مصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلو
از : مولانا محمد اجمل ندوی
نائب مہتمم مدرسہ العلوم الاسلامیہ علی گڑھ
دور جدید میں ٹیکنالوجی کی ترقی کافی عروج پر ہے ، اس نے خاطرخواہ ترقی کی ہے اور مزید ترقی کی راہ پر گامزن بھی ہے
ستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اس دور کو ڈیجیٹل دور بھی کہا جا سکتا ہے،اے ائی اس کا ایک نمایاں حصہ ہے جو علم و فکر کے تمام شعبہ جات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے اس کی نافعیت و افادیت کسی بھی ذی شعور پر مخفی نہیں ، اس میں بہت سے انسانی مسائل کا حل ہے
مصنوعی ذہانت انسانی ذہن کی عکاسی کرنے والی وہ ٹیکنالوجی ہے جو اس دور کی اہم اختراع ہے جس میں تمام انسانی ضرورت کا ڈیٹا اور جمع کردہ معلومات فراہم ہے اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ ترقی کی ایک منزل ہے جس سے نوع ادم تعلیم و صنعت ، امور خانہ داری ، معیشت و سیاست الغرض زندگی کے تمام امور میں مستفید ہو رہا ہے
مجھ کو تسلیم تیری ساری ذہانت لیکن
تاہم اس میں بہت سے منفی وسلبی پہلو بھی ہیں اخلاقیات و انسانی سلامتی کے بے شمار خدشات ہیں لہذا اس کے استعمال کے وقت احتیاط لازم ہے اور اس کی خامیوں سے اگاہ ہونا ضروری ہے
ادمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
اتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعوی علم کا
انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت
مصنوعی ذہانت کا ایک اثر لیبر مارکیٹ اور بے روزگاری پر ہے اس پر انحصار کی وجہ سے انسان کی تخلیقی صلاحیتیں کمزور ہو رہی ہیں مزید یہ کہ اس میں رازداری کا فقدان ، تصویر کی ہیرا پھیری ، سائبر حملے کے خطرات اور ڈیٹا چوری کے امکانات ہیں ۔
اے ائی نے انسانی تعلقات کو بھی کافی متاثر کیا ہے جبکہ مومن مومن کے لیے جسد واحد کی طرح ہے اور اسلامی معاشرہ کا ہر فرد باہم سیسہ پلائی ہوئی عمارت کے مانند ہے ایک سماج اتحاد و یک جہتی کا ائینہ دار اور "خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر,, کا مصداق ہے ، آج مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسان کے اندر درد دل ، جذبہ تعاون ختم ہو رہا ہے ، یہ سماجی و معاشرتی طور پر انسان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ،یہ پرائیویسی ، قومی سلامتی ، عوامی تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے ۔ کسی کے پرائیویسی میں مداخلت کرنا گناہ عظیم اور اس کا احترام ایک شرعی حکم اور اخلاقی فریضہ ہے ۔
ان سے سب حال دغا باز کہے دیتے ہیں
میرا ہمراز میرا راز کہے دیتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ ایک فتوے کے مطابق ایسا واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا جس کے ذریعے دوسرے کے ارسال کیے جانے کے بعد حذف شدہ پیغامات تک رسائی حاصل ہو سکے یہ ایک غیر شرعی عمل اور ناجائز امر ہے ۔
حدیث میں ہے من استمع الى حديث قوم وهم له كارهون صب في أذنه الانك يوم القيامة يعني جس شخص نے کسی قوم کی بات کو کان لگا کر سنا جب کہ وہ ناپسند کرتے ہوں تو کل قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا (صحیح بخاری کتاب التعبیر، باب من كذب في حلمه )
نیز فقہ کا اصول ہے الامور بمقاصدها (شرح القواعد الفقهية لأحمد الزرقاء ، القاعدة الاولى)
کسی کے ذاتی اسٹیٹس کا اسکرین شاٹ لینا بھی ممنوع اور اسی زمرے میں داخل ہے .
لا يجوز لأحد ان يتصرف في ملك الغير الا بإذنه یعنی کسی کے لیے بھی غیر کی ملک میں تصرف کرنے کی اجازت نہیں(شرح القواعد الفقهيه . القاعدة الخامسة والتسعون )
اور كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه یعنی ہر مسلمان کی جان و مال عزت و ابرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے( سنن أبي داوود ، كتاب الادب باب في الغيبة )
مصنوعی ذہانت گھر کا بھیدی ہے
انکھوں کے سب موتی دانے آئینے ہیں باطن کے
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
پرائیویسی خطرہ کی وجوہات
۔(1) (Massive data collection)بغیر واضح اجازت کے ڈیٹا کا وسیع استعمال
۔ (2) (Deep Fakes) جعلی ویڈیو یا آڈیو تیار کرنا
۔(3) Facial Recognitions افراد کی نقل و حرکت کی ٹریکنگ
۔(4) ڈیٹا ہیلنگ کا خطرہ
یہ وہ شکلیں ہیں جس سے انسان کی عزت ، سیکورٹی ، ذاتی سرگرمیاں ، پرائیویسی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔
الاصل في الاشياء الاباحة جب تک کسی چیز کی حرمت کی دلیل موجود نہ ہو وہ مباح ہوتی ہے ، مصنوعی ذہانت کو جائز امور میں استعمال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی معلومات میں فریب ، جھوٹ کا امکان نہ ہو البتہ مسائل و فتاوی میں مصنوعی ذہانت پر اعتماد کرنا مناسب نہیں ،اٹکل و ظن پر مسائل و فتاوی کی بنیاد رکھنا گناہ عظیم ہے ، بغیر علم کے دینی مسائل میں لب کشائی کرنا حرام اور اللہ کی طرف جھوٹی نسبت کرنے کے مرادف ہے وان تقولوا على الله ما لا تعلمون (الاعراف ٣٣) اللہ کی ذات و صفات کے معاملے میں جھوٹ بولنا اور دین و شریعت کے بارے میں دروغ گوئی کرنا دونوں کی حرمت مساوی اور افتراء علی اللہ میں اتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ کبار فقہاء نے بیشتر مسائل میں لا ادری پر اکتفا کیا ہے ، رائے و ظن پر شریعت کا مدار علماء کے یہاں کھلی ہوئی گمراہی اور اتباع نفس ہے ، ایک روایت کے مطابق مفتی کے لیے متقدمین کے اقوال سے واقف ہونا ضروری ہے ، فتوی پر بے حد جری شخص جہنم میں جانے کی بے انتہا جرات کرنے والا ہے ، فتوے کے لیے ضروری ہے کہ حالات کی سمجھ ، اللہ کے احکام سے واقفیت ، فہم و استنباط ، رسوخ في العلم ، ذہانت و دانشمندی حاصل ہو ، فتوے کے اس مقام و مرتبہ اور شرائط کے بعد کیا ہمارے لیے احتیاط لازم نہیں ؟ کیا مصنوعی ذہانت ان شرائط پر پوری اترتی ہے ؟ کیا اس سے فتوی لینا درست ہے ؟ البتہ اگر کسی مفتی یا دارالافتا کی اپنی قابل وثوق ویب سائٹ ہو تو اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے مصنوعی ذہانت میں فتوی مشینی انداز میں تیار ہوتا ہے اور ڈیٹا کی بنیاد پر ہوتا ہے اس کی معلومات غیر مستند بھی ہو سکتی ہے نامعلوم ذرائع سے حاصل مسائل کا جواب غیر اسلامی نظریات پر مبنی بھی ہو سکتے ہیں ،عرف و عادت اور زمانہ و اشخاص کی تبدیلی سے احکام بدل جاتے ہیں اور مصنوعی ذہانت اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھ سکتی اس کی معلومات جھوٹی اور حوالے غلط ہو سکتے ہیں اور بارہا اس کا تجربہ بھی ہوا ہے ، الغرض مصنوعی ذہانت جو ایک طرف انسانی تخلیق اور اللہ کے فرمان سنريهم اياتنا في الآفاق وفي أنفسهم کی جیتی جاگتی تصویر ہے تو دوسری طرف اس میں غلطیوں کا امکان کافی بڑھا ہوا ہے ایک طرف مشینی دماغ غیر محدود ڈاٹا کا مجموعہ ہے تو دوسری طرف وہ غیر مستند اور بہت سے خدشات کا حامل بھی ہے۔
قران کریم کی ہدایات کے مطابق انسان محض کوئی حیاتیاتی عنصر نہیں بلکہ ایسی مخلوق ہے جس میں اللہ کی جانب سے روح پھونکی گئی ہے روحانی پہلو ایک الہی راز ہے جو انسانی فہم سے ماورا ہے اس خاک کے پتلے میں امر ربی کی کار فرمائی ہے انسان خواہ کتنا ہی ترقی کر لے مگر وحی ربانی وما اوتيتم من العلم الا قليلا کا مصداق ہی رہے گا، قرانی ہدایات انسانی خصوصیت اور مصنوعی ذہانت کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے انسان ٹیکنالوجی میں کتنا ہی اگے بڑھ جائے مگر انسانی شعور ہمیشہ منفرد رہے گا