HIRA ONLINE / حرا آن لائن
الوافی شرح اصول الشاشی

🌴الوافی شرح اصول الشاشی🌴اساتذہ اور طلبہ کے لیے اصول الشاشی کی ایک بہترین عربی شرح. کتاب : الوافی شرح اصول الشاشی (اصول الشاشی کی عربی شرح)زبان : عربیصفحات : 206تالیف : حضرت مولانا مفتی محمد ذیشان احمد قاسمی صاحب مد ظلہ العالی۔(استاذ مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد، انڈیا)واٹس ایپ :+91 9032100126ناشر : مکتبہ احیاء سنت، مدرسہ امداد العلوم، جامع مسجد ٹین پوش، حیدرآباد، تلنگانہ، انڈیا۔تعارف نگار: امدادالحق بختیار (استاذ حدیث وافتاء جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد انڈیا) بر صغیر میں دار العلوم دیوبند کے منہج اور نظام ونصاب کو اختیار کرنے والے بیشتر مدارس کے درسِ نظامی میں اصول فقہ کے مدخل، مبادی اور بنیادی اصطلاحات وتعریفات کے لیے سب سے پہلے’’ تسہیل الاصول ‘‘ پڑھائی جاتی ہے، بعض مدارس میں اس مقصد کے لیے دوسری کتابیں بھی شاملِ نصاب ہیں، بعد ازاں بالترتیب اصول الشاشی، نور الانوار اور حسامی کا درس دیا جاتا ہے، یہ تمام کتابیں اپنے موضوع اور مقصد میں بہت مفید ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کو اصولِ فقہ کے موضوع میں سب سے زیادہ جس کتاب سے فائدہ ہوتا ہے، وہ ’’ اصول الشاشی ‘‘ ہے، اس کتاب کی ترتیب ، منہج اور اسلوب بہت شاندار ہے، عبارت سلیس اور آسان ہے، یہ کتاب اصولِ فقہ کی تقریباً تمام بنیادی اصطلاحات، قواعد اور احکام کو جامع ہے، ا س کتاب میں اصول اور قواعد کے ساتھ ایک معتد بہ مقدار میں مثالیں پیش کی گئی ہیں، جس سے قاعدہ اور اس کی تطبیق بخوبی طلبہ کو ذہن نشیں ہو جاتی ہے؛ اسی لیے اصول فقہ کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یہ کتاب بہت مقبول ہے۔اردو میں بھی اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں اور عربی میں بھی بعض مستقل شرحیں لکھی گئی ہیں اور متعدد حواشی لکھے گئے ہیں؛ تاہم اس کتاب کی کوئی ایسی عربی شرح دستیاب نہیں تھی، جو معاصر زبان، ترتیب اور اسلوب کے مطابق ہو، اور عصری تقاضوں کوپورا کرتی ہو، جس میں اصل کتاب کے تمام مضامین اور اجزاء کی شرح کی گئی ہو، اسی لیے طلبہ کے درمیان کے اس…

Read more

نام کتاب : تراوش قلم

نام کتاب : ترواشِ قلممصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندویصفحات : 464قیمت: ۵۰۰ روپےناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف…

Read more

مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف

مطالعۂ کتبخوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف اسجد حسن ندوی انسانی زندگی کے تمام رشتوں میں ازدواجی رشتہ سب سے زیادہ نازک، گہرا اور اثر انگیز ہوتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس پر ایک فرد کے ذہنی سکون، جذباتی توازن اور معاشرتی استحکام کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اسلام نے ازدواجی زندگی کو محض جسمانی یا سماجی ضرورت قرار نہیں دیا بلکہ اسے سکونِ قلب، مودّت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ازدواجی زندگی اگر فہم، برداشت، اخلاص اور باہمی احترام کے ساتھ گزاری جائے تو یہ انسان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت بن جاتی ہے، لیکن اگر اس میں غفلت، خود غرضی اور بداعتمادی داخل ہو جائے تو یہی رشتہ دلوں کا بوجھ اور زندگی کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ موجودہ دور میں تیز رفتار زندگی، مادّی ترجیحات، ناپختگی اور دینی اقدار سے دوری نے ازدواجی تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ازدواجی زندگی کے حقیقی مفہوم کو سمجھا جائے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں میاں بیوی کے حقوق و فرائض، باہمی رویّوں اور اختلافات کے حل کو واضح کیا جائے۔ "خوش گوار ازدواجی زندگی” اسی ضرورت کو سامنے رکھ کر تصنیف کی گئی ایک نہایت اہم اور مفید کتاب ہے۔ اس میں ازدواجی زندگی کے بنیادی اصول، میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض، جذباتی و نفسیاتی تقاضے، اختلافات کے اسباب اور ان کے حل کو نہایت سادہ، مدلل اور عملی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب محض نصیحتوں پر مشتمل نہیں بلکہ ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے قابلِ طریقوں سے واقف کراتی ہے ۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر مامون مبیض انسانی نفسیات اور خاندانی نظام کے ماہر ہیں ۔ انہوں نے ازدواجی زندگی کو ایک فطری اور نفسیاتی رشتہ سمجھتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کا گہرا اور حقیقت پسندانہ مطالعہ پیش کیا ہے۔ ان کا…

Read more

خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔

خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔ اردو ترجمہ: تحفۃُ النُّبَلاء فی جماعۃ النساءمصنف: علامہ محمد عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ۔ ترجمہ، تحقیق و تعلیق: محمد شمس قمر صاحب۔ ناشر:حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم وقف، دیوبند۔ از : مولانا آدم علی ندوی ابھی چند دن قبل دارالعلوم وقف دیوبند میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ پر ایک نہایت کامیاب سیمینار منعقد ہوا، جس کی دھوم اور چرچا پورے ملک میں رہی۔ اس کے حسنِ انتظام اور کامیابی کے تذکرے ہر زبان پر تھے۔ اس سیمینار کا ایک اہم حصہ نئی مطبوعات کا اجرا بھی تھا۔ منتظمینِ سیمینار نے اپنے مہمانوں کو حجۃ الاسلام اکیڈمی کی نئی مطبوعات بڑی تعداد میں پیش کیں۔ ہمارے ادارہ سے مہتمم مدرسہ اور مدیر ندائے اعتدال محترم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی صاحب نے اپنے مقالہ کے ساتھ شرکت فرمائی اور ایک نشست، بلکہ پہلی نشست کی کامیاب اور ذمہ دارانہ نظامت بھی کی۔ آپ نے حسب سابق ہدیہ میں ملی اکثر کتابیں مدرسہ کی لائبریری کو ہدیہ کیں۔ وہیں سے میں نے اس نئی کتاب کو حاصل کیا اور مطالعہ شروع کیا۔حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب کے حمد وسپاس، ڈاکٹر محمد شکیب صاحب کی تقریظ اور مفتی امانت علی صاحب کے مقدمہ سے گزرتے ہوئے جب اصل کتاب کے تین ابواب تک پہنچا تو اردو ترجمہ، دلائل اور علامہ لکھنویؒ کے جوابات پڑھ کر بے حد مسرت ہوئی۔ بار بار اس کتاب کی اشاعت پر مولانا شکیب صاحب اور ترجمہ و تعلیق پر محمد شمس قمر صاحب کے لیے دعائیں دل سے نکلتی رہیں اور اچھے جذبات دل میں جگہ بناتے رہے۔البتہ "ضمیمہ” کا حصہ پڑھ کر پہلی سی کیفیت برقرار نہ رہ سکی اور نہ صرف احساسات بدلے بلکہ کچھ تکدربھی ہوا ۔ اس وقت جبکہ برصغیر کے بیشتر علمی و دینی چمن مرجھا رہے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بہت سے ادارے آخری سانسیں لے رہے ہیں، ایسے نازک دور میں چمنستانِ قاسمی، دارالعلوم وقف دیوبند، مسلسل ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ سیمینار، نئی مطبوعات اور تحقیقی سرگرمیاں اس کی کھلی شہادت ہیں۔ نیز وہ…

Read more

"مزاحمت” ایک مطالعہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم "مزاحمت”ایک مطالعہ اِن دنوں اردو ادب کی دنیا میں جو کتاب غیر معمولی شہرت، بےپناہ پذیرائی اور دلوں کی گہرائیوں سے اُبھرتی ہوئی محبت حاصل کر رہی ہے، وہ یحییٰ سنوار کے شہرۂ آفاق عربی ناول (الشوک والقرنفل) کا اردو ترجمہ "مزاحمت” ہے۔ یہ ترجمہ محترمہ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ کا کارنامہ ہے،اور اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے ترجمہ نہیں کیا بلکہ اس عظیم ناول کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے، تو یہ کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ حق یہ ہے کہ اس کتاب کو جو عزت، جو مقبولیت اور جو توجہ ملی ہے، وہ اسی کی مستحق تھی۔ اس میں وہ تمام تمنائیں، وہ خواب، وہ تڑپ اور وہ آرزوئیں سمٹی ہوئی ہیں جو برسوں سے مسلمانوں کے سینوں میں مچلتی رہی ہیں۔ یہ کتاب دلوں کی دھڑکنوں کو وہ زبان دیتی ہے جو اکثر لوگ کہنا تو چاہتے ہیں مگر الفاظ میں ڈھال نہیں پاتے۔ میں نے اس ناول کو پہلی بار اس وقت دیکھا جب ہمارے عزیز ساتھی مولانا سمعان خلیفہ ندوی نے اسے "ندوی فضلاء گروپ” میں شیئر کیا۔ چند صفحات پڑھے، لیکن اسکرین پر پوری پڑھنا ممکن کہاں؟لیکن چند صفحات کے مطالعہ نے جیسے کسی نے میری رگوں میں حرارت بھر دی ہو۔ پھر جب یہ کتاب مکمل شکل میں ترجمے کے ساتھ محترم ڈاکٹر طارق ایوبی صاحب کے توسط سے میرے ہاتھ آئی، تو پڑھنے لگا—اور یوں پڑھتا چلا گیا کہ لفظ لفظ میرے اندر اترتا گیا۔ یہ کتاب ایسی گرفت رکھتی ہے کہ قاری محسوس بھی نہیں کرتا اور یکایک خود کو آدھی رات میں غزہ کی گلیوں میں بھٹکتا پاتا ہے، دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، ملبے کے درمیان تڑپتے چہروں کی چلمنیں ہلتی ہیں، اور مجاہدین کی دھڑکنیں اپنے سینے سے ٹکراتی محسوس ہوتی ہیں۔ میں ہر صفحے پر رک رک کر سوچتا کہ اب اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟اسلامی جہاد کا اگلا وار؟مزاحمت کا نیا قدم؟کون شہید ہوگا؟ کون زخمی؟غزہ کب تک صبر کرے گا؟اور مجاہدین کی کامیابیوں کی روشنی کب پھیلے گی؟کبھی کسی شہید کی موت دل کو…

Read more

خلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائق

خلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائق مصنف: ڈاکٹر حمدی شاہین مصری حفظہ اللهمترجم: حافظ قمر حسننظر ثانی و مراجعت : محمد فہد حارث Mohammad Fahad Harisصفحات: ۶۷۶ تبصرہ و تعارف : معاویہ محب الله در حقیقت یہ کتاب مصری نژاد مصنف د.حمدی شاہین کی ” الدولة الأموية المفترى عليها ” کا اردو ترجمہ ہے، ڈاکٹر صاحب تاریخ اور اسلامی تہذیب کے پروفیسر ہیں، یہ کتاب آج سے تقریباً چالیس سال قبل لکھی گئی تھی، اس ترجمہ کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خود مصنف نے مترجِم کی کاوشوں کو سراہا ہے اور مباحث سمجھنے کے لئے مہینوں رابطے میں رہنے کا تذکرہ کیا ہے، کتاب کا آغاز محمد فہد حارث کے پیش لفظ سے ہوتا ہے جو اموی تاریخ کے حوالے سے عصر جدید کے مفکرین ؛ عبید الله سندھی، د. مصطفی سباعی اور پروفیسر عبد القیوم کی آراء اور تاریخی تنقیح کے متعلق اقتباسات سے مزین ہے۔ کتاب کے داخلی مباحث نہایت عمدہ اور تحقیقی ہے، پروفیسر یاسین مظہر صدیقی صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار فرمایا تھا کہ کاش خلافت بنو امیہ کی سیاسی، علمی، معاشرتی، معاشی اور عسکری حالات پر مثبت تاریخ لکھی جاتیں! مذکورہ کتاب سمجھ لیجئے کہ مظہر صدیقی صاحب کی امیدوں کا چراغ ہے، اموی خلافت کے ہر پہلو پر نہ صرف مفصّل کلام کیا ہے بلکہ اموی خلافت کے چہرہ کو داغدار کرنے والے اعتراضات کا بھرپور جائزہ بھی لیا ہے، منفی اثرات، غیر ضروری اعتراضات اور سیاسی عصبیت کی وجہ سے اموی خلافت کی جو تصویر ہمارے بھولے بھالے قارئین کی نظروں میں ہیں، اس کے بجائے یہ کتاب مثبت تاریخی تہذیب، تعمیری کمالات، دینی و علمی اثرات، معاشی و عسکری ترقیوں کا مطالعہ پیش کرتی ہے، کتاب کے مطالعہ کے بعد قارئین اپنے روشن ماضی پر فخر محسوس کریں گے، نوجوان مستشرقین کی قلابازیوں سے واقف ہوں گے اور اسلامی تاریخ میں پیوستہ شیعی اثرات کو محسوس کریں گے۔ مصنف نے مقدمہ سے آغاز کرنے کے بعد تقریباً ۱۷۰ صفحات تک اموی تاریخ کی تحریف کے دلائل کا جائزہ لیا…

Read more