HIRA ONLINE / حرا آن لائن
تربیت اسے کہتے ہیں ۔

ایک عالم نےاک شاگرد کا واقعہ سنایا جو اپنے استاد کی طرح کسی درسگاہ میں استاد بن گیا تھا ، استاد بننے کے بعد جب وہ اپنے اس استاد سے ملنے کے لیے گیا اور اس کو بتایا کہ آپکی وجہ سے آپکی طرح میں بھی استاد بنا ہوں ۔ استاد میں پوچھا وہ کیسے ؟تو انہوں نے بتایاکہاک دن میں نے اپنے ہم جماعت کی گھڑی چرا لی تھی، آپ نے دروازے بند کرا کے تلاشی کا کہا تھا مجھے لگا کہ آج میں پھنس گیا،تب آپ نے فرمایاکہ سب آنکھیں بند کر لیں، آپ نے سب بچوں کی تلاشی لی انکی آنکھیں بند تھیں، آپ نے گھڑی میری جیب سے نکالی، اور مجھ سے بعد والوں کی بھی تلاشی لیتب میں نے عزتِ نفس اور زندگی کا سبق سیکھا تھا۔ استاد کی آنکھوں میں اجنبیت دیکھ کر شاگرد نے پوچھا ، استاد محترم آپ مجھے کیسے بھول گئے؟ استاد نے جواب دیا * کیونکہ میں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لی تھیں.اپنے شاگردوں کی عزت نفس کا خیال کیجئے تاکہ وہ آپ کو بعد میں بھی یاد رکھیں۔

Read more

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

تحریر: مولانا عامرعثمانی ماہنامہ تجلی، کالم:کھرے کھوٹے، مارچ، 1960ء شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ! خدا انھیں اخروی نعمتوں سے مالامال کرے ! تمام منصف مزاج اور سلامت رَوعلمائےحق کے نزدیک بہت بڑے امام وشیخ ہیں،ان کا تقویٰ،حب ِ دین،علم وتبحر،ذہن وذکاء،حافظہ،مطالعہ واستحضار،فکری استقلال، انتقالِ ذہنی، سوزوگداز،عزیمت وجامعیت، اخلاص،زبان وقلم، دست وبازو کونسی چیز ہے جو بارگاہِ بصیرت سے خراجِ تحسین وصول نہیں کرتی، وہ جب قرآن وسنت سےہٹے ہوئے مزعومات و دعاوی کا رد کرنے پر آتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتاہے جیسے دلیل وبرہان کا ایک طوفان اُبلتا، امنڈتا،گرجتا چلا آرہا ہے جس کی گھن گرج سے پہاڑوں کے جگر چاک اور وادیوں کےزہرے آب ہیں، فریقِ مخالف کے فلک بوس استدلالی قلعے خس و خاشاک کی طرح اس کی کف دردہاں موجوں میں بہتے چلے جاتے ہیں،کسی کی مجال نہیں جو اس کی راہ رو کے، اس سے آنکھیں ملائے، اس پر بند باند ھے۔ یا پھر ایک ایسی برقی مشین کا تصور آتا ہے جس میں آیات و احادیث اور علوم عقلی ونقلی کے دلائل و براہین خانہ بخانہ رکھ دئیے گئے ہوں اور بٹن دباتے ہی یہ بے خطا تدریج و ترتیب کے ساتھ باہر نکلتے چلے آرہے ہوں،یہی تو وہ صانعِ حقیقی کا نمونۂ صناعی تھا جس نے دیو قامت فلاسفہ ومناطقہ اور ائمۂ باطل کے رعب داب کے بخیے اُدھیڑ کے رکھ دیئے تھے، جس نے علومِ یونانی کے داخل کر دہ زہر کو فکرِ اسلامی کی رگ رگ سے نچوڑ کر میدانِ فلسفہ وکلام کے اُن سر افرازوں کے منھ پردے مارا تھا جن کی مرعوبیت اور دہشت اچھے اچھے علماء دین کے دل و دماغ پر کابوس بن کر سوار ہوگئی تھی، جس نے ایک ایک ضال و مُضل گروہ کے حلق سے زبانیں کھینچ لی تھیں اور جس کے علم وفراست کا ہر ناوک رفاعیت، قدریت، شیعیت، مشائیت، غیر اسلامی صوفیت اور اسی طرح کے دوسرے من گھڑت اِزموں کے عین قلب میں جا کے تر ازو ہوا تھا، تم تاریخ اُٹھا کر دیکھو تو حیران رہ جاؤ کہ جس دور میں ابن تیمیہؒ نے جہاد ِ…

Read more

یادوں کی قندیل (اہلیہ حضرت مولانا مختار علی صاحب مظاہری مہتمم مدرسہ معھد البنات یعقوبیہ یکہتہ )

بلاشبہ اس عالم کون و فساد میں موت و حیات کی سنت مستمرہ ایسی جاری ہے کہ بجز صبر و انقیاد اور تسلیم و رضا کے کوئی چارہ کار نہیں ، جس طرح یہ ایک حقیقت ہے اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض حوادث اتنے صبر آزما ہوتے ہیں کہ بڑا حوصلہ مند انسان بھی حوصلہ ہار جاتا ہے ۔ اکتوبر کے دوسرے عشرے میں عارف باللہ حضرت مولانا ممتاز علی صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہ بانی مدرسہ معھد البنات یعقوبیہ یکہتہ کی بڑی بہو ، مولانا مختار علی صاحب مظاہری کی اہلیہ ، اور مولانا علی اختر صاحب ندوی کی والدہ مرحومہ اچانک بستر علالت میں گئیں ، بیماری نے قدرے طول کھینچا ماہر ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق بڑے ہسپتالوں میں رکھ کر ہر ممکنہ تدابیر اختیار کی گییں، مگر قدرت ان کی زندگی کے منشور پر خاتمہ کی مہر لگاچکی تھی ، اور حکم الٰہی آچکا تھا جس کے سامنے ہرکوئی مجبور ہے ، لہذا وہ ٢٧ نومبر ٢٠٢٤ کو اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کرگئ ۔ ( "انا للہ وانا الیہ راجعون”) کسی مبالغہ کے بغیر پوری دیانت اور کمال ذمہ داری کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس پر آشوب دور اور قحط الرجال کے زمانے میں ایسی باخدا خاتون ، رضاء بالقضاء کی تصویر ،نالہ و فریاد کا مرغ سحری اب کہاں ؟ یقین جانیں! مرحومہ کا مرثیہ در حقیقت صبر و شکر کا نوحہ و فریاد ہے ان کی وفات کا صدمہ عبادت و تقویٰ کا رونا ہے ، ان کا ماتم ، حیاء و شرافت کا ماتم ہے ، حق تعالی نے مرحومہ کو وہ فطری کمالات عطاء فرمائے تھے جو اس دور میں بہت کم ہی نظر آتے ہیں ۔ میں نے اپنے دائرہ علم میں ایسا پیکر صبر اور سر سے پیر تک شکر کا مجسمہ کہیں نہیں دیکھا اور نہ سنا۔ حق تعالی نے مرحومہ کو بے شمار کمالات ، مجاہدات و ریاضت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا عجیب و غریب ذوق عطاء فرمایا تھا جس کا اندازہ آپ اس…

Read more

امی ! صبر و عزیمت کا استعارہ

ستائیس نومبر 2024) کو میری امی خالق حقیقی سے جا ملیں۔ ڈیڑھ ماہ پہلے سانس کی تکلیف کی وجہ سے اچانک وہ  بستر سے لگیں اور پھر اٹھ نہ سکیں۔ شکری، دربھنگہ، پٹنہ ہر جگہ علاج و معالجے کہ تدبیریں اختیار کی گئیں، مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کیاور آخر، زندگی و موت کی بے چین کشمکش اور تکلیف  کی درد انگیز  شدت سے رہا ہوکر وہ آرام کی نیند سو گئیں۔ رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی   تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی امی کی موت میرے لئے ایک جذباتی اور ذہنی صدمہ ہے۔ مرض الموت کے پورے ڈھیر مہینے کے دورانیے میں بیشتر اوقات میں ان کے ساتھ رہا، ان کی تکلیف کو قریب سے دیکھا، ان کے کرب کو قریب سے محسوس کیا، ان کی صبر آزما بے چینی کو دیکھ کر کڑھتا رہا، ان کی آہوں سے دل پھٹتا رہا، ان کے صبر سے کلیجہ چھلنی ہوتا رہا،  مگر ان کی تکلیف نہیں بانٹ سکا، ان کا کرب نہیں کم کرسکا، ان کی بے چینی نہیں سمیٹ سکا۔ سب دوائیں بے اثر ہوگئیں، ہر تدبیر ناکام ہوگئی، ہر دعا مشیت ایزدی کے سامنے سے خالی لوٹ ائی  اور امی ہمارے سروں سے محبت و شفقت کا سایہ سمیٹ کر رب کے دربار میں حاضر ہوگئیں۔ احساس کا الاؤ ہے جو بھڑکنا چاہتا ہے، جذبات کی شدت ہے جو آتش فشاں بن کر پھٹنا چاہتی ہے، آنسوؤں کا طوفان ہے جو سب کچھ بہا لے جانے پر آمادہ ہے۔  مگر حکم صبر کا ہے، وقت دعا کا ہے۔ سو ہم صبر  کے دامن سے آنسوؤں کو خشک کرتے ہیں،  اور دعا  کے وسیلوں سے جذبات کے آتش فشاں کو سرد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللهم اغفر لها وارحمها واعف عنها، وأدخلها الجنة وأعذها من النار ، وأبدلها دارا خيرا من دارها وأهلا خيرا من أهلها درج ذیل چند الفاظ ان کے محاسن کا احاطہ نہیں، بلکہ ایک جھلک ہے۔ *امی صبر و برداشت کا پیکر تھیں* ۔ مرض کی شدت  اور تکلیف کی حدت، حد سے…

Read more

(1) ۔ مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء لکھنؤ کے چھٹے فقہی سیمنار کا آغاز ہو چکا ہے، حسب تین اہم موضوعات زیر تحقیق ہیں: جانوروں کی مصنوعی افزائش۔ یسر و تیسیر اور عصر حاضر کے تقاضے۔ بیع معدوم کی جدید شکلیں۔ اس افتتاحی نشست کی صدارت حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی نے کی اور بصیرت افروز خطبہ پیش کیا اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ ( 2) ۔ اجتماعی اجتہاد کا سب سے پہلا ادارہ "مجمع البحوث الإسلامية” الأزهر 1961 میں قائم کیا گیا، اس کے فورا بعد ہی31 دسمبر 1963 میں مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے ندوے میں مجلس تحقیقات شرعیہ کی بنیاد رکھی، اس کے تین سمینار منعقد ہوئے، انشورنس اور رویت ہلال جیسے اہم مسائل پر فیصلے کیے گئے۔ مولانا اسحق سندیلوی اس کے اولین ناظم مقرر کیے گئے تھے۔ہندوستان میں یہ ایک اہم کوشش تھی، مگر بدقسمتی سے یہ ادارہ معطل کر دیا گیا۔ اخیر دور میں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی رحمہ اللہ کے ہاتھوں اس کی نشأت ثانیہ عمل میں آئی، معروف فقیہ اور باکمال مصنف حضرت مولانا عتیق احمد بستوی نے ایک نئی روح پھونکی، الحمد للہ گزشتہ چند برسوں میں یہ تیسرا سمینار منعقد ہو رہا ہے۔ ( 3) ۔ ہندوستان میں اجتماعی اجتہاد کے حوالے سے ایک اہم نام اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ہے، اسے عالمی سطح پر وقار و اعتبار کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اکیڈمی کے فیصلوں کو پاکستان کی عدالتوں، عالم عرب کی مجامع فقہیہ اور عالم اسلام کی یونیورسٹیوں میں بحث و نقاش کا موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔ جامعہ ام القری مکہ مکرمہ میں ماسٹرز کا ایک مقالہ اکیڈمی پر جمع کیا گیا ہے، الأزهر یونیورسٹی میں فقہ اکیڈمی کے بانی فقیہ النفس حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ کے فقہی افکار و خدمات پر تحقیقی مقالہ لکھوایا گیا ہے۔فقہ النوازل کے عنوان سے چار جلدوں میں ایک کتاب طبع ہوئی ہے، اس میں مجامع فقہیہ کے فیصلوں کو ابواب کی ترتیب…

Read more

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

از : قاضی محمد حسن ندوی موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا نہ صرف مسلمانوں بلکہ دشمنان اسلام نے بھی اعتراف وتسلیم کیا ہے ، بقا وابدیت صرف ایک ذات وحدہ لاشریک کے لیے مناسب ہے ، اس کے علاوہ سبھوں کے لیے موت اور فناء مقدر ہے، دنیا میں جو بھی آیا ہے، اسے ایک دن دنیا سے رخصت اور دنیا کو الوداع کہنا ہے ،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحیح کہا کہ ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ( کل نفس ذائقہ الموت) کسی نے بجا فرمایا ہے موت سے کس کس کو رستگاری ہے آج اس کی کل ہماری باری ہے اکتوبر کے دوسرے عشرے سے ہماری خوش دامن کی طبیعت زیادہ ہی ناساز ہوگئ، ابتدا میں انہیں شکری ہاسپیٹل میں پھر پٹنہ اندرا گاندھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا گیا جہاں تقریباً پندرہ دن علاج ہوا ، icu میں رکھا گیا ،کچھ افاقہ ہوا تو ڈاکٹروں کے مشورے سے گھر آگئیں، آکسیجن پر تھیں ، مگر ہوش وحواس باقی تھا ، باتیں کرتیں تھیں، دوسری طرف دوا وعلاج اور و سائل کے استعمال میں کوئی کمی نہیں کی گئی ، اس اعتبار سے مامو محترم حضرت مولانا مختار علی المظاہری صاحب قابل رشک ہیں ، خود معذور ہیں لیکن اس حال میں بھی کئی بار شکری اور ایک بار پٹنہ مرحومہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ، اسی طرح دونوں لڑکے علی اختر ندوی اور حسن اختر سیفی بھی والدہ کی صحت یابی کے لئے بہت کوشاں رہے، آج میرے چچیرے بھائی حافظ نثار صاحب نے ہماری تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں چند دنوں قبل افسانہ مامی کی عیادت کے لیے یکہتہ گیا تھا ، ان کی خبر و خیریت لی ، آدھا گھنٹہ وہاں تھا ، لیکن میں نے علی اختر کو بہت ہی بے چین دیکھا ، کبھی گھر میں آتے ، کبھی باہر ،اسی طرح شکری سے قبل دربھنگہ میں بھی اپنی مرحومہ والدہ کی صحت یابی کیلئے مختلف ہاسپٹل میں جانا، ڈاکٹر سے صلاح ومشورہ کرنا ،دن رات ایک کرنا واقعی علی…

Read more