HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سیاحت نامۂ علمی ( قسط ششم )

ظہر کی نماز باجماعت یونیورسٹی کی جامع مسجد میں ادا کرچکنے کے بعد لکھنؤ کے لئے روانہ ہونے کا وقت آگیا، دوپہر ساڑے تین بجے کے قریب آنے والی ٹرین سے جانے کا ارادہ تھا، بد قسمتی یہ کہ کنفرم ٹکٹ ملا بھی نہیں اور لینے کی کوشش کی بھی نہیں، پھر تو وہ سب ہوا جو نہیں ہونا تھا۔ ریلوے اسٹیشن سے جنرل ٹکٹ لینے کو تو لے لیا، لیکن جیسے ہی چُھک چُھک کرتی ٹرین رُکی دل میں دَھک دَھک سا ہونے لگا، ازدحام، بھیڑ بھاڑ ، ہجوم، جمگھٹ، انبوہِ کثیر، غرض پوری ٹرین انسانیت سے کھچا کھچ بھری پڑی تھی، بیچارے رفقاء ابتداء تو ایک دوسرے کو دھیمے دھیمے لہجہ میں صلواتیں سناتے ہوئے ڈبہ میں چڑھ گئیں، لیکن وہاں قدم رکھنا تو کُجا سانس لینے کی بھی جگہ نہیں تھی، ناک اپنا کام کریں تو بدبو سے ماؤف ہوجائے، منھ سے جباہی لیں تو پسینہ کی کھٹاس سے بند کرنا پڑیں، خدا خدا کرکے ٹرین کو چھوڑ دینے میں ہی عافیت سمجھی اور ڈبہ سے اتر گئے۔ لیکن لمحہ بھر میں عزم وارادہ کا بدلنا، رائے پر نظرِ ثانی کرنا کوئی انسان ہی سے سیکھے، غور کیا مشورہ ہوا یہ طے پایا کہ کچھ بھی ہوجائے اسی ٹرین سے لکھنؤ جانا ہے، لہذا دوبارہ دوسرے ڈبہ میں چڑھ گئے ، دھیمے دھیمے لہجہ سے آگے بڑھ کر چلچلاتی گرمی میں کچھ بلند آواز میں ملامت، فضیحت اور ایک دوسرے پر سرزنش ہونے لگی، مئی مہینہ میں دوپہر کی چلچلاتی دھوپ اور یوپی کی گرمی ایک طرف۔ بھیڑ بھاڑ، ازدحام اور ہجوم الگ رہا، اس پر مستزاد یہ کہ شدید گرمی میں خُراماں خُراماں چلتا ہوا پنکھا بھی بند ہوگیا، کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، سامان اور بیگ ابھی تک ہاتھوں میں ہے، دو ڈبوں کے درمیان کی گلی میں محض قدم رکھنے کی سعادت ملی، دو تین گھنٹہ اسی حال میں گزار کر کچھ جگہ میسر آئی۔ بہر حال کچھ گھنٹوں کے بعد بیٹھنے کی کچھ سہولت میسر آئی لیکن بجلی پنکھا ابھی تک بند ہی تھا جو رات دس بجے…

Read more

اُسوۂ ابراہیمی : سرِ تسلیم ہے خم تیری رضا کے آگے

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ: المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد آج قربانی کا عظیم الشان دن ہے، ہم اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کریں گے،عید الاضحی ہمارے دو سالانہ تہواروں میں ایک ہے، ہم آپ کو دل کی گہرائیوں سے عید الاضحی کی مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہم ان ایام میں خوشی کا اظہار کریں گے، اور قربانی کے گوشت سے کام و دہن کی لذت کا سامان کریں گے، جلد ہی قربانی کے تین دن گزر جائیں گے، اور پھر وہی زندگی، وہی شکوے غم دوراں کے، غم جاناں کے، پھر وہی قصے آن اور بان کے، تنگی گذران کے: وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال وپر کا ہے خوشا وہ کاروان ایمان وعمل جس نے یہ قربانی ابراہیم و اسماعیل علیہما الصلاۃ والسلام کی نقل میں اور ملت ابراہیمی کی اتباع میں کی، کاش وہ ہر ہر عمل میں ان کو اپناراہنما اور رول ماڈل بنالیتا، ایسا تو نہیں انہوں نے زندگی میں تنہا یہی ایک قربانی دی تھی، وفا شعارباپ اور فرماں بردار بیٹے نے کیا خود کو خدا کے سپرد نہیں کردیا تھا! کیا سر تسلیم خم نہیں کردیا تھا! کیا اپنے جذبات کو اپنے رب کریم کے حکم کے تابع نہیں بنادیا تھا! یقینا ًوہ حکم کے بندے اور اشارۂ چشم وابرو کے پابند تھے، ان کی زندگی میں’کیا،’کیوں‘ اور’کیوں کر‘ کے سوالات باقی نہیں رہے تھے، وہ عجز کے اسرار سے محرم تھے، انہوں نے حق کے جس راستہ کا انتخاب کیا تھا اس میں بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار تھے، سچ پوچھئے تو آج بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے موجود ہے، یہ ہماری پسند ہے کہ کیا ہم اس شاہراہ پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوبچپن سے ہی رشدوہدایت کا تمغہ عطا ہوگیاتھا، اسی کا فیض اثر تھا کہ بت پرستی سے حد درجہ نالاں، بیزار ونفور، گھراور بازار میں معبودان باطلہ کی بے وقعتی کا بار بار اظہار ہورہا ہے، قوم کو…

Read more

سیاحت نامۂ علمی(قسط پنجم) ✍️ معاویہ محب اللہ مولانا آزاد لائبریری

لائبریری اور کتب خانے ایک تمدن کی زینت ہوتے ہیں، جوں ہی کتب خانے رُو بزوال ہوتے ہیں تو تمدن بھی اجڑنا شروع ہوجاتا ہے، اس طرح رفتہ رفتہ کتاب پڑھنے والے معاشرہ سے ختم ہوجاتے ہیں، چنانچہ ہم نے مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی وہاں کی لائبریری دیکھنے کا قصد تھا جو ’’مولانا آزاد لائبریری‘‘ کے نام سے موسوم ہے، چونکہ راقم الحروف اور رفیقِ سفر مولانا سیف اللہ صاحب کو کتابوں کی لاعلاج بیماری لگی ہوئی ہے اور طُرفہ تماشا یہ کہ اس بیماری پر بجائے علاج کرنے کے فخر محسوس کررہے ہیں، اس لئے جہاں کتاب دیکھی عشق ہوگیا، دل دے بیٹھے، اس سے باتیں کرنا شروع کرلیا، اس کے ساتھ محبوبہ کی طرح عمر بھر کا عہدِ وفا باندھنے کا عزم کرلیا، جیسے ہی یہ سب احوال طاری ہوتے رفقاء سفر متنبہ کرتے، عشق لڑانے سے انکار کرتے، عہدِ وفا کو عمر بھر کے بجائے محدود کرلینا پڑتا اور دل واپس لے آتے ۔ہا۔۔ہا۔۔ بہر کیف احباب کو اس بیماری کا شدید خطرہ تھا کہ کہیں یہ بیماری ناسور بن کر درازیِ وقت کا باعث نہ بن جائے جو اس سفر کے لیے محدود ہے،شاعر نے خوب کہا ہے؛ قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں کیٹلاگ سازی لائبریری میں داخل ہوتے ہی اندر کی گلیوں میں داہنی جانب کیٹلاگ کی الماریاں رکھی ہوئی ہیں، موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر جیسے وسائل نے کام بہت آسان کردیا ہے، لیکن جس زمانہ میں ان جدید وسائل وذرایع کا عام رواج نہیں تھا اس وقت لائبریری میں کیٹلاگ سازی کا نظام کافی خوبصورت انداز میں ہوتا تھا، آج بھی لائبریری میں وہ یادگار موجود تھی۔ اس کی ترتیب یہ تھی کہ ایک شعبہ کے لئے لکڑی کی ایک تجوری ہے، جس میں چھوٹے چھوٹے ڈبّے (گلّہ) رکھے ہوئے ہیں، ہر ڈبہ میں بہت سارے کارڈ ہے، ہر کارڈ پر مستقل ایک کتاب کی تفصیل درج ہوتی ہے ; نام کتاب، مصنف کا نام ، طباعت وسن طباعت، ناشر، کتاب کہاں سے دستیاب ہوئی۔الغرض ہر ڈبہ…

Read more

سیاحت نامۂ علمی (قسط چہارم) ✍️ معاویہ محب اللہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ

۹؍مئی کی صبح کو راقم اپنے رفقاء سفر سمیت ہندوستان کی علمی وفکری یادگار اور سر سید کی خدمات کا بولتا ہوا بے لوث ثبوت ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ کی زیارت کے لئے روانہ ہوگیا، جس وقت ہندوستان میں انگریز حکومت کا تسلط تھا اور مسلمان علمی وفکری اعتبار سے تو پسماندہ تھے ہی ساتھ عصری علوم سے بھی برادرانِ وطن کے مقابل میں بہت پسماندہ تھے، انگریزی تعلیم ،سائنس اور عصری علوم ; غرض ہر شعبہ میں مسلمانوں کے افراد کھال کھال نظر آتے تھے، ایسے میں ایک مسیحا نے انگریزی تعلیم، سائنس اور عصری علوم کی صدا اس زور سے بلند کی کہ آج تک اس کی صدائے باز گشت سنائی دے رہی ہے، حضرت الاستاذ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے اپنی کتاب میں سر سید کو ان الفاظ سے خراجِ تحسین پیش کیا ہے؛ ’’ہندوستان میں مسلمانوں کی عصری تعلیم میں حصہ داری کی جو بھی تاریخ لکھی جائے گی اور اس سلسلے میں ملتِ اسلامیہ کے جس محسن کا نام جَلی اور روشن حرف میں لکھا جائے گا وہ یقیناً سر سید احمد خاں ہوگا‘‘ (وہ جو بیچتے تھے دوائے دل،۷۵)۔ انیسویں صدی کی سترہویں دہائی میں سنہ ۱۸۶۹ ء میں سر سید نے انگلستان کا سفر کیا، انگریزوں سے ملاقات اور مغربی ملک اور اس کی تہذیب کو قریب سے دیکھنے کے باعث ان کے دل میں شدید داعیہ پیدا ہوا کہ مسلمانوں کو عصری علوم سے آشنا کیا جائے ، اس کے لئے انہوں نے علیگڑھ میں ’’مدرسۃ العلوم‘‘ جو بعد میں چل کر ’’ اینگلو اورینٹل کالج‘‘ اور آخر میں ’’ مسلم یونیورسٹی‘‘ کے نام سے معروف ہوا; ادارہ کی داغ بیل ڈالی، انہوں نے اس کو اسکول کی سطح سے بلند کرکے محض کالج اور یونیورسٹی کی حد تک ہی نہیں پہنچایا بلکہ اس صدا کو بطور تحریک اس بلند آہنگی کے ساتھ پھیلایا کہ کان پڑی مخالف آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی، گویا اسے مستقل جدید علوم کی تحریک کے طور پر وجود بخشا، اس کی برکت یہ ہے کہ اب تو…

Read more

*عورتوں کا حقِّ وراثت __ اور ___* *موجودہ ہندوستانی مسلم معاشرہ* از: محمد رضی الاسلام ندوی

کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی ملکیت میں رہنے والی تمام چیزیں (زمین ، جائیداد ، مکان ، دکان ، نقدی وغیرہ) اس کے قریبی رشتے داروں میں تقسیم ہوں ، اسے وراثت کہتے ہیں ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ مختلف سماجوں میں جو شخص زور آور ہوتا ہے وہ اس پر قبضہ کرلیتا ہے اور میّت سے اپنے برابر یا اپنے سے زیادہ قریبی تعلق رکھنے والے دوسرے لوگوں کو محروم کر دیتا ہے ۔ یہ عمل صدیوں سے جاری ہے ۔ عورتیں مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں اپنے جائز حقِ وراثت سے محروم رہی ہیں اور عموماً انھیں نظر انداز کیا گیا ہے ۔ وراثت کا حق دار صرف بڑا لڑکا ہوتا تھا اور بیوہ اور لڑکیاں اس کے رحم و کرم پر ہوتی تھیں ۔ لڑکا نہ ہوتا ، تب لڑکیاں میراث پاتی تھیں ۔ اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے عورتوں کو سماج میں مردوں کے مساوی حیثیت دی اور انھیں بھی وراثت کا مستحق قرار دیا ۔ قرآن کریم نے پوری صراحت اورقوت کے ساتھ اس کا اعلان کیا ہے : ” مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے ۔“ (النساء : 7) اس آیت میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مالِ وراثت چاہے زیادہ ہو یا کم ، ہر حال میں عورتیں بھی اس میں سے حصہ پائیں گی ۔ ساتھ ہی ’مقرّر حصہ‘ کہہ کر مزید تاکید کردی گئی ہے کہ مالِ وراثت میں عورتوں کا حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی کی جاسکتی ہے نہ انھیں بالکلیہ محروم کیا جاسکتا ہے ۔ وارثین میں تین خواتین ایسی ہیں جو کسی بھی حال میں بالکلیہ میراث سے محروم نہیں ہوتیں : وہ ہیں ماں ، بیوی اور…

Read more

سیاحت نامۂ علمی(قسط سوم) ✍️ معاویہ محب اللہ علیگڑھ کی طرف روانگی

تاج محل کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہو جانے کے بعد ظہرانہ کے لئے جناب ظل الرحمن صاحب کے دولت کدے کے لئے روانہ ہوگئے، بہر حال مہمان خانہ پہنچے تو چند ساعات ٹھہرنے کے بعد کھانے کے لئے بلادئے گیے، کھانا تو کھایا جو کھایا، اس کے بعد ظہر کی نماز کے لئے مسجد روانہ ہو گئے، نماز سے فراغت کے بعد اگلی منزل علیگڑھ کے لئے روانہ ہونے کی پلاننگ ہوئی، اس میں یہ طے پایا کہ چار بجے چلنے والی اے- سی بس سے علیگڑھ کے لئے روانہ ہونا ہے، بہر حال اس بس میں بیٹھنے ہی والے تھے کہ آگرہ کی معروف میٹھائی جسے ” پیٹھے” کہا جاتا ہے لے لیا، میٹھا کھاکر سوگئے، پھر اٹھے دوبارہ ناشتہ کیا، ان سب ناز نخروں میں غروب کے وقت علیگڑھ تھے، یہ تھے آگرہ میں گزارے ہوئے آخری لمحات اور علیگڑھ کی آمد آمد ! علیگڑھ آنے سے قبل ہی ہم نے عزیز دوست اور رفیقِ درس مفتی اسجد حسن ندوی کو فون ملایا ، اللہ تعالی ” مدرسۃ العلوم الاسلامیہ” کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے اور رفیقِ محترم مفتی اسجد حسن ندوی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے ! علیگڑھ میں قیام وآرام کا یہی ایک آخری سہارا تھا جس کا اللہ تعالی نے ہمارے لئے انتظام فرمایا تھا۔ مدرسۃ العلوم الاسلامیہ لندن سے واپسی کے بعد سر سید احمد خاں نے علیگڑھ میں کالج قائم کرنے کا ارادہ کیا تھا، اسی ارادہ کی تکمیل کے لئے ابتداء میں ’’مدرسۃ العلوم‘‘ کے نام سے عصری ادارہ ودانش گاہ کی بنیاد ڈال دی، جو بعد میں جاکر پہلے ’’ اینگلو اورینٹل کالج‘‘ اور آخر میں ’’مسلم یونیورسٹی علیگڑھ ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ علیگڑھ میں واقع ’’مدرسۃ العلوم الاسلامیہ‘‘ بھی وہی سرسید کے قائم کردہ ’’مدرسۃ العلوم‘‘ کی بھولی بسری یاد ہے، مدرسۃ العلوم ایک کالج اور عصری تعلیم کا ادارہ تھا، لیکن علیگڑھ کے غیور مسلمانوں نے اسی نام سے دینی وعلمی ادارہ کا دوبارہ احیاء کیا، آج کل وہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شاخ کے طور…

Read more