HIRA ONLINE / حرا آن لائن

Quranic Arabic Grammar Course

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندوی

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہیاز : مولانا آدم علی ندوی حالات زندگیحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۱۹۲۹ء کو اس خانوادہ میں ہوئی جس کی دینداری و تقوی، عالی نسبی و عالی ہمتی کی تعریف حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے فرمائی ، جس کو ایمان و عزیمت کی وراثت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ سے ملی ، جہاں بچوں کو یہ لوریاں سنائی جاتی تھیں۔الہی ہو مجھ کو شہادت نصیبیہ بہتر سے بہتر عبادت نصیبحضرت کی تعلیم و تربیت ڈاکٹر سید عبد العلی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی زیر سایہ ہوئی، دارالعلوم ندوۃ العلماء ، دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم کے نورانی ماحول میں تعلیم کی تکمیل ہوئی۔حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ کی شفقتوں نے اس میں مزید نکھار پیدا کر دیا ، مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی توجہات نے داعیانہ مزاج کی تشکیل کی اور مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ملی وقومی مسائل پر تحلیل و تجزیہ کا ہنر دیا اور مولانا عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے تزکیہ و تربیت سے قلب کو سلیم بنادیا۔ندوۃ العلماء کی تدریسی خدمات سے لے کر اہتمام و نظامت تک کی ذمہ داریاں آپ نے انجام دیں، مسلم پرسنل لا بورڈ ، رابطہ ادب اسلامی کی صدارت آپ کے حصہ میں آئیں۔آخر کار ملت اسلامیہ کا مرشد، علم وادب کا سر پرست ۱۳/اپریل ۲۰۲۳ ء کو اپنے خالق سے جاملا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔امتیازی خصوصیاتحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ میں فکری توازن و اعتدال، علمی گہرائی ، دین کے لئے جانثاری، تصنیفی ذوق ، نرمی وتحمل مزاجی ، دیانت و تقوی یہ وہ خصوصیات ہیں جو آپ کو ورثہ میں ملیں اور آپ کی خاندانی امتیازات میں شامل ہیں لیکن تواضع وانکساری میں آپ کا کوئی ہم پلہ نہیں۔اسی طرح دوسرے تمام…

Read more

مطالعہ کا جنوں

مطالعہ کا جنوں معاویہ محب الله مطالعہ، کتاب خوانی اور لکھنا ایک جنون ہے، شوق ہے، عشق ہے اور وہ بھی لازوال ہے، آدمی جب کتاب پڑھنا شروع کرتا ہے اس وقت جس علمی پوزیشن میں ہوتا ہے ختم کرتے ہوئے اپنے آپ میں تبدیلی محسوس کرتا ہے، بڑا بن جاتا ہے، سوچتا ہے، غور کرتا ہے، لوگوں سے ہٹ کر اپنی راہ خود بناتا ہے۔ یہی مطالعہ اسے اپنے ہم عصروں میں ممتاز کر دیتا ہے، کسی نے خوب کہا ہے کہ: ” اگر آپ ایک کتاب مکمل کرتے ہیں تو آپ اپنے ہم عصر و اقران سے ایک سال بڑے بن جاتے ہیں " کتاب صرف ایک کتاب پڑھنا نہیں ہے بلکہ مصنف کے فکری سفر اور علمی سیاحت میں اس کا رفیق بننا ہے، مصنف کتاب میں اپنے طویل تجربات کا خلاصہ پیش کر دیتا ہے، بہت ساری علمی وادیوں کو سر کرنے کے بعد ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے، بے شمار خیالات کے انبار سے لعل و گوہر نکال کر فکر و تدبر کی صورت میں اوراق پر بکھیر دیتا ہے، بعض مصنفین نے اپنی کتابیں دس سال، بیس سال اور کسی نے تو چالیس پچاس میں مکمل کی ہیں، تو گویا وہ مصنف سے چالیس پچاس سالہ طویل رفاقت کا شرف رکھتا ہے۔ انسان کتابوں کے مطالعہ سے مصنف کے ذہن و دماغ میں چلنے والی نقل و حرکت، غور و تدبر اور فکر و نظر کا ہم دم ہوتا ہے، مصنف کئی ہزار صفحات کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے، دو صفحات میں پھیلی ہوئی فکر کے پیچھے ہزار ہا صفحات کے مطالعہ کی ریاضتیں ہوتی ہیں جسے قاری چٹکیوں میں پا لیتا ہے، اسی لئے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ نے کہا : ” اچھی کتابیں پڑھنا پچھلی صدیوں کے بہترین لوگوں سے گفتگو کرنے کی طرح ہے " مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں کہ میں نے ۲۳ سال کے طویل مطالعہ و تدبر کے بعد تدبر قرآن کو لکھا ہے، سید مودودی نے تیس سال کی ریاضتوں کے بعد تفہیم القرآن جیسی تفسیر سپردِ…

Read more

🔰دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈه

دھرم پریورتن 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎ آر ایس ایس اور اس كے زیر اثر بی جے پی كی طرف سے بار بار تبدیلیٔ مذهب كے خلاف آواز اٹھتی رهتی هے، بھگوا دهشت گرد پریشان هیں كه آخر كیسے هندو سماج كواپنے دھرم پر قائم ركھا جائے اور ان كو اپنے مذهب سے باهر جانے سے روكا جائے، اس كے لئے مختلف ریاستوں میں ’’دھرم پریورتن ‘‘كا قانون لایا گیا، جو لوگ قانونی تقاضوں كو پورا كرتے هوئے مذهب بدلتے اور خاص كر اسلام قبول كرتے، ان كے خلاف ایف آئی آر درج كی جاتی هے، ابھی سپریم كورٹ نے اتر پردیش كی حكومت كو اس حركت پر پھٹكار لگائی هے، افسوس كه بھگوا گروپ اپنی كمی كو دوسروں میں تلاش كرنا چاه رها هے، وه اس پر غور نهیں كرتا كه خود همارے اندر كیا كمی هے؛ بلكه وه مسلمانوں اور عیسائیوں میں قصور تلاش كرتا هے، ان پر ظلم كرتا هے، ان كو بدنام كرتا هے، ان كے خلاف پروپیگنڈه كرتا هے، مسلم لڑكیوں كو مرتد كرنے كے لئے بڑے بڑے انعامات كا اعلان كرتا هے؛ حالاں كه ان كو خود اپنے دامن كا داغ دیكھنے كی ضرورت هے۔ ہندو مذہب میں عقیدہ کا بحران اصل بات یه هے كه ہندو مذہب میں بنیادی طور پر کوئی ایسا ٹھوس عقیدہ نہیں پایا جاتا ، جس کو ہندو عقیدہ اور آئیڈیا لوجی (Ideo Logg) کا نام دیا جاسکے ، جو لوگ ’’ رام ‘‘ کو بھگوان اور خدا مانتے ہوں ، وہ بھی ہندو ہیں اور جوگ ’’ راون ‘‘ کو خدا قرار دیتے ہوں اور رام کو بُرا بھلا کہتے ہوں ، وہ بھی ہندو مذہب ہی کے علمبردار ہیں اور نہرو وغیرہ جیسے دانشور جو مورتی پوجا اور دیوی دیوتاؤں کے وجود کو توہم پرستی قرار دیتے ہوں وہ بھی ہندو ہیں ، غرض ہندو مذہب ’’ موم کی ناک ‘‘ ہے ، اس کی جو صورت چاہو ، بنا لو ، توہم پرستی ہی کے نتیجے میں طبقاتی تقسیم ہندو عقیدہ کا اٹوٹ جزء ہے اور اسی لئے ہندستان میں ہزاروں…

Read more

ربوبیت الہی کی جلوہ گری از :مولانا آدم علی ندوی

ربوبیت الہی کی جلوہ گریمولانا آدم علی ندوی اللہ رب العزت نے آفاق و انفس میں اپنی وحدانیت وربوبیت کے بے شمار مظاہر بکھیر رکھے ہیں اور انسان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کو دیکھے اور غور کرے اور خدا کی قدرت وربوبیت کو پہچانے، تخلیق انسانی اور اعضاء جسمانی کا نظام اللہ کی کرشمہ سازی کا بہترین مظہر ہے، اس میں غور و فکر اور اس کا علم انسان کو معرفتِ الہی تک پہنچاتا ہے ، اسی لئے جابجا قرآن مجید میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔فَلْيَنْظُرِ الإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ -الطارق ٥ -تو انسان خوب دیکھ لے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ -الذاريات / ٢١ -اور خود تمہارے اندر بھی نشانیاں ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ -المومنون / ١٢ تا ١٤ -اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا، پھر اسے ایک محفوظ جگہ نطفہ کی شکل میں رکھا ، پھر نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیوں کی شکل دی، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک نئی صورت بنا کر وجود بخشا تو کیسی برکت والی ذات ہے اللہ کی جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی کا تذکرہ بار بار صرف ہماری معلومات کے لئے نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد اور ہمارے کانوں اور دلوں سے بار بار خطاب کا اصل جوہر یہ ہے کہ ہم خالق و صانع کی عظمت اور ربوبیت کو پہچان سکیں اور اپنی حقیقت سے واقف ہوسکیں ۔ تخلیق انسانی کا نظام اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو الگ الگ فطرت و خصوصیات کا حامل بنا کر دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ آپسی الفت و محبت کے ساتھ رہنے کی صلاحیت بخشی ، اور ان میں…

Read more

دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے ؟

دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے؟ (اسلامی نقطۂ نظر) دیوالی ہندو برادری کا ایک مذہبی تہوار ہے جس میں روشنی، پوجا، اور خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ میٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، مسلمانوں کے ذہن میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیوالی کے موقع پر کسی غیر مسلم کی دی ہوئی میٹھائی کھانا جائز ہے؟ دیوالی کے موقع پر ہندوؤں کی جانب سے جو مٹھائی وغیرہ دی جاتی ہے ، اگر اس سے متعلق یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہیں چڑھایا ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، تو اس کا استعمال جائز ہے۔ لیکن پھر بھی احتیاط بہتر ہے ۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:’’ولو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لايكفر، وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفياً للشبهة.‘‘(كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج: 6، صفحہ: 754، ط: ایچ، ایم، سعید دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے ؟

Read more

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندویؒعلم، اخلاص اور کردار کا حسین امتزاجآدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرمولانا نذیر احمد ندویؒ کی ولادت 1967ء میں نورنگ آباد شاہی مسجد ضلع اٹاوہ (اترپردیش) میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم جناب عزیز احمد صاحب ریلوے میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے اور ان کی پوسٹنگ ڈونڈلا میں تھی۔ مولانا نے بچپن اور ابتدائی زندگی کا بڑا حصہ اپنے والد کے ہمراہ وہیں گزارا۔والد کے انتقال کے بعد خاندان واپس آبائی وطن اٹاوہ منتقل ہو گیا۔ آپ سات بھائی بہنوں میں سے ایک تھے (چار بھائی، تین بہنیں)؛ جن میں دو بھائی — آپ کے بڑے بھائی اور خود آپ — انتقال فرما چکے ہیں، جب کہ دو بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں۔پسماندگان میں بیوہ اور ایک صاحبزادی شامل ہیں۔تعلیم و تربیتمولانا نے 1979ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا۔ وہیں سے 1986 میں عالمیت اور بعد ازاں1988 میں ادبِ عربی میں فضیلت حاصل کی۔ ندوہ میں آپ نے نہ صرف نصابی علوم حاصل کیے بلکہ عربی و اردو ادب کے گہرے ذوق کو پروان چڑھایا۔بعد ازاں آپ نے جامعہ لکھنؤ سے عربی سے پی۔ایچ۔ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری بھی حاصل کی۔آپ کے علمی و اخلاقی نشوونما میں استادِ محترم مولانا واضح رشید حسنی ندویؒ کی تربیت اور نگرانی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ وہی آپ کے لیے علم و اخلاق کے مینار ثابت ہوئے، اور انہی کے رنگ میں آپ کی شخصیت نکھرتی گئی۔علمی سفر اور تدریسی خدماتتعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ ندوۃ العلماء ہی میں تدریس و تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔آپ عربی زبان و ادب کے نہایت ماہر استاد تھے، اور آپ کا درس ذوق و علم، ادب و اسلوب، اور زبان و بیان کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔آپ صرف ایک مدرس نہیں بلکہ مربی اور رہبر تھے۔عربی، اردو، فارسی، انگریزی اور ہندی — سب پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔سبق کے دوران جب آپ عربی لفظ کا معنی بتاتے، تو صرف اردو ترجمہ پر اکتفا نہ کرتے بلکہ انگریزی، ہندی اور فارسی میں بھی اس کے…

Read more