور مایوسی ہوئی – چند ماہ پہلے دیوبند حاضری ہوئی تھی تو اس موقع پر دار العلوم (وقف) میں شیخ الحدیث مولانا احمد خضر شاہ کشمیری اور دار العلوم میں مولانا ابو القاسم نعمانی کے درس میں کچھ دیر بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی – اس طرح کہہ سکتا ہوں کہ میں دونوں دار العلوموں کا فیض یافتہ اور دونوں بزرگ شخصیات کا شاگرد ہوں ، اگرچہ چند ساعتوں کا – میں نے خواہش کی کہ مولسری احاطہ کی زیارت کروائیے ، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں سے دار العلوم کا آغاز ہوا تھا – بھائی غازی صاحب نے رہ نمائی کی – وہاں ایک درخت کے نیچے طلبہ کے جداری جریدے آویزاں تھے – معلوم ہوا کہ یہاں علاقوں اور شہروں کے اعتبار سے طلبہ کی انجمنیں قائم ہیں ، جن کے تحت ان کی معاون درسی اور غیر درسی سرگرمیاں رہتی ہیں – قریب میں ایک کنواں نظر آیا – اسے بہت متبرک سمجھا جاتا ہے اور لوگ دوٗر دوٗر سے اس کا پانی پینے آتے ہیں – ہماری موجودگی میں بھی لوگ پانی پینے آتے رہے – ہم لوگ چوں کہ روحانیت اور تقدّس کے زیادہ قائل نہیں ہیں ، اس لیے ہم میں سے کسی کے قدم کنویں کی طرف نہیں بڑھے – غازی صاحب نے کہا :” چلیے ، یہاں کھانے کی تقسیم کا نظام دکھاتے ہیں – “ ہم مطبخ کی طرف چل پڑے – کھانا لینے کا وقت تھا – طلبہ ہاتھوں میں برتن لیے اُس جانب رواں تھے – تقسیم کرنے والے بڑے بڑے بھگونوں سے دال ، چاول اور روٹی تقسیم کررہے تھے –
غازی صاحب نے بتایا کہ ہر طالب علم کو ایک ٹوکن ملتا ہے – دوپہر کا کھانا لیتے وقت وہ ٹوکن جمع کرتا ہے ، اسی وقت رات کے کھانے کا ٹوکن اس کے سپرد کردیا جاتا ہے – دار العلوم میں ہزاروں طلبہ ہیں ، لیکن ٹوکن تقسیم کرنے والا ملازم بڑی مہارت اور پھرتی سے ایک ٹوکن لیتا اور دوسرا ٹوکن دیتا ہے – میں جن تعلیمی اداروں میں رہا ہوں (درس گاہ اسلامی رام پور ، دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ) ان سب میں ڈائننگ ہال کا نظم ہے – طلبہ متعین اوقات میں وہیں جاکر اور بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں ، اس لیے مجھے دار العلوم کا یہ نظام پسند نہیں آیا – طالبانِ علوم نبوت کو دال ڈبے میں ، چاول پلیٹ میں اور روٹی ہاتھ میں لیے کمروں کی طرف جاتے ہوئے اچھا نہیں لگا – معلوم ہوا کہ دار العلوم (وقف) میں بھی یہی نظام قائم ہے – ذمے داران کی کچھ مجبوریاں ہوں گی جن کی وجہ سے وہ اس نظام میں مطلوبہ اور شائستہ اصلاحات اب تک نہیں کرسکے ہیں –
ہم نے قدیم دار الحديث دیکھا ، جس میں اب درجۂ مشکوٰۃ کی کلاس ہوتی ہے – ہاسٹل کی طرف گئے – سامنے باب الظاھر نظر آیا – اسے شاہ افغانستان (ظاہر شاہ) کے عطیہ سے قائم کیا گیا تھا ، جب قاری محمد طیّب رحمہ اللہ نے ایک وفد کے ساتھ افغانستان کا دورہ کیا تھا – اس بڑے دروازے میں کئی کمرے ہیں ، جن میں طلبہ رہتے ہیں – کسی زمانے میں یہ بڑا پُر شکوہ رہا ہوگا ، لیکن دونوں طرف کئی منزلہ نئی عمارتیں بن جانے کی وجہ سے اس کی شوکت باقی نہیں رہی ہے – ایک طالب علم نے بتایا کہ اسے منہدم کردیے جانے کا فیصلہ ہوگیا ہے –
باب الظاھر سے نکل کر ہم آگے بڑھے تو سامنے وہ وسیع و عریض ، عظیم ، خوب صورت اور بلند و بالا گول عمارت نظر آئی جو لائبریری کے نام سے مشہور ہے – اس کے بیسمنٹ میں دار الحديث ہے اور اوپر کی منزلوں میں لائبریری منتقل کرنے کا منصوبہ ہے – ایک بزرگ دربان نے آگے بڑھ کر ہمارا تعارف چاہا اور ہمارا استقبال کیا – ہم نے ان کا تعارف لیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ 1980 سے یہاں خدمت کررہے ہیں – ہمیں شرارت سوجھی – ان سے سوال کیا : ” دار العلوم میں جب اختلافات ہوئے تھے اور لڑائی جھگڑے کی بعد تقسیم کی نوبت آگئی تھی تو آپ یہیں تھے؟ انھوں نے بہت بے تکلفی سے جواب دیا : ” ہاں ، میں یہیں تھا اور میں نے بھی ڈنڈے چلائے تھے – لیکن قاری طیّب صاحب بہت نیک اور فرشتہ صفت انسان تھے – “ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ ‘مخالف خیمہ’ میں رہتے ہوئے قاری طیّب صاحب کے گن گارہے ہیں – جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے –
ان صاحب نے کہا :” تشریف لائیے ، میں آپ لوگوں کو لائبریری کا معاینہ کرواتا ہوں – “ ہم خوش ہوگئے کہ ان کی بہ دولت لائبریری کو اندر سے دیکھنے کا موقع مل رہا تھا – انھوں نے ہمیں اندر لے جاکر دروازہ بند کرلیا تاکہ اور کوئی نہ آپائے – لفٹ سے ہمیں اوپر کی منزلوں پر لے گئے – بتایا کہ کچھ دنوں قبل افغانستان کے وزیر خارجہ جناب متقی صاحب جب دیوبند تشریف لائے تھے تو یہیں ان کے اعزاز میں پروگرام ہوا تھا – بالائی منزل سے پورے شہر دیوبند کا منظر بڑا خوب صورت اور دل آویز نظر آرہا تھا – لائبریری ابھی زیرِ تعمیر ہے – باہر سے تقریباً مکمل ہے – اندر کا کام ہورہا تھا کہ اچانک حکومت کی طرف عتاب نازل ہوگیا – بعض تعمیراتی ضابطوں میں کمی کا الزام لگاکر کام رکوادیا گیا ہے – اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جلد از جلد تمام رکاوٹیں دوٗر ہوجائیں اور زیر تکمیل منصوبے پورے ہوں –
دار العلوم (وقف) میں سمینار کا پہلا اجلاس جاری تھا – وہاں غیر حاضری مناسب نہیں تھی کہ سمینار میں شرکت کے مقصد ہی سے ہمارا سفر ہوا تھا – اس لیے فوراً واپس ہوئے کہ اجلاس ختم ہونے سے پہلے پہنچ جائیں – قعدۂ اخیرہ میں شامل ہوجانے والے کو جماعت پاجانے والا سمجھ لیا جاتا ہے –