HIRA ONLINE / حرا آن لائن
دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے ؟

دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے؟ (اسلامی نقطۂ نظر) دیوالی ہندو برادری کا ایک مذہبی تہوار ہے جس میں روشنی، پوجا، اور خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ میٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، مسلمانوں کے ذہن میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیوالی کے موقع پر کسی غیر مسلم کی دی ہوئی میٹھائی کھانا جائز ہے؟ دیوالی کے موقع پر ہندوؤں کی جانب سے جو مٹھائی وغیرہ دی جاتی ہے ، اگر اس سے متعلق یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہیں چڑھایا ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، تو اس کا استعمال جائز ہے۔ لیکن پھر بھی احتیاط بہتر ہے ۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:’’ولو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لايكفر، وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفياً للشبهة.‘‘(كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج: 6، صفحہ: 754، ط: ایچ، ایم، سعید دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے ؟

Read more

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندویؒعلم، اخلاص اور کردار کا حسین امتزاجآدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرمولانا نذیر احمد ندویؒ کی ولادت 1967ء میں نورنگ آباد شاہی مسجد ضلع اٹاوہ (اترپردیش) میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم جناب عزیز احمد صاحب ریلوے میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے اور ان کی پوسٹنگ ڈونڈلا میں تھی۔ مولانا نے بچپن اور ابتدائی زندگی کا بڑا حصہ اپنے والد کے ہمراہ وہیں گزارا۔والد کے انتقال کے بعد خاندان واپس آبائی وطن اٹاوہ منتقل ہو گیا۔ آپ سات بھائی بہنوں میں سے ایک تھے (چار بھائی، تین بہنیں)؛ جن میں دو بھائی — آپ کے بڑے بھائی اور خود آپ — انتقال فرما چکے ہیں، جب کہ دو بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں۔پسماندگان میں بیوہ اور ایک صاحبزادی شامل ہیں۔تعلیم و تربیتمولانا نے 1979ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا۔ وہیں سے 1986 میں عالمیت اور بعد ازاں1988 میں ادبِ عربی میں فضیلت حاصل کی۔ ندوہ میں آپ نے نہ صرف نصابی علوم حاصل کیے بلکہ عربی و اردو ادب کے گہرے ذوق کو پروان چڑھایا۔بعد ازاں آپ نے جامعہ لکھنؤ سے عربی سے پی۔ایچ۔ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری بھی حاصل کی۔آپ کے علمی و اخلاقی نشوونما میں استادِ محترم مولانا واضح رشید حسنی ندویؒ کی تربیت اور نگرانی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ وہی آپ کے لیے علم و اخلاق کے مینار ثابت ہوئے، اور انہی کے رنگ میں آپ کی شخصیت نکھرتی گئی۔علمی سفر اور تدریسی خدماتتعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ ندوۃ العلماء ہی میں تدریس و تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔آپ عربی زبان و ادب کے نہایت ماہر استاد تھے، اور آپ کا درس ذوق و علم، ادب و اسلوب، اور زبان و بیان کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔آپ صرف ایک مدرس نہیں بلکہ مربی اور رہبر تھے۔عربی، اردو، فارسی، انگریزی اور ہندی — سب پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔سبق کے دوران جب آپ عربی لفظ کا معنی بتاتے، تو صرف اردو ترجمہ پر اکتفا نہ کرتے بلکہ انگریزی، ہندی اور فارسی میں بھی اس کے…

Read more

بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کے حربے

بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کے حربے محمد رضی الاسلام ندوی میرے سامنے تقسیم وراثت کا ایک ایسا کیس آیا ہے جس سے میں حیرت زدہ ہوں کہ لوگ اپنی بہنوں کو وراثت سے محروم کرکے جہنم کمانے کے لیے کتنی کوشش کرتے ہیں – مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کا ایمان ہے کہ ایک نہ ایک دن مرنا ہے ، پھر دوسری زندگی ملے گی تو دنیا کے تمام کاموں کا حساب دینا ہے – اگر دنیا میں کسی کا حق مارا ہوگا تو روزِ قیامت حق مارنے والے کے نیک اعمال اس مظلوم کو دے دیے جائیں گے اور حق مارنے والے کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا – یہ عقیدہ رکھنے کے باوجود لوگ ایسے زندگی گزارتے ہیں کہ لگتا ہے ، نہ انھیں مرنا ہے اور نہ کبھی ان کے کاموں کا حساب و کتاب لیا جائے گا – ایک صاحب کا انتقال ہوا ، جن کے تین لڑکے اور چھ لڑکیاں ہیں – وہ صاحبِ حیثیت اور بڑی پراپرٹی کے مالک تھے – ان کی کل پراپرٹی کی مالیت کا اندازہ سو کروڑ کا ہے – اتنا زیادہ مال دیکھ کر لڑکوں کے دل میں فتور آگیا – انھوں نے اپنی بہنوں کو وراثت سے محروم کرنے کا پلان بنایا – بہنوں سے کہا کہ والد صاحب کی پراپرٹی کو اولاد کے نام منتقل کرنے کے لیے رجسٹرار کے سامنے حاضر ہونا ہے – دو بہنوں نے رجسٹرار کے پاس جانے سے انکار کیا ، چار بہنیں بہکاوے میں آگئیں – انھوں نے رجسٹرار کے پاس جاکر پہلے سے تیار شدہ دستاویز پر دستخط کردیا – بعد میں پتہ چلا کہ جس دستاویز پر انھوں نے دستخط کیے تھے اس پر لکھا ہوا تھا کہ ہم بہنیں بھائیوں کے لیے اپنے حق سے دست بردار ہوتی ہیں – باقی دو بہنوں نے عدالت میں اپنے حق کے لیے کیس دائر کردیا تب بھائیوں نے کہا کہ والد صاحب نے اپنی زندگی ہی میں اپنی کل پراپرٹی اپنے بیٹوں کو ہبہ کردی تھی – باپ نے اگر ایسا…

Read more

سورہ زمر : الوہیت کا عظیم مظہر

آدم علی ندوی زمر کی وجہ تسمیہ اس سورت کا نام سورہ زمر ہے، جو زمرۃ کی جمع ہے، اس کے معنی جماعت یا گروہ کے ہیں، یہ نام اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ سورت کے آخری حصہ کی دو آیات میں دو گروہوں کا تذکرہ ہے۔ وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ (الزمر.٧١۔٧٢۔٧٣) (اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے کیا تمھارے پاس تم میں سے کچھ رسول تمہارے پاس نہیں آئے جو تم پر میری آیتیں تلاوت کرتے تھے اور تم کو اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے وہ لوگ کہیں گے ۔ کیوں نہیں۔ لیکن عذاب کی بات کافروں پر طے ہو چکی تھی۔کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے، پس وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلامتی ہو۔ تم کو مبارکباد ہو، تم ہمیشہ ہمیش کے لیے داخل ہو جاؤ۔) ایک اہل تقوی کا کہ ان کو اعزاز و اکرام کے ساتھ جنت میں داخل کیا جائے گا، یہ جب اپنی جنتوں میں پہنچیں گے تو فرشتے استقبال کریں گے، سلامی و مبارکباد پیش کریں گے اور جنت کے دروازے ان کے پہنچنے سے پہلے…

Read more

بھوپال کی نواب نواب سکندر بیگم کا سفرنامۂ حج

بھوپال کی نواب نواب سکندر بیگم کا سفرنامۂ حج مستشرقین سے ہزار ہا اختلافات اور مغربی کلاسک مفکرین سے سینکڑوں مواقع پر نا موافقت کے باوجود ان کو اس بات کی داد دینا بنتی ہے، کہ ان کے توسط سے بہت سی کتابیں ہم تک پہونچی ہیں۔ گرچہ کہ یہ بھی ایک حقیقت اور تاریخی سچائی ہے کہ ایک زمانے میں مسلمانوں کے کتب خانوں اور متمدن شہروں سے بھر بھر کر کتابیں مغرب تک پہنچائی گئیں۔ شبلی نے کئی جگہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ فلاں کتاب فلاں انگریز مستشرق کے طفیل ہم تک پہونچی ہے۔ ہمارا عام علمی مذاق ایک عرصہ ہوا زنگ کھا چکا۔ اب اس میں فقط اتنی دھار ہے کہ وہ لوگوں کو چوٹ پہونچا سکتا ہے، لطافت نہیں کہ زمانے کو تدبر کی طرف متوجہ کر سکے۔ کتنی ہی ایسی کتابیں ابھی بھی یہاں وہاں کے کتب خانوں میں سڑ رہی اور دیمک کی خوراک بن رہی ہوں گی، جن کے شائع ہو جانے سے کئی مسائل حل ہو سکتے ہوں۔ نواب سکندر بیگم، ہندوستان کی بیگماتی تاریخ میں سر فہرست ہیں۔ جن دو ایک بیگموں کو ہر سطح پر سراہا جاتا ہے ان میں شاید رضیہ سلطان کے بعد نواب سکندر دوسری ہیں۔ بھوپال کی شاندار تاریخ اور تابناک ماضی کی بنیاد گزار۔ ان کا حج کا سفرنامہ ایک سو پچاس سال تک دھول کھاتا رہا، کسی کو اس کی بھنک تک نہ لگی۔ انگریزی میں ترجمہ ہاتھوں ہاتھ ہو گیا، لیکن اردو میں، کہ جس زبان میں اس کو لکھا گیا اس میں غبار آلود ہوتا گیا۔ ؀ حمیت نام تھا جس کا، گئی تیمور کے گھر سے زیرِ نظر کتاب "سفرنامۂ حج” نواب سکندر بیگم کے حج کے سفرنامے کی روداد ہے۔ وہ ہندوستان میں دوسری شاہی خاتون تھیں، جو حج کے پر مشقت سفر پر گئیں۔ اس سفر کی صعوبتیں اس سفرنامے میں بھری پڑی ہیں۔ زیف سید نے اپنی علم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کتاب کو ڈھونڈ نکالا، اس پر تقدیم و تحقیق و تحشیہ کیا اور لوگوں کے روبرو کیا۔…

Read more

الإتحاف لمذهب الأحناف کی اشاعت: علما و طلبا، شائقینِ علم، محققین اور محبانِ انور کے لیے ایک مژدہ جاں فزا

از : عبید انور شاہ علامہ شوق نیموی رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب "آثار السنن” پر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے بیش قیمت حواشی ایک صدی سے طباعت ناآشنا چلے آ رہے تھے. ان حواشی کی اہمیت کے حوالے سے متعدد علما اپنی آراء کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اس بات پر افسوس کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے کہ اب تک ان کی طباعت نہیں ہو سکی. محقق عالم، شامی محدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "الإتحاف لمذهب الأحناف: وهو حواش وتعلیقات نافعة ماتعة جامعة علقها الشیخ الکشمیري علی کتاب”آثار السنن” لعصریه المحدث المحقق النیموی رحمهما اللّٰه تعالی ، ولقد أحسن ”المجلس العلمی” صنعا بتصویر نسخة الشیخ من کتاب ”آثار السنن” المطبوعة فی مجلدین التی ملأ الشیخ بخطه الجمیل حواشیها وبیاضاتها التی بین السطور علما ثمینا وإحالات کثیرۃ غنیة بالتحقیق ، وقد سمیت هذہ التعلیقات والحواشی عند ما صورت بعد وفاته ”الإتحاف لمذہب الأحناف”. قلت: تخریج حوالاتها وتبویبها وتنسیقها دین ثقیل في عنق أصحاب الشیخ وتلامذته الأفاضل ، لا تبرأ ذمتهم إلا بإنجازہ”.شیخ نے ان حواشی کی تخریج، تنسیق و ترتیب، تفصیل و تہذیب کے بعد اشاعت کو علامہ کشمیری رحمہ اللہ کے تلامذہ کے ذمہ بھاری قرض قرار دیا ہے. سن 2015-16 میں راقم جب دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تخصص فی الحدیث میں زیر تعلیم تھا، تو اس وقت علم میں آیا تھا کہ جامعہ علوم اسلامیہ بوری ٹاؤن کراچی میں ان حواشی پر مستقل کام چل رہا ہے. اس کام میں شریک ایک کرم فرما کی عنایت سے اس محقق کام کے ابتدائی پچیس تیس صفحات مطالعہ کا بھی موقع ملا تھا. ان صفحات میں بعض جگہ غالباً صرف اپنی کوتاہ نظری کے نتیجے میں کچھ چیزیں مزید بہتر کرنے کی گنجائش نظر آئی تھی، اور ذمہ داران تک یہ بات پہنچائی گئی تھی. پھر سال گزرتے رہے، اس کام کی تکمیل اور اشاعت کے بارے میں مسلسل معلوم کرتا رہا. الحمد للہ اب یہ کتاب دو جلدوں میں اعلی طباعت کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے. ان حواشی پر تحقیقی…

Read more