HIRA ONLINE / حرا آن لائن
*موصول خبروں کے مطابق ندوۃ العلماء کے ناظر عام اور عربی زبان کے معروف انشاپرداز وصاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی سڑک حادثہ میں انتقال فرما گئے*

یہ خبر دل کو چیر کر رکھ دینے والی ہے کہ ندوۃ العلماء کے ناظر عام، عربی زبان کے معروف انشاپرداز اور صاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب ایک سڑک حادثے میں انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون!یہ حادثہ صرف ایک فرد کی موت کا نہیں بلکہ علم و ادب کی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مولانا حسنی ندوی صاحب جنہوں نے اپنی انشا پردازی اور عربی زبان کے منفرد اسلوب سے دنیا کو روشناس کرایا۔ آج ہم میں نہیں رہے۔ ان کی شخصیت علم، حلم اور شائستگی کا پیکر تھی اور ان کے قلم نے ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا تھا۔ان کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی علمی خدمات کے پھل کھانے کا وقت تھا۔ ان کے جانے سے ندوۃ العلماء کا دامن ایک ایسے چراغ سے خالی ہوگیا جس کی روشنی نسلوں کو راہ دکھاتی رہی۔یہ حادثہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ ان کے چاہنے والوں، شاگردوں اور پوری علمی دنیا کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ مولانا کی خدمات اور ان کی یادیں ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ن

Read more

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ اردو تدریس کی موجودہ صورت حال بہت اچھی نہیں ہے، اس کی وجہ مادری زبان اردو میں بچوں کی تعلیم سے عدم التفات ہے، جب کہ تمام ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان ابتدائی تعلیم کے لیے مناسب اور بہترین زبان ہے، لیکن اس کے بر عکس اردو کے عاشقین کی بھی پہلی پسند اپنے بچوں کے لیے انگلش میڈیم اورکنونٹ جیسے تعلیمی ادارے ہیں، ان کے گھروں میں بھی انگریزی زبان بولی جاتی ہے، تاکہ بچہ فرفر انگریزی بولنے لگے، ہمارا سفر ہوتا رہتا ہے اور ہر طبقے میں ہوتا ہے، آج تک کوئی گارجین ایسا نہیں ملا؛ جو مجھے یہ کہہ کر اپنے بچہ سے ملا کہ لڑکا فرفر اردو یا عربی بولتا ہے، انگریزچلے گیے، لیکن انگریزی زبان سے مرعوبیت چھوڑ گیے، ایک بڑی یونیورسٹی میں جو عربی وفارسی کے ہی نام پر قائم ہے، حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے ساتھ جانا ہوا، ہم سب مولوی ہی تھے اور اردو بولنے والے بھی تھے، سامنے والے بڑے عہدہ پر تھے، بات اردو میں شروع ہوئی، تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے انگریزی بولنا شروع کیا؛ تاکہ ہم سب لوگ مرعوب ہوں، ہم لوگ مولوی ہی نہیں داڑھی ٹوپی والے تھے، سوچا ہوگا کہ یہ انگریزی کیا جانتے ہوں گے، مرعوب ہوجائیں گے، حضرت امیر شریعت نے اس بات کو محسوس کیا اور فصیح انگریزی زبان میں جب جواب دینے لگے تو افسر موصوف سٹپٹا گیے، انہیں توقع نہیں تھی کہ یہ مولوی ہم سے اچھی انگریزی جانتا ہوگا، وہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ انہیں صرف Yes, No ہی یاد رہ گیا، یہ واقعہ اس لیے ذکر کیا کہ اردو الے بھی انگریزی سے کس قدر مرعوب ہیں، انگریزی کے ٹیوٹر ہمارے اردو داں خوب رکھتے ہیں، لیکن اردو کے ٹیوٹر خال خال ہی رکھے جاتے ہیں، اگر کسی نے رکھ لیا تو انگریزی اور اردو کے ٹیوشن فیس میں آپ کونمایاں فرق ملے گا۔ ظاہر ہے جب بچے نے…

Read more

منصوبہ بندی کیسے کریں؟(قاسم علی شاہ)

وہ چاروں ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے۔ ایک دن بعد ان کا ایک اہم ٹیسٹ ہونے والا تھا لیکن انھیں فکر نہیں تھی۔ انھوں نے رات کو اپنے کمرے میں گپ شپ کی محفل جمائی اور خوب ہلا گلا کیا۔ اگلے روز ٹیسٹ شروع ہونے سے پہلے وہ اپنے نگران کے پاس گئے، چاروں بہت تھکے لگ رہے تھے، ان کے کپڑوں پر مٹی اور ہاتھوں پر گریس لگی تھی اور جسم سے پسینے کی بو آرہی تھی۔ وہ کہنے لگے، سر! گذشتہ روز ہم چاروں ایک شادی کی تقریب میں گئے تھے۔ وہاں بہت دیر ہوگئی اور جب ہم واپس آنے لگے توکچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔ قریب کوئی دکان نہیں تھی جہاں ہم پنکچر لگواتے، چنانچہ ہم گاڑی کو دھکیلتے ہوئے آئے اور ہاسٹل پہنچنے کے بعد اس قدر تھک گئے تھے کہ بستر پر لیٹتے ہی سوگئے، اس وجہ سے ہم تیاری نہیں کرپائے، لہٰذا آپ ہمارے ساتھ کچھ مہربانی کریں۔ کہانی سننے کے بعد استاد کہنے لگا، کوئی بات نہیں، میں آپ کا امتحان تین دن بعد لے لیتا ہوں، تب تک آپ تیاری کریں۔ چاروں خوش ہوگئے کہ چلو آج تو بلا ٹل گئی۔ تین دن انھوں نے تیاری کی اور چوتھے روز وہ استاد کے پاس پہنچے۔ استاد نے انھیں سوالیہ پرچہ تھمانے سے پہلے کہا، اس پرچے میں صرف دو سوال ہیں، ایک سوال کے 2 نمبر ہیں جب کہ دوسرے سوال کے 98 نمبر ہیں۔ طلبہ یہ سن کر حیران رہ گئے استاد دوبارہ کہنے لگے، تم سب نے الگ الگ کمرے میں بیٹھ کریہ پرچہ حل کرنا ہے اور اس کے ساتھ ہی استاد نے انھیں الگ الگ کمروں میں بھیجا۔ جب طلبہ نے سوالیہ پرچہ کھول کر دیکھا تو پہلا سوال تھا، ”آپ کا نام کیا ہے؟“ دوسرے سوال میں پوچھا گیا تھا، ”گاڑی کا کون سا ٹائر پنکچر ہوا تھا؟“ سوال دیکھ کر وہ استادکی چال سمجھ گئے اور کسی نہ کسی طرح پرچہ حل کیا۔ جب استاد کے سامنے جوابی پرچہ آیا تو…

Read more

خورشید پرویز صدیقی۔بے باک صحافت کا مرد درویش۔

مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی پھلواری شریف 9/جنو ری (پریس ریلیز)ملک کے نامور عالم دین،امارت شرعیہ کے نائب ناظم ،اردو میڈیا فورم اور کاروان ادب کے صدر مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی نے عظیم المرتبت صحافی ،فاروقی تنظیم کی مجلس ادارت سے منسلک بے باک صحافتی،تاریخی و تجزیاتی اداریاتی نوٹس اور مضامین کے لیے پورے ہندوستان میں اپنی شناخت رکھنے والے خورشید پرویز صدیقی کی وفات پر گہرے غم و افسوس کا اظہار کیا ہے،انہوں نے فرمایا کہ میرے تعلقات ان سے اس زمانے سے تھے۔جب وہ مرحوم غلام م سرور کے دور میں سنگم سے وابستہ تھے۔ایم شمیم جرنلسٹ کی جواں سال موت کے بعد ان کے بھائی ہارون رشید کی تحریک پر ہم لوگوں نے طے کیا کہ شمیم جرنلسٹ کی یاد میں ایک یادگاری مجلہ نکالا جا ۓ ان سے قریب رہنے والے لوگوں سے مضمون لکھنے کی درخواست کی گئ۔میری پہلی ملاقات بھائی ہارون رشید کے ساتھ سنگم کے دفتر میں ہوئ۔سنگم کا دفتر ان دنوں دریاپو ر سبزی باغ میں ہوا کرتا تھا۔ان کی بود وباش بھی سبزی باغ میں تھی۔ایک زمانہ میں سبزی باغ کی کہانی کئی قسطوں میں انہوں نے لکھی تھی جو فاروقی تنظیم کے کئی شماروں میں شائع ہوئی۔ہم لوگوں کی درخواست انہوں نے قبول کر لیا۔ایک ہفتہ کا وقت مانگا۔ہمیں اعتراض کیا ہوتا،ایک ہفتہ کے بعد انہوں نے مضمون ہم لوگوں کے حوالہ کر دیا ۔عنوان لگایا تھا۔”ایم شمیم جرنلسٹ کا خط عالم بالا سے”طنز و مزاح سے بھرپور اس مضمون میں انہوں نے لکھا تھا۔کہ میں یعنی شمیم جرنلسٹ عجلت میں عالم بالا آگیا۔دو کام میں کرنا چاہتا تھا۔نہیں کر سکا ۔ایک جو اپنا(اس وقت کا) ہڑتالی موڑ ہے وہاں ایک دوکان ڈنڈے پتھر، اینٹ، روڑے بلکہ غنڈے مسٹنڈے ،لونڈوں کی کھولنا چاہ رہا تھا۔بے چارے ہڑتال کر نے والے کو یہ چیزیں گاؤں دیہات سے کرایہ پر لانی ہوتی ہے۔ پریشانی بھی ہوتی ہے اور خرچ بھی زیادہ آتا ہے ،ایسے میں تم لوگ دوکان کھول لو ،میری خواہش پوری ہو جائے گی،اور تمہارے وارے نیارے ہو جائں گے۔دوسرا کام یہ کرنا چاہتا تھاکہ خالص گھی…

Read more

*سفر میں دو نمازیں جمع کرنا؟

از : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کیا سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں ؟ اس سلسلے میں معروف یہ ہے کہ حنفی مسلک میں یہ جائز نہیں ہے – حنفی علماء جمع صوری کی اجازت دیتے ہیں ، یعنی ظہر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل اوّل وقت میں ، اسی طرح مغرب کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عشاء کی نماز بالکل اوّل وقت میں – وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کے اوقات متعین کردیے ہیں – صرف دو صورتیں مستثنیٰ ہیں : ایامِ حج کے دوران میں 9 ذی الحجہ کو عرفات میں زوال کے بعد جمع تقدیم ، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنا اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ پہنچ کر جمع تقدیم ، یعنی مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں پڑھنا – ان دو مواقع کے سوا کسی نماز کو اس کے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں پڑھنا جائز نہیں ہے – یہ حضرات اپنے اس موقف پر بعض احادیث اور آثارِ صحابہ سے استدلال کرتے ہیں ، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے – (فتاویٰ شامی ، كتاب الصلاة ، ج1 ، ص :381) دیگر فقہاء (امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد) کے نزدیک جمع بین الصلاتین (دو نمازوں کو جمع کرنا) کی دونوں صورتیں جائز ہیں – جمعِ تقدیم بھی ، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر اور مغرب کے وقت میں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں پڑھ لینا ، اور جمعِ تاخیر بھی ، یعنی عصر کے وقت میں ظہر اور عصر اور عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنا – ان حضرات کا استدلال بعض ان احادیث سے ہے جن میں رسول اللہ ﷺ کے جمع بین الصلاتین کا عمل انجام دینے کا ثبوت ملتا ہے – مثلاً صحیح مسلم میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ایک…

Read more

برف باری حسن ہے کشمیر کا

۔ از : الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر حرف اول ۔۔۔ ( امسال موسم سرما کے تیور کچھ الگ ہی محسوس ہوئے نئی پود کو تو چلہ کلاں نے حیران کردیا پانی کے نل جم گے منہ دھونے کے لئے بھی گھروں میں پانی کی آوا جاہی رکی رہی اکثر گھروں میں مرد و خواتین نے ایسی تکلیف محسوس کی جس کا انہیں اندازہ نہ تھا سبب یہ تھا کہ کئی سال سے موسم سرما نے اپنی اصل چھوڑ کر کچھ خیر سے اپنے لمحات گزار لئے تھے سو اہلیان وادی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ چلو اب چلے کلاں کا موسم بھی خشک ہی گزر جاتا ہے اور اہلیان وادی اب گرم علاقوں کے رہنے والوں کی طرح بود و باش اختیار کر رہے تھے کہ امسال چلہ کلاں نے آتے ہی ادھم مچا دی اور لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ تو اب تک ویسا ہی ہے خیر اسی دوران کل یوم جمعہ پر نماز سے فارغ ہوتے ہی برف باری شروع ہوئی اور ہمارے بچپن کی یادیں تازہ ہوگی سو سوچا آپ کو یاد دلاؤں) کشمیر دنیا کا ایک ایسا خوبصورت اور دلکش مناظر سے مالا مال خطہ ارضی ہے جس کا حسن جس کے آبشار و کہسار اس کے سینے پر رواں بہتے ندی نالے اس کے ماتھے کا جومر ڈل نامی پانی کا ایک پیارا سا جھیل جو اپنے حسن و جمال کا ثانی رکھے بنا دعوت نظارہ دیتا ہے یہاں کے بہتے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے جھرنے عجب دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں جنہیں دیکھ کر بڑے سے بڑا عقل و دانش کا مالک بھی ورطہ حیرت میں پڑھ جاتا ہے پر اس سے آگئے بڑھ کر دیکھئے تو وادی کشمیر میں موسم سرما کے ساتھ جو برف باری ہوتی ہے یہ برف باری کہنے والوں کے مطابق پانی کی مقدار کو بر قرار رکھنے کے لئے لازم ہے اب جتنی برف باری ہوگئی اسی قدر پانی کی مقدار بڑھ جائے گی مجھے دنیا کے بقیہ ممالک کے بجائے اپنی وادی سے ہی انسیت اور محبت ہے اس لئے…

Read more