HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سلام کرنے والا، سلام کا جواب سن لے

کیا اتنی آہستہ آواز سے سلام کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ سلام کرنے والا نہ سنے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: اتنی آواز سے سلام کا جواب دینا ضروری ہے کہ اگر کوئی مانع نہ ہو، تو سلام کرنے والا جواب کو سن لے- لہٰذا اتنی آہستہ آواز سے سلام کا جواب دینا درست نہیں ہے کہ سلام کرنے والا نہ سنے، نیز یہ تکبر و گھمنڈ کی علامت ہے، جس سے گریز کرنا لازم ہے-"ہندیہ” میں ہے: "لا يسقط فرض جواب السلام إلا بالإسماع، كما لا يجب إلا بالإسماع، كذا في الغياثية”. (ہندیہ، کتاب الکراھیہ، الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس 5/326، بیروت، دار الفکر، 1411ھ/1991ء، ع.أ.:6)-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

علامہ شبلی ؒنعمانی (1857۔ 1914)مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں

از: احمد نور عینی استاذ استاذ : المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد زائد از ڈیڑھ صدی پہلے کی بات ہے، یعنی اس زمانے کی بات ہے جب ہندوستان جنت نشان کی سونا اگلتی دھرتی پر استعمار اپنے اقتدار کے پنجے بے رحمی کے ساتھ گاڑنے میں کامیاب ہورہا تھا، ہندوستان کا دل شہرِ دلی مغلیہ عظمت وشوکت کی آخری دھڑکنیں گن رہا تھا ، دلی کا مرکزِ اقتدار لال قلعہ انتقالِ اقتدار کا ماتم کر رہا تھا ، گویا مغلیہ سلطنت کا وہ آفتاب جو اورنگ زیب کے بعد لب بام آگیا تھا ہمیشہ کے لیے غروب ہوا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی زمانے میں اتر پردیش کے ایک مردم خیز خطہ اعظم گڈھ میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوتا ہے جو آگے چل کر علم کدوں میں تحقیق کی کرنیں بکھیرتا ہے، مخالفت کی ہوائیں ہر چند اس کی ضیا گستری کو بدلیوں کی اوٹ میں چھپانا چاہتی ہیں مگر اس کی کرنیں بدلیوں کا سینہ چیر کر نیچے اترتی جاتی ہیں۔ جس زمانے کی یہ بات ہے وہ ۱۸۵۷ ء کا سال ہے اوراعظم گڈھ کے جس آفتاب کا تذکرہ ہے اسے دنیا شبلی نعمانی کے نام سے جانتی ہے۔ علامہ شبلیؒ قافلۂ سخت جاں کے وہ سالار تھے جن کی صحرا نوردی کو ریگستانی ہواؤں کے جھکڑ بھی نہ روک سکے،اور جن کی آبلہ پائی کے نقوش آج بھی کاروانِ علم وتحقیق کو منزل کا پتہ دیتے ہیں۔ علامہ شبلیؒ کی شخصیت بیسویں صدی میں تعلیمی انقلاب کا عنوان ہے، مردم سازی و مصنف گری کا نام ہے، تخلیق وتحقیق سے عبارت ہے۔ علامہ شبلیؒ گوناگوں خصوصیات کے حامل اور مختلف صلاحیتوں کے مالک تھے، میدانِ ادب کے شہسوار بھی تھے اور اقلیمِ علومِ اسلامیہ کے تاجدار بھی ، تاریخ کے بحر متلاطم کے غوطہ خوار بھی تھے اور سیرت نگاری کے انوکھے اسلوب میں یکتائے روزگار بھی ، انگریزی کی ترویج کے لیے طبقۂ قدیم سے برسر ِپیکار بھی تھے اور قدیم صالح وجدید نافع کو جمع کرنےکے علم بردار بھی۔ دامنِ اسلام سے شبہات کے داغ دور کرناان کی فکر تھی، آریہ سماجیوں…

Read more

!گھر سے واپسی ۔۔۔۔

از : اسجد حسن ندوی !گھر سے واپسی۔۔۔ صبح سے ایک کشمکش میں مبتلا تھا ملاقات کروں یا نہ کروں، اطلاع دوں یا نہیں۔ دل میں عجیب سا اضطراب تھا، کیونکہ خود کو یقین نہیں تھا کہ اگر ملاقات کی تو جذبات پر قابو رکھ سکوں گا یا نہیں۔ بہرحال، واپسی کی تیاری مکمل کرنے کے بعد، دل مضبوط کر کے، مچھر دانی اٹھا کر ان کے پاؤں کے قریب جا بیٹھا۔ کچھ کہنے کی ہمت جمع کر رہا تھا کہ بے ساختہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ جیسے ہی ان کے پاؤں چھونے کا ارادہ کیا، انہوں نے فوراً کہا:"سب کچھ رکھ لیے؟”میں نے جواب دیا: "جی، رکھ لیا ہے۔”انہوں نے مختصر سا کہا: "ٹھیک ہے، جاؤ، دعا کرنا۔” پھر ممی سے مخاطب ہو کر کہا: "بسکٹ دے دو۔” یہ ایک عام جملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ان کی پوری زندگی کی ترجمانی کرتا ہے۔ ان کا ہر عمل، ہر لفظ، اور ہر فکر ہم سب کے لیے ہمیشہ محبت اور ذمہ داری کی عکاسی کرتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ کوئی ضرورت یا خواہش تشنہ نہ رہ جائے۔ چاہے بیٹے ہوں، بیٹیاں، نواسے ہوں یا نواسیاں، یا خاندان کا کوئی بھی فرد، ان کی شفقت اور مہربانی سب پر یکساں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بے شمار احسانات مجھ پر بھی ہیں۔ جب سے لکھنؤ میں تعلیم کا آغاز ہوا، عیدالاضحیٰ اور ششماہی چھٹیوں میں گھر آنے کا معمول تھا۔ گھر پہنچتے ہی ان کی توجہ ہر چیز پر ہوتی تھی۔ جانے سے پہلے وہ ہر بار اصرار کرتیں: "بابو، یہ لے لو، یہ رکھ لو، فلاں سامان نہ بھول جانا۔” ان کی محبت اور فکرمندی کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیتی تھی کہ میں اپنی والدہ کے بغیر سفر پر نکل رہا ہوں۔ مگر اس بار، جب میں گھر سے رخصت ہو رہا تھا، باقی سب لوگوں نے حسبِ معمول پوچھا کہ سب کچھ رکھ لیا؟ کب نکل رہے ہو؟ کیسے جاؤ گے؟ لیکن وہ ایک آواز، جو ہمیشہ میرے ہر سفر میں…

Read more

فرقہ پرستوں کو ہری جھنڈی

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ آپ کو یاد ہوگا کہ کرناٹک کے ضلع وکشن کنٹر کے گاؤں اتوار میں کداہامرد ڈالا روڈ پر واقع ایک مسجد میں گھس کر چند فرقہ پرستوں نے جے شری رام کا نعرہ لگایا تھا اور کہا تھا کہ مسلمانوں کو نہیں چھوڑیں گے، معاملہ سنگین تھا اور اس حرکت کی وجہ سے وہاں کا ماحول خراب ہوا تھا، سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے ملزمین کی شناخت کی گئی اور ان پر نامزد ایف آئی آر درج کرائی گئی، اس واقعہ کے دو سرغنہ کی گرفتاری بھی 295A کے تحت عمل میں آئی، پولیس نے ملزمین پر دفعہ 447 (کسی کے گھر میں مجرمانہ طورپر گھسنا) 505 (فساد بھڑکانے کی نیت سے دیا گیا عوامی بیان) 506 (مجرمانہ دھمکی) 34 (مشترکہ طورپر بُرے ادارے) 295A (دانستہ بدنیتی پر مبنی کاروائی) کے دفعات لگائے جو صورت حال کے بالکل مطابق تھے، ان فرقہ پرستوں نے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ایک نفری بنچ کے جج جسٹس ایم ناگ پرسنا نے ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا کہ ”وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسجد میں داخل ہوکر جے شری رام کا نعرہ لگانے سے کس طرح فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہوسکتی ہے“ معزز جج کے علم و آگہی پر کوئی تبصرہ تو میں نہیں کرسکتا، البتہ ان کے علم میں یہ بات آنی چاہئے تھی کہ جبراً جے شری رام کے نعرے لگوانے، نہ لگانے پر ماب لنچنگ کے ذریعہ قتل، مسجد کی دیواروں پر جے شری رام کے نعرے لکھنے سے خیرسگالی، باہمی ہم آہنگی کو فروغ نہیں ہوتا، بلکہ فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور ہم آہنگی کا جنازہ نکل جاتا ہے، کیا معزز جج صاحب اس بات کو گوارہ کریں گے کہ مسلمان مندروں میں گھس کر اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں اور وہ یہ فیصلہ دیں کہ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان نہیں پہونچتا ہے، ظاہر ہے وہ ایسا فیصلہ نہیں دے سکتے تو مسجدوں…

Read more

نقد خرید کر ادھار زیادہ قیمت میں فروخت کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم

از: ڈاکٹر محمد شاہ جہاں ندوی :سوال نمبر 294ہمارے یہاں سعودی میں کفیل قرض دینے کی بجائے گاڑی خرید کر مجھ سے ادھار زیادہ قیمت میں فروخت کرتا ہے، تو کیا یہ ںشرعاً جائز ہے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق جس طرح نقد فروخت کرنا جائز ہے، اسی طرح ادھار فروخت کرنا بھی جائز ہے، نیز ادھار خرید و فروخت کی صورت میں زیادہ قیمت بھی رکھی جا سکتی ہے- زیادہ قیمت سامان کے بدلہ میں ہے، مدت کی مہلت کے بدلہ میں نہیں ہے، لہٰذا یہ سود میں شامل نہیں ہے-اب اگر آپ کا کفیل گاڑی نقد خرید کر اپنے قبضہ میں لے لے، پھر باہمی رضامندی سے آپ کفیل سے ادھار زیادہ قیمت میں خرید لیں، اور گاڑی آپ کے نام سے رجسٹرڈ کردی جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے- البتہ یہ ضروری ہے کہ پہلے کفیل نے اپنے لیے خرید کر قبضہ کرلیا ہو، پھر قبضہ میں لینے کے بعد آپ سے فروخت کیا ہو- ھکذا في عامة الكتب الفقهيه.والله تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکم

Read more

تدفین کا صحیح طریقہ

*تدفین کا صحیح طریقہ* تدفین (دفنانے) کا صحیح طریقہ اسلامی تعلیمات اور سنت رسول ﷺ پر مبنی ہے۔ اللہ کے نبی محمد ﷺ نے اپنے عمل، ارشادات اور صحابہ کے عمل سے تدفین کے طریقے کی وضاحت فرمائی ہے۔ درج ذیل میں تدفین کا صحیح طریقہ اور اس کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں۔ قبر کھودنے کے دو طریقے ہیں*شق* یہ عام طریقہ ہے جس میں سیدھی قبر کھودی جاتی ہے۔*لحد*اس میں قبر کی ایک جانب دیوار سے متصل کھود کر چھوٹا قبر نما بنایا جاتا ہے، جس میں میت کو رکھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ سنت سے ثابت ہے اور زیادہ مستحب ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی”لحد بناؤ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے بنایا گیا تھا تدفین کی سنت اور سنت مؤکدہ میت کو قبر میں اتارتے وقت میت کوقبلہ کی طرف سے اتارا جائے، اور یہ بھی مستحب ہے کہ میت کو داہنےکروٹ قبلہ رخ لٹایا جائے۔*بر خلاف اپنے گاؤں یکہتہ کے اپنے یہاں چت لٹایا جاتا ہے اور چہرا کے نیچے مٹی کا ڈھیلا رکھ کر قبلہ رخ کیا جاتا جو غلط ہے* نیز اپنے یہاں دفن کے وقت جو بیر کی شاخ ڈالی جاتی ہے یہ کہیں سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ روافض کا طریقہ اور یہ واجب الترک ہے۔میت کو قبر میں رکھنے کا طریقہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا”جب تم اپنے مُردوں کو قبر میں رکھو تو یہ دعا پڑھو: ‘بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَىٰ مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ’یہ دعا پڑھنے سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ میت اللہ کی امانت ہے اور اسے دینِ اسلام کے مطابق دفن کیا جا رہا ہے۔ میت کو قبر میں رکھنے کے بعد ہاتھوں سے تین مٹھی مٹی ڈالنا مستحب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب تم کسی میت کو دفن کرو تو تین مٹھی مٹی ڈالو۔”قبر کو ہموار کرنا: قبر کو زمین کے برابر یا معمولی سا اونچا کیا جا سکتا ہے تاکہ قبر کی پہچان ہو اور اس پر پانی نہ جمع…

Read more