ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
از : مولانا ابو الجیش ندوی
تعارف: ایپسٹائن فائلز کیا ہیں؟
ایپسٹائن فائلز ان لاکھوں دستاویزات، تصاویر، ویڈیوز اور عدالتی بیانات پر مشتمل مجموعے کا نام ہے جو بدنام زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹائن (Jeffrey Epstein) کے خلاف ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ایپسٹائن پر الزام تھا کہ اس نے دہائیوں تک امریکہ اور اپنے نجی جزیرے پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور استحصال کا ایک عالمی نیٹ ورک چلایا۔
ان فائلوں کی اہمیت محض ایک مجرمانہ ریکارڈ کی نہیں ہے، بلکہ ان میں دنیا کے طاقتور ترین افراد—بشمول سابق صدور، برطانوی شاہی خاندان کے ارکان، ارب پتی صنعت کار اور نامور سائنسدانوں—کے نام شامل ہیں۔ یہ فائلیں ایک ایسے "بلیک میلنگ سسٹم” کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں اقتدار اور ہوس کا گٹھ جوڑ معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیل رہا تھا۔
اسلامی فکر کی روشنی میں تجزیہ
1. تزکیہ نفس کی کمی اور ‘ہوا پرستی’
قرآن حکیم نے انفرادی اور اجتماعی زوال کی بنیادی وجہ "اتباعِ شہوات” (خواہشات کی پیروی) کو قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفسانی کے پیچھے لگ گئے، سو عنقریب وہ بڑی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے” (سورہ مریم: 59)۔
ایپسٹائن کا نیٹ ورک اس ‘ہوا پرستی’ کی انتہا تھا جہاں طاقتور طبقے نے خود کو ہر قسم کی اخلاقی پابندی سے آزاد سمجھ لیا۔ جب معاشرہ اللہ کے خوف (تقویٰ) اور آخرت کی جوابدہی سے عاری ہو جاتا ہے، تو وہ معصوم بچوں کے استحصال جیسی قبیح حرکت کو بھی اپنی لذت کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔
2. سرمایہ داری کا وحشیانہ رخ (Commoditization of Humans)
اسلامی فکر میں انسان "خلیفۃ اللہ” ہے، جس کی جان، مال اور عزت محترم ہے۔ اس کے برعکس، مغربی سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے ہر چیز کو "جنسِ بازار” (Commodity) بنا دیا ہے۔
ایپسٹائن فائلز یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس نظام میں غریب کی بیٹی بھی ایک "پروڈکٹ” ہے جسے خریدا اور بیچا جا سکتا ہے۔
اسلام مادی ترقی کے خلاف نہیں، لیکن یہ دولت کے ارتکاز اور اسے شر کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کرنے کی سخت ممانعت کرتا ہے۔
3. قانون کی بالادستی اور دوہرا معیار
مغربی جمہوریت کا دعویٰ "قانون کی نظر میں سب برابر” ہے، لیکن ایپسٹائن کیس نے اس ملمع کاری کو اتار دیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں عدل کی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں حکمران وقت کو عام شہری کے برابر کھڑا کیا گیا۔
حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان اس صورتحال پر صادق آتا ہے: "تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اسے سزا دیتے”۔ ایپسٹائن کو دہائیوں تک حاصل رہنے والی سیاسی و عدالتی پشت پناہی اسی ہلاکت خیز روش کی عکاسی ہے۔
4. خاندانی نظام کا بکھراؤ
ایپسٹائن جن لڑکیوں کا شکار کرتا تھا، ان میں اکثریت ٹوٹے ہوئے خاندانوں (Broken Homes) سے تعلق رکھتی تھی۔ اسلام نے "نکاح” اور "خاندانی مضبوطی” پر جو زور دیا ہے، اس کا ایک بڑا مقصد کمزور طبقات، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جب معاشرہ آزاد خیالی کے نام پر خاندان کی حدود توڑتا ہے، تو بچیاں ایسے شکاریوں کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہیں۔
5. حیا کا خاتمہ اور اجتماعی بے حسی
اسلامی فکر میں "حیا” ایمان کا حصہ اور معاشرتی ڈھال ہے۔ جب کسی معاشرے سے حیا اٹھ جاتی ہے اور جنسی آزادی کو "حق” تسلیم کر لیا جاتا ہے، تو پھر حدود و قیود کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ ایپسٹائن فائلز میں شامل وہ ویڈیوز اور تصویریں جو بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوئیں، دراصل اس "بے حیائی کی صنعت” کا ثمر ہیں جسے مغرب نے خود پروان چڑھایا۔
حاصلِ تحریر: زوال کا نوشتہ دیوار
ایپسٹائن فائلز یہ پیغام دے رہی ہیں کہ صرف ٹیکنالوجی اور دولت کسی قوم کے عروج کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔ اگر روح ناپاک ہو اور اخلاق گرا ہوا ہو، تو ایسی تہذیب اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
یہ انکشافات مسلمانوں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہیں کہ وہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی اصل (قرآن و سنت) کی طرف رجوع کریں، جہاں ہر انسان کی عزت محفوظ ہے اور جہاں طاقتور بھی قانون کے تابع ہے۔