HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سیاحت نامۂ علمی (قسط اول) ✍️ معاویہ محب اللہ

کہا جاتا ہے اور اپنے کانوں نے بھی یہ صدائے بازگشت سنی ہے کہ سفر سے آدمی میں تجربات امنڈ آتے ہیں، مختلف مقامات کی سیر سے دل ودماغ میں فرحت وتازگی دوڑ جاتی ہے، جنونِ بادیہ پیمائی سے علم میں وسعت، فکر میں توازن پیدا ہوجاتا ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ مختلف المزاج، رنگینئ طبع اور فکری شخصیات اور ان کے کارناموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع میسر آتا ہے، چنانچہ اسی تفریحِ طبع کے لئے "علمی سفر” کہہ لیجئے یا "علمی مقامات کی سیر” کا عنوان دیجئے ارادہ کرلیا۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ 7 مئی 2024 کو پورے ملک میں وزیرِ اعظم کے انتخابات کا دن تھا، ہر شخص کی زبان پر بس ووٹ ووٹ اور دماغ پر انتخابی فکر سوار تھی، چنانچہ ہم نے بھی اسی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ووٹ دیا۔ بہر حال قیل وقال اور حیل وحال کے ساتھ ووٹنگ کی شام ساڑھے سات بجے پالنپور سے چلنے والی ٹرین "سابرمتی گوالیار ایکپریس” کے لئے انتظار کی گھڑیاں کاٹنے میں مشغول ہوگیے،اچانک دیکھتے ہی دیکھتے ٹرین کا ہارن بجا اور الحمد للہ رفقاء سمیت راقم بھی سوار ہوگیا، چونکہ ٹکٹ اے سی کلاس میں تھا اس لئے انتہائی آسائش وآرام کے ساتھ گزر رہا تھا، لیکن خواہ سفر کتنا ہی آسائش وآرام دہ ہو وہ سفر ہی ہے، مصائب وآلام اس کا جزو لاینفک ہے، اگرچہ سفر میں اعضاء بدنی پر کوئی خراش نہ بھی پہنچے، پیشانی پر پسینہ کا ایک قطرہ نہ بھی بہے، پھر بھی تھکن وتعب تو اس کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود چونکہ سفر مقصود نہیں ہوتا بلکہ مقصود وہ منزل ہوا کرتی ہے جہاں کے لئے سفر کیا جارہا ہے، اس لئے یوں پھسلا کر ان تکالیف کو جھیل لیا جاتا ہے، لہذا ہمارا یہ کارواں بھی جانبِ منزل رواں دواں ہوگیا۔ بالکل ایسے ہی ہماری یہ زندگی بھی ایک چند روزہ سفر ہے بس بہت ہی مختصر حیاتِ مستعار گزار کر اصل منزل(آخرت) کی طرف روانہ ہوجانا ہے، یوں کرکے زندگی کے مصائب وآلام،مشکلات اور حوادثِ ایام…

Read more

قربانی ، زکوٰۃ ، اور مالی جہاد کے سب سے زیادہ مستحق غزہ اور فلسطین کے لوگ ہیں

*از: شیخ احمد الریسونی* سابق صدر الاتحاد العالمی لعلماء المسلمين ترجمانی: اسجد حسن ندوی چند ہفتوں کے بعد اس سال کی (1445ء) عید الاضحی آنے والی ہے ، عید الاضحی کی ایک اہم عبادت قربانی ہے ، جمہور علماء کے نزدیک قربانی سنت یا سنت مؤکدہ ہے ، صاحب نصاب لوگ اپنی جانب سے اور اپنے اہل و عیال کی جانب سے قربانی کر کے خود بھی کھاتے ہیں ، اور لوگوں کو بھی کھلاتے ہیں اور بطور صدقہ تقسیم بھی کرتے ہیں ۔ *قربانی کرنے، اور اس کی قیمت مسکینوں میں صدقہ کرنے کے سلسلے میں فقہاء کے مابین اختلاف رہا ہے کہ ان میں سے کون سا عمل افضل ہے ؟* بعض علماء بالخصوص صحابہ و تابعین نے قربانی پر صدقہ دینے کو ترجیح دی ہے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے کہ ” مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں مرغ کی قربانی کروں ، لیکن اس کی قیمت کسی یتیم یا بے گھر کو صدقہ کرنا میرے نزدیک اس قربانی سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے” ۔ اسی طرح امام شعبی کا بھی یہ قول ہے کہ ” تین درہم صدقہ کرنا قربانی سے زیادہ عزیز اور پسندیدہ ہے” ۔ البتہ جمہور فقہاء کی رائے اس کے بر خلاف ہے ، ان کے نزدیک قربانی کرنا صدقہ کرنے سے افضل ہے ، کیونکہ صدقہ انسان سال کے بارہ مہینے بھی کر سکتا ہے ، لیکن قربانی شعائر اسلام میں سے ایک خاص شعار ہے ، اور یہ ان چھ چیزوں میں شامل ہے ،جن کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے ۔اور اس کو سال میں ایک بار ہی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، مزید یہ کہ اس میں صدقہ اور غریبوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے ، اور یہ بھی ایک طرح کا صدقہ ہی ہے ۔ اور یہی قول عام حالات میں راجح اور معتمد علیہ بھی ہے ، لیکن ضرورت کے پیش نظر غیر معمولی صورتوں کا جائزہ لینا ، اور خصوصی طور پر ایسے لوگوں کے لیے فتویٰ جاری کرنا…

Read more

ذکاوت وذہانت کی اہمیت اورکچھ نادر واقعات

*ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی* *استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد* ذکاوت وذہانت، جسے انگریزی میں’’Intelligence‘‘کہا جاتا ہے، انسان کی ایک ایسی فطری خوبی ہے جو اُسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے، یہ ایک ہمہ گیر صلاحیت ہے جو مختلف شعبوں میں کامیابی کے لیے نہایت اہم ہے، ذکاوت کی تعریف مختلف انداز میں کی جا سکتی ہے، لیکن عمومی طور پر یہ ذہنی قابلیت، تیزفہمی، دقت نظر،حکمت ودانائی، فراست،’’ سرعۃ البدیہۃ‘‘ ( حاضر جوابی اور بروقت فیصلہ لینے کی صلاحیت) اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی لیاقت جیسی خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے ذکاوت، فراست اور دور اندیشی جیسی صفات بہت اہمیت رکھتی ہیں، ابن جوزی نے کتاب الاذکیاء کے مقدمہ میں لکھا ہے: ’’فإن أجلّ الأشياء موهبة العقل، فإنه الآلة في تحصيل معرفة الإله، وبه تضبط المصالح، وتلحظ العواقب، وتدرك الغوامض، وتجمع الفضائل‘‘(عقل سب سے بڑی بخشش ہے ؛کیوں کہ وہ اللہ کی معرفت کا ذریعہ ہے،اور اسی سے نیکیوں کے اصول بنتے ہیں، اور انجام کا لحاظ کیا جاتا ہے،اور باریکیوں کو سمجھا جاتا ہے،اور فضائل حاصل کئے جاتے ہیں) (کتاب الاذکیاء، ابن الجوزی،مکتبۃ الغزالی،ص۵،اردو ترجمہ: لطائف علمیہ، مولانا اشتیاق احمد صاحبؒ،اسلامی کتب خانہ،لاہور،۱۳۷۲ھ)۔ ذکاوت کی بہت سی قسمیں ہوسکتی ہیں، علمی ذکاوت جس میں منطقی انداز فکر، ریاضیاتی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور تجزیاتی فہم شامل ہیں، یہ تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے اہم ہے، اسی طرح تخلیقی ذکاوت نئے اور منفرد خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں،اس میں آرٹس، سائنس اور ادب کے میدان میں نئی راہیں کھولنے کی قابلیت شامل ہے،ذکاوت کی بدولت انسان مختلف چیلنجوں کا سامنا کر سکتا ہے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، ذکاوت کے بغیر کسی بھی قسم کی تعلیمی، پیشہ ورانہ یا ذاتی واجتماعی کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، ذکاوت ایک فطری نعمت ہے، مگر اسے تعلیم و مطالعہ اور صحت مند طرز زندگی جیسے مناسب غذا، ورزش اور اچھی نیند کے ذریعہ بڑھایا جاسکتا، اس سے ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد…

Read more

اسلم جاوداں کی تصنیف : میری نظر میں از: انوار الحسن وسطوی

زیر تبصرہ کتاب ” میری نظر میں ” ڈاکٹر اسلم جاوداں کی تنقیدی ، تبصراتی اور تاثراتی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ یہ وہ مضامین ہیں ، جنھیں موصوف نے وقتا فوقتا محبان اردو اور دانشوران علم و ادب کی فرمائش یا مطالبہ پر لکھے ہیں ۔ ڈاکٹر اسلم جاوداں اردو دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ اردو تنقید اور صحافت کے تعلق سے ان کی شناخت مسلم ہے ۔ لیکن ان کی سب سے بڑی شناخت اردو تحریک کے حوالے سے ہے ۔ گزشتہ ربع صدی کے دوران بہار میں اردو تحریک کو مضبوط اور منظم کرنے میں ان کا نمایاں رول رہا ہے ۔ اس تعلق سے اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر جاوداں فی الوقت اردو کے ایک ایسے کل وقتی خادم ہیں ، جن کے شب و روز اردو کے فروغ کی فکر میں گزرتے ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔ جہاں اردو کے ڈھیر سارے خدام اپنی پذیرائی اور تحسین کی فکر میں غلطاں و پیچاں دکھائی دیتے ہیں ، وہیں ڈاکٹر اسلم جاوداں اردو کی خدمت کرنے والوں کے لیے” محفل اعتراف ” سجانے اور انہیں اعزاز سے نوازنے میں اپنی توانائی صرف کرتے رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر جاوداں کو باری تعالی نے ایک عمدہ تنقیدی بصیرت عطا کی ہے ، اگر وہ اسے بروئے کار لاتے تو ایک بڑے ناقد کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کر لیتے ہیں ۔ صحافت ، بالخصوص ادبی صحافت پر تو انہیں مہارت حاصل ہے ، جن کے بین ثبوت چند رسالوں کے وہ خصوصی نمبرات ہیں جن کی تدوین کا کام انھوں نے بحسن و خوبی انجام دیا ہے ۔ موصوف نے اردو کے فروغ کے لیے گوناگوں کاموں میں اپنا وقت صرف کیا ہے ۔ اس کے باوجود وہ پون درجن کتابوں کے مصنف اور ایک درجن کتابوں کے مولف ہیں ۔ ان کے علاوہ انھوں نے دو درجن سے زائد مقتدر شعراء و ادباء کے تعارفی فولڈر تحریر کرنے کا بھی کارنامہ انجام دیا ہے ۔ تصنیف تالیف کا عمدہ سلیقہ اور اس میں مہارت رکھنے کے باوجود…

Read more

ارتداد کا سد باب از: قاضی محمد حسن ندوی

اس وقت امت مسلمہ دو طرح کے فتنوں سے دوچار ہے، ایک خارجی فتنہ ہے تو دوسرا داخلی ، لیکن داخلی جو فتنہ ہے وہ خارجی فتنہ سے زیادہ سنگین ہے(،یعنی مسلم معاشرے میں عقیدہ ،معاملات اور اخلاقی گراوٹ جس طرح عام ہے وہ خارجی فتنوں کے مقابلے میں اشد ہے،) یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج ہماری مسلم بہنیں اپنے ایمانی نعمت عظمی ،دائمی لذت پر کفر وشرک الحاد و ارتداد کو ترجیح دے رہی ہیں ،( العیاذ باللہ) اسلئے ان فتنوں سے معاشرے کی تطہیر کے لئے تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری ہے،نسل نو کی ترقی میں اگر کسی چیز کا بڑا دخل ہے تو وہ تربیت ہے بلکہ اس باب میں دو چیزیں اہم ہیں ،ایک تعلیم تو دوسری تربیت، دونوں میں بڑا گہرا رشتہِ ہے، چنان چہ جو والدین دونوں میں بیلنس اور اعتدال قائم رکھتے ہیں( یعنی جس طرح تعلیم کو نسل نو کی ترقی میں ضروری قرار دیتے ہیں اسی طرح تربیت کو بھی) ، تو ان کے بچوں کا نہ صرف مستقبل تابناک ہوتا ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کی ہدایت کے لئے ذریعہ بنتے ہیں ،لیکن اگر صرف تعلیم اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کی فکر کرتے ہیں اور تربیت پر پر کوئی توجہ نہیں دیتے ،تو وہ اعلی تعلیم ان کےلئے وبال جان ہوتی ہے، ایسے ہی بچے عام طور پر الحاد واعتدال کے شکار ہوتے ہیں،اور دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوتی ہیں اس وقت الحاد و ارتداد کا جو جل سیلاب آیا ہوا ہے ،شب وروز لڑکیوں کے مرتد ہونے کی خبریں آرہی ہیں ،اس کے اسباب پر زمینی سطح پر غور کرنے کے بعد ہم ا س نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ موجودہ ناسور بیماری کا یہی سبب ہے کہ والدین نے صرف تعلیم کی فکر کی،اور اسی کو ہر طرح کی ترقی کا زینہ سمجھا اور تربیت کو پس پشت ڈال دیا،اس پہلو سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ والد تعلیم کے ساتھ تربیت اور تزکیہ اخلاق پر توجہ دیں ،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ…

Read more

میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ

*میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃاللہ علیہ* *طارق شفیق ندوی* *نائب ناظم دارالعلوم فیض محمدی ، مہراج گنج ، یوپی* *اک عکس جیسے نور کا بکھرا ہو چار سو* *چہرے پہ یوں چمکتی تھی ان کی محبتیں* مرشد و مربی مولانا شہباز سیوانی رحمۃ اللہ علیہ ( وفات 09/ نومبر/ 2002 ) ایک متوازن الفکر انسان اور ایک متبحر اور متنوع صلاحیتوں کے عالم دین تھے . وہ بلند پایہ محدث و مفسر تھے . بہترین ادیب و شاعر تھے . انصاف پسند مہتمم اور دوراندیش منتظم تھے . جرات مند مدیر اور بے لاگ مبصر تھے . جفاکشی ، اصول پسندی اور للہیت میں ممتاز تھے . ان کی صلاحیت و صالحیت اور فضائل و کمالات کے سبھی معترف تھے . ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں ان کے استاذ اول (١) حاجی مولوی محمد بشیر صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 04 / اکتوبر/ 1972 ) جو میرے خسر ڈاکٹر محمد زین الدین صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 13/اگست / 2020 ) کے اکلوتے حقیقی پھوپھا تھے ، رانی پور کے رہنے والے تھے . ان کی بڑی بیٹی غفری خاتون میرے بڑے ماموں جناب احسان احمد صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 19/مئی/ 1995 ) سے اور چھوٹی بیٹی صابرہ خاتون مولانا شہباز صاحب کے بڑے بھائی ماسٹر محمد عالم رحمہ اللہ ( وفات 23/ دسمبر 2019 ) سے منسوب تھیں . (٢) مولانا اختر احسن اصلاحی ، (٣) علامہ مودودی اور (٤) مفکر اسلام علی میاں رحمہم اللہ اجمعین کی علمی ، فکری ، تعمیری اور تحقیقی رجحانات کا نمایاں دخل تھا اور ان کے وعظ وخطبات ، پندونصائح ، بے نفسی و فروتنی ، معاملہ فہمی و خوش تدبیری اور غیر معمولی انتظامی قابلیت و خدمات کو فکر اسلامی کی تشریح و تنفیذ کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا. *ان سے ملے ہوئے تو زمانہ گزر گیا* *لیکن وہ جلوہ آج بھی میری نظر میں ہے* مولانا جیسی یکتائے روزگار اور جامع صفات شخصیت کو پہلی بار 1977 میں دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ، موصوف…

Read more