از : مولانا ابو الجیش ندوی
شعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہ
اسلامی سال کے مہینوں میں شعبان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو رجب کی پیاس اور رمضان کی بہار کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چونکہ شعبان رمضان کا مقدمہ ہے، اس لیے اس میں وہی اعمال (روزہ اور تلاوت) مشروع کیے گئے جو رمضان میں کیے جاتے ہیں، تاکہ روح رمضان کی اطاعت کے لیے تیار ہو جائے۔
1. شعبان کی اہمیت اور حکمت
نبی کریم ﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے دو اہم اسباب بیان فرمائے:
اعمال کی پیشی: یہ وہ مہینہ ہے جس میں بندوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔
غفلت کا مہینہ: رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اکثر اس سے غفلتاً اعراض کرتے ہیں، جبکہ اللہ کے نزدیک اس وقت کی عبادت کی بڑی قدر ہے۔
2. اسلاف کا طرزِ عمل: "قاریوں کا مہینہ”
ہمارے اسلاف شعبان کا چاند دیکھتے ہی اپنی ترجیحات بدل لیتے تھے۔
تلاوتِ قرآن: وہ اسے "شہر القراء” (قاریوں کا مہینہ) کہتے تھے۔ کثرت سے تلاوت شروع کر دی جاتی تاکہ زبان رمضان کے لیے رواں ہو جائے۔
مال کی زکوٰۃ: کئی اسلاف اسی مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتے تھے تاکہ غریب مسلمان بھی رمضان کی تیاری کر سکیں اور اطمینان سے روزے رکھ سکیں۔
3. پندرہویں شعبان (شبِ برات) کی حقیقت
اس ماہ کی پندرہویں رات اللہ کی رحمت عامہ کا ظہور ہوتا ہے۔ مستند روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور سب کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے دو بدنصیبوں کے:
مشرک: جو اللہ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک ٹھہرائے۔
کینہ پرور (مشاحن): وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے دل میں دشمنی اور بغض رکھے۔
یہ رات ہمیں پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو درست کریں اور دلوں کو صاف کر لیں۔
4. ایک کسان کی تمثیل (تیاری کا نقشہ)
حضرت ابوبکر بلخی رحمہ اللہ نے کیا ہی خوبصورت نقشہ کھینچا ہے:
رجب: بیج بونے کا مہینہ ہے۔
شعبان: آبیاری (پانی دینے) کا مہینہ ہے۔
رمضان: فصل کاٹنے کا مہینہ ہے۔
اگر آج شعبان میں ہم تلاوت اور استغفار سے اپنے دل کی کھیتی کو سیراب نہیں کریں گے، تو رمضان کی فصل سے مکمل فائدہ اٹھانا مشکل ہوگا۔
حاصلِ کلام اور عملی اقدامات
ہمیں چاہیے کہ شعبان کے باقی ایام میں درج ذیل کاموں کی کوشش کریں:
پچھلے گناہوں سے سچی توبہ کریں۔
روزانہ تلاوتِ قرآن کا ایک نصاب مقرر کریں۔
اپنے دل کو حسد اور کینے سے پاک کریں۔
رمضان کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر خود کو تیار کریں۔