HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ٹیکس میں سود کی رقم دینا

ٹیکس میں سود کی رقم دینا ٹیکس جو حکومت عوام سے وصول کرتی ہے وہ دو طرح کے ہیں ۔ بعض منصفانہ ہیں اور خود اسلام میں ان کی گنجائش ہے مثلا پانی ، روشنی ، سڑک ، ہسپتال ، لائبریری اور پارک وغیرہ سہولتوں کے بدلے بلدیہ جو ٹیکس لیا کرتی ہے وہ اس کا فائدہ محسوس طور پر ہماری طرف لوٹا دیتی ہے ۔ دوسرے قسم کے ٹیکس ایسے ہیں جن کو غیر منصفانہ اور ناواجبی کہا جاسکتا ہے ۔ مثلا انکم ٹیکس جو بسا اوقات اسی فی صد تک پہنچ جاتا ہے شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ ہونے کے علاوہ واقعہ ہے کہ اس قسم کے ٹیکس غیر معقول بھی ہیں کہ ایک شخص اپنے گاڑھے پسینہ سے جو کچھ حاصل کرے آپ اس کا اسی فی صد اجتماعی مفاد کے لئے وصول کر لیں۔ پہلی قسم کے ٹیکس میں بینک کی سودی رقم دینا درست نہ ہو گا اس لئے کہ وہاں سود دینا گویا اپنی ذات میں سود کا استعمال ہوگیا اس لئے کہ وہ بھی ان قومی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور فقہاء نے ایسے ٹیکس کی اجازت دی ہے جیسا کہ ابوالحسن مرغینانی کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے : فان اريد بها ما يكون بحق ككرى النهر المشترك واجر الحارس والموظف لتجهيز الجيش وفداء الاسارى وغيرها جازت الكفالة بها على الاتفاق – اگر اس سے وہ ٹیکس مراد ہیں جو جائز اور صحیح ہیں جیسے مشترک نہر کا کھودنا پولیس کی اجرت ، فوج کا انتظام کرنے والوں کی تنخواہ جو سب پر ڈال دی جائے یا قیدیوں کو کافروں کی قید سے چھڑانے کے لئے عطیات تو بالاتفاق ان کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ دوسری قسم کے ٹیکس میں یہ رقم دی جاسکتی ہے کہ اس طرح یہ مال حرام اس حکومت یا ادارہ کو پہونچتا ہے جس نے یہ مال امانت داروں کو سود کے نام سے دیا ہے ۔ جدید فقہی مسائل  : ج : 1 ص: (421 )

Read more

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

لمحۂ فکریہ جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی                      کلیم الدین ندوی  مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ   امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی تاریخی کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔   زہران ممدانی ایک مسلمان، سوشلسٹ اور عوام دوست سیاست دان ہیں جنہوں نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ اقتدار ہمیشہ دولت، نسل یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ان کی جیت اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، نمائشی جمہوریت اور چند خاندانوں کی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے متلاشی ہیں جہاں وہ صرف ووٹر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار ہوں۔   یہ بیداری صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ آج ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک اسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمائندہ جمہوریت واقعی عوام کی آواز بن سکی ہے؟ کیا منتخب نمائندے واقعی عوامی مفاد کے ترجمان ہیں؟ یا جمہوریت ایک رسمی رسمِ انتخاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟   امریکہ بھر میں تقریباً ستر لاکھ افراد نے "No to Kings – بادشاہوں کو نہیں” کے نعرے کے ساتھ 2600 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے،یہ نعرہ دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے جو طاقت کے ارتکاز کے خلاف ابھر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازی ہمیشہ سے چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں رہی ہے — خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا غیر منتخب ماہرین۔ یہ طبقہ اکثر اجتماعی فہم کے نام پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتے ہیں۔   صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے تھے، مگر ان کی طرزِ حکمرانی میں فردِ واحد کی آمریت جھلکتی تھی۔ انہوں نے کئی مواقع پر مطلق العنان حکمرانوں کی تعریف کی اور کھلے عام کہا…

Read more

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش بقلم ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند) کبھی کبھی میرے ذہن میں یہ خیال گزرتا ہے کہ اتنے سارے جلسے جلوسوں، اتنی شعلہ بیان تقریروں اور روزمرہ کی علماء و مشائخ کی رنگا رنگ محفلوں کے باوجود مسلم معاشرے میں کوئی تبدیلی کیوں رونما نہیں ہوتی، تعلیم کے تئیں دلچسپی کیوں نہیں پیدا ہوتی، نوجوانوں کی بے راہ روی کیوں بڑھتی جا رہی ہے، نی نسل میں شراب کی لت کیوں زور پکڑتی جا رہی ہے، ان کے اندر کچھ نیا، کچھ الگ کرنے کا جذبہ کیوں پیدا نہیں ہوتا، ان کے اندر تخلیقی صلاحیتیں کیوں پیدا نہیں ہوتین؟ مگر دو تین جلسوں میں حاضری کے بعد مجھے ان سوالوں کے جوابات اپنے اپ مل گئے۔ ایک بار ایک بڑے جلسے میں جانے کا اتفاق ہوا جو اصلا عوام میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک مخلص اور درد مند دوست نے ارگنائز کیا تھا، مگر یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ لباس فاخرہ میں ملبوس جن مقررین کو بڑے بڑے القاب و آداب کے ساتھ دعوت سخن دیا گیا ان میں سے کسی نے بھی اصل موضوع پر لب کشائی کی زحمت گوارا نہ کی۔ ایک صاحب کو یاد دہانی کرائی گئی تو انہوں نے کئی بار اپنی تقریر میں جلسے کے اصل موضوع کی طرف اشارہ تو کیا لیکن اس پر بولنے کی جسارت نہ کی۔البتہ مسلم سائنس دانوں کے نام جھوٹے کارنامے ضرور منسوب کر گئے جنہیں سن کر لوگ عش عش کر اٹھے۔ ان کے حساب سے ہوائی جہاز مسلمانوں نے بنایا، کولمبس کا جہاز مسلمانوں نے بنایا، کولمبس کا نقشہ مسلمانوں نے بنایا تھا، اور تو اور ایٹم بم بھی مسلمانوں نے تقریبا بنا ہی لیا تھا۔ حضرت مقرر کی اس غلط بیانی اور بے جا غلو پر دل کف افسوس ملنے لگا اور یہ سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ اس میں مورد الزام کس کو ٹھہرایا جائے۔   تمام تقریریں اصل پیغام سے خالی تھیں اور کسی نے بھی تعلیم کے تعلق سے بولنے کی کوشش…

Read more

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ شان محمد ندوی مدرستہ العلوم الاسلامیہ -علی گڑھ عالمی امور کا تجزیہ: دنیا کے نقشے پر چند مقامات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حجم سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز انہی میں سے ایک ہے—محض 33 کلومیٹر چوڑی ایک سمندری گزرگاہ، مگر عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملانے والا یہ راستہ توانائی سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے، اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت محض جغرافیائی نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے۔ دنیا بھر میں سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد سے زیادہ حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں معمولی خلل بھی عالمی معیشت میں بڑی ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔ ایشیا، خصوصاً ہندوستان کے لئے یہ راستہ انتہائی اہم ہے کیونکہ ہندوستان کی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد تیل اور قطر سے آنے والی نصف سے زائد مائع قدرتی گیس (LNG) اسی آبنائے سے ہوکر آتی ہے اور ہندوستان جیسے ممالک، اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست مہنگائی، صنعتی پیداوار اور عوامی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ تاریخی پس منظر : تاریخی شہر اور ریاست: قرونِ وسطیٰ میں اس علاقے میں "ریاستِ ہرمز” (Kingdom of Hormuz) قائم تھی، جو تجارت کا ایک بہت بڑا مرکز تھی۔ مشہور سیاح مارکو پولو نے اس شہر کی دولت اور اہمیت کی وجہ سے اسے "دنیا کی انگوٹھی کا نگینہ” قرار دیا تھا۔ اسی تجارتی شہر اور جزیرے کی نسبت سے اس آبی راستے کا نام "آبنائے ہرمز” پڑ گیا. گیارہویں صدی میں، محمد درمکو نامی ایک عرب سردار نے عمان چھوڑا اور خلیج عبور کر کے ایرانی ساحل پر ‘مملکتِ ہرمز’ کی بنیاد رکھی۔ وہ کوئی جنگجو نہیں بلکہ ایک تاجر شہزادہ تھا، اور وہ جانتا تھا کہ اس جغرافیہ میں…

Read more

فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیں

فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے، تو آپ ندوی نہیں ہیں ! (ندوہ کا مسلکِ اعتدال اور ابناءِ ندوہ کا فرضِ منصبی) محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 آج کا دور جہاں علمی ترقی، ذرائع ابلاغ کی وسعت اور معلومات کی فراوانی کا دور ہے، وہیں یہ زمانہ فکری انتشار، باہمی نزاعات، مسلکی شدت، شخصیت پرستی اور سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ کشمکش اور کشاکش کا بھی دور بن چکا ہے۔ بالخصوص دینی حلقوں میں یہ صورت حال نہایت تشویش ناک ہے کہ علمی اختلافات، فروعی مسائل اور اجتہادی آراء بھی ایسے انداز میں زیرِ بحث لائی جاتی ہیں کہ امت کی وحدت، علماء کا وقار اور دین کی اجتماعی مصلحت پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ زبانوں میں سختی، قلم میں تلخی اور دلوں میں دوری بڑھتی جا رہی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات تکفیر، تفسیق، تحقیر اور کردار کشی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، حالانکہ دینِ اسلام نے اختلاف کو اخلاق، انصاف اور اعتدال کے دائرے میں رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ ایسے نازک دور میں ندوة العلماء لکھنؤ کی فکر، اس کا منہج اور اس کا اعتدال پسند مزاج پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ندوة العلماء محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری، علمی اور اصلاحی تحریک ہے، جس کی بنیاد امت کے شیرازے کو جوڑنے، باہمی نزاعات کو کم کرنے اور قرآن و سنت کی پاکیزہ تعلیمات کی روشنی میں امت کو اعتدال، وسطیت اور اجتماعیت کا راستہ دکھانے پر رکھی گئی تھی۔ اس کا نصب العین کسی نئے مسلک کی بنیاد رکھنا نہیں، بلکہ اسلام کے اولین اور خالص سرچشموں کی طرف رجوع، سلفِ صالحین کے فہم کو معیار بنانا، امت کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا اور مختلف دینی طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ ندوہ کی پوری فکر اس قرآنی اصول ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ اور اس نبوی معیار «ما أنا عليه وأصحابي» کی عملی ترجمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ندوہ عقائد اور اصولِ دین میں سلفِ صالحین اور جمہور اہلِ سنت والجماعت…

Read more