Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
15.07.2026
Trending News: عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
15.07.2026
Trending News: عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

  1. Home
  2. ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جولائی 27, 2025
  • 0 Comments

از : ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

دنیا کے ’’تہذیبی‘‘ افق پر ایک نئی اصطلاح ابھری ہے:’’الديانۃ الإبراهيميۃ‘‘Abrahamic religion ، بہ ظاہر یہ ایک لطیف سا دعوتی و مکالماتی تصور ہے، جو امن، رواداری، اور انسانی اخوت کے بلندبانگ نعروں کے ساتھ سامنے آیا ہے؛ مگر اس کی تہہ میں جھانکیں تو ہمیں ایک گہری سیاسی چال، مذہبی استشراق، اور تہذیبی تسلط کی سرنگیں دکھائی دیتی ہیں، یہ کوئی نیا دین نہیں، بلکہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت دین اسلام کی تشکیل جدید ہے،یہ اقوام کی وحدت نہیں،ادیان کی وحدت کا وسیلہ ہے،جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں،اس کا مقصدعقائد میں اسلام کی مرکزیت، نبوتِ محمدی ﷺ پر ختم نبوت کی قطعیت، اور امت مسلمہ کی فکری خودمختاری کو تحلیل کر دینا ہے،کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز اوسلو معاہدہ سے ہی ہوگیا تھا،لیکن ابھی تازہ ابراہیمی معاہدوں Abraham Accords میں ٹرمپ نے عرب اسرائیل تعلقات کی نوعیت سے متعلق جو شقیں رکھی ہیں ،ان سے اس تحریک میں تیزرفتاری نظر آرہی ہے،در اصل ان کوششوں سےیہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام تینوں بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے جد امجد patriach ہیں ہی، تو کیوں ناہم اختلافات کو مٹاکر جنگ وجدل میں وقت برباد کرنے سے بہتر ایک ہوجائیں، سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرمصری نژاد پروفیسر عصام عبد الشافی کا کہنا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے یہ منصوبے ایک مربوط اور طویل المیعاد سازش کا حصہ ہیں، جن کی بنیاد 1993 میں اوسلو معاہدے کے بعد رکھی گئی، اس وقت کے اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے’’نیا مشرق وسطیٰ‘‘ کے نام سے ایک نظریہ پیش کیا، اورThe New Middle East کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی، یہ منصوبہ بیس سے زائد مختلف اصطلاحات کے ساتھ آج عالمی سیاسی قوتوں، اداروں، جامعات اور تحقیقاتی مراکز کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے،پروفیسر عبد الشافی کے مطابق’’المسار الإبراهیمي‘‘Abraham Path یا دیگر مشابہہ اصطلاحات گزشتہ پانچ برسوں یا 2020 کے ابراہام معاہدوں کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئیں، بلکہ یہ ایک طویل المدت منصوبہ ہے جس پر دس سال پہلے سے علمی و تحقیقی سطح پر کام ہو رہا ہے، انہوں نے اشارہ دیا کہ 2013 میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ’’مسار ابراہیم‘‘ کے عنوان سے ایک اہم دستاویز سامنے آئی، اور2015 میں فلوریڈا یونیورسٹی نے ایک سرکاری رپورٹ جاری کی جس میں ’’ وفاق ابراہیمی‘‘Abrahamic Federal Union کا تصور پیش کیا گیا، اسی طرح 2013 میں امریکی وزارت خارجہ میں ایک خصوصی شعبہ قائم کیا گیا جس کا نام تھا’’اسٹریٹیجک ڈائیلاگ برائے سول سوسائٹی‘‘، اور اُس وقت وزارت خارجہ کی سربراہی ہیلری کلنٹن کے ہاتھ میں تھی۔ غور کیا جائے تو ’’میسا‘‘MESA اتحاد کی

غرض وغایت بھی کچھ اس سے مختلف نہیں،اس کو جب امریکہ نے ’’عرب نیٹو‘‘ کے طور پر متعارف کرایا، تو اس کی ظاہری توجیہ یہ کی گئی کہ ایران کے جوہری خطرے سے خلیجِ عربی کا تحفظ کرنا مقصود ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل، جو عرب سرزمین کو اب تک’’خلیجِ فارس‘‘ کہہ کر پکارنے سے باز نہیں آتا، واقعی اس خطے کا محافظ بن سکتا ہے؟ کیا وہ جس کی بنیاد ہی فلسطینیوں کی جڑوں کو کاٹ کر رکھنا ہے، امن و سلامتی کا پیامبر بن سکتا ہے؟ یہ اتحاد دراصل اسرائیل کو خطے کی سیکورٹی اسٹرکچر میں باقاعدہ داخل کرنے کی ایک چال ہے؛ تاکہ عرب اقوام کو نہ صرف دفاع کے میدان میں اس پر انحصار کرنا پڑے بلکہ فکری طور پر بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے،یاد ہوگا کہ کورونا وبا کے دوران امارات میں’’صلاۃ الأخوۃ الإنسانیۃ‘‘ یا ’’الصلاۃ من أجل الإنسانیۃ‘‘ کی خبر سامنے آئی،جس میں شیخ ازہر اور واٹیکن کے پوپ جمع ہوئے،اپنے اپنے قبلے کی جانب پہلو بہ پہلو نماز ادا کی گئی اور ایک ساتھ کورونا وبا کے خاتمے کی دعائیں مانگی گئیں، یہ2020 کی بات ہے،اس سے قبل2010 میں عراق میں ایک کلیسا پر ہوئے حملے کے تناظر میں قیام امن کے لیے ’’الحوار الشعائري‘‘ کا عنوان اختیار کیا گیاکہ زبانی مذاکرات سے بہتر ہےشعائر ادیان کی مشترکہ پریکٹس کی جائے،اس طرح مسلمان اور عیسائی ایک ساتھ نماز ادا کرکے تمام کتب مقدسہ کی برکتیں حاصل کریں۔ کیا

اس قسم کے ڈرامے محض روحانی جذبے سے ہیں؟ نہیں،یہ وہ سیاسی پروگرام ہیں جن کے ذریعے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان عقائد کے فرق کو مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے؟ تاکہ اسلام کا انضمام ہوجائےاور اس کا توحیدی امتیاز باقی نہ رہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام، قرآن کے مطابق، ’’حنیف مسلم‘‘تھے، نہ وہ یہودی تھے، نہ عیسائی، نہ کسی’’تیسرے دین‘‘ کے نمائندہ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی؛بلکہ شرک سے بیزار اللہ کے فرمانبردار تھے،اور مشرکوں میں سے نہیں تھے‘‘(آل عمران: 67)، یہ آیت محض ایک تاریخی اعلان نہیں، بلکہ ایک عقائدی سرحد ہے، جو اسلام کو دیگر ادیان سے الگ اور منفرد بناتی ہے،’’ابراہیمی دین‘‘ کے نام پر جو مذہبی معجون مرکب پیش کیا جا رہا ہے،اور عرب ممالک اس کے آلۂ کار اورمخلص ووفادار بنتے جارہے ہیں، وہ قرآن کی تصریحات کی صریح خلاف ورزی ہے،آج مذہب کو سافٹ پاورکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،’’روحانی سفارت کاری‘‘Spiritual Diplomacy، مذہبی قیادت، تصوف، اور رواداری جیسی اصطلاحات کو استعمال کر کے مسلم معاشروں کو نظریاتی طور پر نرم کرنے ، ان سے توحید کی حساسیت کو چھین لینے کی نامحمودکوشش ،اور ابلیس کی مجلس شوری کی تجویز ہے:میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خوابمیں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں اسلامی نصوص کی نئی قراءت، مشترکہ عبادت گاہیں، بین المذاہب ہاؤسز اورمختلف مذاہب کے نوجوانوں کو مشترکہ رہائش فراہم کرنے جیسے منصوبے بظاہر رواداری کے مظہر ہیں، مگر حقیقت میں یہ ’’تطبیع‘‘ normalizationکی پالیسی کاحصہ ہیں، جن کا مقصد اسرائیل کو مذہبی سطح پر بھی قبول کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، ابوظہبی کا’’ابراہیمی فیملی ہاؤس‘‘ Abrahamic Family House اس پورے منصوبے کا عملی مجسمہ ہے،یہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں مسجد، چرچ، اور یہودی معبد ایک ہی احاطے میں قائم کیے گئے ہیں،گویا عبادت گاہ نہیں،مذہب کا ’’افیون‘‘ اتارنے کا نشہ مکتی کیندر ہو، یہ مراکز نہ صرف دینی شعور کی تشکیل کر رہے ہیں، بلکہ تعلیمی اداروں، میڈیا اور ثقافتی پالیسیوں کے ذریعے نئی نسل کو ایک ایسے بیانیے سے روشناس کرا رہے ہیں جس میں اسلام کو ایک محدود حقیقت، اور دین کو ایک ثقافتی ماڈل کے طور پر سمجھا جائے،حضرت ابراہیمؑ کی جائے پیدائش ’’اُر‘‘Ur کو مقدس مقام قرار دینا، بیت المقدس میں معبد سوم اور ’’جبل ہیکل‘‘ کی بازگشت جس سے مراد قبۃ الصخرہ یا مسجد اقصی ہی ہے، اور’’ صلاۃ الأخوۃ‘‘ کی آڑ میں مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے لیے عبادت کی جگہ ماننا،یہ سب اسلام کے مقدسات پر نظریاتی قبضے کی راہیں ہموار کر رہے ہیں، یہ’’ابراہیمی دین‘‘ دراصل وہی صدی کی ڈیل یا ’’صفقۃ القرن‘‘2020 Trump Israel–Palestine plan کا مذہبی چہرہ ہے، جس کے ذریعے فلسطینی کاز کو تاریخی تنازعے کی جگہ ایک ثقافتی غلط فہمی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ فوکویاما نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ میں یہ

دعویٰ کیا کہ سرد جنگ کے بعد دنیا نظریاتی کشمکش سے آزاد ہو چکی ہے اور اب انسانیت سرمایہ دارانہ جمہوریت پر متفق ہو چکی ہے؛ لہٰذا کوئی متبادل نظام اب ابھرنے والا نہیں، لیکن ان کے استاد ہنٹنگٹن نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کا نظریہ پیش کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ دنیا اگرچہ ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی شناختیں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ کسی بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہیں؛ کیونکہ انسان اپنی تہذیب کو صرف جدیدیت کی قیمت پر نہیں چھوڑتا،اور مغربی غلبے کو ہر قوم خاموشی سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں،جب کہ معروف امریکی ماہر سیاسیات، بین الاقوامی امور کے محقق، اور’’ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ کے سابق صدر جیمس روزینو کے مطابق، دنیا کا مستقبل عالمی امن پر مبنی ہوگا جو’’ ابراہیمی دین‘‘ اور عقائد کے باہمی انضمام کے ذریعے حاصل کیا جائے گا؛ وہ اسے بین الاقوامی تعلقات میں تنازعات کے حل کا ایک نیا فریم ورک قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد رواداری، انسانی اخوت، محبت اور ہم آہنگی جیسے روحانی تصورات پر ہوگی۔ اس صورت حال کو سامنے رکھیں اور دین الہی کو یاد کریں جس کومغل
تاجدار جلال الدین اکبرنے ہندوستان جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور شاہی اقتدار کو مستحکم بنانے کے دعووں پر قائم کیا تھا، اس نئے مذہب میں اسلام، ہندو مت، مسیحیت، زرتشت اور سکھ مت جیسے مذاہب کے بظاہر’’خالص اور عمدہ اصولوں‘‘ کو یکجا کر کے ایک ایسی اخلاقی و روحانی ساخت تشکیل دی گئی تھی جو کسی خاص وحی یا شریعت پر مبنی نہیں تھی، بلکہ ایک انسان ساختہ ’’تہذیبی ترکیب‘‘ تھی، جس میں سب کچھ تھا سوائے اُس ربانی صداقت کے جو نبوت و وحی کی اساس پر استوار ہو؛ اکبر نے اس تحریک کو فروغ دینے کے لیے فتح پور سیکری میں ’’عبادت خانہ‘‘ قائم کیا، جہاں مختلف مذاہب کے علما کو اکٹھا کر کے مکالمے اور مباحثے کا ماحول بنایا گیا، رفتہ رفتہ اہل حق بالخصوص مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی فاروقیؒ کی کوششوں سے اس کا خاتمہ ہوا اور ایک ایسا دور بھی آیا جب اسی مغل امپائر میں اورنگ زیب جیسے خدا ترس بادشاہ سریر آرائے سلطنت ہوئے، اور کھل کر اپنے پردادا اکبر کے بارے میں کہا: ’’جد ما اکفر بود‘‘ ۔ یہ وقت محض تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ فکری مزاحمت، دینی بیداری، اور تہذیبی خودی کو پھر سے جگانے کا ہے؛ ہمیں صاف اور بے خوف لہجے میں کہنا ہوگا کہ ہم حضرت ابراہیمؑ کے دین پر ہیں،مگر وہ دین کوئی ابراہیمی مرکب نہیں، صرف اسلام ہے؛ نہ ہم توحید کے خالص مفہوم کو کسی بین المذاہب معجون میں گم ہونے دیں گے، نہ اپنی شریعت کو عالمی مفاہمت کے نام پر گروی رکھیں گے؛ جو امن وسلامتی کا پیغام عدل و صداقت، اور وحی ورسالت کے احترام پر قائم ہو، ہم اس کے محافظ ہیں، لیکن جو’’دین ابراہیمی‘‘ کے نام پر صہیونی استعمار کا نیا چہرہ ہے، ہم اس کے منکر اور مزاحم ہیں،ہماراشافی وکافی اللہ ہے،اور ساقی رسول اللہ ہیں:یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

یہود تاریخ کی ملعون قوم
خیانت کی 8صورتیں

Related Posts

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 10, 2026
  • 0 Comments
مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش بقلم ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند) کبھی کبھی میرے ذہن میں یہ خیال گزرتا ہے کہ اتنے سارے جلسے جلوسوں، اتنی شعلہ بیان تقریروں اور روزمرہ کی علماء و مشائخ کی رنگا رنگ محفلوں کے باوجود مسلم معاشرے میں کوئی تبدیلی کیوں رونما نہیں ہوتی، تعلیم کے تئیں دلچسپی کیوں نہیں پیدا ہوتی، نوجوانوں کی بے راہ روی کیوں بڑھتی جا رہی ہے، نی نسل میں شراب کی لت کیوں زور پکڑتی جا رہی ہے، ان کے اندر کچھ نیا، کچھ الگ کرنے کا جذبہ کیوں پیدا نہیں ہوتا، ان کے اندر تخلیقی صلاحیتیں کیوں پیدا نہیں ہوتین؟ مگر دو تین جلسوں میں حاضری کے بعد مجھے ان سوالوں کے جوابات اپنے اپ مل گئے۔ ایک بار ایک بڑے جلسے میں جانے کا اتفاق ہوا جو اصلا عوام میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک مخلص اور درد مند دوست نے ارگنائز کیا تھا، مگر یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ لباس فاخرہ میں ملبوس جن مقررین کو بڑے بڑے القاب و آداب کے ساتھ دعوت سخن دیا گیا ان میں سے کسی نے بھی اصل موضوع پر لب کشائی کی زحمت گوارا نہ کی۔ ایک صاحب کو یاد دہانی کرائی گئی تو انہوں نے کئی بار اپنی تقریر میں جلسے کے اصل موضوع کی طرف اشارہ تو کیا لیکن اس پر بولنے کی جسارت نہ کی۔البتہ مسلم سائنس دانوں کے نام جھوٹے کارنامے ضرور منسوب کر گئے جنہیں سن کر لوگ عش عش کر اٹھے۔ ان کے حساب سے ہوائی جہاز مسلمانوں نے بنایا، کولمبس کا جہاز مسلمانوں نے بنایا، کولمبس کا نقشہ مسلمانوں نے بنایا تھا، اور تو اور ایٹم بم بھی مسلمانوں نے تقریبا بنا ہی لیا تھا۔ حضرت مقرر کی اس غلط بیانی اور بے جا غلو پر دل کف افسوس ملنے لگا اور یہ سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ اس میں مورد الزام کس کو ٹھہرایا جائے۔   تمام تقریریں اصل پیغام سے خالی تھیں اور کسی نے بھی تعلیم کے تعلق سے بولنے کی کوشش…

Read more

Continue reading
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از :  شان محمد ندوی
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 9, 2026
  • 0 Comments
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ شان محمد ندوی مدرستہ العلوم الاسلامیہ -علی گڑھ عالمی امور کا تجزیہ: دنیا کے نقشے پر چند مقامات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حجم سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز انہی میں سے ایک ہے—محض 33 کلومیٹر چوڑی ایک سمندری گزرگاہ، مگر عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملانے والا یہ راستہ توانائی سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے، اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت محض جغرافیائی نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے۔ دنیا بھر میں سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد سے زیادہ حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں معمولی خلل بھی عالمی معیشت میں بڑی ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔ ایشیا، خصوصاً ہندوستان کے لئے یہ راستہ انتہائی اہم ہے کیونکہ ہندوستان کی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد تیل اور قطر سے آنے والی نصف سے زائد مائع قدرتی گیس (LNG) اسی آبنائے سے ہوکر آتی ہے اور ہندوستان جیسے ممالک، اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست مہنگائی، صنعتی پیداوار اور عوامی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ تاریخی پس منظر : تاریخی شہر اور ریاست: قرونِ وسطیٰ میں اس علاقے میں "ریاستِ ہرمز” (Kingdom of Hormuz) قائم تھی، جو تجارت کا ایک بہت بڑا مرکز تھی۔ مشہور سیاح مارکو پولو نے اس شہر کی دولت اور اہمیت کی وجہ سے اسے "دنیا کی انگوٹھی کا نگینہ” قرار دیا تھا۔ اسی تجارتی شہر اور جزیرے کی نسبت سے اس آبی راستے کا نام "آبنائے ہرمز” پڑ گیا. گیارہویں صدی میں، محمد درمکو نامی ایک عرب سردار نے عمان چھوڑا اور خلیج عبور کر کے ایرانی ساحل پر ‘مملکتِ ہرمز’ کی بنیاد رکھی۔ وہ کوئی جنگجو نہیں بلکہ ایک تاجر شہزادہ تھا، اور وہ جانتا تھا کہ اس جغرافیہ میں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد 10.07.2026
  • مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش 10.07.2026
  • میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل 09.07.2026
  • آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی 09.07.2026
  • نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار) 09.07.2026
  • فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیں 05.07.2026
  • شبلی روایت اور تجدید کا معیار 03.07.2026
  • اہل بیت اور اہل سنت 03.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد
مضامین و مقالات

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش
اسلامیات

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل
مضامین و مقالات

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از :  شان محمد ندوی
فقہ و اصول فقہ

نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
مضامین و مقالات

فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیں

  • hira-online.com
  • جولائی 5, 2026
سیرت و شخصیات

شبلی روایت اور تجدید کا معیار

  • hira-online.com
  • جولائی 3, 2026
سیرت و شخصیات

اہل بیت اور اہل سنت

  • hira-online.com
  • جولائی 3, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top