Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
19.02.2026
Trending News: ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
19.02.2026
Trending News: ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

  1. Home
  2. ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

ماڈرن ’دین ابراہیمی‘ دین الہی کا نیا ایڈیشن

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جولائی 27, 2025
  • 0 Comments

از : ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

دنیا کے ’’تہذیبی‘‘ افق پر ایک نئی اصطلاح ابھری ہے:’’الديانۃ الإبراهيميۃ‘‘Abrahamic religion ، بہ ظاہر یہ ایک لطیف سا دعوتی و مکالماتی تصور ہے، جو امن، رواداری، اور انسانی اخوت کے بلندبانگ نعروں کے ساتھ سامنے آیا ہے؛ مگر اس کی تہہ میں جھانکیں تو ہمیں ایک گہری سیاسی چال، مذہبی استشراق، اور تہذیبی تسلط کی سرنگیں دکھائی دیتی ہیں، یہ کوئی نیا دین نہیں، بلکہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت دین اسلام کی تشکیل جدید ہے،یہ اقوام کی وحدت نہیں،ادیان کی وحدت کا وسیلہ ہے،جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں،اس کا مقصدعقائد میں اسلام کی مرکزیت، نبوتِ محمدی ﷺ پر ختم نبوت کی قطعیت، اور امت مسلمہ کی فکری خودمختاری کو تحلیل کر دینا ہے،کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز اوسلو معاہدہ سے ہی ہوگیا تھا،لیکن ابھی تازہ ابراہیمی معاہدوں Abraham Accords میں ٹرمپ نے عرب اسرائیل تعلقات کی نوعیت سے متعلق جو شقیں رکھی ہیں ،ان سے اس تحریک میں تیزرفتاری نظر آرہی ہے،در اصل ان کوششوں سےیہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام تینوں بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے جد امجد patriach ہیں ہی، تو کیوں ناہم اختلافات کو مٹاکر جنگ وجدل میں وقت برباد کرنے سے بہتر ایک ہوجائیں، سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرمصری نژاد پروفیسر عصام عبد الشافی کا کہنا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے یہ منصوبے ایک مربوط اور طویل المیعاد سازش کا حصہ ہیں، جن کی بنیاد 1993 میں اوسلو معاہدے کے بعد رکھی گئی، اس وقت کے اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے’’نیا مشرق وسطیٰ‘‘ کے نام سے ایک نظریہ پیش کیا، اورThe New Middle East کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی، یہ منصوبہ بیس سے زائد مختلف اصطلاحات کے ساتھ آج عالمی سیاسی قوتوں، اداروں، جامعات اور تحقیقاتی مراکز کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے،پروفیسر عبد الشافی کے مطابق’’المسار الإبراهیمي‘‘Abraham Path یا دیگر مشابہہ اصطلاحات گزشتہ پانچ برسوں یا 2020 کے ابراہام معاہدوں کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئیں، بلکہ یہ ایک طویل المدت منصوبہ ہے جس پر دس سال پہلے سے علمی و تحقیقی سطح پر کام ہو رہا ہے، انہوں نے اشارہ دیا کہ 2013 میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ’’مسار ابراہیم‘‘ کے عنوان سے ایک اہم دستاویز سامنے آئی، اور2015 میں فلوریڈا یونیورسٹی نے ایک سرکاری رپورٹ جاری کی جس میں ’’ وفاق ابراہیمی‘‘Abrahamic Federal Union کا تصور پیش کیا گیا، اسی طرح 2013 میں امریکی وزارت خارجہ میں ایک خصوصی شعبہ قائم کیا گیا جس کا نام تھا’’اسٹریٹیجک ڈائیلاگ برائے سول سوسائٹی‘‘، اور اُس وقت وزارت خارجہ کی سربراہی ہیلری کلنٹن کے ہاتھ میں تھی۔ غور کیا جائے تو ’’میسا‘‘MESA اتحاد کی

غرض وغایت بھی کچھ اس سے مختلف نہیں،اس کو جب امریکہ نے ’’عرب نیٹو‘‘ کے طور پر متعارف کرایا، تو اس کی ظاہری توجیہ یہ کی گئی کہ ایران کے جوہری خطرے سے خلیجِ عربی کا تحفظ کرنا مقصود ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل، جو عرب سرزمین کو اب تک’’خلیجِ فارس‘‘ کہہ کر پکارنے سے باز نہیں آتا، واقعی اس خطے کا محافظ بن سکتا ہے؟ کیا وہ جس کی بنیاد ہی فلسطینیوں کی جڑوں کو کاٹ کر رکھنا ہے، امن و سلامتی کا پیامبر بن سکتا ہے؟ یہ اتحاد دراصل اسرائیل کو خطے کی سیکورٹی اسٹرکچر میں باقاعدہ داخل کرنے کی ایک چال ہے؛ تاکہ عرب اقوام کو نہ صرف دفاع کے میدان میں اس پر انحصار کرنا پڑے بلکہ فکری طور پر بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے،یاد ہوگا کہ کورونا وبا کے دوران امارات میں’’صلاۃ الأخوۃ الإنسانیۃ‘‘ یا ’’الصلاۃ من أجل الإنسانیۃ‘‘ کی خبر سامنے آئی،جس میں شیخ ازہر اور واٹیکن کے پوپ جمع ہوئے،اپنے اپنے قبلے کی جانب پہلو بہ پہلو نماز ادا کی گئی اور ایک ساتھ کورونا وبا کے خاتمے کی دعائیں مانگی گئیں، یہ2020 کی بات ہے،اس سے قبل2010 میں عراق میں ایک کلیسا پر ہوئے حملے کے تناظر میں قیام امن کے لیے ’’الحوار الشعائري‘‘ کا عنوان اختیار کیا گیاکہ زبانی مذاکرات سے بہتر ہےشعائر ادیان کی مشترکہ پریکٹس کی جائے،اس طرح مسلمان اور عیسائی ایک ساتھ نماز ادا کرکے تمام کتب مقدسہ کی برکتیں حاصل کریں۔ کیا

اس قسم کے ڈرامے محض روحانی جذبے سے ہیں؟ نہیں،یہ وہ سیاسی پروگرام ہیں جن کے ذریعے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان عقائد کے فرق کو مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے؟ تاکہ اسلام کا انضمام ہوجائےاور اس کا توحیدی امتیاز باقی نہ رہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام، قرآن کے مطابق، ’’حنیف مسلم‘‘تھے، نہ وہ یہودی تھے، نہ عیسائی، نہ کسی’’تیسرے دین‘‘ کے نمائندہ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی؛بلکہ شرک سے بیزار اللہ کے فرمانبردار تھے،اور مشرکوں میں سے نہیں تھے‘‘(آل عمران: 67)، یہ آیت محض ایک تاریخی اعلان نہیں، بلکہ ایک عقائدی سرحد ہے، جو اسلام کو دیگر ادیان سے الگ اور منفرد بناتی ہے،’’ابراہیمی دین‘‘ کے نام پر جو مذہبی معجون مرکب پیش کیا جا رہا ہے،اور عرب ممالک اس کے آلۂ کار اورمخلص ووفادار بنتے جارہے ہیں، وہ قرآن کی تصریحات کی صریح خلاف ورزی ہے،آج مذہب کو سافٹ پاورکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،’’روحانی سفارت کاری‘‘Spiritual Diplomacy، مذہبی قیادت، تصوف، اور رواداری جیسی اصطلاحات کو استعمال کر کے مسلم معاشروں کو نظریاتی طور پر نرم کرنے ، ان سے توحید کی حساسیت کو چھین لینے کی نامحمودکوشش ،اور ابلیس کی مجلس شوری کی تجویز ہے:میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خوابمیں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں اسلامی نصوص کی نئی قراءت، مشترکہ عبادت گاہیں، بین المذاہب ہاؤسز اورمختلف مذاہب کے نوجوانوں کو مشترکہ رہائش فراہم کرنے جیسے منصوبے بظاہر رواداری کے مظہر ہیں، مگر حقیقت میں یہ ’’تطبیع‘‘ normalizationکی پالیسی کاحصہ ہیں، جن کا مقصد اسرائیل کو مذہبی سطح پر بھی قبول کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، ابوظہبی کا’’ابراہیمی فیملی ہاؤس‘‘ Abrahamic Family House اس پورے منصوبے کا عملی مجسمہ ہے،یہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں مسجد، چرچ، اور یہودی معبد ایک ہی احاطے میں قائم کیے گئے ہیں،گویا عبادت گاہ نہیں،مذہب کا ’’افیون‘‘ اتارنے کا نشہ مکتی کیندر ہو، یہ مراکز نہ صرف دینی شعور کی تشکیل کر رہے ہیں، بلکہ تعلیمی اداروں، میڈیا اور ثقافتی پالیسیوں کے ذریعے نئی نسل کو ایک ایسے بیانیے سے روشناس کرا رہے ہیں جس میں اسلام کو ایک محدود حقیقت، اور دین کو ایک ثقافتی ماڈل کے طور پر سمجھا جائے،حضرت ابراہیمؑ کی جائے پیدائش ’’اُر‘‘Ur کو مقدس مقام قرار دینا، بیت المقدس میں معبد سوم اور ’’جبل ہیکل‘‘ کی بازگشت جس سے مراد قبۃ الصخرہ یا مسجد اقصی ہی ہے، اور’’ صلاۃ الأخوۃ‘‘ کی آڑ میں مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے لیے عبادت کی جگہ ماننا،یہ سب اسلام کے مقدسات پر نظریاتی قبضے کی راہیں ہموار کر رہے ہیں، یہ’’ابراہیمی دین‘‘ دراصل وہی صدی کی ڈیل یا ’’صفقۃ القرن‘‘2020 Trump Israel–Palestine plan کا مذہبی چہرہ ہے، جس کے ذریعے فلسطینی کاز کو تاریخی تنازعے کی جگہ ایک ثقافتی غلط فہمی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ فوکویاما نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ میں یہ

دعویٰ کیا کہ سرد جنگ کے بعد دنیا نظریاتی کشمکش سے آزاد ہو چکی ہے اور اب انسانیت سرمایہ دارانہ جمہوریت پر متفق ہو چکی ہے؛ لہٰذا کوئی متبادل نظام اب ابھرنے والا نہیں، لیکن ان کے استاد ہنٹنگٹن نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کا نظریہ پیش کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ دنیا اگرچہ ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی شناختیں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ کسی بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہیں؛ کیونکہ انسان اپنی تہذیب کو صرف جدیدیت کی قیمت پر نہیں چھوڑتا،اور مغربی غلبے کو ہر قوم خاموشی سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں،جب کہ معروف امریکی ماہر سیاسیات، بین الاقوامی امور کے محقق، اور’’ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ کے سابق صدر جیمس روزینو کے مطابق، دنیا کا مستقبل عالمی امن پر مبنی ہوگا جو’’ ابراہیمی دین‘‘ اور عقائد کے باہمی انضمام کے ذریعے حاصل کیا جائے گا؛ وہ اسے بین الاقوامی تعلقات میں تنازعات کے حل کا ایک نیا فریم ورک قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد رواداری، انسانی اخوت، محبت اور ہم آہنگی جیسے روحانی تصورات پر ہوگی۔ اس صورت حال کو سامنے رکھیں اور دین الہی کو یاد کریں جس کومغل
تاجدار جلال الدین اکبرنے ہندوستان جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور شاہی اقتدار کو مستحکم بنانے کے دعووں پر قائم کیا تھا، اس نئے مذہب میں اسلام، ہندو مت، مسیحیت، زرتشت اور سکھ مت جیسے مذاہب کے بظاہر’’خالص اور عمدہ اصولوں‘‘ کو یکجا کر کے ایک ایسی اخلاقی و روحانی ساخت تشکیل دی گئی تھی جو کسی خاص وحی یا شریعت پر مبنی نہیں تھی، بلکہ ایک انسان ساختہ ’’تہذیبی ترکیب‘‘ تھی، جس میں سب کچھ تھا سوائے اُس ربانی صداقت کے جو نبوت و وحی کی اساس پر استوار ہو؛ اکبر نے اس تحریک کو فروغ دینے کے لیے فتح پور سیکری میں ’’عبادت خانہ‘‘ قائم کیا، جہاں مختلف مذاہب کے علما کو اکٹھا کر کے مکالمے اور مباحثے کا ماحول بنایا گیا، رفتہ رفتہ اہل حق بالخصوص مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی فاروقیؒ کی کوششوں سے اس کا خاتمہ ہوا اور ایک ایسا دور بھی آیا جب اسی مغل امپائر میں اورنگ زیب جیسے خدا ترس بادشاہ سریر آرائے سلطنت ہوئے، اور کھل کر اپنے پردادا اکبر کے بارے میں کہا: ’’جد ما اکفر بود‘‘ ۔ یہ وقت محض تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ فکری مزاحمت، دینی بیداری، اور تہذیبی خودی کو پھر سے جگانے کا ہے؛ ہمیں صاف اور بے خوف لہجے میں کہنا ہوگا کہ ہم حضرت ابراہیمؑ کے دین پر ہیں،مگر وہ دین کوئی ابراہیمی مرکب نہیں، صرف اسلام ہے؛ نہ ہم توحید کے خالص مفہوم کو کسی بین المذاہب معجون میں گم ہونے دیں گے، نہ اپنی شریعت کو عالمی مفاہمت کے نام پر گروی رکھیں گے؛ جو امن وسلامتی کا پیغام عدل و صداقت، اور وحی ورسالت کے احترام پر قائم ہو، ہم اس کے محافظ ہیں، لیکن جو’’دین ابراہیمی‘‘ کے نام پر صہیونی استعمار کا نیا چہرہ ہے، ہم اس کے منکر اور مزاحم ہیں،ہماراشافی وکافی اللہ ہے،اور ساقی رسول اللہ ہیں:یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

یہود تاریخ کی ملعون قوم
خیانت کی 8صورتیں

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • فروری 18, 2026
  • 0 Comments
ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی ​ماہِ رمضان کے استقبال کا ایمان افروز خطبہ ​اے مسلمانو! دیکھو، تمہارے مہمان (رمضان) کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور اس کی خوشبو پھیل چکی ہے۔ یہ بہترین اترنے والا، سب سے افضل آنے والا اور دلوں کا معزز ترین مہمان ہے۔ دل اس کے مشتاق اور روحیں اس کے لیے بے قرار ہیں۔ پس اس کی آمد کا انتظار کرو اور اس کے پہنچنے کی راہ تکو، کیونکہ اس کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے اور اس کا بہترین استقبال کرنا شرافت و مروت ہے۔ ​اللہ کے بندو!تمہارا یہ مہمان ہلکا پھلکا اور نرم مزاج ہے۔ یہ بلند صفات، کریمانہ عادات اور وسیع نوازشات والا مہمان ہے۔ یہ مہمان ہے تو سہی مگر عام مہمانوں جیسا نہیں؛ یہ تمہارے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے نہیں آتا، نہ ہی کسی سوال کے لیے تمہاری زیارت کرتا ہے، بلکہ یہ ایسا مہمان ہے جو دیتا ہے مگر لیتا کچھ نہیں، نوازتا ہے مگر احسان نہیں جتاتا، خوشیاں بانٹتا ہے اور پریشان نہیں کرتا۔​پس خبردار! اس مہمان کو اپنے لیے ایسا ڈراونا خواب نہ بنانا جو تمہاری لذتوں کو کاٹ دے، یا ایسا بوجھ نہ سمجھنا جو تمہاری زندگی کو اجیرن کر دے اور تمہاری عادتوں کو بدل دے۔ اور خبردار! اس مہمان کی موجودگی میں کام کے بہانے اپنی جگہوں کو نہ چھوڑنا، نہ ہی سیاحت و سفر کے مقصد سے اپنی ذمہ داریوں (سرحدوں) سے دور ہونا۔ بلکہ اپنے نفسوں کو تیار کرو، اپنے ارادوں کو مضبوط کرو، اپنے اوقات کو (عبادت کے لیے) فارغ کرو، اپنے رب کی رحمتوں کے سامنے دستِ دعا پھیلاؤ اور اپنے مہینے کے فضائل کو غنیمت جانو۔ ​اے (رمضان کے) مشتاقو!تمہارا یہ معزز مہینہ مبارک ہے؛ اس کی راتیں فضائل و انعامات سے بھرپور ہیں، اس کے دن نفیس تحفوں اور بخششوں والے ہیں، اور اس کے لمحات رحمتوں اور کرامتوں کے حامل ہیں۔ یہ بھلائی اور احسان کا مہینہ ہے؛ اس نے کتنے ہی زخموں پر مرہم رکھا، کتنے ہی مصیبت زدوں کو دلاسا دیا…

Read more

Continue reading
صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • فروری 16, 2026
  • 0 Comments
صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ ڈیجیٹل کنٹنٹ کریئٹرس میں ایوارڈکی تقسیم،مولاناخالدرشیدفرنگی محلی،حافظ عثمان،معراج الدین،پروفیسرشافع ،طارق خان کااظہارخیال کسی بھی معاشرے اور سماج میں اپنی بات عوام اور سماج کے دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی نہ کسی ذریعے اور پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے، میڈیا بھی اسی کا ایک اہم حصہ ہے، دور حاضر میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا یا موبائل جرنلزم بہت زیادہ اہمیت حاصل کر چکا ہے۔اپنی بات رکھنا اور مسائل کو اٹھانا، لوگوں کی رہنمائی کرنا، انہیں سچائی بتانا اور غلط باتوں کی توثیق اور تصدیق کر کے صحیح باتیں پیش کرنا سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ٓاج کے دور میں جو ذرائع رائج ہیں ان کا استعمال کیا جائے، چونکہ یہ ذرائع ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، اس لیے اس ٹیکنالوجی اور اس نظام کو سیکھ کر قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے صفا انسٹیٹیوٹ فارمیڈیا لٹریسی اینڈ جرنلزم کے تحت عیش باغ میں واقع رشید بارہ دری میں ہوئے ایک پینل ڈسکشن میں کیا،اس میں ہندوستان ٹائمز گروپ کے سینیئر رپورٹر جناب طارق خان ،اتر پردیش کے سابق انفارمیشن کمشنر حافظ عثمان، آل انڈیا ریڈیو کی نیوز سروس کے یو پی اور نارتھیسٹ کےسابق ہیڈسبکدوش انڈین انفارمیشن سروس افسر معراج الدین خان اور انٹیگرل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے وابستہ پروفیسر شافع انوار الحق شریک ہوئے، ان تمام ماہرین نے میڈیا کی اہمیت اور اپنے عملی تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے نئی نسل کو ٹیکنالوجی اور میڈیا کی اہمیت کو سمجھ کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا، ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ اپنی جگہ بنانے کے لیے انہیں دوسرے سے زیادہ محنت اور دوسرے سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ڈسکشن اور ایوارڈ تقریب کا آغاز محمد یمان مصطفی اور معراج ندوی کی تلات سے ہوا،صالحہ خاتون نے حمدباری اور جمشید قادری نے نعت پیش کی، مفتی منور سلطان ندوی نے افتتاحی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیاآنے کے بعد مواقع بڑھ گئے ہیں،اس سے…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی 18.02.2026
  • صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ 16.02.2026
  • "روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق” 15.02.2026
  • دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات 14.02.2026
  • قرآن کے پانچ اساسی علوم 14.02.2026
  • اُس بازار میں : شورش کاشمیری 06.02.2026
  • ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی 05.02.2026
  • ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر 02.02.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

  • hira-online.com
  • فروری 18, 2026
مضامین و مقالات

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ

  • hira-online.com
  • فروری 16, 2026
صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ
مضامین و مقالات

"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”

  • hira-online.com
  • فروری 15, 2026
مضامین و مقالات

دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات

  • hira-online.com
  • فروری 14, 2026
دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
قرآن و علوم القرآن

قرآن کے پانچ اساسی علوم

  • hira-online.com
  • فروری 14, 2026
فکر و نظر

اُس بازار میں : شورش کاشمیری

  • hira-online.com
  • فروری 6, 2026
اُس بازار میں : شورش کاشمیری
اسلامیات

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی

  • hira-online.com
  • فروری 5, 2026
فکر و نظر

ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر

  • hira-online.com
  • فروری 2, 2026
ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top