Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
30.07.2026
Trending News: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
30.07.2026
Trending News: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  1. Home
  2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • دسمبر 26, 2025
  • 0 Comments

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں
اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کر
بیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام
تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ


مسلمانوں کے بعض عوام میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان علامات کی خبر کو اس بات کا سہارا بنا لیتے ہیں کہ صحیح اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ دیا جائے، اور انہوں نے قیامت کی علامات کے ساتھ ایک ایسی بات کو جوڑ دیا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں عمل کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ فساد کا بڑھنا، گمراہی کا پھیلنا، اور قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات—جیسے مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول—لازمی ہیں۔
اور پھر انہی مواقع پر اسلام دوبارہ غالب آئے گا، دین کو غلبہ حاصل ہوگا، حق پھیلے گا، اس کے ماننے والے مضبوط ہوں گے، اور اسلامی نظام پوری طرح نافذ ہوگا۔
لہٰذا اب باطل اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے مسلمان کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔


یہ گمراہ کن اور خبیث فکر—اور ممکن ہے کہ دشمنوں کی نرم سازشوں کے ذریعے مسلمانوں میں داخل کی گئی ہو—نے ان جاہل لوگوں اور ان کے گرد گھومنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے فرضِ جدوجہد اور صحیح اسلامی شعور کو ساقط کر دیا ہے۔


اس نے ان پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوشش کے جذبے کو ختم کر دیا ہے۔


اکثر یہ نادان اور سادہ لوح مسلمان اپنے جیسے دوسروں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، اور احادیثِ نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حالت مسلسل زوال پذیر رہے گی۔
اور جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس فاسد دھارے کو روکنے اور اس گراوٹ کو تھامنے کے لیے کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقدر کردہ امر ہے، جس کی خبر اس کے رسول ﷺ نے دے دی ہے، اور جو لازماً وقوع پذیر ہو کر رہے گا۔


پس ہمارے ذمے صرف یہ ہے کہ ہم تسلیم کر لیں اور خاموش ہو جائیں، یہاں تک کہ اللہ کا وہ فیصلہ آ جائے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
یہ غلط اور جھوٹی سوچ لازمی طور پر ان لوگوں کے دلوں سے نکالی جانی چاہیے جو اس میں مبتلا ہو چکے ہیں، تاکہ اس منفی اثر کو زائل کیا جا سکے جو اس نے ان مسلمانوں کی شعوری اور لاشعوری ارادوں پر ڈالا ہے۔


کیونکہ یہ باطل عقیدہ مسلمانوں کے اندر سے ہی اسلامی تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس کے علاوہ ان رکاوٹوں کے جو باہر سے اس کے راستے میں ڈالی جاتی ہیں۔
اگر یہ فکر واقعی درست، صحیح اور ثابت شدہ ہوتی، تو سلف صالحین کی طرف سے ہر گمراہی اور ہر انحراف کے خلاف جدوجہد اور جہاد—چاہے وہ کسی غیر ملکی کی طرف سے ہو یا عرب کی طرف سے، مسلمان کے بھیس میں ہو یا کھلے کافر کی طرف سے—سب بے معنی ہو جاتے۔
کیونکہ اگر ہم اس گمراہ فکر کے مطابق چلیں، تو ہمیں زندگی کے ہر میدان اور ہر سطح پر پیش آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑے گا، اور یہ ایسی بات ہے جسے کوئی صاحبِ عقل انسان تسلیم نہیں کرتا، چہ جائیکہ شریعتِ اسلامی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہو۔
اور اللہ کی شریعت اس سے پاک ہے کہ اس کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے۔
پھر یہ جاہل لوگ، جو اس بیمار فکر میں مبتلا ہیں،
اپنے مال و دولت بڑھانے،
اپنے حالات سنوارنے،
اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے،
اور دنیاوی امور میں محنت کیوں کرتے ہیں؟

اپنے مال و دولت اور حالات سنوارنے، اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے، اور دنیا و زندگی کی سہولتوں کے دوسرے امور میں تو یہ لوگ پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔
لیکن جب دین اور جہاد کے معاملات آتے ہیں تو یہی شیطانی تصور ان پر چھا جاتا ہے، چنانچہ یہ گمراہ ہو جاتے ہیں اور اپنے دین کی نصرت سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
تو پھر کہاں ہے ان کی عقل؟
اور کہاں ہے ان کی سمجھ، رسول اللہ ﷺ کے اس صاف اور صریح فرمان کے مقابلے میں:
“جہاد قیامت تک جاری رہے گا”
اور اس جیسے بے شمار صحیح احادیث کے مقابلے میں؟
اہلِ بصیرت خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے بارے میں سنت یہی ہے:
محنت، جدوجہد، اسباب اختیار کرنا،
اور یہ بات ہر اس مسلمان کے نزدیک بدیہی ہے جو اپنے دین اور اسلام کی صحیح سمجھ رکھتا ہو۔
پس دین اور اسلام کی نصرت میں محنت اور عمل کو چھوڑ دینا ایک جرم ہے،
اور اس باطل عقیدے کی وجہ سے باطل پرستوں، ظالموں اور کافروں—جو مسلمانوں پر مسلط ہیں—کے مقابلے سے دستبردار ہو جانا جرم پر جرم ہے۔
یہ ایک عظیم مصیبت ہے جو اس بیمار عقیدے میں مبتلا لوگوں کی عقل پر نازل ہوئی ہے،
اور ضروری ہے کہ جلد از جلد ان کا علاج کیا جائے اور انہیں اس ہلاکت خیز مرض سے نجات دلائی جائے۔
اور کیا ہی خوب فرمایا بڑے فقیہ، عظیم عالمِ عامل، صاحبِ بصیرت صوفی بزرگ،
شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمہ اللہ نے:
“مرد وہ نہیں جو تقدیروں کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیروں کا مقابلہ تقدیروں ہی کے ذریعے کرے۔”
اور ایک دوسری روایت میں ان کا قول ہے:
“ہم بہتر تقدیر کی طرف بڑھنے کے لیے کم تر تقدیر سے نکلتے ہیں۔”
یہ ایک نہایت حکیمانہ اور بصیرت افروز کلمہ ہے،
جو شریعت اور عقل—دونوں کا نچوڑ ہے۔
کتاب و سنت میں اس کے دلائل بکثرت موجود ہیں،
اگر انہیں جمع کیا جائے تو ایک مستقل اور عمدہ رسالہ تیار ہو جائے۔
اس کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
اور امام مسلم نے بھی اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:
کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سنہ 17 یا 18 ہجری میں مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔
جب وہ سرغ نامی مقام پر پہنچے—جو حجاز سے متصل شام کے کنارے پر واقع ایک بستی تھی—
تو لشکروں کے امیر، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ان سے ملے،
اور انہیں اطلاع دی کہ شام کی سرزمین میں وبا پھیل چکی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“مہاجرینِ اولین کو میرے پاس بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے ان سے مشورہ کیا اور وبا کی خبر دی۔
ان میں اختلاف ہو گیا:
کچھ نے کہا: آپ ایک مقصد سے نکلے ہیں، ہمیں مناسب نہیں لگتا کہ آپ واپس لوٹیں۔
اور کچھ نے کہا: آپ کے ساتھ عام مسلمان اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں، ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ انہیں اس وبا میں لے جائیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم لوگ اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“انصار کو بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے بھی مشورہ دیا، اور ان میں بھی وہی اختلاف ہوا جو مہاجرین میں ہوا تھا۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم بھی اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“قریش کے ان بزرگوں کو بلاؤ جو فتحِ مکہ کے بعد ہجرت کر کے آئے تھے۔”
میں نے انہیں بلایا، تو ان میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہ ہوا۔
سب نے متفقہ طور پر کہا:
ہم یہ رائے دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں داخل نہ کریں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان فرمایا:
“میں صبح سویرے واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں، تم بھی صبح سویرے روانگی کے لیے تیار ہو جاؤ۔”

اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا:
“کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اے ابو عبیدہ! اگر یہ بات تمہارے سوا کوئی اور کہتا تو میں اسے سخت جواب دیتا۔
ہاں! ہم اللہ کی ایک تقدیر سے نکل کر اللہ ہی کی دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔
ذرا بتاؤ، اگر تمہارے پاس اونٹوں کا ایک ریوڑ ہو، اور تم ایک ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں—
ایک سرسبز و شاداب، اور دوسرا خشک اور بنجر—
تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے میں چَراؤ گے تو بھی یہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا،
اور اگر خشک کنارے میں چَراؤ گے تو بھی وہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا؟”
راوی کہتے ہیں:
اسی دوران حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے، اور وہ کسی ضرورت کے باعث وہاں موجود نہیں تھے۔

وہ مشاورت کے وقت ان کے ساتھ موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا:
میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
“جب تم کسی سرزمین میں اس (یعنی وبا یا طاعون) کے پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ،
اور اگر وہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نکلنے کے لیے نہ بھاگو۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی، پھر واپس لوٹ گئے۔
یہ واضح اور گویا دلیل، اور یہ سچی حدیث، اس باطل اور جھوٹے تصور کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔
اور اس خیال کے پیدا ہونے کا سبب—میرے نزدیک—اسلام کے دشمنوں کے سوا کوئی نہیں،
جنہوں نے اس کے ذریعے بعض سادہ لوح لوگوں کو دھوکے میں ڈالا،
چنانچہ یہ فکر ان کے اندر پیدا ہوئی، ان کے دلوں اور ان کے رویّوں میں جا بسی،
اور یوں دشمنوں کو ان پر غلبہ پانے کے لیے بڑی مشقت اور محنت سے بچا لیا۔
اللہ تعالیٰ امام ابنِ قیم رحمہ اللہ پر رحمت نازل فرمائے،
انہوں نے اپنی کتاب مدارج السالکین (جلد 1، صفحہ 198) میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے،
جہاں انہوں نے اپنے نہایت عمدہ اور بلیغ بیان سے حق کو واضح کر دیا،
اور اپنے کلام سے باطل کو نیست و نابود کر دیا۔

چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
“تقدیروں پر غور و فکر کرنا ایک نہایت تنگ میدان اور سخت معرکہ ہے،
ایسا میدان جس میں بہت سے قدم پھسل گئے،
بہت سی سمجھیں بھٹک گئیں،
اور اس میں چلنے والوں کے راستے جدا جدا ہو گئے،
یہاں تک کہ—چند لوگوں کے سوا—سب ہلاکت کی وادیوں کے کنارے جا پہنچے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو؟
یہ تو ایک ایسا سمندر ہے جس میں سوار کی کشتی پہاڑوں جیسے موجوں میں گھری ہوتی ہے،
یہ ایک ایسا معرکہ ہے جس میں بڑے بڑے بہادروں کی جرأت بھی چھوٹی پڑ جاتی ہے،
اور اس میں عقل مندوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں۔
تمام مخلوق اس کے ساحل تک پہنچتی ہے اور اس میں سوار ہونے کی خواہش رکھتی ہے،
مگر ان میں سے نجات صرف انہی کو ملتی ہے
جو حکم کی کشتی کے پہنچنے کا انتظار کرتے ہیں—
یعنی مشروع اسباب اختیار کرتے ہیں
اور تقدیر کو تقدیر ہی کے ذریعے دفع کرتے ہیں—
پس وہ تقدیر کے سمندر میں حکم (عمل) کی کشتی پر سوار ہوتے ہیں۔
جو شخص اس سمندر میں حکم کی کشتی پر سوار ہوتا ہے،
اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تقدیر کی موجوں سے ٹکر لے،
اور ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے روکے،
ورنہ وہ ہلاک ہو جائے گا۔
پس تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کیا جاتا ہے،
اور یہی اہلِ عزم اور اہلِ معرفت کا طریقہ ہے۔
اور یہی معنی ہیں عارفِ ربانی اور پیشوا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس قول کے:
‘لوگ جب قضا و قدر تک پہنچتے ہیں تو رک جاتے ہیں،
لیکن میں نہیں رکا؛
بلکہ اس میں میرے لیے ایک دریچہ کھول دیا گیا،
تو میں نے حق کے لیے، حق کے ساتھ، حق کی تقدیروں کا مقابلہ کیا۔
مرد وہ نہیں جو تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیر سے کشمکش کرے، نہ کہ اس کے ساتھ بہہ جائے۔’”
اور بندوں کے دنیوی معاملات درست نہیں ہو سکتے
جب تک ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے دفع نہ کیا جائے،
تو پھر ان کے اخروی معاملات کا کیا حال ہوگا؟
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ برائی—جو اس کی ایک تقدیر ہے—
کو نیکی کے ذریعے دفع کیا جائے—اور وہ بھی اس کی تقدیر ہے۔
اسی طرح بھوک اللہ کی ایک تقدیر ہے،
اور اس نے اسے کھانے کے ذریعے دفع کرنے کا حکم دیا ہے،
اور کھانا بھی اس کی تقدیر ہے۔
اگر کوئی بندہ بھوک کی تقدیر کے سامنے—
جبکہ وہ کھانے کے ذریعے اسے دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو—
ہتھیار ڈال دے، یہاں تک کہ مر جائے،
تو وہ نافرمانی کی حالت میں مرے گا۔
اسی طرح سردی، گرمی اور پیاس—سب اللہ کی تقدیریں ہیں،
اور اس نے حکم دیا ہے کہ ان کا مقابلہ ایسی تقدیروں سے کیا جائے جو ان کے مخالف ہوں۔
پس دفع کرنے والا، جسے دفع کیا جا رہا ہے،
اور خود دفع کرنا—سب اللہ ہی کی تقدیر کے تحت ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس مفہوم کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔
لوگوں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ!
یہ دوائیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں،
یہ دم جن سے ہم دم کرواتے ہیں،
اور یہ احتیاطی تدابیر جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں—
کیا یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال دیتی ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ سب بھی اللہ ہی کی تقدیر کا حصہ ہیں۔”
اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:
“دعا اور بلا آسمان و زمین کے درمیان باہم کشمکش میں رہتے ہیں۔”
اور اگر کفار دشمن اسلامی سرزمین پر حملہ کریں،
تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی حملہ کرتے ہیں۔
تو کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے
کہ وہ تقدیر کے نام پر ہتھیار ڈال دیں
اور اس کے مقابلے میں اسی جیسی تقدیر—
یعنی جہاد—کو ترک کر دیں
جس کے ذریعے وہ اللہ کی ایک تقدیر کو دوسری تقدیر سے دفع کرتے ہیں؟
اسی طرح اگر کسی سے گناہ تقدیر کے تحت سرزد ہو جائے،
اور اس نے اسے تقدیر ہی کے تحت انجام دیا ہو،
تو اسے چاہیے کہ اس کے اثر کو سچی توبہ کے ذریعے دفع کرے،
اور توبہ بھی تقدیر ہی کا حصہ ہے۔
تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کرنے کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
ایسی تقدیر کو—جس کے اسباب پیدا ہو چکے ہوں مگر وہ ابھی واقع نہ ہوئی ہو—
اللہ کی ایک دوسری تقدیر کے ذریعے روک دینا،
جیسے دشمن کو اس سے لڑ کر روکنا،
یا گرمی، سردی اور اسی طرح کی چیزوں کو ان کے مخالف اسباب سے دفع کرنا۔
دوسری قسم:
ایسی تقدیر کو—جو واقع ہو چکی ہو اور جم چکی ہو—
ایک دوسری تقدیر کے ذریعے زائل کر دینا،
جیسے بیماری کی تقدیر کو علاج کی تقدیر سے،
گناہ کی تقدیر کو توبہ کی تقدیر سے،
اور برائی کی تقدیر کو نیکی کی تقدیر سے دفع کرنا۔

پس یہ اہلِ معرفت کا طریقہ ہے، اور یہی تقدیروں کا صحیح فہم ہے:
تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دینا نہیں، بلکہ حرکت، تدبیر اور جدوجہد کو ترک نہ کرنا۔
کیونکہ یہ عجز ہے،
اور اللہ تعالیٰ عجز پر ملامت فرماتا ہے۔
ہاں، جب بندہ بالکل مغلوب ہو جائے،
تمام تدبیریں ختم ہو جائیں،
اور کوئی راستہ باقی نہ رہے،
تو اس وقت تقدیر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے،
اور یوں پڑ جانا چاہیے
جیسے میت غسل دینے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،
وہ اسے جیسے چاہے پلٹتا ہے۔
یہاں کلام ختم ہوتا ہے۔
اور تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔
اور آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں
کہ وہ ہمیں جہالت اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھے،
اور ہمیں تمام معاملات میں خصوصاً دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کے باب میں
صحیح رہنمائی اور درست رویّہ عطا فرمائے۔
بے شک وہی بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔
( التصريح بما تواتر في نزول المسيح للعلامة أنور شاه الكشميري تحقيق الشيخ عبد الفتاح أبوغده ص : من الألف إلى اللام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!
۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن

Related Posts

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 18, 2026
  • 0 Comments
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

لمحۂ فکریہ جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی                      کلیم الدین ندوی  مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ   امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی تاریخی کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔   زہران ممدانی ایک مسلمان، سوشلسٹ اور عوام دوست سیاست دان ہیں جنہوں نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ اقتدار ہمیشہ دولت، نسل یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ان کی جیت اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، نمائشی جمہوریت اور چند خاندانوں کی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے متلاشی ہیں جہاں وہ صرف ووٹر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار ہوں۔   یہ بیداری صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ آج ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک اسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمائندہ جمہوریت واقعی عوام کی آواز بن سکی ہے؟ کیا منتخب نمائندے واقعی عوامی مفاد کے ترجمان ہیں؟ یا جمہوریت ایک رسمی رسمِ انتخاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟   امریکہ بھر میں تقریباً ستر لاکھ افراد نے "No to Kings – بادشاہوں کو نہیں” کے نعرے کے ساتھ 2600 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے،یہ نعرہ دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے جو طاقت کے ارتکاز کے خلاف ابھر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازی ہمیشہ سے چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں رہی ہے — خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا غیر منتخب ماہرین۔ یہ طبقہ اکثر اجتماعی فہم کے نام پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتے ہیں۔   صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے تھے، مگر ان کی طرزِ حکمرانی میں فردِ واحد کی آمریت جھلکتی تھی۔ انہوں نے کئی مواقع پر مطلق العنان حکمرانوں کی تعریف کی اور کھلے عام کہا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026
  • کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟ 29.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے 20.07.2026
  • پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں 20.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ 18.07.2026
  • جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی 18.07.2026
  • عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد 10.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟
فقہ و اصول فقہ

کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
مضامین و مقالات

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
مضامین و مقالات

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
اسلامیات

عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top