سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر
پرواز رحمانی کی آخری پرواز
معصوم مرادآبادی
میں ابھی ابھی سینئر صحافی اور ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی تدفین میں شرکت کرکے واپس آیا ہوں۔ان کی تدفین میں عوام وخواص کی خاصی بڑی تعداد شریک تھی اور ہر زبان پر ان کی صحافت اورشرافت کے یکساں چرچے تھے۔ بلاشبہ پرواز رحمانی جتنے ذہین، سنجیدہ اورباوقار صحافی تھے، اتنے ہی اچھے اور بااخلاق انسان بھی تھے۔ انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاسبانی کی اور کبھی سنسنی خیزی یا زرد صحافت کو منہ نہیں لگایا۔ وہ اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری آدمیوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک پروفیشن سے زیادہ ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔
پرواز رحمانی کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔آخری دنوں میں انھیں برین ہیمریج کی وجہ سے اوکھلا کے الشفاء اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انھوں نے گزشتہ رات آخری سانس لی۔لوگوں کو امید تھی کہ وہ الشفاء اسپتال سے شفایاب ہوکر واپس آئیں گے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ان سے میرا تعلق اس زمانے سے تھا جب ’دعوت‘ کا دفتر پرانی دہلی کے سوئیوالان علاقہ میں واقع تھا۔ وہیں ان کی رہائش بھی تھی، لیکن جماعت اسلامی کے دفاتر کے ساتھ ’دعوت‘ کا دفتر بھی اوکھلا منتقل ہوا تو وہ بھی بادل نخواستہ اوکھلا چلے گئے، لیکن کافی عرصہ ان کی رہائش سوئیوالان کے پرانے مکان ہی میں رہی۔ وہ ڈی ٹی سی کی بس میں بیٹھ کر روزانہ اوکھلا جاتے تھے اور شام کو کام نپٹاکر گھر واپس آجاتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ”خبرونظر“ کے معیارکو برقرار رکھنا تھا۔’دعوت‘ میں یہ کالم اس کے سابق ایڈیٹر محمد مسلم نے شروع کیا تھا۔ پرواز رحمانی کی صحافتی تربیت بھی محمدمسلم نے ہی کی تھی اور وہ انھیں صحافت میں اپنا رہنما تصور کرتے تھے۔ محمدمسلم کی خوبی یہ تھی کہ ان کا دائرہ بہت بڑا تھا اور وہ سیاست، صحافت اور قیادت کے کارپردازوں سے یکساں تعلق رکھتے تھے، مگر پرواز رحمانی کا معاملہ ان سے مختلف تھا۔ وہ نہایت کم گو اور کم آمیز شخصیت کے مالک تھے۔’دعوت‘ میں لکھے گئے ان کے مستقل کالم ’خبرونظر‘ کا انتخاب 1996 میں شائع ہواتھا، جو 1989 سے 1993 تک کے ‘ خبر و نظر ” کے کالموں کا مجموعہ ہے۔اس مجموعہ کا انتساب مسلم صاحب کے نام کرتے ہوئے پرواز رحمانی نے لکھا تھا کہ:
”مرحوم مسلم صاحب 1982 تک تقریباً 25 سال ’دعوت‘ کے ایڈیٹر رہے اور اسے خون جگر سے سینچا، ویسے صحافت کے میدان میں وہ بہت پہلے سے سرگرم تھے، بات کہنے کا ایک خاص اور دلکش انداز رکھتے تھے اور ’دعوت‘ کاکالم ان کے اسی اسلوب کا آئینہ دار تھا۔ مجھے مرحوم کی رہنمائی اور سرپرستی میں کام کرنے کا شرف کئی برس حاصل رہا۔ خاص طورسے ان کی ادارت کے آخری دور میں ایمرجنسی کے بعد 1977 میں جب ’دعوت‘ کی اشاعت بحال ہوئی تو ’خبرونظر‘ لکھنے کا زیادہ موقع مجھے ہی ملا، جو ہنوز جاری ہے۔قدردانوں اور قارئین ’دعوت‘ کے مشوروں پر میں نے اس کا یہ مختصر انتخاب ترتیب دیا ہے، جسے مرحوم مسلم صاحب کی نذر کرتا ہوں۔“
ان الفاظ سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پرواز رحمانی کی فکر پر مسلم صاحب کا کتنا گہرا اثر تھا۔ ایمرجنسی کے دور میں جماعت اسلامی کے سرکردہ قائدین کے ساتھ ’دعوت‘ کے ایڈیٹر محمدمسلم کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ’دعوت‘ کی اشاعت بھی معطل ہوگئی تھی۔1977 میں جب ایمرجنسی کا خاتمہ ہوااور ’دعوت‘ کی اشاعت بحال ہوئی تو اس کے مقبول ترین کالم ’خبرونظر‘ کو پرواز رحمانی تسلسل کے ساتھ اسی آب وتاب کے ساتھ قلم بند کرتے رہے۔تا وقتیکہ سہ روزہ ’دعوت‘ کو بند کرکے اسے ہفتہ وار کی شکل میں دہلی سے حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔ ’دعوت‘ کی اشاعت دہلی سے شروع ہوئی تھی اور اس نے اردو صحافت میں اپنی سنجیدہ اور معتبر تحریروں سے اپنے قارئین میں بڑا مقام حاصل کیا تھا۔ کئی برس ہوئے جماعت کے ذمہ داروں نے اسے سہ روزہ سے ہفت روزہ کرکے اس کا ادارتی دفترحیدرآباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ہفت روزہ ’دعوت‘ میں بھی پرواز رحمانی کا کالم شائع ہوتا رہا، لیکن اس کی وہ دھار ختم ہوگئی جو خود پرواز رحمانی کی ادارت میں قائم ودائم تھی۔ میں آج تک اس مصلحت کو سمجھنے سے قاصر ہوں جس کے تحت سہ روزہ ’دعوت‘ کابوریا بستر دہلی سے باندھ کر حیدرآباد بھیجاگیا۔ آج ’دعوت‘ میں فکر انگیز مضامین اور تحریروں کی جگہ طویل اور بوجھل مضامین شائع ہوتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ یہ اخبار کسی ایڈیٹر کے بغیر شائع ہورہا ہو۔ ظاہر ہے جس اخبار کی ادارت کے فرائض محمد مسلم، محفوظ الرحمن اور پرواز رحمانی جیسے جیدصحافیوں نے انجام دی ہو، اس کا یوں بے ادارت ہوجانا ہم جیسے اردو صحافت کے طالب علموں کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔
دہلی میں سہ روزہ ’دعوت‘ کے دفتر میں پرواز رحمانی کے ساتھ منجھے ہوئے صحافیوں کی ایک ٹیم تھی جن میں شفیق الرحمن، عقیدت اللہ قاسمی، عمیر کوٹی ندوی، محمدصبغۃ اللہ جیسے سنجیدہ صحافی تھے، مگر آج ’دعوت‘ میں کوئی بھی معروف صحافی نہیں ہے۔
ان کا اصل نام عبدالحق تھا مگر انھوں پرواز رحمانی کے قلمی نام سے شہرت پائی جو سنجیدہ اور مقصدی صحافت کی ایک پہچان بن گیا۔ انھوں نے سہ روزہ ’دعوت‘ میں ’خبرونظر‘ کے عنوان سے کئی ہزار کالم لکھے اور ان میں سے کوئی بھی کالم رواروی میں نہیں لکھا۔ ان کا یہ کالم گہری سوچ اور سنجیدہ فکر کا آئینہ دار ہوتا تھا۔ان کالموں میں ان خبروں کومحور بنایا جاتا تھا جوعام طورپر قارئین کی توجہ حاصل نہیں کرپاتیں،وہ اپنے کالم میں اس خبر کا کوئی نہ کوئی بصیرت افروز پہلو تلاش کرلیتے تھے اور اسے بہت سادہ انداز میں قرطاس پر اتارتے تھے۔ ان کے پیش نظر مثبت انسانی قدریں، صالح طرز زندگی اور معاشرے کی فلاح کا پہلو غالب رہتا تھا۔ مگر اس کے باوجود ان کا انداز ناصحانہ نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ ملک وملت کے بہی خواہ کے طورپر اپنے قلم کو جنبش دیتے تھے۔ طرز تحریر بڑا شگفتہ اور دل نشین ہوتا تھا۔ کبھی کبھی ان کی شوخی گفتار سے بیانیہ بڑا دلچسپ اور لطیف ہوجاتا تھا۔ ’خبرونظر‘ کے مجموعہ کے پیش لفظ میں ڈاکٹر ابن فرید نے پرواز رحمانی کی کالم نگاری کا تجزیہ اس الفاظ میں کیا ہے :
”پرواز رحمانی کے کالموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے قلم کا صحیح استعمال جانتے ہیں۔ وہ اس لیے نہیں لکھتے کہ وہ سہ روزہ ’دعوت‘کے مدیر ہیں، اس لیے ان کو کچھ لکھنا چاہئے۔ وہ اصلاً اس لیے لکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں ہم سب کی زندگی کا ایک مقصد ہے جو اپنے رب کی بندگی، اس کی دنیا میں امن وآشتی، صالح زندگی اور انسانوں میں اخوت اور صلہ رحمی کو فروغ دینا ہے۔ ان ہی اوصاف کے لیے وہ خبروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اپنے تجزیہ کے ذریعہ شرکی نشاندہی اور خیر کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔“
پرواز رحمانی نے اپنی ادارت کے دوران ‘ خبر و نظر ‘ لکھنے کے علاوہ سہ روزہ ’دعوت‘ کے جو خصوصی شمارے ترتیب دئیے وہ اپنے موضوعات اور تنوع کے اعتبار سے منفرد اور یکتا ہیں۔کتابی سائز میں شائع ہونے والے یہ شمارے تعمیری صحافت کا ایک اہم سرمایہ ہیں، جنھیں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’خبرونظر‘ کا تازہ انتخاب بھی منظرعام پر آنا چاہئے۔