یو جی سی کے نئے ضابطے
ہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
احمد نور عینی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
یو جی سی کے نئے ضابطوں کو لے کر پورے ملک میں ہنگامہ چل رہا ہے، جنرل کیٹگری میں آنے والی ذاتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں، جب کہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سماج سے آنے والے لوگ اس کی حمایت میں ہیں۔ یو جی سی یہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا مخفف ہے، یہ کمیشن 1956 میں بنایا گیا، اس کا کام یونیورسٹیوں کو منظوری دینا، انھیں فنڈز فراہم کرنا اور اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد وضوابط بنانا ہے، اس نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 2012 میں امتیازی سلوک کو روکنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے کچھ ضوابط بنائے، جنھیں Promotion of Equity in Higher Educational Institutions) Regulations, 2012 کہا جاتا ہے، ان ضوابط کے ہوتے ہوئے امتیازی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوئے، جن میں روہت ویمولا کا کیس قابل ذکر ہے، جس نے 2016ذات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک سے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی، ڈاکٹر پایل تڑوی اور کچھ دوسروں کے نام بھی اس مناسبت سے ذکر کیے جاتے ہیں، ان واقعات سے یہ اندازہ ہوا کہ امتیازی سلوک مخالف ضوابط زمینی سطح پر صحیح ڈھنگ سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امتیازی سلوک کے اعداد وشمار میں 118 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لہذا یو جی سی نے ان ضوابط میں کچھ سختی لانا ضروری سمجھا، چنان چہ ضوابط کو پہلے سے سخت بنانے کے لیے اس میں ترمیم واضافہ کیا گیا، اور یہ ترمیم شدہ ضوابط کچھ دنوں قبل 13 جنوری کو جاری کیے گئے۔
امتیازی سلوک پر ایسے سخت ضوابط بنانے کی ضرورت کیوں پڑی، اس کا جواب بھارت کے طبقاتی نظام، یہاں کی سماجی نفسیات، اور برہمنوادی تاریخ میں مضمر ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی کو برہمنوادی نظام کے ٹھیکیداروں نے ہزاروں سال سے نہ صرف یہ کہ مالی، تعلیمی، حکومتی اور دفاعی حقوق سے محروم رکھا، بل کہ عزت واحترام سے بھی محروم رکھا، انھیں حقوق فراہم کرنے اور برابر درجے کی عزت دینے کے لیے دستور میں دفعات رکھی گئیں، پھر الگ سے قانون بھی بنائے گئے، جن میں ایس سی ایس ٹی ایٹروسیٹی ایکٹ قابل ذکر ہے، امتیازی سلوک کی لعنت جاہل سماج تک محدود نہ رہ کر تعلیمی اداروں میں بھی آئی، اور یہ اسی وقت سے آئی جب سے امتیازی سلوک کرنے والوں کا سامنا ان اداروں میں محروم ومظلوم طبقات سے ہوا، اسے روکنے کے لیے یو جی سی کے ضوابط بنائے گئے۔ یہ ضابطے اس ملک میں جاری نظریاتی کشمکش کا پتہ دیتے ہیں اور اس ملک کے اصل مسئلہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں، اس ملک کا اصل مسئلہ کسی واجب الوجود ہستی کو ماننا یا نہ ماننا نہیں ہے، یہاں کا اصل مسئلہ مساوات کا ہے، جو یہاں کے طبقاتی نظام میں کسی طور ممکن نہیں ، کیوں کہ یہ نظام عدم مساوات کی بنیاد پر استوار ہے۔ اس ملک کی حقیقی نظریاتی کشمکش وہ نہیں ہے جو میڈیا کے ذریعہ دکھائی جاتی ہے، یہاں کی حقیقی نظریاتی کشمکش برہمنواد اور سماجی انصاف کے درمیان ہے، سماجی انصاف یہاں کے ایس سی ایس ٹی او بی سی اور اقلیتوں کے حق میں ہے جب کہ برہمنواد سے یہاں کی نسل پرست اقلیت کے مفاد میں ہے۔یہ نسل پرست اقلیت اس کشمکش پر پردہ ڈالنے کے لیے ہندو مسلم کا کارڈ کھیلتی رہتی ہے۔
یو جی سی کے نئے ضابطے جب سے منظر عام پر آئے ہیں، پورے ملک کی یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں ایک ہنگامہ برپا ہے، سورن یعنی جنرل کیٹگری میں آنے والے طلبہ اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، 27 جنووری کو یو جی سی ہیڈ کوارٹر پر پہنچ کر بڑی تعداد میں احتجاج کیا گیا، دہلی کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی طلبہ احتجاج کر رہے ہیں اور اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں، طلبہ تو طلبہ سورن سماج سے تعلق رکھنے والے سماجی جہد کار، صحافی، اساتذہ، سیاسی رہنما سب میدان میں کود پڑے ہیں، اس موقع سے سیکولر اور مذہب پسند، اعتدال پسند اور انتہا پسند کے بیچ کوئی فرق نہیں رہا، سب اس کی مخالفت میں لگے ہیں، ایسے میں ڈاکٹر بی آر امبیڈ کر کی وہ بات یاد آجاتی ہے جو انھوں نے ’’ذات پات کاخاتمہ‘‘ میں لکھی ہے کہ سیکولر برہمن اور مذہبی برہمن میں کوئی فرق نہیں ہے۔
ان نئے ضوابط کی مخالفت کے لیے سورن سماج سمنوے سمیتی نام سے مختلف سورن طبقات کا وفاق بنایا گیا، اس سمیتی میں کائستھ بھی شامل ہیں، حالاں کہ کائستھ کو سمجھنا چاہیے کہ برہمنوادی نظام میں وہ خود شودر مانے گئے، مسلم دور حکومت میں کچھ ایسے حالات بنے کہ ان کی سماجی حیثیت اونچی ہوگئی، اور وہ اعلی ذات کی برابری کرنے لگے، جس نظام نے انھیں شودر بنایا اس کی مخالفت میں سماجی انصاف والے محاذ کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ برہمنوادی نظام کا۔ تادم تحریر یو جی سی ضابطوں کی صورت حال یہ ہے کہ کورٹ نے اس پر روک لگادی ہے، محض روک لگانے سے سورن سماج خاموش بیٹھنے والا نہیں ہے، وہ ان ضابطوں کی تنسیخ چاہتا ہے، دوسری طرف کورٹ کے روک لگا دینے سے ایس سی ایس ٹی او بی سی میں غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے، جو کہ فطری بھی ہے، اب یہ مظلوم ومحروم سماج بھی مساوات اور عزت نفس کے حقوق کی خاطر اپنی سرگرمیاں تیز کر دے گا، جس کی وجہ سے معاملہ نظریاتی کشمکش کے پہلو سے مزید سنگین ہو جائے گا۔
سورن سماج کی طرف سے کیے جانے والے یو جی سی مخالف موجودہ مظاہرے اور احتجاج منڈل کمیشن کی یاد دلاتے ہیں، بی پی منڈل کے زیر سرپرستی تشکیل کردہ کمیشن میں او بی سی کو تحفظات دینے کے سفارش کی گئی تھی، وی پی سنگھ نے اس کے نفاذ کا اعلان کیا، اس اعلان کے ساتھ ہی پورے ملک میں سورن سماج کی طرف سے احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے، بہوجن اور سورن کے درمیان تصادم تشدد آمیز شکل اختیار کر گیا، ہندو کے نام پر بنایا گیا محاذ آپس میں ہی ٹکرا گیا، جس سے ہندوتوادی مفادات کھٹائی میں پڑ گئے، اس لیے اسے دبانے کے لیے رام مندر آندولن شروع کیا گیا، جسے کمنڈل نام دیا گیا۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ ان ضابطوں کے غلط استعمال سے سورن سماج کے لیے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں، انھیں ہمیشہ دہشت اور خوف کے ماحول میں رہنا ہوگا۔ اس کا جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ قانون کا غلط استعمال تو ہر جگہ ہوتا ہے، دہشت گردی اور دیش دروہ سے مربوط قوانین کا غلط استعمال کرکے کتنے بے قصوروں کو جیلوں میں رکھا گیا پھر انھیں با عزت بری کیا گیا، اسی طرح عورتوں کے تحفظ کے قوانین کا غلط استعمال کرکے کتنے مرد وںکو ٹارگٹ کیا گیا ، قانون کے غلط استعمال سے اگر قانون قابل تنسیخ ہے تو پھر وہ سارے قوانین منسوخ ہونے چاہئیں جن کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہاں قانون کے غلط استعمال کا صرف خدشہ ہے ، اور اس پر ہنگامہ ہے، جبکہ قانون کا غلط استعمال کرکے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلایا جاتا ہے تو یہی ہنگامہ کرنے والے خاموش رہتے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ ایس سی ایس ٹی ایکٹ بنا تو اس کے دائرۂ نفاذ میں او بی سی بھی آئے، مگر انھوں اس بات کو لے کر کوئی احتجاجی تحریک نہیں چھیڑی کہ ہمارے خلاف اس ایکٹ کا غلط استعمال ہوگا۔ بہوجن جہد کاروں کا کہنا ہے کہ آخر سورنوں کو اتنے خدشات کیوں ہے، کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں۔
یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف سورنوں کی طرف سے برپا ہنگامے سے بہوجن سماج اور ایس سی ایس ٹی او بی سی یعنی محروم ومظلوم طبقات کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ برہمنواد نے انھیں جس طرح ماضی میں حقوق اور احترام سے محروم کیا تھا موجودہ جمہوری دور میں بھی وہ انھیں حقوق سے محروم رکھنا چاہتا ہے، وہ انھیں حقوق دینا نہیں چاہتا؛ بس ہندو بنا کر رکھنا چاہتا ہے، اوران کے مذہبی جذبات کا استحصال کرکے ہندوتو کے خواب کی تعبیر کرنا چاہتا ہے، انھیں یہ بھی سمجھنا چاہیے فسطائی منوواد انھیں جن مسلمانوں سے نفرت دلا کر اپنا الو سیدھا کر رہا ہے وہ مسلمان ان کے حقوق کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں، انھیں سوچنا چاہیے کہ آخر یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف کون احتجاج کر رہا ہے ، کیا وہ مسلمان جسے وہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں، یا وہ منووادی ٹھیکیدار جن کے بہکاوے میں آکر وہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ انھیں اس موقع سے دوست اور دشمن کی پہچان اچھی طرح کر لینی چاہیے ، مسلمانوں نے نہ منڈل کمیشن کے وقت مخالفت کی تھی اور نہ ہی یو جی سی کے نئے ضابطے منظر عام پر آنے کے وقت کی۔
فسطائی تنظیم کی طلبہ یونین اے بی وی پی کے نام سے ملک بھر کے اعلی تعلیمی اداروں میں اپنا وجود رکھتی ہے، اس یونین کو افرادی وسائل ایس سی ایس ٹی اور خاص کر او بی سی سماج سے ہی ملتے ہیں، ہندوتو کے نام پر محروم ومظلوم طبقات سے آنے والے طلبہ اس تنظیم کو مضبوط کرنے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، لیکن یہی اے بی وی پی یو جی سی ضوابط کی مخالفت کر رہی ہے، اور لکھنو یونیورسٹی میں اس تنظیم نے باضابطہ احتجاج بھی کیا ہے، بہوجن سماج کے طلبہ کو چاہیے کہ وہ ایسی تنظیموں سے دوری اختیار کریں، یہ تنظیمیں ان کا مستقبل سنوارنے کے بجائے ان کا حال اور مستقبل برہمنوادی مفاد میں استعمال کرتی ہیں۔ یو جی سے کے نئے ضابطے میں ایس سی ایس ٹی کے ساتھ او بی سی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، یہاں او بی سی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے مفادات سماجی انصاف کی آئیڈیالوجی سے وابستہ ہیں نہ کہ ہندوتو کی آئیڈیالوجی سے، لہذا ایس سی ایس ٹی او بی سی تینوں کو مل کر ایک مضبوط محاذ بنانا چاہیے، نہ صرف یوجی سی کے نئے ضوابط کے پس منظر میں بل کہ برہمنیت مخالف سماجی انصاف کی پوری تحریک میں، ان تینوں کو ساتھ مل کر اور اقلیتوں کو ساتھ لے کر یہ نعرہ لگانا چاہیے کہ
سو میں نوے شوشت ہیں شوشتوں نے لککارا ہے۔
دھن دھرتی اور راج پاٹھ میں نوے بھاگ ہمارا ہے۔
یو جی سی کے نئے ضابطے مساوات کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیے گئے، اور مساوات کے فروغ سے سماجی انصاف کی تحریک کو تقویت ملے گی، اس لیے ایس سی ایس ٹی او بی سی کی طرف سے ان ضوابط کا استقبال کیا جا رہا ہے، مگر ساتھ میں کچھ خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، مثلا یہ کہ اس کا اطلاق صرف انہی اداروں پر ہوگا جو یو جی سی کے تحت آتے ہیں، دیگر ادارے جیسے آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے اداروں پر اس اطلاق نہیں ہوگا، اس لیے ان کی مانگ ہے ایسا قانون بنایا جائے جو تمام تعلیمی اداروں پر منطبق ہو سکے۔ اسی طرح ان ضابطوں میں یہ بات ہے کہ مساوات کمیٹی کا صدر ادارے کا ذمہ دار ہوگا، بہوجن جہدکاروں کا کہنا ہے کہ 45 یونیورسٹیوں میں 38 یونیورسٹی کے وائس چانسلر سورن سماج سے آتے ہیں، جب صدر ہی سورن سماج سے ہوگا تو وہ سورن سماج کے طلبہ کے خلاف ایکشن میں لینے میں انصاف نہیں کرے گا، اس لیے کمیٹی اس طرح بنائے جائے کہ مذکورہ خدشہ نہ پایا جائے۔
ان ضابطوں پر بات کرتے ہوئے ایس سی ایس ٹی او بی سی سماج کے جہد کار اور صحافی این ایف ایس اسکام کو بھی زیر بحث لا رہے ہیں، این ایف ایس کا مطلب ہے ناٹ فاؤنڈ سویٹبل (مناسب امیدوار نہیں پایا گیا)، ان کا کہنا ہے کہ این ایف ایس کے ذریعہ محفوظ نشستیں خالی چھوڑ دی جاتی ہیں، یہ بھی کمزور طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کے دائرے میں آتا ہے، دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر لکشمن یادو نے 1918 میں ایک آر ٹی آئی داخل کی تھی، جس کے مطابق 45 یونیورسٹیوں میں ایک بھی پروفیسر او بی سی کا نہیں تھا، جب کہ او بی سی کی آبادی 50 فیصد سے زائد ہے۔کیا اتنی بڑی آبادی میں کوئی سویٹبل نہیں ملا، یا ملا لیکن امتیازی سلوک کی بھینٹ چڑھ گیا۔ جون 2025 میں منوج جھا کے سوال پر وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کیے گئے جواب کے مطابق پروفیسر شپ کے لیے ایس ٹی کوٹے کی 83 فیصد، او بی سی کوٹے کی 80 فیصد، اور ایس سی کوٹے کی 64 فیصد نشستیں خالی پڑی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں مسلمان کیا کریں؟ اس سوال کے جواب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ معاملہ جس نظریاتی کشمکش سے تعلق رکھتا ہے وہ کیا ہے؟ بھارت کی سماجی تاریخ اس بات پر گواہ ہے اس ملک میں نظریاتی کشمکش نسلی برتری اور سماجی انصاف ان دو نظریات کے بیچ ہے، اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلام ان دو نظریات میں سے کس کا استحکام چاہتا ہے اور کس کا انہدام ، اسلامی لٹریچر پر نظر رکھنے والے بخوبی واقف ہیں کہ اسلام نسلی برتری کی بنیاد پر کھڑی فکری عمارت کا انہدام چاہتا ہے اور سماجی انصاف کا استحکام، اور سچی بات یہ ہے کہ اس ملک میں صحیح معنوں کوئی مذہب سماجی انصاف قائم کرسکتا ہے تو وہ اسلام ہے۔اس پوری تفصیل سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ ہم مسلمانوں کو سماجی انصاف والی آئیڈیالوجی کا ساتھ دینا چاہیے، یعنی حکمت ومصلحت کے ساتھ ان نئے ضابطوں کی تائید کرنی چاہیے۔
دوسری بات مسلمانوں کو یہ پیش نظر رکھنے کی ہے کہ ایسا جب بھی ہوتا ہے کہ سورنوں اور بہوجنوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو مسلم مخالف ایشو چھیڑ کر اور مسلمانوں کے رد عمل سے فائدہ اٹھا کر ’’ہندو‘‘ کے نام پر پھر ہندوتوادی محاذ میں ایکتا لا لی جاتی ہے، اور سماجی انصاف اور برہمنواد کے تصادم کو مسلم مخالف ایشو کے شور میں دبا دیا جاتا ہے، جیسا کہ اس سے پہلے منڈل کمیشن کے وقت ایسا ہوچکا، اور عین ممکن ہے کہ یو جی سی کے اس معاملے میں ایسا کچھ کیا جائے، مسلمانوں کو اس موقع سے بہت محتاط چوکنا رہنے اور جذباتی رد عمل کے بجائے سنجیدگی سے معاملات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
تیسری بات مسلمانوں کے لیے یہ ہے کہ وہ اس مناسبت سےاپنے عمل اور کردار کے ذریعہ اسلامی مساوات کی عمدہ مثال بھارتی سماج کے سامنے پیش کرکے دکھائیں، وہ اس طرح او بی سی میں کچھ مسلمان ذاتیں شامل ہیں، اس طرح جنرل کیٹگری میں بھی مسلمان شامل ہیں، مسلمان اپنے عمل اور کردار سے یہ بتائیں کہ وہ مسلمان چاہے جنرل کیٹگری کا ہو یا او بی سی کیٹگری کا برابر درجہ عزت واحترام کا مستحق ہے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ نسل اور ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرسکتا، اور وہ ایسا اس لیے نہیں کر سکتا کہ اس کا اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا، اسی طرح مسلمان ایس سی ایس ٹی اور او بی سی میں آنے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ مساوات اور برابری کا برتاو کریں، تاکہ یہ پیغام جائے مسلمان کمزور طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتے بل کہ ان کے عزت واحترام سے پیش آتے ہیں۔مسلمان اس پہلو کو اتنی اہمیت دیں کہ آئندہ چند سالوں میں اعداد وشمار کی روشنی میں یہ حقیقت بتائی جا سکے کہ امتیازی سلوک کی شکایتیں جن کے خلاف درج ہوئیں ان میں مسلمان نظر نہیں آتے۔
چوتھی بات جو مسلمانوں کےلیے اس تناظر میں اہم ہے وہ یہ کہ مسلمان تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ بتائیں تعلیم کے میدان میں مسلمانوں نے محروم ومظلوم طبقات کو کس طرح اوپر اٹھایا، ابتدائی صدیوں میں بڑے بڑے محدثین، مفسرین اور فقہا میں ان حضرات کا نام ملتا ہے جن کا تعلق سماج کے کمزور طبقہ یعنی غلام طبقہ سے تھا، ان حضرات کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا تو کجا بڑے بڑے گھرانوں کے طلبہ نے ان کی جوتیاں سیدھی کرنا اپنے لیے سعادت کا کام سمجھا۔
پانچویں بات یہ کہ یوجی سی کےزیر بحث ضابطے میں مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے امتیازی سلوک پر بھی روک لگائی گئی ہے، مسلم طلبہ ذات کی بنیاد پر کیے جانے والے امتیازی سلوک کا تو زیادہ شکار نہیں ہوتے، ہاں مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے امتیازی سلوک کا بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں، اور اس کا تناسب دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے، مسلم لیڈروں اور اداروں کے مسلم ذمہ داروں یا اداروں میں اثر ورسوخ رکھنی والی شخصیات کو چاہیے کہ مسلم طلبہ کو امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے یوجی سی کے ان ضابطوں سے مدد لیں، اور مسلم طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔