ہیرا جو نایاب تھا
ہیرا ” جو نایاب تھا 🖋️ از مـحمد کیـفــــ قـریشـی علیا اولی شریعہ ، تکمیلدارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ* زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیراسفر ۔ •_ یقینا وہ بہت انوکھا تھا ، اسی کی بات نرالی تھی ، اس کی مثال تو نایاب ہیرے کی سی تھی جس کے علم و عرفاں کی تابانی و ضوفشانی سے ہر کسں و ناکس مستفید ہوتا رہا ۔ وہ’ وہ’تھا ” کہ اصاغر جس کے دلدادہ ہوں ، معاصر جس پر رشک پا ہوں ، اور اکابر جس کے مداح ہوں ، ایسا شخص جس نے پوری زندگی سب کا برابر احترام کیا، کہیں فرق مراتب روا نہ رکھا ، ہر شخص کو اس کا مقام دیا ، اور گویا پوری زندگی أنزل الناس منازلھم کی بے مثال تصویر پیش کرتا رہا ، اس کی جوانی و بڑھاپا ندوے میں گزرا ، ٣٧ سال ندوہ کی خدمت کی ، اور اپنے علم سے طلبہ کو سیراب کیا ، لیکن مجال ہے” کہ کسی شخص نے آپ کے متعلق ایک لفظ منفی کہا ہو ، غلط تاثر کا اظہار کیا ہو، لیکن یہ بچشم خود مشاہدہ ہے کہ آپ کا معاصر ہو یا شاگرد ، ملازم ہویا خادم ، غیرب ہو یا غنی ، عام ہو یا خاص الغرض ہر بندہ خدا آپ کے فضل و کمال ، نیک سیرت و حسن اخلاق پر رطب اللسان ہے ، ہر کسی کی زبان آپؒ کی خوبیوں سے معطر ہے ، کسی بھی محفل میں نذیر بے نظیر کا ذکر آ ۓ تعریف و توصیف کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں ۔اس کے پاس کوئ عہدہ تھا نہ منصب ، اور نہ کسی ذمہ داری سے منسلک ، لیکن کبھی اس کا شکوہ نہ کیا ،کہیں بیان نہ کیا اور ایک لفظ زبان سے نہ نکالا ، خاموشی میں بہتری سمجھی ، سکوت میں خیر جانا اور گمنامی میں عافیت محسوس کی ، کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ دنیا وما فیہا کی حقیقت و حیثیت سراب کی مانند ہے ،یہاں کی ہر…
Read more