اس وقت امت مسلمہ دو طرح کے فتنوں سے دوچار ہے، ایک خارجی فتنہ ہے تو دوسرا داخلی ، لیکن داخلی جو فتنہ ہے وہ خارجی فتنہ سے زیادہ سنگین ہے(،یعنی مسلم معاشرے میں عقیدہ ،معاملات اور اخلاقی گراوٹ جس طرح عام ہے وہ خارجی فتنوں کے مقابلے میں اشد ہے،) یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج ہماری مسلم بہنیں اپنے ایمانی نعمت عظمی ،دائمی لذت پر کفر وشرک الحاد و ارتداد کو ترجیح دے رہی ہیں ،( العیاذ باللہ)
اسلئے ان فتنوں سے معاشرے کی تطہیر کے لئے تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری ہے،نسل نو کی ترقی میں اگر کسی چیز کا بڑا دخل ہے تو وہ تربیت ہے بلکہ اس باب میں دو چیزیں اہم ہیں ،ایک تعلیم تو دوسری تربیت، دونوں میں بڑا گہرا رشتہِ ہے، چنان چہ جو والدین دونوں میں بیلنس اور اعتدال قائم رکھتے ہیں( یعنی جس طرح تعلیم کو نسل نو کی ترقی میں ضروری قرار دیتے ہیں اسی طرح تربیت کو بھی) ، تو ان کے بچوں کا نہ صرف مستقبل تابناک ہوتا ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کی ہدایت کے لئے ذریعہ بنتے ہیں ،لیکن اگر صرف تعلیم اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کی فکر کرتے ہیں اور تربیت پر پر کوئی توجہ نہیں دیتے ،تو وہ اعلی تعلیم ان کےلئے وبال جان ہوتی ہے، ایسے ہی بچے عام طور پر الحاد واعتدال کے شکار ہوتے ہیں،اور دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوتی ہیں
اس وقت الحاد و ارتداد کا جو جل سیلاب آیا ہوا ہے ،شب وروز لڑکیوں کے مرتد ہونے کی خبریں آرہی ہیں ،اس کے اسباب پر زمینی سطح پر غور کرنے کے بعد ہم ا س نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ موجودہ ناسور بیماری کا یہی سبب ہے کہ والدین نے صرف تعلیم کی فکر کی،اور اسی کو ہر طرح کی ترقی کا زینہ سمجھا اور تربیت کو پس پشت ڈال دیا،اس پہلو سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا ،
ضرورت اس بات کی ہے کہ والد تعلیم کے ساتھ تربیت اور تزکیہ اخلاق پر توجہ دیں ،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ کوئ والد اپنی اولاد کو حسن ادب سے بہتر کو ئ تحفہ نہیں دی سکتے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے (مانحل والد ولدہ من نحل من افضل ادب حسن ،رواہ البخاری) اس لئے اس کے ساتھ ساتھ ہر والد کو درج ذیل باتوں کا لحاظ ضرور کرنا چاہیے
1: والدین اولاد کی تعلیم وترتیب کے تعلق سے یہ ضرور خیال کرے کہ جس طرح دیگر باتوں کا سوال آخرت میں ہوگا اسی طرح اولاد کے حقوق کی ادائیگی کے متعلق بھی سوال ہوگا جیسا کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ) تم میں سے ہر آدمی نگراں ہے ،اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال پونے والا ہے) بخآری شریف 1/122)
2: نومولود کے کان میں آذان دینے کا اہتمام کیا جائے،بچے کی پیدائش کے بعد سب سے پہلا عمل یہ بتلایا گیا کہ اس کے کان میں آذان دی جائے ،تاکہ اس کے دل میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بڑائی کی آواز پہنچے،کیوں کہ بچوں کا دل آئینہ کے مثل ہوتا ہے ، لھذا اس پر جس کا سب سے پہلے عکس پڑیگا ،اس کا اثر نہ صرف ظاہر پر بلکہ باطن کو بھی متاثر کریگا اسلئے سب سے پہلے توحید اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کی بات پیش کی جائے،اور آذان و تکبیر کے کلمات پڑھ کر دونوں کانوں میں دم کیا جائے
اور پھر کسی نیک شخص سے بچے کی تحنیک کرائ جائے ( یعنی اس کے لعاب دہن میں کوئی میٹھی چیز ملا کر بچے کو چٹائ جائے) تاکہ اس کی برکت بچے کو حاصل ہوسکے
3: بچوں کے نام اچھے رکھیں ،محدثین نے لکھا ہے کہ ہر وہ نام جو اللہ تعالیٰ کے کسی نام کی طرف منسوب ہو وہ سب پسندیدہ ہیں ،اس لئے اپنے بچوں کے نام انبیاء علیہم السلام اور نیک لوگوں کے ناموں پر رکھا کریں ( ابوداؤد شریف 2/676)
نیز اللہ تعالیٰ نے قدرت دی ہے تو ساتویں دن ان عقیقہ کیا جائے،لڑکے کی طرف سے دو بکرے یا بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا یا بکری ( مشکواۃ شریف)/
4: جب بچہ بولنے کے قابل ہوتو بہتر ہے کہ اس کی زبان سے اولا اللہ کا مبارک نام صادر ہو،اور اچھی باتیں یاد کرائ جائیں،عام طور پر بچوں کو کہانی اور قصے سننے کا شوق ہوتا ہے اس لئے انبیاء اور بزرگوں کے قصصے سنانا چاہیے
5: بچے جب سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو انہیں نماز سکھانی چاہیے،والدین کو چاہئے کہ بچوں کو وضو کرنا سکھائیں اور اپنے ساتھ نماز پڑھائیں اور رفتہ رفتہ ضروری قرات اور نماز کے اذکار یاد کرائیں
6: اولاد کو بچپن ہی سے صالحین اور نیک لوگوں کا لباس پہننے کا عادی بنائیں ،ایسا لباس ہو جو پوری طرح ساتر ہو،جب وہ بڑی ہونے لگیں تو اوڑھنی یا دوپٹہ ان کے سرپر ضرور ہو،افسوس ہے کہ اس بارے میں آج اچھے اچھے دیندار گھرانوں میں بھی بڑی بے احتیاطی پائی جارہی ہے،اور اس کا نتیجہ سامنے یہ آتا ہے کہ بڑے ہونے کے بعد بھی بے غیرتی والا لباس پہننے میں قطعاً شرم نہیں کرتیں،تو والدین کو یاد رکھنا ہوگاکہ کہ اس کوتاہی کی وجہ سے بچوں سے جو بھی گناہ صادق ہوگا والدین سے بھی آخرت میں اس کا مواخذہ کیا جائے گا
نیز دینی واخلاقی تربیت پرتوجہ ضروری ہے،خاص کر عقیدہ توحید ان کے ذہنوں میں راسخ کیا جائے،اور یہ یقین دل میں بٹھایا جائے کہ کرنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جو بھی ہوتا ہے اسی کے حکم سے ہوتا ہے اور وہ بالکل یکتا اور اکیلا ہے،اس کا کوئ سانگی اور شریک نہیں،
ارتداد کا سد باب از: قاضی محمد حسن ندوی
Related Posts
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ بھارت کی موجودہ سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں جمہوریت کے روایتی طریقے اور انتخابی حکمتِ عملیاں اپنی افادیت کھوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں انڈیا (INDIA) اتحاد کے حالیہ اجلاس میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کا بیان محض ایک سیاسی تقریر نہیں، بلکہ بھارتی اپوزیشن کی بقا اور مستقبل کی سیاست کا ایک نیا مینی فیسٹو (Manifesto) بن کر سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپوزیشن کو واضح لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ اب روایتی سیاست کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے—اور وہ ہے "مسلسل مزاحمت”۔ راہل گاندھی کا بیانیہ: راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے اجلاس میں اپوزیشن سے کہا ہے کہ اسے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، جب انتخابات منصفانہ نہیں ہیں تو مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔ راہل نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کے وجود پر بات کی ہے اور اس کے مستقبل پر بھی۔ ایک بات وہ بالکل واضح طور پر کہہ رہے ہیں: بھارت کے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں آر ایس ایس (RSS) کا بھی خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مزاحمت کے راستے پر چلیں گے تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظام کو شکست دے دیں گے۔” اس بیان کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں یہ بنیادی سوالات بھی گونجنے لگے ہیں کہ: کیا کانگریس اور اپوزیشن کے پاس آر ایس ایس جیسی گہری جڑیں رکھنے والی تنظیم سے لڑنے کا حوصلہ، صبر اور تنظیمی ڈھانچہ ہے؟ کیا اپوزیشن جماعتیں راہل کی طرح ہر روز مزاحمت کے لیے تیار ہیں، اور کیا خود راہل ہر روز اس محاذ پر صفِ اول میں نظر آئیں گے؟ تقریر کا گہرائی سے تجزیہ اور بنیادی ستوناگر اس تقریر کا سیاسی, سماجی اور تنظیمی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے، تو اس کے تین بنیادی ستون سامنے آتے ہیں: 1. انتخابی سیاست سے آگے کا…
Read moreعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں تمہید دنیا میں انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی گئی ہیں، لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ایمان اور توحید کی نعمت ہے۔ یہی وہ دولت ہے جس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے، کتابیں نازل کی گئیں، جہاد کیے گئے، اور اللہ کے نیک بندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے شہادت قبول کرلی مگر کلمۂ توحید سے دستبردار نہ ہوئیں، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون کے ظلم کو برداشت کیا مگر توحید کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی وہ عظیم دولت ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار مصائب برداشت کیے۔ توحید اسلام کی بنیاد، ایمان کی روح اور نجاتِ آخرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا سب سے قیمتی سرمایہ یہی عقیدہ ہے۔ توحید کا معنی و مفہوم توحید کا لغوی معنی ہے: کسی کو ایک ماننا اور یکتا تسلیم کرنا۔ شرعی اصطلاح میں توحید سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، افعال اور عبادات میں یکتا اور بے شریک ماننا۔ یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق، مشکل کشا، حاجت روا اور عبادت کے لائق واحد معبود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: عقیدۂ توحید انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مرکز تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی نقطہ توحید تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کی دعوت کا محور صرف اور صرف توحید تھا۔ توحید انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا: اس آیت سے واضح ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد دنیا کمانا، شہرت حاصل کرنا یا عیش و آرام نہیں بلکہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت اور توحید کا قیام ہے۔ توحید عبادات کی قبولیت…
Read more