HIRA ONLINE / حرا آن لائن
کتاب : اسالیب القرآن (عربی)

کتاب : اسالیب القرآن (عربی) افادات : مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللّٰہ ناشر : مکتبہ حمیدیہ، سرائے میر 64: صفحات تعارف نگار : معاویہ محب اللّٰہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مولانا حمید الدین فراہی ؒ کی قرآنی بصیرت اور کلامِ الہی کے لیے آپ کی خدمات کا تعارف کرانا سورج کو چراغ دکھانے کے مرادف ہے، علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے مولانا کی وفات پر وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کی وفات پر استعمال ہوئے تھے ’’الصلوۃ علی ترجمان القرآن‘‘۔مولانا ان الفاظ کے صحیح معنوں میں مصداق تھے۔ یوں تو مولانا فراہی ؒ نے قرآنیات اور علوم القرآن کے بہت سارے مباحث پر لکھا ہے، نفیس سے نفیس، قیمتی سے قیمتی اور نایاب نہیں تو کم یاب تحقیقات ضرور چھوڑی ہیں، عربیت کا ذوق، زبان وبیان کا ملکہ اور جاہلی شاعری کے اسلوب و بلاغت کا جو حصہ مشیتِ ایزدی نے مولانا کو عطا فرمایا تھا، بر صغیر میں ایسے افراد خال خال ہی نظر آئے ہیں۔ ’’اسالیب القرآن‘‘ بھی مولانا فراہی کی قرآنیات کے متعلق تحقیقات میں سے ایک ہے، یہ کتاب در حقیقت مولانا کے حسین خواب کی نامکمل تعبیر ہے، آپ کا ارادہ تھا کہ کلامِ عرب کے اسالیب کا احاطہ کسی ایک ہی رسالہ میں یکجا دستیاب ہو جائے تاکہ بلاغتِ مبین سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی تسکین کا سامان ہوسکے، لیکن مولانا اپنے اس خیال کو پورا نہ کرسکے تھے کہ وعدۂ اجل آ پہنچا، مولانا کی وفات کے بعد اسی نامکمل کام کو مولانا بدر الدین اصلاحی ؒ نے’’ من افاداتہ‘‘ کے اضافہ کے ساتھ شائع کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اس کے مخاطبین کی بلیغ ترین زبان میں نازل کیا ہے، یہی عربی زبان ترجمان الوحی رسول اللّٰہ ﷺ کی زبان تھی؛ إِنَّاۤ أَنزَلۡنَـٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیࣰّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ:ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم سمجھ سکو (يوسف۲)۔ عربی زبان بھی وہ جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فصحاء اور شعراء بولا کرتے تھے، اس وقت کے عربی معاشرہ میں فصاحت وبلاغت اور زبان وبیان…

Read more

*بہار جمعیۃ کے اجلاس میں نتیش کمار کی غیر حاضری: بہار کے مسلمانوں کے لیے واضح پیغام*

*@مختصر_کالم* بہار میں جمعیۃ علماء ہند (الف) کا ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا، جس میں اندازہ ہے کہ دو لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ قائد جمعیۃ مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں مختلف اہم موضوعات زیر بحث آئے، جن میں سے وقف ترمیمی بل کی مخالفت بھی اہم موضوع تھا۔ اس اجلاس کے لیے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ نتیش کمار نے اس دعوت کو نظر انداز کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت نہیں کی نتیش کمار کی غیر حاضری کو صرف مولانا ارشد مدنی یا جمعیۃ علماء ہند کی دعوت کو ٹھکرانے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ پورے بہار کے مسلمانوں کی دعوت کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔ یہ واقعہ واضح طور پر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بہار کے مسلمانوں کی نتیش کمار کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رہی۔ ان کے اس رویے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اب انہیں مسلمانوں کے ووٹوں کی بھی پرواہ نہیں رہی۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ نتیش کمار کے اس طرز عمل کے باوجود کچھ مسلم سیاستدان اور رہنما ابھی بھی ان کے حمایتی بنے ہوئے ہیں۔ وہ یا تو سیاسی بصیرت سے محروم ہیں یا پھر اپنے ذاتی مفادات کے لیے نتیش کمار کی چاپلوسی کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے رویے کے بعد جنتا دل یونائٹڈ (جدیو) سے جڑا ہر مسلمان سیاستدان فوراً اپنی حمایت واپس لے لیتا اور اس جماعت سے خود کو الگ کر لیتا۔ لیکن یہ سیاسی بے حسی اور بصیرت کی کمی ہے جو بہار کے مسلمانوں کو ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے سے روکے ہوئے ہے۔ نتیش کمار کی اس حرکت کو بہار کے مسلمانوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ وہ اپنی سیاسی حیثیت اور ووٹ کی اہمیت کو کیسے مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر بہار کے مسلمانوں نے اس واقعے…

Read more

*یوگی حکومت کا ظلم اور مسلم نوجوانوں کا قتل*

*@مختصر_کالم* اترپردیش کا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اسرائیلی دہشت گرد نیتن یاہو کے بعد دنیا کے سب سے بڑے متعصب حکمران کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ اس کی ظالمانہ حکومت میں مسلمانوں کی جان، مال، عبادت گاہیں سبھی نشانے پر ہیں۔ سنبھل کی شاہی جامع مسجد پر ایک بے بنیاد اور جھوٹے دعوے کی بنیاد پر عدالت نے جانچ کا حکم دیا کہ یہ مسجد مبینہ طور پر کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی، حالانکہ اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں۔ یوگی کی پولیس نے چوروں کی طرح رات کی تاریکی میں مسجد کی جانچ کے لیے دھاوا بولا۔ اس واقعے نے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کر دیا۔ اگلے دن مسلم نوجوانوں نے مسجد کی حمایت میں پرامن احتجاج کیا، مگر ظالم حکومت کو یہ بھی گوارا نہ ہوا۔ یوگی کی متعصب پولیس نے احتجاج کو دبانے کے لیے گولیاں برسا دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ سے زیادہ بے گناہ مسلم نوجوان شہید ہو گئے، جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے کھڑے تھے۔ یہ وقت ہے کہ ملی تنظیمیں اور قائدین خاموشی کا لبادہ اتار کر سر جوڑ کر بیٹھیں اور مسلمانوں کی مساجد اور جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس ظلم کے خلاف پرامن ملک گیر احتجاج وقت کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں، اگر آج آواز بلند نہ کی گئی تو یوگی حکومت کا ظلم مزید بڑھے گا، اور ہماری مساجد و عبادت گاہیں ایک کے بعد ایک نشانہ بنتی رہیں گی۔ یہ وقت یکجہتی اور عمل کا ہے، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔* از: آفتاب اظہر صدیقی*کشن گنج بہار25/ نومبر 2024ء

Read more

روبوٹ کا شرعی حکم

صالح اغراض و مقاصد کے لیے روبوٹس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق اگر روبوٹس جاندار کی واضح شکل پر نہ ہوں، یا جاندار کے خد و خال واضح نہ ہوں، یا ان کے سر واضح نہ ہوں، یا ان کے سر کٹے ہوں، تو ان صورتوں میں صالح اغراض و مقاصد کے لیے "روبوٹس” (robots) کا استعمال شرعی اعتبار سے جائز ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے-"الدر المختار” میں ہے: "أو كانت صغيرة لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما، و هي على الأرض، ذكره الحلبي، أو مقطوعة الرأس أو الوجه، أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه، أو لغير ذي روح، لا يكره؛ لأنها لا تعبد”. (حصکفی، الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا 1/649، بیروت، دار الفکر، 1386ھ، ع.أ.:6)-"رد المحتار” میں ہے: "قوله: أو مقطوعة الرأس”أي: سواء كان من الأصل، أو كان لها رأس و محي، و سواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو يطليه بمغرة، أو بنحته، أو بغسله؛ لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة”. (ابن عابدین، رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا 1/648، بیروت، دار الفکر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8)- واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

🔰جذبات سے نہیں ہوشمندی سے فیصلہ کیجئے

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی🖋 ایک اہم واقعہ غزوۂ بنو مصطلق کے نام سے آیاہے ،بنو مصطلق قبیلۂ بنو خزاعہ کی ایک شاخ تھی ، یہ ’ مریسیع ‘ نامی مقام پر آباد تھے ، جو مدینہ منورہ سے نو منزل کے فاصلہ پر واقع تھا ، حارث بن ابی ضرار اس قبیلہ کی قیادت کرتا تھا ، صلح حدیبیہ سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اس قبیلہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ، آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی ، آپ ﷺ نے مزید تحقیق کے لئے اپنے ایک نمائندہ کو بھیجا ، انھوں نے یہاں آکر تحقیق حال کیا اور اس خبر کی تصدیق ہوئی ، اس پس منظر میں یہ بات ضروری محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو اس قریبی دشمن سے محفوظ رکھا جائے اور حملہ کرکے ان کو مطیع بنایا جائے ؛ چنانچہ مدینہ منورہ سے ایک فوج روانہ ہوئی ، آپ ﷺ بنفس نفیس اس میں شریک تھے ۔ قبیلہ کے اکثر لوگوں کو تو مجاہدین کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور انھوں نے راہِ فرار اختیار کی ، مگر کچھ تیر اندازوں نے جم کر تیر برسائے ، بہت سے لوگ قید ہوئے ، ان ہی قیدیوں میں حضرت جویریہؓ بھی تھیں ، جو قبیلہ کے سردار حارث کی بیٹی تھیں ، ان کے مقام و مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے خود ان کی خواہش پر حضور ﷺ انھیں اپنے نکاح میں لے آئے اور اس طرح یہ سعادت بخش اسیری نے انھیں ’’ اُم المومنین ‘‘ ہونے کا شرف بخشا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ ؓ نے دفعتاً تمام اسیرانِ جنگ کو آزاد کردیا ، کہ ہم رسول اﷲ ﷺ کے سسرالی اعزہ کو کیوں کر اپنا غلام وباندی بناکر رکھ سکتے ہیں ؟ اور بالآخر یہی واقعہ اس قبیلہ کے قبول اسلام کا باعث ہوا ۔ اس غزوہ کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ جن منافقین نے غزوۂ اُحد جیسے نازک موقعہ پر مسلمانوں کو اپنی پیٹھ دکھائی تھی ، مخالف فوج کی کمزوری اور…

Read more

المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں شعبہ تدریب قضاء کا آغاز

ہندوستان میں مفکر اسلام حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمہ اللہ نے فکر امارت اور نظام قضاء کے نظریہ کو بڑی قوت کے ساتھ پیش کیا، اس پر آنے والے شبہات و اعتراضات کے جوابات دیے اور اس خاکہ میں رنگ بھرا۔ آج ملک میں قانون شریعت کے تحفظ کا سب سے اہم ذریعہ نظام قضاء ہے، اس کی توسیع اور تحفظ ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اللہ جزائے خیر دے فقیہ النفس حضرت مولانا قاضی مجاہد السلام قاسمی رحمہ اللہ کو؛ کہ انہوں نے اسلام کے عدالتی نظام کی وضاحت، اس کے نفاذ کے طریقے اور مطلوبہ افرادی طاقت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ابھی ملک میں کم و بیش 300 دارالقضاء قائم ہیں، ان میں سے سو کے قریب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت کام کر رہے ہیں، صرف ان میں ہر سال 5000 سے زائد مقدمات حل کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں نزاعات کو گفت و شنید اور کونسلنگ کے ذریعہ حل کر دیا جاتا ہے۔ ابھی ملک کی عدالتوں میں 25000 سے کچھ زائد ججوں کی اسامیاں ہیں، اندازہ لگائیں کہ 140 کڑور کی آبادی میں پچیس ہزار ججوں سے کیاہی ہوپائے گا۔ چند سالوں پیشتر یہ اعداد و شمار پیش کیے گئے تھے کہ عدالتیں اگر زیر دوراں مقدمات پر اکتفا کریں، نئے مقدمات نہ لیں، تو زیر دوراں مقدمات کو مکمل کرنے کےلیے ساڑھے تین سو سال درکار ہوں گے۔ دارالقضاء ملک میں کوئی متبادل عدالتی نظام نہیں ہے، ہاں یہ خارج عدالت نزاعات کے تصفیہ کی کامیاب کوشش ہے، 2014 میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بھی اس بابت موجود ہے۔ تربیت قضاء کا کورس المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں شروع کیا جارہا ہے، ایک جامع نصاب تیار کیا گیا ہے اور کونسلنگ کی جدید مہارتیں بھی شامل رکھی گئی ہیں۔اس افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف فقیہ حضرت مولانا عتیق احمد بستوی(کنوینر شعبہ دارالقضاء بورڈ) نے کی، صدر بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی نگرانی و سرپرستی رہی، اس موقع پر حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن صاحب، جناب قاضی اشفاق…

Read more