HIRA ONLINE / حرا آن لائن
وضو کے فرائض

وضو کے فرائض وضو میں چار فرائض ہیں ایک بار پورے چہرے کو دھونا ، پیشانی کے بالوں کی جڑ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کام کی لو سے دوسرے کان کی لو تک (1) ایک بار دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ایک بار چوتھائی سر کا مسح کرنا ایک بار دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

Read more

اخلاق نبوی کی چند جھلکیاں

عفو و درگزر عفو و درگزر کا باب آپ کے یہاں بہت وسیع تھا ، اور دوستوں و دشمنوں سب کو اس سے سرفراز ہونے کا موقع ملتا تھا ، جب فتح مکہ ہوا تو وہ سارے لوگ آپ کے سامنے موجود تھے ، جنھوں نے آپ کے قتل کے منصوبے بنائے ، آپ کو اور آپ کے رفقاء کو جسمانی اذیتیں پہنچائیں ، آپ کو برا بھلا کہا ، معاشی ناکہ بندی کی اور آپ کے پورے خاندان کو دانہ دانہ کے لئے ترسایا ، آپ کی صاحبزادیوں کے طئے رشتے توڑ وادئیے ، لیکن آپ نے ان سبھوں کو بہ یک جنبش زبان معاف فرما دیا ، یہاں تک کہ ان کے جور و ظلم کا ذکر کرکے انھیں شرمندہ بھی نہیں فرمایا ، آپ نے محبوب چچا حضرت حمزہ کے قاتل وحشی ، ان کا کلیجہ چبانے والی ہندہ ، بدترین دشمن ابو جہل کے بیٹے عکرمہ اور غزوہ احد اور غزوہ خندق میں مشرکین کی قیادت کرنے والے ابو سفیان سبھوں کو دامن عفو میں پناہی دی ،  حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ سخت کناروں والی نجران کی بنی ہوئی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے ، ایک دیہاتی کی آپ سے ملاقات ہوئی ، اس نے بہت زور سے چادر کھینچی ، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کے کنارے کا نشان پڑ گیا ، اس نے کہا : اللہ کا جو مال تمہارے پاس ہے ، مجھے اس میں سے دینے کا حکم دو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ، ہنسے پھر اس کو دینے کا حکم فرمایا ۔ حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ گدھے پر سوار ہوئے اور حضرت اسامہ کو اپنے پیچھے بیٹھا لیا ، آپ حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے ، آپ کا گزر ایک ایسی جگہ…

Read more

اخلاق نبوی کی چند جھلکیاں

تواضع و انکساری آپ کے مزاج کا نمایاں پہلو تواضع و انکساری کا تھا ، آپ مقام نبوت پر فائز ہیں ، اور پورا جزیرة العرب آپ کے قدموں میں ہے ، لیکن تواضع اور سادگی کا حال یہ تھا ، کہ گھر پر خود چھاڑو دے لیتے ، بازار سے سودا لاتے ، جوتی پھٹ جاتی تو اسے سی لیتے ، بکری کا دودھ دوہ لیتے ، کھانا کے لیے بیٹھتے تو نہایت تواضع کی کیفیت کے ساتھ ، اور فرماتے کہ میں اس طرح کھاتا ہوں جیسے غلام کو کھانا چاہیے : أنا أكل كما يأكل العبد ” اگر کوئی غریب آدمی کسی معمولی سی چیز پر مدعو کرتا تو اس کی دعوت قبول فرما لیتے ، مریضوں کے گھر پہنچ کر ان کی عیادت کرتے ، غلاموں کی دعوت بھی قبول فرماتے ، ہر عام و خاص کے جنازہ میں شریک ہوتے ، گدھے کو معمولی سواری سمجھا جاتا تھا ، مگر آپ اس کی بھی سواری کیا کرتے تھے ، اور اگر کوئی غلام دعوت دے تو اسے بھی قبول فرماتے تھے، لوگ تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے تو منع فرما دیتے ، اگر کسی باندی کا بھی کوئی کام ہوتا اور وہ بھی سر راہ اپنی کسی ضرورت کے لئے روکتی تو رک جاتے ، بڑے تو بڑے چھوٹے بچوں کو بھی سلام فرماتے ، رفقاء کے ساتھ اس طرح بیٹھتے کہ امتیازی شناخت نہ ہونے کی بنا پر لوگ آپ کو پہچان نہیں پاتے ، اپنے لئے تعظیم کے جائز الفاظ بھی پسند نہیں فرماتے ، ایک بار بعض حاضرین نے عرض کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا ( سید ) ہیں فرمایا : نہیں ، "آقا تو خدا کی ذات ہے” ایک بار لوگوں نے عرض کیا : آپ ہم سب سے افضل و برتر ہیں ، آپ نے اس تعبیر کو بھی پسند نہیں فرمایا ، تواضع و فروتنی کا یہ حال تھا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر جب دس ہزار مسلح جاں نثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد و پیش تھے…

Read more

زرعی پیداوار میں عشر

(1) زمین کی تمام پیداوار میں عشر واجب ہے ، ایسی کاشت جس کی پیداوار انسانوں کے کھانے کے کام میں نہ آتی ہو یا ایسے درخت بجن کے پھل نہ کھائے جاتے ہوں ، لیکن معاشی نقطئہ نظر سے ان کی کاشت کی جاتی ہو ، جیسے گھاس اور بانس کیوڑہ وغیرہ تو ان میں عشر واجب ہوگا (2) اس مقصد کے لیے روئی اور گلاب کے پودے لگائے جائیں تو ان کی فصل پر بھی عشر واجب ہے ، (3) عشری زمینوں کے شہد میں بھی عشر واجب ہے ، اگرچہ وہ تجارت کی غرض سے جمع کیا گیا ہو ، البتہ اگر تجارت کی نیت سے خرید کیا ہو ، تو پھر ڈھائی فیصد کے لحاظ سے زکوٰۃ واجب ہوگی (4) ہندوستان کی زمینوں کے بارے میں علماء کا خیال ہے کہ یہ عشری ہیں اور ان کی پیدوار میں عشر ادا کیا جانا چاہیے (5) جو زمین بتائی پر لگی ہو تو مالک زمین اور کاشت کار اپنے حصہ پیداوار کا عشر ادا کریں گے (6) زمین کرائے پر لگائی گئی ہو تو پیداوار اور پٹہ دار پر عشر واجب ہوگا (7) پھل نکل آنے کے بعد اگر پیشگی عشر ادا کردے تو ایسا کرنا جائز ہے (8) عشر نکالنے کے بعد ہی پیداوار استعمال کرنی چاہیے (9) عشر واجب ہونے کے لیے پیداوار کا کوئی نصاب مقرر نہیں، کم و بیش جو بھی پیداوار ہو عشر واجب ہوگا (10) جو زمین پورے سال یا سال کے اکثر حصہ میں قدرتی پانی سے سیراب ہوتی ہو تو اس میں دسواں حصہ عشر ہوگا ، اور جس زمین کو پورے سال یا سال کے اکثر حصہ اپنی محنت سے سیراب کرنا پڑتا ہو اس میں بیسواں حصہ واجب ہوگا ، (11) کھیٹی پر جو دوسرے اخراجات ہل ، بیل ، مزدوری ، نگرانی وغیرہ کے آئے ہوں وہ منہا نہیں کیے جائیں گے (12) قرض اور دین بھی عشر سے منہا نہیں کیا جائے گا ، کل پیداوار پر عشر واجب ہوگا بحوالہ: کتاب الفتاویٰ ج 3 ص 348

Read more

وسوسہ کی بیماری اور اس کا علاج

وسوسہ یہ ایک عام بیماری ہے ، اور اکثر لوگ آج کل اس مرض کے شکار ہیں ، جس کی وجہ سے بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وسوسہ سے بچنے کے یوں تو بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں ، لیکن شریعت مطہرہ میں وسوسہ سے بچنے کے لیے جو باتیں آئی ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ انسان اپنی قوت ارادی کو مظبوط کریں ، اور پوری قوت سے وسوسہ دور کرنے اور اپنے ذہن کو کسی اور طرف متوجہ کرنے کی کوشش کریں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج یہ بتایا ہے کہ جب بھی وسوسہ آئے تو انسان "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ” پڑھیں ، اور اگر کوئی کفریہ خیال آئے تو ” آمنت بالله و رسله” (میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا) پڑھے ، اس کے علاوہ پیشاب کی چھینٹوں سے بھی بچنا چاہیے ، حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشاب میں بے احتیاطی کی وجہ سے وسوسہ پیدا ہوتا ہے ،

Read more