علمی سیاحت نامہ (10)——( ✍️ معاویہ محب اللہ )
رات ساڑے دس بجے ٹرین لکھنؤ سے روانہ ہوگئی اور پوری رات ٹرین میں ہی گزری، عین صبح کی پَو پھوٹتے ہی سہارنپور کے ریلوے اسٹیشن پر آموجود تھے، الحمد للہ یہ سفر بہت آسان، آرام دہ اور ہنسی وخوشی میں پورا ہوگیا، مظاہر العلوم سہارنپور میں ایسی گہری جان پہچان اور شناسائی تو کسی سے تھی نہیں لیکن اللہ تعالٰی کا فضل وکرم ہی تھا کہ مظاہر العلوم قدیم کے مہمان نواز جناب رفاقت علی صاحب نے بڑی دل داری فرمائی، مہمان خانہ میں ٹھیرایا، نلّی نہاری سے لے کر چائے وناشتہ تک کا معقول انتظام فرمایا۔ اس کے بعد مظاہرِ قدیم کے مہتمم صاحب مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان سے دعائیں لیں کچھ علمی گفتگو ہوئی لیکن سوال وجواب کے بجائے صرف آپ ہی کی پند ونصائح پر اکتفا فرما لیا گیا، مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب نے بڑی بصیرت افروز اور پتے کی بات کہی کہ عام طور سے سہارنپور دیکھنے والے جذبات کی رَو کا شکار ہوتے ہیں، انہیں بس اکابرین کے تبرکات وبقایات سے دلچسپی ہوا کرتی ہے، عقیدت کی حد تک تو یہ بھی درست ہے، اگر ایک عاشقِ محبوب اپنی معشوقہ کی گلیوں سے عشق کر بیٹھتا ہے، اس کے دیار کے رہنے والوں سے اسے انسیت واپنائیت ہوجاتی ہے، اس شہر کی خبروں میں وہ وہ شیرینی محسوس کرتا ہے جو کہیں نہیں، لہذا اگر کسی کو اپنی محبوب علمی ودینی شخصیت سے محبت وعقیدت ہے، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ اس کے بقایا کو دیکھنے کی آرزو رہتی ہے، اس کے متروکات کی زیارت سے دل فرحت محسوس کرتا ہے، لیکن جب عقیدت میں اندھا ہوکر غلو کی حدود کراس ہونے لگے اور محبت وعقیدت کے بجائے اس پر دینی جذبات کے پھول نچھاور ہونے لگے، اس کے متروکات کے ساتھ عقیدت ومحبت، چومنے وچاٹنے کو کارِ ثواب سمجھانے جانے لگے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے، ان کو وہ درجہ دے دینا جس سے غلو آمیز عقیدت، تبرکات وبقایات کے ساتھ وہ تمسک اختیار کیا جائے کہ غلو کی بُو…
Read more