HIRA ONLINE / حرا آن لائن
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں مفتی محمد شمیم قاسمی مگہریمدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ ، آنند نگر شبِ برات اسلامی سال کی اُن عظیم الشان اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، مغفرتوں اور عنایات کو عام فرمایا ہے۔ یہ رات شعبان المعظم کی پندرھویں تاریخ کو آتی ہے۔ لفظ "برات” کے معنی نجات، خلاصی اور چھٹکارا کے ہیں۔ گویا یہ رات بندوں کو جہنم سے نجات اور گناہوں سے پاکیزگی عطا ہونے کی امید کی رات ہے۔ اہلِ سنت والجماعت دیوبند کا متفقہ اور معتدل مؤقف یہ ہے کہ شبِ برات کی اصل فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اور اس رات میں عبادت، توبہ، استغفار اور دعا کرنا مستحب ہے، مگر ایسے تمام طریقوں اور رسومات سے بچنا ضروری ہے جو شریعت سے ثابت نہیں یا جن میں افراط و تفریط پائی جاتی ہو۔ آیات قرآنیہ کی روشنی میں شبِ برات کا مفہوم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ . فِیۡهَا یُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِیۡمٍ ۔(سورۃ الدخان)ترجمہ:ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، لیکن بعض اکابر اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ سال بھر کے فیصلوں کا اجمالی اندراج شبِ برات میں اور تفصیلی اندراج لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ برات بھی ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے شب برات کی فضیلتحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَىٰ خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ (ابن ماجہ)ترجمہ:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ…

Read more

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود (کچھ لوگ اس وہم مين مبتلا ہیں کہ عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ عقل کبھی کسی متعین (definite) حقیقت کو ثابت نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اَعرَفُ المعارف ہیں، يعنى سارى متعين حقيقتوں سے زياده متعين ہیں، اور عقل کی ادراکاتی حدوں سے ماوراء، جب ہم عقل کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف بناتے ہیں تو عقل، خدا کو اس کی خارجی اور حقیقی ذات سے الگ کرکے محض ایک کلی ذہنی تصور (concept) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ تصور قابلِ حلول اور قابلِ اتحاد ہوتا ہے، کوئی نظام مسلسل ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق متعدد مصادیق پر کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے لیے توحید لازم نہیں، بلکہ اس کی طينت میں شرک داخل ہے۔ دوسرے لفظوں ميں عقل اس خدا کو ثابت نہیں کرتی جس كى دعوت قرآن مين ہے، اور جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مزید یہ کہ خدا کو محض عقل کے ذریعے ثابت کرنے کا گمان قرآن سے متناقض ہے، اور یہ طرزِ فکر مسلمانوں کو کتابِ الٰہی میں حقیقی تدبر سے بھی روکتا ہے۔ اسی نکتے کی وضاحت کے لیے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور زیرِ نظر مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔) از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ9/1/2026 عقل انسانی ایک ایسی ادراکی قوّت ہے جو دیگر مداركـ سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ جزوی مشاہدات سے کلی اور مجرد معانی اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حسی ادراک اشیاء کو ان کے وقتی و مکانی تعیّن کے ساتھ حاصل کرتا ہے، اور محدود تجربے کی روشنی میں ان کی پہچان کرتا ہے، لیکن عقل ان جزئیات سے ایک عالی مرتبہ کا شعوری نقش اخذ کرتی ہے، اور انہیں عمومی تصورات کی شكل میں مرتب کر کے ایک فکری نظام قائم کرتی ہے۔ یہی وصف عقل کی طاقت بھی ہے اور اس کے حدود کا تعین بھی۔ عقل قادر ہے کہ وہ کلی اصول وضع کرے، ان…

Read more

عالم اسلام: ایک جائزہ

نام کتاب: عالم اسلام —ایک جائزہتالیف: ڈاکٹر شاکر فرخ ندویرفیق المعہد الاسلامی مانک مئو، مدير التحرير عربی مجلہ”المظاهر” مظاہر علوم سہارنپورصفحات: 408سنہ اشاعت:2025ناشر: صفہ اکیڈمی مانک مئو، سہارنپورتعارف و تبصرہ: اشتیاق ظہیر ندویجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان معرکہ برپا رہا ہے۔ توحید و شرک کی یہ ازلی کشمکش صدیوں پر محیط ہے؛ مگر تاریخ کی سب سے روشن اور ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ شیطانی طاقتوں، طاغوتی قوتوں اور ابلیسی سازشوں کی یلغاروں کے باوجود حق کا سورج کبھی غروب نہ ہو سکا۔ باطل کی ہزارہا تدبیروں کے علی الرغم، حق کی سربلندی ہر دور میں قائم رہی۔ فاران کی چوٹی سے جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کی کرنیں محض مکہ و مدینہ تک محدود نہ رہیں؛ بلکہ سازشوں، مخالفتوں اور کفار، یہود و مشرکین و منافقین کی دشمنیوں سے ٹکراتی ہوئی چند ہی برسوں میں دنیا کے گوشے گوشے تک پھیل گئیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ ایک مٹھی بھر؛ مگر جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے قیصرِ روم کو سرنگوں کیا، کسریٰ کے ایوانوں میں حق کا پرچم لہرایا، اور عرب کے تپتے صحراؤں سے اٹھنے والی یہ صدا افریقہ و یورپ تک اس شان سے پہنچی کہ دنیا ششدر رہ گئی اور باطل لرزہ براندام ہو گیا۔ چنانچہ اس آفاقی و عالمگیر انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ایک وسیع و عریض رقبے پر قائم ہوئی۔ ریاست مدینہ کے قیام اور خلافتِ راشدہ سے لے کر اموی، عباسی اور فاطمی ادوار سے گزرتے ہوئے یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کے عظیم الشان عہد پر جا کر ٹھہرا۔ اگرچہ اس دوران امت کو اپنی ہی ناعاقبت اندیشیوں، اقربا پروری، داخلی و اندرونی خلفشار اور سیاسی خود غرضیوں کے سبب دل خراش سانحات سے بھی گزرنا پڑا، تاتاری یلغاریں اور صلیبی جنگیں مسلمانوں کو مٹانے کے درپے رہیں، مگر اس مدوجزر کے باوجود اسلام کا قافلہ رواں دواں رہا۔ یہاں تک کہ ظلم و بربریت، جبر اور سفاکی کے علم بردار گروہ بھی رفتہ رفتہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے اور اسی سایۂ رحمت…

Read more

ندوه اور علم كلام

ندوه اور علم كلام از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ6/1/2026 سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوگا۔دفاعِ دین اور تعاقبِ باطل کے حوالے سے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے نصاب میں کس قدر گنجائش رکھی گئی ہے؟ بالخصوص یہ جاننا مقصود ہے کہ آیا نصابی کتب میں ایسی معقول اور مؤثر کتابیں شامل کی گئی ہیں جو طلبہ کو عقائدِ اسلامیہ کی ٹھوس تعلیم و تفہیم فراہم کر سکیں اور ساتھ ہی باطل افکار و نظریات کے رد و تعاقب میں بنیادی بصیرت پیدا کریں۔کیا نصاب میں کم از کم دو چار ایسی منتخب کتابیں شامل ہیں جن کے ذریعے طالبِ علم کو اعتقادی مسائل میں مضبوط درک حاصل ہو جائے، اور وہ علمِ کلام میں اس درجہ مہارت پیدا کر سکے جو ندوہ کے اہم اور امتیازی نصابی مقاصد میں ہمیشہ سے شامل رہا ہے؟یعنی نصاب کی تشکیل کے وقت بظاہر دو بنیادی پہلو پیشِ نظر ہوتے ہیں: اوّل، تعارف و تبلیغِ دین؛ اور دوم، دفاعِ دین اور باطل افکار کا علمی تعاقب۔اس دوسرے پہلو کے اعتبار سے ندوۃ العلماء کے موجودہ نصاب میں کون کون سی کتابیں شامل ہیں؟ اور وہ کس حد تک عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں؟ان نکات پر آپ سے ایک تشفی بخش اور کسی قدر تفصیلی توضیح درکار ہے۔والسلام، سفیان غنی (تکمیلِ شریعہ) دارالعلوم ندوۃ العلماء جواب:وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہآپ کا سوال نہ صرف علمی سنجیدگی کا آئینہ دار ہے بلکہ ندوۃ العلماء کے فکری مزاج، اس کے تعلیمی مقاصد اور اس کے امتیازی منہج کو سمجھنے کے لیے نہایت بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کا جواب محض چند نصابی کتابوں کے نام گنوانے یا درسی ترتیب کی توضیح تک محدود نہیں ہو سکتا، بلکہ ضروری ہے کہ اس فکری اساس کو واضح کیا جائے جس پر ندوہ کے نصاب کی عمارت قائم ہے، اور جس نے اسے برصغیر کے دیگر دینی اداروں سے ممتاز مقام عطا کیا۔ علمِ کلام کا مفہوم: ندوہ کا زاویۂ نظر: سب سے پہلے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ ذہن…

Read more

بڑی جیل سے چھوٹی جیل

از: معاویہ محب اللہ غربت اور افلاس جیسے الفاظ سے مجھے پیار محسوس ہوتا ہے، بازار میں روٹی کے لئے پھرنے والا غریب کا بچہ مجھے بہت عزیز ہے، لوگ بھی کیا ہیں کہ غریب کی زبوں حالی کو دیکھ کر اس کو آوارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اس کے میلے کچیلے کپڑوں اور اس میں موجود تعفن کو اس کے بد تہذیب اور ثقافت سے عاری باور کراتے ہیں، انھیں یہ احساس نہیں ہے کہ ایسا رہنا کس کو عزیز ہوگا؟ کون ہوگا جو ایئر کنڈیشن کمروں میں، کاٹن اور سفید و شفاف کپڑوں میں ملبوس رہنا پسند نہیں کرتا؟ اس بیچارہ کی گندگی، پراگندہ حالی اور آوارہ پھرنے کا یہی قصور ہے کہ وہ مفلس کے گھر میں پیدا ہوا ہے، وہ یتیم ہے جو اپنے پیٹ کے لئے ایڑیاں رگڑ رہا ہے، وہ مہنگی تعلیم کو افورڈ نہیں کر سکتا، اسے دنیا کے طور طریق سیکھنے کا موقع نہیں ملا، وہ کیسے ملتا کہ اسے اپنے پیٹ سے فرصت نہیں جو ایسی آسائشیں فراہم کرسکتا! تھکا ہارا، دنیا کے غموں سے نڈھال، اپنی زندگی زخموں کی نذر کرکے معصوم جانوں کے پیٹ پالنے والا باپ، اسے اپنے معصوم بچوں کی سسکیاں، آہیں، بلکتی زبانیں اور ڈوبتی ہوئی آنکھیں دیکھی نہیں جاتی، نتیجہ یہ کہ وہ جرم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اسے معاشرے نے ان جرائم پر مجبور کیا ہے، پھر یہی معاشرہ اس کا گھر اجاڑنے میں مصروف ہے، دولت، کار، سونا، چاندی اور کھنکھناتے سکوں میں پلنے والے افسر اسے جیل کی سلاخوں میں سڑانے پہ تلے ہوئے ہیں، زندگی پہلے سے اجیرن ہے جو دوبارہ اجاڑنے پہ مصر ہیں، ان لوگوں کی غذا بہت لذیذ، خوشبودار اور ذائقہ سے لبریز رہتی ہے، لیکن خواہشات کی بھوک، عزت کی ہڑبڑ، اقتدار کا نشہ ان ذائقہ دار اور چٹپٹے کھانوں میں کہاں نہیں بلکہ غریب کا خون چوسنے میں ہیں۔ ایسی ہی دردناک کہانی اس کتاب میں ہیں جسے راجہ انور نے جیل کی سلاخوں میں رہتے ہوئے رقم کیا ہے، دل دوز، دل دہلا دینے والی، رونگٹے کھڑے کردینے والی کتاب،…

Read more

امریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ

امریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہاسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ تمہید عالمی سیاست میں طاقت اور اخلاق کے درمیان کشمکش کوئی نئی بات نہیں، مگر جدید دور میں یہ کشمکش زیادہ پیچیدہ، زیادہ منظم اور زیادہ بے رحم ہو چکی ہے۔ لاطینی امریکہ، بالخصوص وینزویلا، اس جدید سامراجی سیاست کا نمایاں مظہر ہے۔ امریکہ کی وینزویلا میں مداخلت—چاہے وہ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں ہو، سیاسی تنہائی کی شکل میں، یا مبینہ فوجی کارروائی کی صورت میں—اسلامی سیاسی فکر کے اصولوں پر پرکھی جائے تو یہ ایک گہرے اخلاقی اور قانونی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ مضمون امریکی سامراج کو محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک اخلاقی انحراف کے طور پر دیکھتا ہے، اور اسلامی بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کی روشنی میں اس کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔ لاطینی امریکہ اور امریکی سامراج: تاریخی پس منظر انیسویں صدی میں مونرو ڈاکٹرائن (1823) کے ذریعے امریکہ نے لاطینی امریکہ کو اپنا اثرورسوخ کا علاقہ قرار دیا۔ اس کے بعد گوئٹے مالا (1954، جہاں CIA نے صدر اربینز کو ہٹایا)، چلی (1973، پنٹا کا آمرانہ اقتدار)، نکاراگوا (1980 کی دہائی میں کنٹرا باغیوں کی حمایت)، اور پاناما (1989 کا فوجی حملہ) جیسے واقعات نے واضح کر دیا کہ جو حکومت امریکی مفادات سے انحراف کرے گی، اس کے لیے بقا مشکل بنا دی جائے گی۔ یہ مداخلتیں براہِ راست نوآبادیات نہیں تھیں، بلکہ رجیم چینج، اقتصادی دباؤ اور خفیہ کارروائیوں کے ذریعے کنٹرول کا ماڈل تھیں—جو جدید سامراج کی پہچان ہے۔ وینزویلا: ایک ریاست کیوں نشانہ بنی؟ وینزویلا امریکی دباؤ کا شکار اس لیے نہیں ہوا کہ وہ جمہوری تھا یا غیر جمہوری، بلکہ اس لیے کہ اس نے تیل جیسے اسٹریٹجک وسائل پر ریاستی کنٹرول قائم کیا، امریکی بالادستی سے آزاد خارجہ پالیسی اپنائی، اور روس، چین اور ایران جیسے ممالک سے تعلقات مضبوط کیے۔ یہ تینوں عوامل امریکی سامراجی نظم کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ عالمی سطح پر وینزویلا کے تیل کی ریزروز (ثبت شدہ 300 بلین بیرل سے زائد) اور OPEC میں اس کی…

Read more