Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
18.03.2026
Trending News: وضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  1. Home
  2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • دسمبر 26, 2025
  • 0 Comments

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں
اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کر
بیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام
تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ


مسلمانوں کے بعض عوام میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان علامات کی خبر کو اس بات کا سہارا بنا لیتے ہیں کہ صحیح اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ دیا جائے، اور انہوں نے قیامت کی علامات کے ساتھ ایک ایسی بات کو جوڑ دیا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں عمل کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ فساد کا بڑھنا، گمراہی کا پھیلنا، اور قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات—جیسے مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول—لازمی ہیں۔
اور پھر انہی مواقع پر اسلام دوبارہ غالب آئے گا، دین کو غلبہ حاصل ہوگا، حق پھیلے گا، اس کے ماننے والے مضبوط ہوں گے، اور اسلامی نظام پوری طرح نافذ ہوگا۔
لہٰذا اب باطل اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے مسلمان کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔


یہ گمراہ کن اور خبیث فکر—اور ممکن ہے کہ دشمنوں کی نرم سازشوں کے ذریعے مسلمانوں میں داخل کی گئی ہو—نے ان جاہل لوگوں اور ان کے گرد گھومنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے فرضِ جدوجہد اور صحیح اسلامی شعور کو ساقط کر دیا ہے۔


اس نے ان پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوشش کے جذبے کو ختم کر دیا ہے۔


اکثر یہ نادان اور سادہ لوح مسلمان اپنے جیسے دوسروں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، اور احادیثِ نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حالت مسلسل زوال پذیر رہے گی۔
اور جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس فاسد دھارے کو روکنے اور اس گراوٹ کو تھامنے کے لیے کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقدر کردہ امر ہے، جس کی خبر اس کے رسول ﷺ نے دے دی ہے، اور جو لازماً وقوع پذیر ہو کر رہے گا۔


پس ہمارے ذمے صرف یہ ہے کہ ہم تسلیم کر لیں اور خاموش ہو جائیں، یہاں تک کہ اللہ کا وہ فیصلہ آ جائے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
یہ غلط اور جھوٹی سوچ لازمی طور پر ان لوگوں کے دلوں سے نکالی جانی چاہیے جو اس میں مبتلا ہو چکے ہیں، تاکہ اس منفی اثر کو زائل کیا جا سکے جو اس نے ان مسلمانوں کی شعوری اور لاشعوری ارادوں پر ڈالا ہے۔


کیونکہ یہ باطل عقیدہ مسلمانوں کے اندر سے ہی اسلامی تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس کے علاوہ ان رکاوٹوں کے جو باہر سے اس کے راستے میں ڈالی جاتی ہیں۔
اگر یہ فکر واقعی درست، صحیح اور ثابت شدہ ہوتی، تو سلف صالحین کی طرف سے ہر گمراہی اور ہر انحراف کے خلاف جدوجہد اور جہاد—چاہے وہ کسی غیر ملکی کی طرف سے ہو یا عرب کی طرف سے، مسلمان کے بھیس میں ہو یا کھلے کافر کی طرف سے—سب بے معنی ہو جاتے۔
کیونکہ اگر ہم اس گمراہ فکر کے مطابق چلیں، تو ہمیں زندگی کے ہر میدان اور ہر سطح پر پیش آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑے گا، اور یہ ایسی بات ہے جسے کوئی صاحبِ عقل انسان تسلیم نہیں کرتا، چہ جائیکہ شریعتِ اسلامی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہو۔
اور اللہ کی شریعت اس سے پاک ہے کہ اس کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے۔
پھر یہ جاہل لوگ، جو اس بیمار فکر میں مبتلا ہیں،
اپنے مال و دولت بڑھانے،
اپنے حالات سنوارنے،
اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے،
اور دنیاوی امور میں محنت کیوں کرتے ہیں؟

اپنے مال و دولت اور حالات سنوارنے، اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے، اور دنیا و زندگی کی سہولتوں کے دوسرے امور میں تو یہ لوگ پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔
لیکن جب دین اور جہاد کے معاملات آتے ہیں تو یہی شیطانی تصور ان پر چھا جاتا ہے، چنانچہ یہ گمراہ ہو جاتے ہیں اور اپنے دین کی نصرت سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
تو پھر کہاں ہے ان کی عقل؟
اور کہاں ہے ان کی سمجھ، رسول اللہ ﷺ کے اس صاف اور صریح فرمان کے مقابلے میں:
“جہاد قیامت تک جاری رہے گا”
اور اس جیسے بے شمار صحیح احادیث کے مقابلے میں؟
اہلِ بصیرت خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے بارے میں سنت یہی ہے:
محنت، جدوجہد، اسباب اختیار کرنا،
اور یہ بات ہر اس مسلمان کے نزدیک بدیہی ہے جو اپنے دین اور اسلام کی صحیح سمجھ رکھتا ہو۔
پس دین اور اسلام کی نصرت میں محنت اور عمل کو چھوڑ دینا ایک جرم ہے،
اور اس باطل عقیدے کی وجہ سے باطل پرستوں، ظالموں اور کافروں—جو مسلمانوں پر مسلط ہیں—کے مقابلے سے دستبردار ہو جانا جرم پر جرم ہے۔
یہ ایک عظیم مصیبت ہے جو اس بیمار عقیدے میں مبتلا لوگوں کی عقل پر نازل ہوئی ہے،
اور ضروری ہے کہ جلد از جلد ان کا علاج کیا جائے اور انہیں اس ہلاکت خیز مرض سے نجات دلائی جائے۔
اور کیا ہی خوب فرمایا بڑے فقیہ، عظیم عالمِ عامل، صاحبِ بصیرت صوفی بزرگ،
شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمہ اللہ نے:
“مرد وہ نہیں جو تقدیروں کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیروں کا مقابلہ تقدیروں ہی کے ذریعے کرے۔”
اور ایک دوسری روایت میں ان کا قول ہے:
“ہم بہتر تقدیر کی طرف بڑھنے کے لیے کم تر تقدیر سے نکلتے ہیں۔”
یہ ایک نہایت حکیمانہ اور بصیرت افروز کلمہ ہے،
جو شریعت اور عقل—دونوں کا نچوڑ ہے۔
کتاب و سنت میں اس کے دلائل بکثرت موجود ہیں،
اگر انہیں جمع کیا جائے تو ایک مستقل اور عمدہ رسالہ تیار ہو جائے۔
اس کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
اور امام مسلم نے بھی اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:
کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سنہ 17 یا 18 ہجری میں مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔
جب وہ سرغ نامی مقام پر پہنچے—جو حجاز سے متصل شام کے کنارے پر واقع ایک بستی تھی—
تو لشکروں کے امیر، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ان سے ملے،
اور انہیں اطلاع دی کہ شام کی سرزمین میں وبا پھیل چکی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“مہاجرینِ اولین کو میرے پاس بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے ان سے مشورہ کیا اور وبا کی خبر دی۔
ان میں اختلاف ہو گیا:
کچھ نے کہا: آپ ایک مقصد سے نکلے ہیں، ہمیں مناسب نہیں لگتا کہ آپ واپس لوٹیں۔
اور کچھ نے کہا: آپ کے ساتھ عام مسلمان اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں، ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ انہیں اس وبا میں لے جائیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم لوگ اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“انصار کو بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے بھی مشورہ دیا، اور ان میں بھی وہی اختلاف ہوا جو مہاجرین میں ہوا تھا۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم بھی اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“قریش کے ان بزرگوں کو بلاؤ جو فتحِ مکہ کے بعد ہجرت کر کے آئے تھے۔”
میں نے انہیں بلایا، تو ان میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہ ہوا۔
سب نے متفقہ طور پر کہا:
ہم یہ رائے دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں داخل نہ کریں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان فرمایا:
“میں صبح سویرے واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں، تم بھی صبح سویرے روانگی کے لیے تیار ہو جاؤ۔”

اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا:
“کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اے ابو عبیدہ! اگر یہ بات تمہارے سوا کوئی اور کہتا تو میں اسے سخت جواب دیتا۔
ہاں! ہم اللہ کی ایک تقدیر سے نکل کر اللہ ہی کی دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔
ذرا بتاؤ، اگر تمہارے پاس اونٹوں کا ایک ریوڑ ہو، اور تم ایک ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں—
ایک سرسبز و شاداب، اور دوسرا خشک اور بنجر—
تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے میں چَراؤ گے تو بھی یہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا،
اور اگر خشک کنارے میں چَراؤ گے تو بھی وہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا؟”
راوی کہتے ہیں:
اسی دوران حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے، اور وہ کسی ضرورت کے باعث وہاں موجود نہیں تھے۔

وہ مشاورت کے وقت ان کے ساتھ موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا:
میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
“جب تم کسی سرزمین میں اس (یعنی وبا یا طاعون) کے پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ،
اور اگر وہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نکلنے کے لیے نہ بھاگو۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی، پھر واپس لوٹ گئے۔
یہ واضح اور گویا دلیل، اور یہ سچی حدیث، اس باطل اور جھوٹے تصور کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔
اور اس خیال کے پیدا ہونے کا سبب—میرے نزدیک—اسلام کے دشمنوں کے سوا کوئی نہیں،
جنہوں نے اس کے ذریعے بعض سادہ لوح لوگوں کو دھوکے میں ڈالا،
چنانچہ یہ فکر ان کے اندر پیدا ہوئی، ان کے دلوں اور ان کے رویّوں میں جا بسی،
اور یوں دشمنوں کو ان پر غلبہ پانے کے لیے بڑی مشقت اور محنت سے بچا لیا۔
اللہ تعالیٰ امام ابنِ قیم رحمہ اللہ پر رحمت نازل فرمائے،
انہوں نے اپنی کتاب مدارج السالکین (جلد 1، صفحہ 198) میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے،
جہاں انہوں نے اپنے نہایت عمدہ اور بلیغ بیان سے حق کو واضح کر دیا،
اور اپنے کلام سے باطل کو نیست و نابود کر دیا۔

چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
“تقدیروں پر غور و فکر کرنا ایک نہایت تنگ میدان اور سخت معرکہ ہے،
ایسا میدان جس میں بہت سے قدم پھسل گئے،
بہت سی سمجھیں بھٹک گئیں،
اور اس میں چلنے والوں کے راستے جدا جدا ہو گئے،
یہاں تک کہ—چند لوگوں کے سوا—سب ہلاکت کی وادیوں کے کنارے جا پہنچے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو؟
یہ تو ایک ایسا سمندر ہے جس میں سوار کی کشتی پہاڑوں جیسے موجوں میں گھری ہوتی ہے،
یہ ایک ایسا معرکہ ہے جس میں بڑے بڑے بہادروں کی جرأت بھی چھوٹی پڑ جاتی ہے،
اور اس میں عقل مندوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں۔
تمام مخلوق اس کے ساحل تک پہنچتی ہے اور اس میں سوار ہونے کی خواہش رکھتی ہے،
مگر ان میں سے نجات صرف انہی کو ملتی ہے
جو حکم کی کشتی کے پہنچنے کا انتظار کرتے ہیں—
یعنی مشروع اسباب اختیار کرتے ہیں
اور تقدیر کو تقدیر ہی کے ذریعے دفع کرتے ہیں—
پس وہ تقدیر کے سمندر میں حکم (عمل) کی کشتی پر سوار ہوتے ہیں۔
جو شخص اس سمندر میں حکم کی کشتی پر سوار ہوتا ہے،
اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تقدیر کی موجوں سے ٹکر لے،
اور ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے روکے،
ورنہ وہ ہلاک ہو جائے گا۔
پس تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کیا جاتا ہے،
اور یہی اہلِ عزم اور اہلِ معرفت کا طریقہ ہے۔
اور یہی معنی ہیں عارفِ ربانی اور پیشوا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس قول کے:
‘لوگ جب قضا و قدر تک پہنچتے ہیں تو رک جاتے ہیں،
لیکن میں نہیں رکا؛
بلکہ اس میں میرے لیے ایک دریچہ کھول دیا گیا،
تو میں نے حق کے لیے، حق کے ساتھ، حق کی تقدیروں کا مقابلہ کیا۔
مرد وہ نہیں جو تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیر سے کشمکش کرے، نہ کہ اس کے ساتھ بہہ جائے۔’”
اور بندوں کے دنیوی معاملات درست نہیں ہو سکتے
جب تک ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے دفع نہ کیا جائے،
تو پھر ان کے اخروی معاملات کا کیا حال ہوگا؟
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ برائی—جو اس کی ایک تقدیر ہے—
کو نیکی کے ذریعے دفع کیا جائے—اور وہ بھی اس کی تقدیر ہے۔
اسی طرح بھوک اللہ کی ایک تقدیر ہے،
اور اس نے اسے کھانے کے ذریعے دفع کرنے کا حکم دیا ہے،
اور کھانا بھی اس کی تقدیر ہے۔
اگر کوئی بندہ بھوک کی تقدیر کے سامنے—
جبکہ وہ کھانے کے ذریعے اسے دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو—
ہتھیار ڈال دے، یہاں تک کہ مر جائے،
تو وہ نافرمانی کی حالت میں مرے گا۔
اسی طرح سردی، گرمی اور پیاس—سب اللہ کی تقدیریں ہیں،
اور اس نے حکم دیا ہے کہ ان کا مقابلہ ایسی تقدیروں سے کیا جائے جو ان کے مخالف ہوں۔
پس دفع کرنے والا، جسے دفع کیا جا رہا ہے،
اور خود دفع کرنا—سب اللہ ہی کی تقدیر کے تحت ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس مفہوم کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔
لوگوں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ!
یہ دوائیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں،
یہ دم جن سے ہم دم کرواتے ہیں،
اور یہ احتیاطی تدابیر جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں—
کیا یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال دیتی ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ سب بھی اللہ ہی کی تقدیر کا حصہ ہیں۔”
اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:
“دعا اور بلا آسمان و زمین کے درمیان باہم کشمکش میں رہتے ہیں۔”
اور اگر کفار دشمن اسلامی سرزمین پر حملہ کریں،
تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی حملہ کرتے ہیں۔
تو کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے
کہ وہ تقدیر کے نام پر ہتھیار ڈال دیں
اور اس کے مقابلے میں اسی جیسی تقدیر—
یعنی جہاد—کو ترک کر دیں
جس کے ذریعے وہ اللہ کی ایک تقدیر کو دوسری تقدیر سے دفع کرتے ہیں؟
اسی طرح اگر کسی سے گناہ تقدیر کے تحت سرزد ہو جائے،
اور اس نے اسے تقدیر ہی کے تحت انجام دیا ہو،
تو اسے چاہیے کہ اس کے اثر کو سچی توبہ کے ذریعے دفع کرے،
اور توبہ بھی تقدیر ہی کا حصہ ہے۔
تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کرنے کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
ایسی تقدیر کو—جس کے اسباب پیدا ہو چکے ہوں مگر وہ ابھی واقع نہ ہوئی ہو—
اللہ کی ایک دوسری تقدیر کے ذریعے روک دینا،
جیسے دشمن کو اس سے لڑ کر روکنا،
یا گرمی، سردی اور اسی طرح کی چیزوں کو ان کے مخالف اسباب سے دفع کرنا۔
دوسری قسم:
ایسی تقدیر کو—جو واقع ہو چکی ہو اور جم چکی ہو—
ایک دوسری تقدیر کے ذریعے زائل کر دینا،
جیسے بیماری کی تقدیر کو علاج کی تقدیر سے،
گناہ کی تقدیر کو توبہ کی تقدیر سے،
اور برائی کی تقدیر کو نیکی کی تقدیر سے دفع کرنا۔

پس یہ اہلِ معرفت کا طریقہ ہے، اور یہی تقدیروں کا صحیح فہم ہے:
تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دینا نہیں، بلکہ حرکت، تدبیر اور جدوجہد کو ترک نہ کرنا۔
کیونکہ یہ عجز ہے،
اور اللہ تعالیٰ عجز پر ملامت فرماتا ہے۔
ہاں، جب بندہ بالکل مغلوب ہو جائے،
تمام تدبیریں ختم ہو جائیں،
اور کوئی راستہ باقی نہ رہے،
تو اس وقت تقدیر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے،
اور یوں پڑ جانا چاہیے
جیسے میت غسل دینے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،
وہ اسے جیسے چاہے پلٹتا ہے۔
یہاں کلام ختم ہوتا ہے۔
اور تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔
اور آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں
کہ وہ ہمیں جہالت اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھے،
اور ہمیں تمام معاملات میں خصوصاً دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کے باب میں
صحیح رہنمائی اور درست رویّہ عطا فرمائے۔
بے شک وہی بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔
( التصريح بما تواتر في نزول المسيح للعلامة أنور شاه الكشميري تحقيق الشيخ عبد الفتاح أبوغده ص : من الألف إلى اللام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!
۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ از : مولانا ابو الجیش ندوی ​عارفینِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زہد دراصل دل کا دنیا کے وطن سے کوچ کر جانا اور آخرت کی منزلوں کی طرف روانہ ہو جانا ہے۔ اسی بنیاد پر متقدمین (پچھلے علماء) نے زہد کے موضوع پر کتابیں تصنیف کیں، جیسے عبداللہ بن المبارک، امام احمد، وکیع اور ہناد بن السری رحمہم اللہ وغیرہ کی کتبِ زہد۔​زہد کے چھ بنیادی متعلقات​کسی بندے کے لیے ‘زاہد’ کا لقب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ درج ذیل چھ چیزوں میں زہد اختیار نہ کر لے:​مال و دولت​ظاہری صورتیں (حسن و جمال)​ریاست و منصب​لوگ (ان کی واہ واہ یا تنقید)​اپنی ذات (نفس)​اور اللہ کے سوا ہر چیز۔​زہد کا مطلب ترکِ دنیا نہیں​یہاں زہد سے مراد ان چیزوں کی ملکیت کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔ اس کی چند نمایاں مثالیں ملاحظہ فرمائیں:​حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے، حالانکہ ان کے پاس مال، عورتیں اور عظیم سلطنت موجود تھی۔​نبی کریم ﷺ: آپ کائنات کے سب سے بڑے زاہد تھے، اس کے باوجود آپ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں۔​صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بڑے زاہد تھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کثیر اموال تھے۔​حضرت حسن بن علیؓ: آپ بھی زاہدین میں سے تھے، حالانکہ آپ امت میں سب سے زیادہ نکاح کرنے والے اور مالدار ترین افراد میں شامل تھے۔​ائمہ کرام: عبداللہ بن المبارک زہد کے امام تھے مگر بہت مالدار تھے۔ اسی طرح لیث بن سعد اور سفیان ثوری بھی زہد کے امام تھے اور صاحبِ مال تھے؛ امام سفیان فرمایا کرتے تھے: "اگر یہ مال نہ ہوتا تو یہ (حکمران) ہمیں اپنا رومال بنا لیتے (یعنی ہمیں ذلیل کرتے)۔”​زہد کی بہترین تعریف​زہد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات ابو مسلم الخولانی نے کہی ہے:​”دنیا سے زہد کا مطلب حلال کو حرام کر لینا یا مال کو ضائع کر دینا نہیں ہے، بلکہ زہد یہ ہے کہ:​جو…

Read more

Continue reading
اعتکاف ، احکام و آداب
  • hira-online.comhira-online.com
  • مارچ 9, 2026
  • 0 Comments
اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • وضو کے فرائض 10.03.2026
  • وضو کا مسنون طریقہ 10.03.2026
  • گھر میں اعتکاف 09.03.2026
  • زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ 09.03.2026
  • اعتکاف ، احکام و آداب 09.03.2026
  • صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ 09.03.2026
  • زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں 08.03.2026
  • ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ 08.03.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

وضو کے فرائض

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کے فرائض
فقہ و اصول فقہ

وضو کا مسنون طریقہ

  • hira-online.com
  • مارچ 10, 2026
وضو کا مسنون طریقہ
Blog

گھر میں اعتکاف

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
مضامین و مقالات

اعتکاف ، احکام و آداب

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
اعتکاف ، احکام و آداب
فقہ و اصول فقہ

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

  • hira-online.com
  • مارچ 9, 2026
صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟
فقہ و اصول فقہ

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026
فقہ و اصول فقہ

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

  • hira-online.com
  • مارچ 8, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top