Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  1. Home
  2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • دسمبر 26, 2025
  • 0 Comments

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں
اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کر
بیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام
تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ


مسلمانوں کے بعض عوام میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان علامات کی خبر کو اس بات کا سہارا بنا لیتے ہیں کہ صحیح اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ دیا جائے، اور انہوں نے قیامت کی علامات کے ساتھ ایک ایسی بات کو جوڑ دیا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں عمل کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ فساد کا بڑھنا، گمراہی کا پھیلنا، اور قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات—جیسے مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول—لازمی ہیں۔
اور پھر انہی مواقع پر اسلام دوبارہ غالب آئے گا، دین کو غلبہ حاصل ہوگا، حق پھیلے گا، اس کے ماننے والے مضبوط ہوں گے، اور اسلامی نظام پوری طرح نافذ ہوگا۔
لہٰذا اب باطل اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے مسلمان کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔


یہ گمراہ کن اور خبیث فکر—اور ممکن ہے کہ دشمنوں کی نرم سازشوں کے ذریعے مسلمانوں میں داخل کی گئی ہو—نے ان جاہل لوگوں اور ان کے گرد گھومنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے فرضِ جدوجہد اور صحیح اسلامی شعور کو ساقط کر دیا ہے۔


اس نے ان پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوشش کے جذبے کو ختم کر دیا ہے۔


اکثر یہ نادان اور سادہ لوح مسلمان اپنے جیسے دوسروں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، اور احادیثِ نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حالت مسلسل زوال پذیر رہے گی۔
اور جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس فاسد دھارے کو روکنے اور اس گراوٹ کو تھامنے کے لیے کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقدر کردہ امر ہے، جس کی خبر اس کے رسول ﷺ نے دے دی ہے، اور جو لازماً وقوع پذیر ہو کر رہے گا۔


پس ہمارے ذمے صرف یہ ہے کہ ہم تسلیم کر لیں اور خاموش ہو جائیں، یہاں تک کہ اللہ کا وہ فیصلہ آ جائے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
یہ غلط اور جھوٹی سوچ لازمی طور پر ان لوگوں کے دلوں سے نکالی جانی چاہیے جو اس میں مبتلا ہو چکے ہیں، تاکہ اس منفی اثر کو زائل کیا جا سکے جو اس نے ان مسلمانوں کی شعوری اور لاشعوری ارادوں پر ڈالا ہے۔


کیونکہ یہ باطل عقیدہ مسلمانوں کے اندر سے ہی اسلامی تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس کے علاوہ ان رکاوٹوں کے جو باہر سے اس کے راستے میں ڈالی جاتی ہیں۔
اگر یہ فکر واقعی درست، صحیح اور ثابت شدہ ہوتی، تو سلف صالحین کی طرف سے ہر گمراہی اور ہر انحراف کے خلاف جدوجہد اور جہاد—چاہے وہ کسی غیر ملکی کی طرف سے ہو یا عرب کی طرف سے، مسلمان کے بھیس میں ہو یا کھلے کافر کی طرف سے—سب بے معنی ہو جاتے۔
کیونکہ اگر ہم اس گمراہ فکر کے مطابق چلیں، تو ہمیں زندگی کے ہر میدان اور ہر سطح پر پیش آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑے گا، اور یہ ایسی بات ہے جسے کوئی صاحبِ عقل انسان تسلیم نہیں کرتا، چہ جائیکہ شریعتِ اسلامی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہو۔
اور اللہ کی شریعت اس سے پاک ہے کہ اس کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے۔
پھر یہ جاہل لوگ، جو اس بیمار فکر میں مبتلا ہیں،
اپنے مال و دولت بڑھانے،
اپنے حالات سنوارنے،
اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے،
اور دنیاوی امور میں محنت کیوں کرتے ہیں؟

اپنے مال و دولت اور حالات سنوارنے، اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے، اور دنیا و زندگی کی سہولتوں کے دوسرے امور میں تو یہ لوگ پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔
لیکن جب دین اور جہاد کے معاملات آتے ہیں تو یہی شیطانی تصور ان پر چھا جاتا ہے، چنانچہ یہ گمراہ ہو جاتے ہیں اور اپنے دین کی نصرت سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
تو پھر کہاں ہے ان کی عقل؟
اور کہاں ہے ان کی سمجھ، رسول اللہ ﷺ کے اس صاف اور صریح فرمان کے مقابلے میں:
“جہاد قیامت تک جاری رہے گا”
اور اس جیسے بے شمار صحیح احادیث کے مقابلے میں؟
اہلِ بصیرت خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے بارے میں سنت یہی ہے:
محنت، جدوجہد، اسباب اختیار کرنا،
اور یہ بات ہر اس مسلمان کے نزدیک بدیہی ہے جو اپنے دین اور اسلام کی صحیح سمجھ رکھتا ہو۔
پس دین اور اسلام کی نصرت میں محنت اور عمل کو چھوڑ دینا ایک جرم ہے،
اور اس باطل عقیدے کی وجہ سے باطل پرستوں، ظالموں اور کافروں—جو مسلمانوں پر مسلط ہیں—کے مقابلے سے دستبردار ہو جانا جرم پر جرم ہے۔
یہ ایک عظیم مصیبت ہے جو اس بیمار عقیدے میں مبتلا لوگوں کی عقل پر نازل ہوئی ہے،
اور ضروری ہے کہ جلد از جلد ان کا علاج کیا جائے اور انہیں اس ہلاکت خیز مرض سے نجات دلائی جائے۔
اور کیا ہی خوب فرمایا بڑے فقیہ، عظیم عالمِ عامل، صاحبِ بصیرت صوفی بزرگ،
شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمہ اللہ نے:
“مرد وہ نہیں جو تقدیروں کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیروں کا مقابلہ تقدیروں ہی کے ذریعے کرے۔”
اور ایک دوسری روایت میں ان کا قول ہے:
“ہم بہتر تقدیر کی طرف بڑھنے کے لیے کم تر تقدیر سے نکلتے ہیں۔”
یہ ایک نہایت حکیمانہ اور بصیرت افروز کلمہ ہے،
جو شریعت اور عقل—دونوں کا نچوڑ ہے۔
کتاب و سنت میں اس کے دلائل بکثرت موجود ہیں،
اگر انہیں جمع کیا جائے تو ایک مستقل اور عمدہ رسالہ تیار ہو جائے۔
اس کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
اور امام مسلم نے بھی اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:
کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سنہ 17 یا 18 ہجری میں مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔
جب وہ سرغ نامی مقام پر پہنچے—جو حجاز سے متصل شام کے کنارے پر واقع ایک بستی تھی—
تو لشکروں کے امیر، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ان سے ملے،
اور انہیں اطلاع دی کہ شام کی سرزمین میں وبا پھیل چکی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“مہاجرینِ اولین کو میرے پاس بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے ان سے مشورہ کیا اور وبا کی خبر دی۔
ان میں اختلاف ہو گیا:
کچھ نے کہا: آپ ایک مقصد سے نکلے ہیں، ہمیں مناسب نہیں لگتا کہ آپ واپس لوٹیں۔
اور کچھ نے کہا: آپ کے ساتھ عام مسلمان اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں، ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ انہیں اس وبا میں لے جائیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم لوگ اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“انصار کو بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے بھی مشورہ دیا، اور ان میں بھی وہی اختلاف ہوا جو مہاجرین میں ہوا تھا۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم بھی اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“قریش کے ان بزرگوں کو بلاؤ جو فتحِ مکہ کے بعد ہجرت کر کے آئے تھے۔”
میں نے انہیں بلایا، تو ان میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہ ہوا۔
سب نے متفقہ طور پر کہا:
ہم یہ رائے دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں داخل نہ کریں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان فرمایا:
“میں صبح سویرے واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں، تم بھی صبح سویرے روانگی کے لیے تیار ہو جاؤ۔”

اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا:
“کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اے ابو عبیدہ! اگر یہ بات تمہارے سوا کوئی اور کہتا تو میں اسے سخت جواب دیتا۔
ہاں! ہم اللہ کی ایک تقدیر سے نکل کر اللہ ہی کی دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔
ذرا بتاؤ، اگر تمہارے پاس اونٹوں کا ایک ریوڑ ہو، اور تم ایک ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں—
ایک سرسبز و شاداب، اور دوسرا خشک اور بنجر—
تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے میں چَراؤ گے تو بھی یہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا،
اور اگر خشک کنارے میں چَراؤ گے تو بھی وہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا؟”
راوی کہتے ہیں:
اسی دوران حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے، اور وہ کسی ضرورت کے باعث وہاں موجود نہیں تھے۔

وہ مشاورت کے وقت ان کے ساتھ موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا:
میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
“جب تم کسی سرزمین میں اس (یعنی وبا یا طاعون) کے پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ،
اور اگر وہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نکلنے کے لیے نہ بھاگو۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی، پھر واپس لوٹ گئے۔
یہ واضح اور گویا دلیل، اور یہ سچی حدیث، اس باطل اور جھوٹے تصور کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔
اور اس خیال کے پیدا ہونے کا سبب—میرے نزدیک—اسلام کے دشمنوں کے سوا کوئی نہیں،
جنہوں نے اس کے ذریعے بعض سادہ لوح لوگوں کو دھوکے میں ڈالا،
چنانچہ یہ فکر ان کے اندر پیدا ہوئی، ان کے دلوں اور ان کے رویّوں میں جا بسی،
اور یوں دشمنوں کو ان پر غلبہ پانے کے لیے بڑی مشقت اور محنت سے بچا لیا۔
اللہ تعالیٰ امام ابنِ قیم رحمہ اللہ پر رحمت نازل فرمائے،
انہوں نے اپنی کتاب مدارج السالکین (جلد 1، صفحہ 198) میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے،
جہاں انہوں نے اپنے نہایت عمدہ اور بلیغ بیان سے حق کو واضح کر دیا،
اور اپنے کلام سے باطل کو نیست و نابود کر دیا۔

چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
“تقدیروں پر غور و فکر کرنا ایک نہایت تنگ میدان اور سخت معرکہ ہے،
ایسا میدان جس میں بہت سے قدم پھسل گئے،
بہت سی سمجھیں بھٹک گئیں،
اور اس میں چلنے والوں کے راستے جدا جدا ہو گئے،
یہاں تک کہ—چند لوگوں کے سوا—سب ہلاکت کی وادیوں کے کنارے جا پہنچے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو؟
یہ تو ایک ایسا سمندر ہے جس میں سوار کی کشتی پہاڑوں جیسے موجوں میں گھری ہوتی ہے،
یہ ایک ایسا معرکہ ہے جس میں بڑے بڑے بہادروں کی جرأت بھی چھوٹی پڑ جاتی ہے،
اور اس میں عقل مندوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں۔
تمام مخلوق اس کے ساحل تک پہنچتی ہے اور اس میں سوار ہونے کی خواہش رکھتی ہے،
مگر ان میں سے نجات صرف انہی کو ملتی ہے
جو حکم کی کشتی کے پہنچنے کا انتظار کرتے ہیں—
یعنی مشروع اسباب اختیار کرتے ہیں
اور تقدیر کو تقدیر ہی کے ذریعے دفع کرتے ہیں—
پس وہ تقدیر کے سمندر میں حکم (عمل) کی کشتی پر سوار ہوتے ہیں۔
جو شخص اس سمندر میں حکم کی کشتی پر سوار ہوتا ہے،
اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تقدیر کی موجوں سے ٹکر لے،
اور ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے روکے،
ورنہ وہ ہلاک ہو جائے گا۔
پس تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کیا جاتا ہے،
اور یہی اہلِ عزم اور اہلِ معرفت کا طریقہ ہے۔
اور یہی معنی ہیں عارفِ ربانی اور پیشوا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس قول کے:
‘لوگ جب قضا و قدر تک پہنچتے ہیں تو رک جاتے ہیں،
لیکن میں نہیں رکا؛
بلکہ اس میں میرے لیے ایک دریچہ کھول دیا گیا،
تو میں نے حق کے لیے، حق کے ساتھ، حق کی تقدیروں کا مقابلہ کیا۔
مرد وہ نہیں جو تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیر سے کشمکش کرے، نہ کہ اس کے ساتھ بہہ جائے۔’”
اور بندوں کے دنیوی معاملات درست نہیں ہو سکتے
جب تک ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے دفع نہ کیا جائے،
تو پھر ان کے اخروی معاملات کا کیا حال ہوگا؟
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ برائی—جو اس کی ایک تقدیر ہے—
کو نیکی کے ذریعے دفع کیا جائے—اور وہ بھی اس کی تقدیر ہے۔
اسی طرح بھوک اللہ کی ایک تقدیر ہے،
اور اس نے اسے کھانے کے ذریعے دفع کرنے کا حکم دیا ہے،
اور کھانا بھی اس کی تقدیر ہے۔
اگر کوئی بندہ بھوک کی تقدیر کے سامنے—
جبکہ وہ کھانے کے ذریعے اسے دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو—
ہتھیار ڈال دے، یہاں تک کہ مر جائے،
تو وہ نافرمانی کی حالت میں مرے گا۔
اسی طرح سردی، گرمی اور پیاس—سب اللہ کی تقدیریں ہیں،
اور اس نے حکم دیا ہے کہ ان کا مقابلہ ایسی تقدیروں سے کیا جائے جو ان کے مخالف ہوں۔
پس دفع کرنے والا، جسے دفع کیا جا رہا ہے،
اور خود دفع کرنا—سب اللہ ہی کی تقدیر کے تحت ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس مفہوم کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔
لوگوں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ!
یہ دوائیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں،
یہ دم جن سے ہم دم کرواتے ہیں،
اور یہ احتیاطی تدابیر جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں—
کیا یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال دیتی ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ سب بھی اللہ ہی کی تقدیر کا حصہ ہیں۔”
اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:
“دعا اور بلا آسمان و زمین کے درمیان باہم کشمکش میں رہتے ہیں۔”
اور اگر کفار دشمن اسلامی سرزمین پر حملہ کریں،
تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی حملہ کرتے ہیں۔
تو کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے
کہ وہ تقدیر کے نام پر ہتھیار ڈال دیں
اور اس کے مقابلے میں اسی جیسی تقدیر—
یعنی جہاد—کو ترک کر دیں
جس کے ذریعے وہ اللہ کی ایک تقدیر کو دوسری تقدیر سے دفع کرتے ہیں؟
اسی طرح اگر کسی سے گناہ تقدیر کے تحت سرزد ہو جائے،
اور اس نے اسے تقدیر ہی کے تحت انجام دیا ہو،
تو اسے چاہیے کہ اس کے اثر کو سچی توبہ کے ذریعے دفع کرے،
اور توبہ بھی تقدیر ہی کا حصہ ہے۔
تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کرنے کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
ایسی تقدیر کو—جس کے اسباب پیدا ہو چکے ہوں مگر وہ ابھی واقع نہ ہوئی ہو—
اللہ کی ایک دوسری تقدیر کے ذریعے روک دینا،
جیسے دشمن کو اس سے لڑ کر روکنا،
یا گرمی، سردی اور اسی طرح کی چیزوں کو ان کے مخالف اسباب سے دفع کرنا۔
دوسری قسم:
ایسی تقدیر کو—جو واقع ہو چکی ہو اور جم چکی ہو—
ایک دوسری تقدیر کے ذریعے زائل کر دینا،
جیسے بیماری کی تقدیر کو علاج کی تقدیر سے،
گناہ کی تقدیر کو توبہ کی تقدیر سے،
اور برائی کی تقدیر کو نیکی کی تقدیر سے دفع کرنا۔

پس یہ اہلِ معرفت کا طریقہ ہے، اور یہی تقدیروں کا صحیح فہم ہے:
تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دینا نہیں، بلکہ حرکت، تدبیر اور جدوجہد کو ترک نہ کرنا۔
کیونکہ یہ عجز ہے،
اور اللہ تعالیٰ عجز پر ملامت فرماتا ہے۔
ہاں، جب بندہ بالکل مغلوب ہو جائے،
تمام تدبیریں ختم ہو جائیں،
اور کوئی راستہ باقی نہ رہے،
تو اس وقت تقدیر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے،
اور یوں پڑ جانا چاہیے
جیسے میت غسل دینے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،
وہ اسے جیسے چاہے پلٹتا ہے۔
یہاں کلام ختم ہوتا ہے۔
اور تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔
اور آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں
کہ وہ ہمیں جہالت اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھے،
اور ہمیں تمام معاملات میں خصوصاً دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کے باب میں
صحیح رہنمائی اور درست رویّہ عطا فرمائے۔
بے شک وہی بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔
( التصريح بما تواتر في نزول المسيح للعلامة أنور شاه الكشميري تحقيق الشيخ عبد الفتاح أبوغده ص : من الألف إلى اللام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!
۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن

Related Posts

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں مفتی محمد شمیم قاسمی مگہریمدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ ، آنند نگر شبِ برات اسلامی سال کی اُن عظیم الشان اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، مغفرتوں اور عنایات کو عام فرمایا ہے۔ یہ رات شعبان المعظم کی پندرھویں تاریخ کو آتی ہے۔ لفظ "برات” کے معنی نجات، خلاصی اور چھٹکارا کے ہیں۔ گویا یہ رات بندوں کو جہنم سے نجات اور گناہوں سے پاکیزگی عطا ہونے کی امید کی رات ہے۔ اہلِ سنت والجماعت دیوبند کا متفقہ اور معتدل مؤقف یہ ہے کہ شبِ برات کی اصل فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اور اس رات میں عبادت، توبہ، استغفار اور دعا کرنا مستحب ہے، مگر ایسے تمام طریقوں اور رسومات سے بچنا ضروری ہے جو شریعت سے ثابت نہیں یا جن میں افراط و تفریط پائی جاتی ہو۔ آیات قرآنیہ کی روشنی میں شبِ برات کا مفہوم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ . فِیۡهَا یُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِیۡمٍ ۔(سورۃ الدخان)ترجمہ:ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، لیکن بعض اکابر اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ سال بھر کے فیصلوں کا اجمالی اندراج شبِ برات میں اور تفصیلی اندراج لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ برات بھی ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے شب برات کی فضیلتحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَىٰ خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ (ابن ماجہ)ترجمہ:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • عقل کا دائرہ کار
  • عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود
  • جنوری 14, 2026
  • 0 Comments
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود (کچھ لوگ اس وہم مين مبتلا ہیں کہ عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ عقل کبھی کسی متعین (definite) حقیقت کو ثابت نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اَعرَفُ المعارف ہیں، يعنى سارى متعين حقيقتوں سے زياده متعين ہیں، اور عقل کی ادراکاتی حدوں سے ماوراء، جب ہم عقل کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف بناتے ہیں تو عقل، خدا کو اس کی خارجی اور حقیقی ذات سے الگ کرکے محض ایک کلی ذہنی تصور (concept) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ تصور قابلِ حلول اور قابلِ اتحاد ہوتا ہے، کوئی نظام مسلسل ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق متعدد مصادیق پر کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے لیے توحید لازم نہیں، بلکہ اس کی طينت میں شرک داخل ہے۔ دوسرے لفظوں ميں عقل اس خدا کو ثابت نہیں کرتی جس كى دعوت قرآن مين ہے، اور جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مزید یہ کہ خدا کو محض عقل کے ذریعے ثابت کرنے کا گمان قرآن سے متناقض ہے، اور یہ طرزِ فکر مسلمانوں کو کتابِ الٰہی میں حقیقی تدبر سے بھی روکتا ہے۔ اسی نکتے کی وضاحت کے لیے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور زیرِ نظر مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔) از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ9/1/2026 عقل انسانی ایک ایسی ادراکی قوّت ہے جو دیگر مداركـ سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ جزوی مشاہدات سے کلی اور مجرد معانی اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حسی ادراک اشیاء کو ان کے وقتی و مکانی تعیّن کے ساتھ حاصل کرتا ہے، اور محدود تجربے کی روشنی میں ان کی پہچان کرتا ہے، لیکن عقل ان جزئیات سے ایک عالی مرتبہ کا شعوری نقش اخذ کرتی ہے، اور انہیں عمومی تصورات کی شكل میں مرتب کر کے ایک فکری نظام قائم کرتی ہے۔ یہی وصف عقل کی طاقت بھی ہے اور اس کے حدود کا تعین بھی۔ عقل قادر ہے کہ وہ کلی اصول وضع کرے، ان…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top