ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن
از : ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد دنیا کے ’’تہذیبی‘‘ افق پر ایک نئی اصطلاح ابھری ہے:’’الديانۃ الإبراهيميۃ‘‘Abrahamic religion ، بہ ظاہر یہ ایک لطیف سا دعوتی و مکالماتی تصور ہے، جو امن، رواداری، اور انسانی اخوت کے بلندبانگ نعروں کے ساتھ سامنے آیا ہے؛ مگر اس کی تہہ میں جھانکیں تو ہمیں ایک گہری سیاسی چال، مذہبی استشراق، اور تہذیبی تسلط کی سرنگیں دکھائی دیتی ہیں، یہ کوئی نیا دین نہیں، بلکہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت دین اسلام کی تشکیل جدید ہے،یہ اقوام کی وحدت نہیں،ادیان کی وحدت کا وسیلہ ہے،جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں،اس کا مقصدعقائد میں اسلام کی مرکزیت، نبوتِ محمدی ﷺ پر ختم نبوت کی قطعیت، اور امت مسلمہ کی فکری خودمختاری کو تحلیل کر دینا ہے،کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز اوسلو معاہدہ سے ہی ہوگیا تھا،لیکن ابھی تازہ ابراہیمی معاہدوں Abraham Accords میں ٹرمپ نے عرب اسرائیل تعلقات کی نوعیت سے متعلق جو شقیں رکھی ہیں ،ان سے اس تحریک میں تیزرفتاری نظر آرہی ہے،در اصل ان کوششوں سےیہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام تینوں بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے جد امجد patriach ہیں ہی، تو کیوں ناہم اختلافات کو مٹاکر جنگ وجدل میں وقت برباد کرنے سے بہتر ایک ہوجائیں، سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرمصری نژاد پروفیسر عصام عبد الشافی کا کہنا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے یہ منصوبے ایک مربوط اور طویل المیعاد سازش کا حصہ ہیں، جن کی بنیاد 1993 میں اوسلو معاہدے کے بعد رکھی گئی، اس وقت کے اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے’’نیا مشرق وسطیٰ‘‘ کے نام سے ایک نظریہ پیش کیا، اورThe New Middle East کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی، یہ منصوبہ بیس سے زائد مختلف اصطلاحات کے ساتھ آج عالمی سیاسی قوتوں، اداروں، جامعات اور تحقیقاتی مراکز کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے،پروفیسر عبد الشافی کے مطابق’’المسار الإبراهیمي‘‘Abraham Path یا دیگر مشابہہ اصطلاحات گزشتہ پانچ برسوں یا 2020 کے ابراہام معاہدوں کے نتیجے میں وجود…
Read more