دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
✍️ڈاکٹر محمد طارق ایوبی
گذشتہ دنوں دہلی میں ایک ڈبیٹ منعقد ہوئی، جس کا عنوان تھا” کیا خدا موجود ہے”، پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا یہ سوال درست ہے، ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خود قرآن وجود باری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے وجود کا احساس دلاتا ہے نہ کہ وجود باری کے ثبوت پر اپنی قوت استدلال خرچ کرتا ہے، قرآن کی نظر میں اصل شے خدا کی طرف بلانا ہے نہ کہ خدا کا وجود ثابت کرنا، علامہ شبلیؒ نے الکلام میں قرآنی طریقہ استدلال کے متعلق جو بحث کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے انسان کے وجدان شہادت کو اپیل کیا جائے اور پھر کائنات کے نظم اور اس کی حکیمانہ ترتیب کی طرف توجہ دلائی جائے، اس تناظر میں آیات قرآنیہ کا مطالعہ کرتے جائیے تو آپ ہی وجود باری کا ثبوت ملتا جائے گا، ساتھ ہی توحید باری کا بھی اثبات ہوتا جائے گا جو کہ عقیدہ اسلامی کا امتیاز ہے،وجود باری کا ثبوت تو کسی کسی نہ کسی صورت میں دیگر مذاہب میں بھی موجود ہے،لیکن تصور وحدانیت ہی دراصل اسلام کا امتیاز ہے، اس لحاظ سے دیکھیے تو قرآن مجید خدا کی صفات کو موضوع بناکر اس طرح گفتگو کرتا ہے کہ وجود باری ، تصور وحدانیت پر بیک وقت استدلال کرتا ہے، اور اس کے لیے اس کا سب سے طاقتور استدلال کائناتی نظم و نسق ہے، جس کا کوئی معقول جواب دینے سے ملحدین بہر حال عاجز رہے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وجود باری کے رد و اثبات کی بحث فلسفہ یونان کی دین ہے، قرآن مجید تو وجود باری کے اعلان کا حکم دیتا ہے، جاہلوں اور منکروں سے اعراض کرتے ہوئے اس اعلان اور موحدانہ موقف پر جم جانے کی تلقین کرتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے یہی آشکار ہے اور یہی دعوت کا نبوی اسوہ اور طریقہ کار ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ اسلامی مزاج اور نبوی منہج کے مطابق دعوت مطلوب ہے یا ڈبیٹ؟ تیسری بات یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات اس ڈبیٹ کے لیے سازگار تھے؟ کیا اس وقت اس ڈبیٹ کا انعقاد دعوتی نقطہ نظر سے مفید تھا یا کیا اس کے کچھ مفید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ آئندہ سطروں میں ان ہی سوالات کے اردگرد گفتگوکرنے کی کوشش کریں گے۔
واقعہ یہ ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات ہمیں اس طرح کے ڈبیٹ کی اجازت نہیں دیتے، اس کا سیاسی استعمال یقینی ہے، ملک میں بلا تفریق مذاہب سماجی انصاف کے لیے سب سے طاقتور آواز اٹھانے والے کمیونسٹ رہے ہیں، جاوید اختر کا تعلق اسی حلقہ سے ہے ، ظاہر سی بات ہے کہ سنگھ اس کو استعمال کرنے میں ذرا بھی نہ چوکےگا، بالخصوص ڈبیٹ کے بعد جس طرح جشن فتح منایا گیا،Post Debate Celebrationدیکھنے میں آیا، پورا سوشل میڈیا مدعو کی تضحیک سے بھر دیا گیا، کچھ اس انداز میں جشن فتح منایا گیا کہ گویا دنیا سے الحاد کا خاتمہ ہو گیا اور منکرین خدا کو نیست و نابود کر دیا گیا، یہ کام خود ڈبیٹ کرنے والوں اور سنجیدہ کہے جانے والے لوگوں کی طرف سے کیا گیا، الحاد کی تجہیز و تدفین کے نعرے بلند کیے گئے، یقینا ان سب وجوہات کے سبب اس ڈبیٹ کو عالمی شہرت ملی، لیکن ساتھ ہی بین السطور اور پس منظر پڑھنے والوں نے اور بہت کچھ پڑھا، جس کا اظہار فی الحال ضروری نہیں، تاہم یہ بتا دینا ضروری ہے کہ اس ڈبیٹ کے جو بھی مفید اثرات پڑ سکتے تھے اس کا موقع ضائع کر دیا گیا، جو جشن منایا گیا وہ داعیانہ نفسیات اور اسلامی مزاج کے یکسر خلاف ہے، اسی کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ شرک کے علمبردار گو کہ خدا کے وجود کے قائل ہیں، لیکن تصور توحید سے بیر ہونے کے سبب نوجوان عالم کے لیے مشکلات کھڑی کرنے پر آمادہ ہو گئے، اس میں شبہ نہیں کہ آج کے نا مساعد حالات میں اس طرح کی سنجیدہ ڈبیٹ کا انعقاد ایک خوش آئند اقدام تھا، گرچہ ہم اس کے قائل نہیں، کیوں کہ ہمارے نزدیک خدا کی طرف بلانا قرآنی اور نبوی منہج ہے نہ کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا، اور پھر ثابت کرنے کے لیے دوسرے کو چیلنج کیا جائے، خود ہی ڈبیٹ کی دعوت دی جائے، یہ تو کسی بھی صورت دعوتی نقطۂ نظر سے درست نہیں، ہاں اس کے کچھ اور مقاصد پیشِ نظر ہوں تو اور بات ، ہم تو اس طرح کے ڈبیٹ کو بہر حال ضرورت اور حالات کے تقاضے کے مطابق ہو ، تو دعوت کا حصہ اور ذریعہ مانتے ہیں ، حالانکہ آگے آپ پڑھیں گے کہ مفتی شفیع صاحبؒ جیسے بڑے عالم ایسے بحث و مباحثہ کو فی الحقیقت دعوت کا کوئی شعبہ بھی نہیں مانتے ۔
اس طرح کی بحثیں مفید کم اور مضر زیادہ ہوتی ہیں، اس طرح کی بحثوں میں عام طور پر مدعو کی ہدایت کا جذبہ کارفرما نہیں ہوتا، وجود باری کے اثبات سے زیادہ اپنی فتح کی فکر دامن گیر ہوتی ہے، دعوت کے راستے مسدود ہوتے ہیں، نفرتیں بڑھتی ہیں، یہی سب کچھ اس ڈبیٹ کے بعد ہوا اور ہو رہا ہے، گرچہ صاحب حق نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا لیکن فریق مخالف اپنی بات پر ڈٹا رہا، عام طور پر ایسے مناظرے لوگوں کے سامنے سوال چھوڑ کر ختم ہوتے ہیں، ایسے میں خام ذہنوں کا نقصان زیادہ ہوتا ہے، کیوں کہ انھیں ان کے سوالات کا جواب نہیں مل پاتا، ایسے سوالات تو عام انسانوں اور کالج کے طلبہ کے ذہنوں میں بھی پنپتے ہیں، لیکن انھیں کوئی چیلنج نہیں کرتا اور وہ خود بھی کسی کو چیلنج کرنے بلکہ اظہار کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے، چیلنج تو جاوید اختر نے بھی نہیں کیا، لیکن اس نے اپنی بات سر عام رکھنے کے لیے چیلنج قبول ضرور کر لیا، جاوید اختر کوئی اکیڈمک انسان نہیں ہے، اس کی شہرت کے عنوان اور ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ منطقی و استدلالی گفتگو کا جواب درکنار، اسے سمجھ بھی نہیں سکے، لیکن انجام کار یہی ہوا کہ وہ سوالات چھوڑ گئے، انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم آپ کو یہاں تک تو لے آئے کہ آج آپ ہم سے اس موضوع پر بات کر رہے ہیں، وہ خام ذہنوں تک یہ پیغام پہنچانے میں بھی کامیاب رہے کہ بہت سے نظریات ختم ہوگئے اسی طرح آج جو نظریات پائے جاتے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے، ظاہر ہے کہ یہ جملہ انتہائی خطرناک اور حضرات علماء کے لیے سنجیدگی کے ساتھ اس کے تدارک کا عنوان ہے، سوالات اور بھی اس ڈبیٹ نے چھوڑے لیکن پھر ان سب سے قطعِ نظر دیگر مقاصد کے پیشِ نظر الحاد کی تدفین کے عنوان سے جشن منایا گیا، میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور جاوید اختر کی پوری گفتگو بھی اس کی دلیل ہے کہ الحاد جدید کا دروازہ عام طور پرفکری ارتداد سے کھلتا ہے، فکری ارتداد اور الحاد جدید کا عہد معاصر میں سب سے بڑا سبب ابنائے اسلام کی مظلومیت، مقہوریت اور مغلوبیت ہے، متکلمین کے لیے جدید ذہن کو اس ناحیہ سے مطمئن کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ یہ بھی متعدد اہل علم مانتے ہیں کہ خالص قدیم علمِ کلام کے سہارے جدید الحاد کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا،غزہ کے تناظر میں یہ سبب اور بھی بڑا چیلنج بن گیا ہے، راقم نے اسی تناظر میں ایک طویل مقالہ ” اسلام کا فلسفہ نصرت و آزمائش ” رقم کیا تھا، اس ناحیہ سے شدید توجہ کی ضرورت ہے، کیونکہ الحاد جدید کا راستہ ڈبیٹ نہیں دعوت اور ابنائے اسلام کا غلبہ ہے، بلکہ اسلام کے غلبہ کی کوشش کا آغاز بھی دعوت سے ہی ہوتا ہے، لیکن دعوت اور اعلان حق بڑی قربانی و آزمائش کی طلب گار ہے، اور ہم اس آزمائش و قربانی کے لیے تیار نہیں، منطق و فلسفہ کا مطالعہ اور رد الحاد کے لیے دلائل کی تیاری بھی اسی دعوتی مقصد کے لیے کی جائے گی، اور اس لیے کی جائے گی کہ ملحدین و منکرین کے شبہات و اعتراضات کا جواب دیا جا سکے، ازالہ کیا جا سکے ، علم کلام کا وجود ہی اس کام کے لیے ہے، یقینا یہ امر بھی ضروری ہے لیکن چیلنج اور ڈبیٹ کے لیے نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر مدعو کی تفہیم اور اس کے اطمینان کے لیے، پھر بھی اگر وہ اپنی بات اور اپنے انکار پر اڑا رہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے گا، تاہم اتنی بات طے ہے کہ اسلام میں گفتگو و مناظرہ کا اصل مقصد مدعو کی ہدایت ہے، مدعو کی شکست اور اس پر جشن اسلامی مزاج کا حصہ ہے ہی نہیں، اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ معاشرہ میں پنپنے والے ایسے رجحانات پر نظر رکھی جائے اور پھر دعوتی نقطہ نظر سے مثبت طریقے سے ان رجحانات کی تردید اور تفہیم کے لیے تحریریں لکھی جائیں، ویڈیو بنائے جائیں اور یہاں علم کلام سے مدد لیتے ہوئے قرآنی طرز استدلال کوخوب خوب برتا جائے،یہ کام مسلسل کیا جائے ، ایجابی انداز میں شبہات و اعتراضات کےازالہ کا سامان کیا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ تسلسل کے ساتھ اس عمل میں محنت زیادہ اور شہرت کم ہے، یہ کام مخلصانہ جدوجہد کا متقاضی ہے ، اب تو صورت حال ایسی پیدا کر دی گئی کہ گویا اب ہر طالب علم کو بس ڈبیٹ کے لیے تیار ہونا ہے ، سب چھوڑ کے بس منطق و فلسفہ پڑھنا ہے ، باقی سب فضول ہے ، جو لوگ دوسرے کام کر رہے ہیں ان کی اب کوئی حیثیت نہ رہی ، حالانکہ یہ سراب اور احساس کمتری کے سوا کچھ نہیں، یہ بھی ایک کام ہے جسکی ضرورت بہت بعد میں پڑتی ہے اور خال خال پڑتی ہے ، اصل تو وہ قرآنی منہج اور طریقہ استدلال ہے جہاں اسکی ضرورت ہی نہیں، اور اگر اسکی ضرورت پڑتی بھی ہے تو دعوتی نقطہ نظر سے تفہیم حق کے لیے ہی پڑتی ہے ، اس لیے کچھ لوگوں کو اس کام کے لیے بھی تیار ہونا چاہیے لیکن دعوت کے عظیم کام کی ذمہ داری بالعموم پوری امت پر اور بالخصوص امت کے ایک مخصوص طبقہ پر ہے ، سوال یہ ہے کہ اس کار عظیم اور فریضہ منصبی سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کتنے لوگ تیار ہیں، اور کتنے لوگوں میں یہ جذبہ انگڑائی لیتاہے ۔
اوپر کی گفتگو سے یہ واضح ہوگیا ہوگا کہ اسلام میں اصل شے دعوت ہے ڈبیٹ نہیں، تاہم اس سلسلے میں ہم یہاں دو آیات کا مطالعہ پیش کرتے ہیں، اور اردو کے بعض معروف و محترم مفسرین کی گفتگو نقل کرتے ہیں تاکہ مدعا مزید واضح ہو جائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ۔ ( نحل -125)
حضرت مولانا علی میاںؒ کی تعبیر کے مطابق ” قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے دعوت کے طریقِ کار کا حدود مقرر نہیں کیے، قرآن کریم نے صرف وسیع حصار قائم کر دیا ہے جس کے اندر دعوت دین کی پوری روح (اسپرٹ) سما گئی ہے” مولانا کے مطابق یہ آیت دراصل داعی الی اللہ کو بتاتی ہے کہ اس کو کس حد تک آزادی دی گئی ہے اور کس درجہ پابند بنایا گیا ہے ، مولانا کے یہ جملے پڑھنے کے لائق ہیں !
"حکمت سے مراد عقل ، دانائی ، سلیقہ ، حسنِ تدبیر سچی اور صحیح بات کو واضح کر کے دل میں اتارنے کا طریقہ ، اس طرح کہ بدانیت یا موقع پرستی کا شائبہ نہ ہونے پائے، سیاست کا اس میں دخل نہ ہو، سیاست الگ چیز ہے اور حکمت و موعظت الگ ہے "
اس آیت کی تفسیر میں مفتی شفیع عثمانیؒ لکھتے ہیں !
"اس آیت میں دعوت وتبلیغ کا مکمل نصاب ، اس کے اصول اور آداب کی پوری تفصیل چند کلمات میں سموئی ہوئی ہے تغیر قرطبی میں ہے کہ حضرت ہرم ابن حیان کی موت کا وقت آیا تو عزیزوں نے درخواست کی کہ ہمیں کچھ وصیت فرمائیے تو فرمایا کہ وصیت تو لوگ اموال کی کیا کرتے ہیں وہ میرے پاس ہے نہیں لیکن میں تم کو اللہ کی آیات خصوصاً سورہ نحل کی آخری آیتوں کی وصیت کرتا ہوں ، کہ ان پر مضبوطی سے قائم رہو، وہ آیات یہی ہیں جو او پر مذکور ہوئیں ۔
دعوۃ کے لفظی معنی بلانے کے ہیں، انبیاءعلہیم السلام کا پہلا فرض منصبی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے، پھر تمام تعلیمات نبوت و رسالت اسی دعوت کی تشریحات ہیں ، قرآن میں رسول اللہ صلی السلام کی خاص صفت داعی الی اللہ ہونا ہے، {وَّدَاعِيًا إلى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا } (احزاب /۴۶) { يٰقَوْمَنَا أَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللهِ} (احقاف : ۳۱) ۔
امت پر بھی آپ ﷺ کےنقشِ قدم پر دعوت الی اللہ کو فرض کیا گیا ہے ، سورۂ آل عمران میں ارشاد ہے : {وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ } (آل عمران : ۱۰۴)” تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہتی جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دے ( یعنی ) نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور ایک آیت میں ارشاد ہے : { وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى الله } ” گفتار کے اعتبار سے اس شخص سے اچھا کون ہو سکتا ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا "۔
تعبیر میں کبھی اس لفظ کو دعوت الی اللہ کا عنوان دیا جاتا ہے، اور کبھی دعوت الی الخیر کا اور کبھی دعوت الی سبیل اللہ کا حاصل سب کا ایک ہے، کیونکہ اللہ کی طرف بلانے سے اس کے دین اور صراط مستقیم ہی کی طرف بلانا مقصود ہے۔
"إلى سَبِيْلِ رَبِّكَ ” اس میں اللہ جل شانہ کی خاص صفت رب ، اور پھر اس کی نبی کریم ﷺ کی طرف اضافت میں اشارہ ہے کہ دعوت کا کام صفتِ ربوبیت اور تربیت سے تعلق رکھتا ہے ، جس طرح اللہ جل شانہ نے آپ ﷺ کی تربیت فرمائی، آپ کو بھی تربیت کے انداز سے دعوت دینا چاہئے ، جس میں مخاطب کے حالات کی رعایت کر کے وہ طرز اختیار کیا جائے کہ مخاطب پر بارنہ ہو، اور اس کی تاثیر زیادہ سے زیادہ ہو، خود لفظ دعوت بھی اس مفہوم کو ادا کرتا ہے کہ پیغمبر کا کام صرف اللہ کے احکام پہونچا دینا اور سنا دینا نہیں بلکہ لوگوں کوان کی تعمیل کی طرف دعوت دینا ہے، اور ظاہر ہے کہ کسی کو دعوت دینے والا اس کے ساتھ ایسا خطاب نہیں کیا کرتا جس سے مخاطب کو وحشت و نفرت ہو یا جس میں اس کے ساتھ استہزاءو تمسخر کیا گیا ہو”۔ ( معارف القرآن /ج5/ص-420)
مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں!
"حکمت” سے مراد یہاں دلائل وبراہین ہیں اور "موعظت حسنہ ” سے مشفقانہ انداز میں تذکیر و تنبیہ ، دعوتِ دین میں یہی دو چیزیں اصول کار کی حیثیت رکھتی ہیں ، آدمی جو بات بھی کہے دلیل و برہان کی روشنی میں کہے اور انداز دھونس جمانے کا نہیں بلکہ اس کے سچے جذ بہ خیر خواہی و ہمدردی کا غماز ہو، تاکہ مخاطب بدکنے کے بجائے اس کی باتوں کو سنے اور ان پر غور کرنے کی طرف مائل ہو، اگر چہ ہٹ دھرم لوگ اس سے بھی نہیں پسیجتے ،لیکن خیر و برکت کا طریقہ ہے یہی ۔ (تدبرقرآن – ج / ۴ ص / ۴۶۳) ۔
مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒکی تشریح بھی پڑھ لیجیے!
"یعنی اس کی نوعیت محض مناظرہ بازی اور عقلی کشتی اور ذہنی دنگل کی نہ ہو ، اس میں کج بحثیاں اور الزام تراشیاں اور چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوں ، اس کا مقصود حریف مقابل کو چپ کر دینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجاد ینا نہ ہو، بلکہ اس میں شیریں کلامی ہو، اعلیٰ درجہ کا شریفانہ اخلاق ہو ، معقول اور دل لگتے دلائل ہوں، مخاطب کے اندر ضد اور بات کی پیچ اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہونے دی جائے، سیدھے سیدھے طریقے سے اس کو بات سمجھانے کی کوشش کی جائے اور جب محسوس ہو کہ وہ کج بحثی پر اتر آیا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائےتا کہ وہ گمراہی میں اور زیادہ دورنہ نکل جائے۔ (تفہیم القرآن – ج/ ۲ / ۵۸۲)
آیت مذکورہ میں دعوت کو جدال پر مقدم رکھا گیا ہے اور جدال کو احسن سے مقید کیا گیا ہے، اتنی بات ظاہر ی عبارت سے واضح ہے، آگے ذرا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی یہ تصریح بھی پڑھیے!
"اوّل حکمت ، دوسرے موعظة حسنه، تیسرے مجادله بالتی ھی احسن بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ تین چیزیں مخاطبین کی تین (۳) قسموں کی بنا پر ہیں ، دعوت بالحکمۃ ، اہل علم و فہم کے لئے ، دعوت بالموعظہ عوام کے لئے مجادلہ ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں شکوک و شبہات ہوں، یا جو عناد اور ہٹ دھرمی کے سبب بات ماننے سے منکر ہوں”۔(معارف القرآن – ج ۵ ص / ۴۰۷ – 4۰۹)
"تعلیمات رسول اللہ ﷺ پر دھیان دیا جائے تو ہر تعلیم و دعوت میں اسی طرح کے آداب واصول ملیں گے، آج کل اول تو دعوت و اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی طرف دھیان ہی نہ رہا، اور جو اس میں مشغول بھی ہیں انھوں نے صرف بحث و مباحثہ اور مخالف پر الزام تراشی ، فقرے کسنے اور اس کی تحقیر و توہین کرنے کو دعوت و تبلیغ سمجھ لیا ہے، جو خلاف سنت ہونے کی وجہ سے کبھی مؤثر ومفید نہیں ہوتا، وہ سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی بڑی خدمت کی، اور حقیقت میں وہ لوگوں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں” ۔ (معارف القرآن – ج ۵ ص / ۴۱۷)
آیت مذکورہ کی تفسیرمیں یہ معلوم ہو چکاہے کہ اصل مقصود ِشرع دعوت الی اللہ ہے، جس کے دو (۲) اصول ہیں، حکمت اور موعظت حسنہ، مجادلہ کی صورت بھی سر آ پڑے تو اس کے لئے بھی اس کی قید لا کر اجازت دیدی گئی ہے ،مگر وہ حقیقتہ ًدعوت کا کوئی شعبہ نہیں، بلکہ اس کے منفی پہلو کی ایک تدبیر ہے جس میں قرآن کریم نے بالتی ھی احسن کی قید لگا کر جس طرح یہ بتلا دیا ہے کہ وہ نرمی، خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبے سے ہونا چاہئے اور اس میں دلائل واضحہ مخاطب کے مناسبِ حال بیان کرنا چاہئے مخاطب کی توہین و تحقیر سے کلی اجتناب کرنا چاہئے، اسی طرح اس کے احسن ہونے کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ خود متکلم کے لئے مضر نہ ہو جائے، کہ اس میں اخلاق رذیلہ حسد، بغض ، تکبر، جاہ پسندی و غیرہ پیدانہ ہوجائیں، جو باطنی گناہ کبیرہ ہیں، اور آج کل کے بحث و مباحثہ ، مناظرہ مجادلہ میں شاذ و نادرہی کوئی اللہ کا بندہ ان سے نجات پائے تو ممکن ہے ورنہ عادةً ان سے بچنا سخت دشوار ہے۔
امام غزالی ؒنے فرمایا کہ جس طرح شراب ام الخبائث ہے کہ خود بھی بڑا گناہ ہے اور دوسرے بڑے بڑے جسمانی گناہوں کا ذریعہ بھی ہے، اسی طرح بحث و مباحثہ میں جب مقصود مخاطب پر غلبہ پانا اور اپنا علمی فوق لوگوں پر ظاہر کرنا ہو جائے تو وہ بھی باطن کیلئے ام الخبائث ہے، جس کے نتیجہ میں بہت سے روحانی جرائم پیدا ہوتے ہیں، مثلا حسد، بغض ، تکبر، غیبت ، دوسرے کے عیوب کا تجسس، اس کی برائی سے خوشی اور بھلائی سے رنجیدہ ہونا، قبول حق سے استکبار، دوسرے کے قول پر انصاف واعتدال کے ساتھ غور کرنے کے بجائے جواب دہی کی فکر خواہ اس میں قرآن وسنت میں کیسی ہی تاویلات کرنا پڑیں۔
یہ تو وہ مہلکات ہیں جن میں باوقار علماء ہی مبتلا ہوتے ہیں، اور معاملہ جب ان کے متبعین میں پہونچتا ہے تو دست و گریبان اور جنگ وجدال کے معر کے گرم ہو جاتے ہیں، انا للہ حضرت امام شافعی ؒنے فرمایا:
"علم تو اہل علم وفضل کے مابین ایک رحم متصل ( رشتہ اخوت و برادری) ہے تو وہ لوگ جنھوں نے علم ہی کو عداوت بنالیا ہے، وہ دوسروں کو اپنے مذہب کی اقتدا کی دعوت کسی طرح دیتے ہیں، ان کے پیش نظر دوسرے پر غلبہ پانا ہی ہے تو پھر ان سے با ہمی انس و مودت اور مروت کا تصور کیسے کیا جاسکتا ہے، اور ایک انسان کے لئے اس سے بڑھ کر شر اور برائی اور کیا ہوگی کہ وہ اسکو منافقین کے اخلاق میں مبتلا کر دے، اور مؤمنین و متقین کے اخلاق سے محروم کر دے۔
امام غزالیؒ نے فرمایا کہ علم دین اور دعوت ِحق میں اشتغال رکھنے والا یا تو اصولِ صحیحہ کے تابع اور مہلک خطرات سے مجتنب رہ کر سعادت ابدی حاصل کر لیتا ہے یا پھر اس مقام سے گرتا ہے تو شقاوتِ ابدی کی طرف جاتا ہے، اس کا درمیان میں رہنا بہت مستعد ہے، کیونکہ جوعلم نافع نہ ہو وہ عذاب ہی ہے، رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "أشد الناس عذاباً يوم القيمة عالم لم ینفعه الله بعلمه ” سب سے زیادہ سخت عذاب میں قیامت کے دن وہ عالم ہو گا جس کے علم سے اللہ تعالی نے اسکو نفع نہ بخشاہو” ۔( معارف القرآن – ج ۵ ص / 4۱۸ و 4۱۹)
یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ جدال احسن کی تلقین قرآن نے بار بار کی ہے، ارشاد باری ہے: وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ۔ ( عنکبوت-46)
صاحب تدبر قرآن تحریر فرماتے ہیں!
"إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ – عام طور پر لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ اہل کتاب میں سے جوشریر اور مناظرہ باز ہیں ، ان کے ساتھ طریقِ احسن کی پابندی ضروری نہیں ہے، ان کو تر کی بہ ترکی جواب دیا جائے لیکن میرے نزدیک یہ استثنائے منقطع ہے ، اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رہے وہ جو ان میں سے شریر اور مناظرہ باز ہیں، تو ان کو سرے سے منہ ہی نہ لگاؤ، قرآن کے نظائر سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے، قرآن میں جگہ جگہ آنحضرت ﷺ کو ضدی اور کج فہم مناظرہ بازوں اور کٹ جحتی کرنے والوں سے اعراض کی ہدایت فرمائی گئی ہے ،سورۂ کہف میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ جو ہٹ دھرم بات سمجھنا نہیں چاہتے ان سے اول تو تعرض ہی نہ کرو، اور اگر کبھی بحث کی نوبت آہی جائے تو بات ٹالنے (مراء ظاہر) کے انداز میں گفتگو کرو، حضرت انبیاء علیہم السلام اور صالحین کا طریقۂ بحث و دعوت ہمیشہ یہی رہا ہے، اور یہی طریقہ خیر و برکت کا طریقہ ہے، شریروں اور کج فہموں کے جواب میں انھیں کی سی روش اختیار کر لینا اور الزام کا جواب الزام اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینا نہ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے اور نہ اس میں کوئی خیر و برکت ہے”۔( تدبر قرآن – ج / ۶ / ۵۵)
صاحب تفہیم کی یہ دل لگتی تشریح دیکھیے!
ان فقروں میں اللہ تعالیٰ نے خود اس عمدہ طریق بحث کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جسے تبلیغِ حق کی خدمت انجام دینے والوں کو اختیار کرنا چاہیے، اس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ جس شخص سے تمہیں بحث کرنی ہو اس کی گمراہی کو بحث کا نقطۂ آغاز نہ بناؤ بلکہ بات اس سے شروع کرو کہ حق و صداقت کے وہ کونسے اجزاء ہیں جو تمہارے اور اس کے دمیان مشترک ہیں، یعنی آغازِ کلام نکاتِ اختلاف سے نہیں بلکہ نکات ِاتفاق سے ہونا چاہیے، پھر انہی متفق علیہ امور سے استدلال کر کے مخاطب کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جن امور میں تمہارے اور اس کے درمیان اختلاف ہے ، ان میں تمہارا مسلک متفق علیہ بنیادوں سے مطابقت رکھتا ہے، اور اس کا مسلک ان سے متضاد ہے۔ (تفہیم القرآن – ج – ۳ /ص/۷۰۹ و۷۱۰)
مفتی محمد شفیع صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں!
"وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي ھِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا – یعنی اہل کتاب سے بحث و مباحثہ کی نوبت آوے تو مجادلہ بھی ایسے طریقہ سے کرو جو بہتر ہو مثلاً سخت بات کا جواب نرم الفاظ سے، غصہ کا جواب برد باری ہے، جاہلانہ شور و شغب کا جواب با وقار گفتگو سے، إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا ،مگر وہ لوگ جنھوں نے تم پر ظلم کیا کہ تمہاری باوقار نرم گفتگو اور دلائلِ واضحہ کے مقابلہ میں ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا تو وہ اس احسان کے مستحق نہیں رہے، بلکہ ایسے لوگوں کا جواب ترکی بہ ترکی دیا جائے تو جائز ہے، اگر چہ اولیٰ اور بہتر اس وقت بھی یہی ہے کہ ان کی بدخوئی کا جواب بدخوئی سے اور ظلم کا جواب ظلم سے نہ دیں، بلکہ کج خلقی کے جواب میں خوش خلقی کا اور ظلم کے جواب میں انصاف کا مظاہرہ کریں ، جیسا کہ دوسری آیاتِ قرآن میں اس کی تصریح ہے 🙁 وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهِ ، وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصّٰبِرِينَ ) "یعنی اگر ظلم وجور کا بدلہ تم ان سے برابر سرا بر لے لوتو تمہیں اس کا حق ہے لیکن صبر کرو تو یہ زیادہ بہتر ہے”۔
اس آیت میں اہل کتاب سے مجادلہ میں جو ہدایت طریقۂ حسنہ کے ساتھ کرنے کی دی گئی ہے۔ یہی سورۂ نحل میں مشرکین کے متعلق بھی ہے، اس جگہ اہل کتاب کی تخصیص اس کلام کی وجہ سے ہے جو بعد میں آرہا ہے، کہ ہمارے اور تمہارے دین میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں، تم غور کرو تو ایمان اور اسلام کے قبول کرنے میں تمہیں کوئی مانع نہ ہونا چاہئے جیسا کہ ارشاد فرمایا: (قُولُواٰ مَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ ) یعنی تم اہل کتاب سے مجادلہ کے وقت ان کو اپنے قریب کرنے کے لئے یہ کہو کہ ہم مسلمان تو اس وحی پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف بواسطہ ہمارے رسول کے بھیجی گئی ہے، اور اس وحی پر بھی جو تمہاری طرف تمہارے پیغمبر کے ذریعہ بھیجی گئی ہے ، اس لئے ہم سے مخالفت کی کوئی وجہ نہیں”۔ (معارف القرآن – ج /٦ -ص/ ٧٠٣و٧٠٢)
آخر میں ہم یہاں ان تین آیتوں پر مزید نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ بات مزید واضح ہو جائے:وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ۔وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ۔اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔( نحل -126-128)
"اور اگر بدلہ لینے یا سزا دینے کی نوبت آئے تو تمہارے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہےبدلہ اسی طرح کا ہونا چاہیئے، اور اگر صبر و تحمل سے کام لے کر ( معاف کر دو)تو صبر کرنے والوں کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے۔ اور صبر سے کام لیا کرو، (حق پر جمنے اور باطل سے دور رہنے کی مشق رکھنا چاہیئے)اور یہ صفتِ صبر اللہ ہی کے فضل سے نصیب ہوتی ہے، اور ان ( نہ ماننے والوں) پر غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہیں کرناہے( مناسب اقدامات کرنے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے ) اللہ پر ہیز گاروں اور نیکوں کاروں کے ساتھ ہے” ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ منہج نبوی اور اسلامی مزاج میں اصل شے دعوت ہے ، دعوت ہی انقلاب کی بنیاد رکھتی ہے ، علانیہ دعوت کے بعد مخالفین کی مخالفت اور پروپیگنڈہ کا دور شروع ہوتا ہے ، پھر وہ مخالفت مزاحمت میں تبدیل ہوتی ہے ، اہل حق کو قربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں، کبھی ہجرت بھی مقدر ہوتی ہے ، کبھی صلح کرنی پڑتی ہے تو کبھی جہاد بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر نصرت خداوندی کا نزول ہوتا ہے ، نتیجہ میں غلبہ و استحکام حاصل ہوتا ہے اور پھر لوگ جوق در جوق حق کی طرف رجوع ہوتے ہیں وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کا نظارہ ہوتا ہے ، اسی کار دعوت کے لیے اگر ضرورت پڑتی ہے تو مجادلہ بھی ہوتا ہے مگر بطریق احسن کی شرط کے ساتھ ہوتا ہے اور فلسفہ و کلام کی تیاری بھی اسی دعوتی نقطہ نظر سے ہوتی ہے ، متکلمین اسلام نے اسی غرض سے علم کلام کے دفتر تیار کر دیے ہیں، جن کو پڑھنے پڑھانے کا مقصد تفہیم و دعوت ہی ہونا چاہیے ، اظہار تعلی یا فتح و شکست کی نفسیات نہیں، کیونکہ اس نفسیات کے ساتھ مناظرہ بازی تفہیم کی راہ ہموار نہیں کرتی بلکہ مدعو کو عام مخاطب سمجھ کے محض لاجواب کرنے کے لیے اسکے منہ میں اپنی زبان رکھی جاتی ہے ، جس کے نتیجہ میں صرف انتشار و تنفر پیدا ہوتا ہے اور اصلاح کے امکانات معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ں