Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

  1. Home
  2. موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • نومبر 29, 2024
  • 3 Comments

از : قاضی محمد حسن ندوی

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا نہ صرف مسلمانوں بلکہ دشمنان اسلام نے بھی اعتراف وتسلیم کیا ہے ، بقا وابدیت صرف ایک ذات وحدہ لاشریک کے لیے مناسب ہے ، اس کے علاوہ سبھوں کے لیے موت اور فناء مقدر ہے، دنیا میں جو بھی آیا ہے، اسے ایک دن دنیا سے رخصت اور دنیا کو الوداع کہنا ہے ،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحیح کہا کہ ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ( کل نفس ذائقہ الموت) کسی نے بجا فرمایا ہے

موت سے کس کس کو رستگاری ہے

آج اس کی کل ہماری باری ہے

اکتوبر کے دوسرے عشرے سے ہماری خوش دامن کی طبیعت زیادہ ہی ناساز ہوگئ، ابتدا میں انہیں شکری ہاسپیٹل میں پھر پٹنہ اندرا گاندھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا گیا جہاں تقریباً پندرہ دن علاج ہوا ، icu میں رکھا گیا ،کچھ افاقہ ہوا تو ڈاکٹروں کے مشورے سے گھر آگئیں، آکسیجن پر تھیں ، مگر ہوش وحواس باقی تھا ، باتیں کرتیں تھیں، دوسری طرف دوا وعلاج اور و سائل کے استعمال میں کوئی کمی نہیں کی گئی ، اس اعتبار سے مامو محترم حضرت مولانا مختار علی المظاہری صاحب قابل رشک ہیں ، خود معذور ہیں لیکن اس حال میں بھی کئی بار شکری اور ایک بار پٹنہ مرحومہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ، اسی طرح دونوں لڑکے علی اختر ندوی اور حسن اختر سیفی بھی والدہ کی صحت یابی کے لئے بہت کوشاں رہے، آج میرے چچیرے بھائی حافظ نثار صاحب نے ہماری تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں چند دنوں قبل افسانہ مامی کی عیادت کے لیے یکہتہ گیا تھا ، ان کی خبر و خیریت لی ، آدھا گھنٹہ وہاں تھا ، لیکن میں نے علی اختر کو بہت ہی بے چین دیکھا ، کبھی گھر میں آتے ، کبھی باہر ،اسی طرح شکری سے قبل دربھنگہ میں بھی اپنی مرحومہ والدہ کی صحت یابی کیلئے مختلف ہاسپٹل میں جانا، ڈاکٹر سے صلاح ومشورہ کرنا ،دن رات ایک کرنا واقعی علی اختر صاحب کا قابل تحسین عمل ہے ، چھوٹی بیٹی (………) نے بھی تو ہر جگہ ماں کی خدمت کو غنیمت جان کر اپنے آرام و راحت کو قربان کر دی، ہر جگہ والدہ کے ساتھ رہیں، خدمت میں کمی نہیں کی ،اسی طرح دونوں بڑی لڑکیوں نے ماں کی خدمت کی کوشش ہی نہیں کیں بلکہ ایک مہینے کے اندر دو مرتبہ مہاراشٹر اور گجرات سے وطن یکہتہ اور پٹنہ کا سفر کیا ، ظاہر ہے ان دونوں بہنوں کو بھی خدمت کا جو زریں موقع ملا ، وہ ان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی کا زینہ ہے، اسی طرح نواسوں میں سے سبھوں نے دعائیں کیں ،لیکن میرے لڑکے حافظ اجود کو حیات میں دس دن پٹنہ میں خدمت کا موقع ملا، نیز والدہ کے ساتھ سفر کرکے جنازہ اور مٹی دیکر ڈبل نیکی اور سعادت حاصل کرنے کا موقع ہاتھ آیا، مگر اولاد والدین کا حق ادا نہیں کر سکتی۔

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہوسکا

اسی طرح گھر میں رہ کر چھوٹی بہو اور بڑی بہو ہاسپیٹل اور گھر دونوں جگہ وہ خدمت کی ہیں جن کا تصور آج معاشرہ میں بیٹا اور بیٹی کے علاؤہ کسی سے بھی ممکن نہیں ہے ،

بہرحال اپنے تئیں قریب دور تمام رشتے داروں نے مرحومہ کی صحت یابی کیلئے قربانیاں دیں ۔ خواہ مولانا کے دونوں بھائی ہو یا بھنیں انہوں نے بھی اپنے اعتبار سے ہر موقع پر بھائی کو تسلی اور بھیجتیجو کی رہنمائی کی ، دعا ہے اللہ تعالیٰ سبھوں کی خدمت کو قبول فرمائے، لیکن ظاہر ہے کہ جب کسی کا وقت اجل یعنی موت آجاتی ہے تو اسے ایک سیکنڈ کے لئے کوئی ٹال نہیں سکتا ( اذ ا جاء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون)

بدھ کا دن تھا ، راقم جامعہ اسلامیہ ماٹلی والا بھروچ کی مسجد میں علوم الحدیث کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں حاضر تھا ، دن کے گیارہ بجے یکایک سب سے پہلے حافظ حفظ الرحمان صاحب طوفان پور کا فون آیا کہ انہوں نے کہا کہ یہ خبر صحیح ہے کہ مامی گزر گئیں؟ میں نے کہا نہیں، ابھی تحقیقی خبر نہیں آئی ہے ، ابھی موبائل رکھا ہی تھا کہ برادر عزیز سیفی سلمہ کے فون کی رینگ بجنے لگی، باہر آکر ڈرتے ہوئے فون اٹھایا ،جس کا ڈر تھا اسی کی اطلاع موصوف نے روتے ہوئے دی کہ امی گزر گئیں ، ہماری زبان پر یہ دعا جاری ہوگئ ، انا للہ وانا الیہ راجعون ،ان للّہ مااخذ ولہ ما اعطی وکل شیء الی اجل مسمی ( اللہ کے لئے ہے جو اس نے لیا ہے وہ بھی اسی کا ہے جو اس نے دیا ہے اور ہر کے لیے موت کا وقت مقرر ہے) پڑھتے ہوئے عزیزی سلمہ کو کچھ تسلی دی اور صبر جمیل اختیار کرنے کی گزارش کی ،

نبی کے علاوہ گناہ سے کوئی پاک نہیں ، ہر شخص میں خوبی اور خامی ہوتی ہے ،بڑے ، اساتذہ ،والدین اور مربیوں سے محبت اور عقیدت اور ان سے استفادہ کے لئے تو خوبی ہی پر نظر رہنی چاہیے ، خاص طور پر کسی مسلمان کی موت کے بعد ان کے محاسن ہی کو بیان کرنے کا اہتمام کرے جیسا کہ قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اذکروا محاسن مو تاکم وکفوا عن مسا ویھم ) کے تحت شارح مشکٰوۃ ملا علی قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ نے لکھا ہے کہ پہلا جزء استحباب پر اور دوسرا وجوب پر دال ہے ، یعنی میت کے بارے میں حکم ہے کہ بولو تو اس کی خوبی ہی کو بیان کرو اور یہ واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ، لکن دوسرے جزء میں امر وجوب کے لیے ہے یعنی میت کی برائی اور عیوب کو بیان کرنے سے ضرور بچو یہ واجب ہے ،اس لئے میں نیچے مرحومہ کی کچھ اچھی اور سچی باتیں رقم کر دینا مناسب سمجتا ہوں، تاکہ وہ ہمارے لئے باعث عبرت ہو ، اور یہی اصل ان کے اور وارثان خاص طور پر مامو مولانا مختار علی صاحب کے حق میں صحیح تعزیت کا حق ادا کرسکوں اور مرحومہ کے محاسن ہمارے سامنے آئے، اور ہم ان کو اپنی زندگی میں جگہ دے سکیں، اس لئے ہم یہاں کچھ ان کی زندگی کے اہم نقوش کو ذکر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

(1) _یوں تو مرحومہ میں بے شمار خوبیاں اور کمالات تھیں ، ان میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھیں ،جبکہ مرحومہ کو ہارڈ اور منھ میں زخم ہونے کی وجہ سے سالوں سے تکلیف تھی ، لیکن دوا دعا کے ساتھ شب و روز کے معمولات کی ادائیگی میں ،صوم و صلوۃ کی پابندی میں کسل وسستی کو آڑے آنے نہیں دیتیں ،صبح سب سے پہلے اٹھنا، نماز کے بعد تلاوت قرآن پاک کا اہتمام برسوں سے تھا، اطلاع کے مطابق رمضان المبارک میں بھی اور رمضان المبارک کے بعد بھی کئی قرآن کریم کو ختم کی ہیں ، میرے لڑکے اجود نے بتایا کہ اماں نے مجھے سے بتائیں کہ رمضان المبارک بعد پانچ مرتبہ قرآن کا ختم کیا ہے ، جب پٹنہ میں زیر علاج تھیں ، آکسیجن پر تھیں ، مگر اس حال میں بھی نماز کی فکر تھی ، میری اہلیہ ایک دن پٹنہ سے پوچھتی ہے کہ امی اس حال میں نماز پڑھ سکتی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں ، وضو کرادو ،اشارہ سے پڑھیں کوئی بات نہیں ، واقعی انہیں نماز اور تلاوت قرآن کی حلاوت حاصل تھی ، جس کی تڑپ وجستجو حالت بیماری میں بھی تھی۔ خدا دوعالم سے بیگانہ کرتی ہے دل کو

عجب چیز لذت آشنائی

یہ لذت کیوں نہیں حاصل ہوتی؟ اس لئے کہ وہ حضرت مولانا ممتاز علی المظاہری رحمۃ اللہ علیہ کی پہلی اور بڑی بہو تھیں ، ان کی روحانی اور ایمانی فیض حاصل تھا ، اور بہت کچھ ان سے سیکھی تھی ۔

(2 )

مہمان نوازی بھی ان کی صفت تھی ،حضرت مولانا کی زندگی میں اور ان کے وصال کے بعد بھی معھد البنات یعقوبیہ میں جب بھی جس وقت بھی کوئی مہمان آتا، جو پکا ہوتا خندہ پیشانی کے ساتھ مہمان کا اکرام کرتیں، ابھی چند ماہ قبل مدرسہ ھذا میں تعلیمی ثقافتی پروگرام تھا ،اس موقع پر یکہتہ اور مضافات سے کافی تعداد میں مہمان خواتین آئیں ، مرحومہ بیمار تھیں، عزیزی سیفی نے بتایا کہ اس حال میں بھی اکرام و استقبال کے لیے کئی بار تیسری منزل پر گئیں ، یہ ان کا حسن اخلاق تھا

3 : دوسری ایک خوبی یہ تھی خود تکلیف برداشت کرلیتی لیکن گھر کے دوسرے افراد کو راحت و آرام پہنچانے کی کوشش کرتیں میں نے بارہا دیکھا کہ بیٹیاں ، بہو گھر میں ہیں ان کے ذریعہ کھانا ناشتہ تیار کروا سکتیں ، مگر حکم اور آڈر کے بجائے خود کام کرنے لگ جاتیں ، یہ ان کی بہت بڑی خوبی تھی ، عام طور پر جب گھر میں بہو بیٹیاں ہوتی ہیں تو ساس ماں کا حکم چلتا ہے ، ساس بیٹھی رہتی ہیں ، حکم کرتی رہتی ہیں ، بہو سہمی رہتی ہیں کہ معلوم نہیں کس کام پر گرفت ہوگی ؟ اور کس کام پر طعن و تشنیع کے کلمات سننے پڑیں گے ، مگر ہم نے ان کے گھر میں برعکس معاملہ دیکھا ، یہ کوئی خواب نہیں ،حقیقت ہے ،آنکھوں دیکھا حال ہے ،،یہی وجہ ہے کہ مرحومہ کے گھر میں ایک نہیں دو بہو تھیں ، لیکن نہ کبھی ساس بہو میں اور نہ کبھی دونوں بہو کے مابین لڑائی اور نہ نوک جھونک دیکھا ،یہ دراصل مرحومہ کا نمایاں کردار تھا کہ انہوں نے بہو کے ساتھ بیٹی جیسا سلوک کیا

4 ۔ مرحومہ کم گو تھیں ، سبھوں کو ان سے یہ شکا یت رہتی کچھ بتاتی نہیں ، حتیٰ کہ میری اہلیہ اکثر عرض کرتی کہ امی سے جو پوچھتی ہوں وہی بولتی ہیں ، خود سے سب باتیں نہیں بولتی بہت سی باتیں غیروں سے معلوم ہو جاتی ہیں لیکن امی سے نہیں، یہ بہت بڑی ان کی خوبی تھی ،کیوں کہ فون پر زیادہ دیر گفتگو غیبت ہی ہوسکتی ہے ،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے لکھا ہے کہ کوئی شخص زیادہ بات کرے، اور ان کے کلام میں جھوٹ اور غیبت نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا ،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے "بولو تو اچھی بات ورنہ خاموش رہو”

5: عام طور پر انسان کو کھانے پینے کی جو چیز طبعی طور پسند نہیں ہوتی تو وہ اس سے بعد اور دوری اختیار کرتا ہے ،اس کو پکانا اور دسترخوان پر پیش کرنا اس پر بڑا گراں گزرتا ہے ، لیکن مرحومہ کا حال کچھ اور ہی تھا ،وہ کوئی گوشت نہیں کھاتی تھیں ، لیکن نہ صرف بنانا جانتیں تھیں ، بلکہ اکثر خود ہی بناتیں ، بہت اچھا اور لزیز بناتی، اپنے پسند پر گھر کے دیگر لوگوں کے پسند کو ترجیح دیتیں۔

اخیر میں مرحومہ کی تمام اولاد اور متعلقین کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے یہی درخواست کرتا ہوں کہ اب ان کے لئے دعا مغفرت ،صدقہ، ایصال ثواب کریں ، یہ ان کا اولاد صالحہ پر یہی حق ہے، اور یہی تعزیت کا تقاضا بھی ، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق دے ، اور مرحومہ کی محاسن جمیلہ کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں انبیاء کرام کی فکر مندی
تربیت اسے کہتے ہیں ۔

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ٹیکس
  • ٹیکس دینا کیسا ہے
  • اگست 5, 2026
  • 0 Comments
ٹیکس میں سود کی رقم دینا

ٹیکس میں سود کی رقم دینا ٹیکس جو حکومت عوام سے وصول کرتی ہے وہ دو طرح کے ہیں ۔ بعض منصفانہ ہیں اور خود اسلام میں ان کی گنجائش ہے مثلا پانی ، روشنی ، سڑک ، ہسپتال ، لائبریری اور پارک وغیرہ سہولتوں کے بدلے بلدیہ جو ٹیکس لیا کرتی ہے وہ اس کا فائدہ محسوس طور پر ہماری طرف لوٹا دیتی ہے ۔ دوسرے قسم کے ٹیکس ایسے ہیں جن کو غیر منصفانہ اور ناواجبی کہا جاسکتا ہے ۔ مثلا انکم ٹیکس جو بسا اوقات اسی فی صد تک پہنچ جاتا ہے شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ ہونے کے علاوہ واقعہ ہے کہ اس قسم کے ٹیکس غیر معقول بھی ہیں کہ ایک شخص اپنے گاڑھے پسینہ سے جو کچھ حاصل کرے آپ اس کا اسی فی صد اجتماعی مفاد کے لئے وصول کر لیں۔ پہلی قسم کے ٹیکس میں بینک کی سودی رقم دینا درست نہ ہو گا اس لئے کہ وہاں سود دینا گویا اپنی ذات میں سود کا استعمال ہوگیا اس لئے کہ وہ بھی ان قومی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور فقہاء نے ایسے ٹیکس کی اجازت دی ہے جیسا کہ ابوالحسن مرغینانی کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے : فان اريد بها ما يكون بحق ككرى النهر المشترك واجر الحارس والموظف لتجهيز الجيش وفداء الاسارى وغيرها جازت الكفالة بها على الاتفاق – اگر اس سے وہ ٹیکس مراد ہیں جو جائز اور صحیح ہیں جیسے مشترک نہر کا کھودنا پولیس کی اجرت ، فوج کا انتظام کرنے والوں کی تنخواہ جو سب پر ڈال دی جائے یا قیدیوں کو کافروں کی قید سے چھڑانے کے لئے عطیات تو بالاتفاق ان کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ دوسری قسم کے ٹیکس میں یہ رقم دی جاسکتی ہے کہ اس طرح یہ مال حرام اس حکومت یا ادارہ کو پہونچتا ہے جس نے یہ مال امانت داروں کو سود کے نام سے دیا ہے ۔ جدید فقہی مسائل  : ج : 1 ص: (421 )

Read more

Continue reading
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading

One thought on “موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس”

  1. Junakiya Mohammadbhai Mahammadsaed نے کہا:
    30.11.2024 وقت 13:36
    اللہ تعالیٰ آپ کی خوشدامن کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے اور سیئات کو درگزر فرماکر اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
    Reply
    1. حراء آن لائن نے کہا:
      01.12.2024 وقت 14:09

      Ameen

      Reply
    2. حراء آن لائن نے کہا:
      24.12.2024 وقت 07:44
      آمین
      Reply

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026
  • بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا 05.08.2026
  • قسطوں پر سامان کی فروخت 05.08.2026
  • عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟ 05.08.2026
  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

قسطوں پر سامان کی فروخت

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top