HIRA ONLINE / حرا آن لائن
مارجن ٹریڈنگ ( margin trading) شرعی نقطئہ نظر

(Margin Trading) شرعی نقطہء نظر ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندویسوال نمبر: 293"مارجن ٹریڈنگ” کے شرعی حکم کی وضاحت فرمادیں- الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: "مارجن ٹریڈنگ” کی حقیقت مارجن ٹریڈنگ وہ حکمت عملی ہے جس میں مالیاتی اثاثہ خریدنے کے لیے بروکر (broker: دلال) سے رقم قرض لی جاتی ہے-اس طرح سرمایہ کار "بروکرج اکاؤنٹ” میں بروکر سے قرض لینے کے لیے ضمانت کے طور پر نقد رقم جمع کرتے ہیں، اس کے بعد سرمایہ کار اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم سے زیادہ رقم کے ساتھ تجارت کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں-اسے "لیوریجڈ ٹریڈنگ” (leveraged trading) بھی کہا جاتا ہے- "مارجن ٹریڈنگ” کے فوائد: مارجن ٹریڈنگ کے درج ذیل فوائد ہیں:1- مارجن ٹریڈنگ کے ذریعہ ایک سرمایہ کار اپنی قوت خرید سے زیادہ شیئرز خرید سکتا ہے-2- زیادہ شیئرز کی خریداری کی وجہ سے زائد منافع کے امکانات ہوتے ہیں-3- مارجن ٹریڈنگ کی سہولت زیادہ تر ڈیلیوری تجارت میں حاصل ہوتی ہے-4- یہ سہولت منتخب اسٹاک میں حاصل ہوتی ہے-5- مارجن ٹریڈنگ بالواسطہ سرمائے کے مسئلے کو ختم کرتی ہے-مارجن ٹریڈنگ کے نقصانات:مارجن ٹریڈنگ کے نقصانات درج ذیل ہیں:1- مارجن ٹریڈنگ میں زیادہ نقصانات کے بھی قوی امکانات ہیں، اگر سرمایہ کاری کی قدر میں کمی آتی ہے تو سرمایہ کار کو کافی نقصان ہوسکتا ہے-3- اگر ایک سرمایہ کار کی سرمایہ کاری اچھی کارکردگی پیش نہیں کرتی ہے، تو مارجن کال ہوتی ہے- بروکر اس کال کو اس وقت جاری کرتا ہے، جب ایک سرمایہ کار کے اکاؤنٹ میں بیلنس مطلوبہ طے شدہ سطح سے نیچے آجاتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اثاثے کو قرض میں تبدیل کرنے کے لیے ختم کردیا جاتا ہے-3- مارجن ٹریڈنگ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی حساسیت کو بڑھاتی ہے؛ کیونکہ قرض لی ہوئی رقم کے استعمال سے، نفع اور نقصان کے امکانات بڑھتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے بستہ کو قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کا زیادہ خطرہ رہتا ہے-4- مارجن ٹریڈنگ کے لیے لی گئی قرض کی رقم پر سود عائد ہوتا ہے، جو منافع کو کم کر سکتا ہے، یا نقصان کو بڑھا…

Read more

فقہی سیمینار میں حاضری اور کچھ سبق آموز کہانی

از : قاضی محمد حسن ندوی تینتیسواں فقہی سیمینار میں شرکت کے لئے نو نومبر کو علی الصبح جامعہ اسلامیہ بالاساتھ میں ہم چار احباب بحسن وخوبی پہنچے، تین دن وہاں ہم لوگوں کا قیام رہا ،یہ ادارہ حضرت مولانا عبد الحنان صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کیے خوابوں کی تعبیر اور ان کی للہیت کا مظہر ہے ، مدرسہ کی تعمیر اور ظاہری ترتیب و تزئین سے اندازہ ہوا کہ کسی باذوق شخص کا کردار اس میں نمایاں ہے ، جنہیں نہ صرف اپنے بیان اور خطابت کے جادو سے لوگوں کو مسحور کرنے کا ملکہ حاصل تھا ، بلکہ کم خرچ میں عمدہ اور شاندار عمارت کی تعمیر کا ذوق بھی حاصل تھا ، مسجد اور دیگر ساری عمارت میں یکسانیت پائی جاتی ہے ، مدرسہ میں نہ شور نہ ہنگامہ ، ہاں کانفرنس ہال میں فقہاء اور مفتیان کرام کا اجتماعی طور پر نئے مسائل میں بحث و مباحثہ کی مجلس گرم تھی تو دوسری طرف انتظامیہ اساتذہ طلبہ کی طرف سے پوری گرم جوشی کے ساتھ مہمانان کرام کو سہولیات پہنچانے میں ہمہ دم کوشش ہورہی تھی، مجموعی اعتبار سے تین دن کے قیام میں ہر مہمان کو وہاں سکون واطمینان حاصل ہوا۔ مقصد کی بازیابی میں کوئی دقت حاصل نہیں ہوئی ۔ نامور شخصیات کی زیارت: اس سفر میں ہندوستان کے نامور شخصیات کی زیارت اور انکی اجتہادات اور نکتہ سنجی سے استفادہ کا موقع ملا ، اس کے علاوہ اساتذہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ، ان میں سر فہرست مفتی عتیق احمد بستوی صاحب ،مفتی جنید صاحب ندوی قاسمی پٹنہ ،اور ہم رکاب میں مفتی سعید الرحمن امارت شرعیہ بہار ،۔ پہلی نشست میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نے اپنا کلیدی خطبہ پڑھا جو واقعی کلیدی کردار کا حامل ہے ، مولانا اظہار الحق صاحب ( خلیفہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب)نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دین اسلام کے کئ شعبہ جات ہیں ، درس وتدریس ، دعوت وتبلیغ ، تصنیف وتالیف اور تزکیہ نفس ، اجتماعی کوشش سے سب دین کے شعبہ جات ہیں…

Read more

کتاب : قرآن و سنت کا باہمی تعلق

کتاب : قرآن وسنت کا باہمی تعلق مصنف : ڈاکٹر عمار خان ناصر ناشر : المورد ادارہ علم وتحقیق صفحات : 536قیمت : 500 تعارف نگار : معاویہ محب اللّٰہ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب علم و تحقیق کا بہت ستھرا ذوق رکھتے ہیں، اس سے پہلے بھی آپ کے قلم سے کئی تحقیقی کاوشیں منظر عام پر آ چکی ہیں ؛ فقہ الحدیث میں فقہائے احناف کا منہج، فقہائے احناف اور فہم حدیث، براھین، حدود و تعزیرات، جہاد ایک مطالعہ۔ ماہنامہ الشریعہ کی ادارت آپ کی خدمات کا منھ بولتا ثبوت ہے، جب تک آپ الشریعہ کے مدیر رہے رسالہ کو انتہائی علمی و تحقیقی معیار پر پابندی کے ساتھ قائم رکھا۔زیرِ تعارف کتاب تو گویا آپ کے تحقیقی ذوق آئینہ ہے۔ قرآن وسنت کے درمیان باہمی تعلق کی بحث اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت لطیف اور نازک ہے، صدیوں سے لیکر آج تک ہر زمانہ کے بہترین دماغوں نے اس بحث کو اپنی جد و جہد کا محور بنایا ہے، اس کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر مجتہد نے اپنے زاویۂ نظر سے دوسرے مجتہد کے رجحان پر نقد و تبصرہ کا حق ادا کیا ہے، اور اس کی خامیوں اور کمزوریوں کی طرف رہنمائی کرکے اصلاح کی کوشش کی ہے، یہاں تک کہ احناف آئمہ نے حنفی اصولیین کی اور شوافع ائمہ نے امام شافعی کے اصولی رجحان کی خامیوں کو تسلیم کیا ہے، چنانچہ اس بحث کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے والے اہل علم دونوں کے وزن کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کتاب میں اسی قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے رجحان کی تاریخی نوعیت کو بالتفصیل بیان کیا ہے، سب سے پہلے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام اور اطاعت رسول کی اہمیت کو بیان کیا ہے، آپ کی عین ذات بحیثیت رسول احکام کا مآخذ تھی، قرآن مجید میں جا بجا اطاعت الٰہی کے ساتھ اطاعت رسول کو بیان کیا گیا ہے، اس کے باوجود خود دورِ نبوی اور دورِ صحابہ میں یہ رجحان…

Read more

آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

احمد اشفاق ۔ دوحہ قطر۔ تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر حفیظ میرٹھی کا مندرجہ بالا شعر انور آفاقی کے لیے موزوں معلوم پڑتا ہے جو بہ یک وقت شاعر ، افسانہ نگار ، مبصر ، ناقد و محقق ہیں ۔ یوں تو انور آفاقی نے شعر گوئی کی ابتدا زمانہ طالب علمی میں ہی کی مگر خلیجی ممالک (سعودی عرب قطر اور متحدہ عرب امارات) میں ان کا فن پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے اتنی مہلت ہی نہیں پائی کہ کوئی کتاب ترتیب دے سکیں ہاں ملازمت کے آخری ایام میں وطن واپسی سے قبل انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ "لمسوں کی خوشبو ” 2011 میں شائع کروایا جس کی تقریب اجرا اپنے وطن دربھنگہ میں ہی کروائی ۔ اتفاق سے راقم الحروف بھی اس میں شریک تھا ۔ کچھ ہی عرصہ بعد یہ مستقل وطن آگئے اور پھر گیسو ادب سنوارنے میں مصروف ہو گئے ۔طبیعت تو موزوں تھی ہی اور عصری ادب پر بھی گہری نگاہ تھی مگر غمِ روزگار نے قلم و قرطاس سے گہرا ربط ہونے نہ دیا۔ ہاں جیسے ہی مہلت ملی ان کا قلم مائل بہ سفر ہوا۔ پھر کیا تھا کہ وطن میں قیام کے دوران غزلیں لکھیں، افسانے لکھے ، سفرنامے لکھے ، تاثراتی مضامین کے ساتھ تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے ۔ سینئر ، ہم عصر اور جونیئرس سے انٹرویو لئے اور ان تمام کو کتابی شکل دی جس کی علمی و ادبی حلقے میں کافی پذیرائی ہوئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یوں تو انہوں نے اپنی تمام کتابوں کے موضوعات کا بہت ہی دیانتداری سے بھرپور احاطہ کیا ہے لیکن ان کے ادبی انٹرویو بطور خاص قابل ذکر ہیں جس میں انہوں نے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے ان کی ادبی حیثیت مسلم ہے مگر بطور خاص ذاتیات پر گفتگو کر کے ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق کا کام آسان کر دیا ہے…

Read more

گروپ بندی

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ گروپ بندی کا مطلب کسی زمانہ میں موافقت و مخالفت میں الگ الگ ٹولیوں میں بٹنا ہوا کرتا تھا، گروپ بندی اور لابی کی یہ قسم اب بھی موجوود ہے، ان دنوں گروپ بندی کی ایک اور قسم پیدا ہو گئی ہے، جو سوشل میڈیا کی دین ہے، پیغامات مفت بھیجنے کی سہولت نے موبائل اور نیٹ پر بہت سارے گروپ بنا دیے ہیں، اس گروپ بندی کے بہت سارے فائدے علمی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی ہیں، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کے فوائد کے ساتھ نقصانات بھی بہت ہیں، گھر کا ہر فرد اپنے اپنے موبائل پر بیٹھا کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے، شوہر، بیوی بیٹا، بیٹی، والد والدہ سب ایک کمرے میں ہیں، لیکن کوئی بات نہیں ہو رہی ہے، سب اپنی دنیا میں مگن ہیں، گھر یلو معاملات ومسائل، بچوں کی تعلیم وتربیت، دین کی ترویج واشاعت سے متعلق باتوں کے لئے آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے، اس کے بر عکس بڑی مذہبی، دینی شخصیتوں، علمی اداروں کے بارے میں غیر ضروری تبصرے کرکے شخصیتوں اور اداروں کو مجروح کرنا عام سی بات ہے، گروپ میں نامناسب تصویر اور ویڈ یو کلپس کا بھیجنا عام سی بات ہے، آپ چاہیں نہ چاہیں آپ کے پاس پیغامات آتے رہتے ہیں، خبروں میں تحقیقات کا فقدان ہوتا ہے، اور بے سر پیر کی خبریں منٹوں میں پوری دنیا میں عام ہو جاتی ہیں، بحث کا سلسلہ دراز ہوتا ہے تو گالی گلوج تک نوبت آجاتی ہے، بڑے چھوٹوں کی تمیز ختم ہو جاتی ہے، حفظ مراتب کا خیال باقی نہیں رہتا اور بات غیبت، چغل خوری، جھوٹ، طعن وتشنیع اور اشتعال کے سارے مراحل طے کر ڈالتی ہے۔ بہت سارا وقت فضولیات کی نظرہو جاتا ہے، بچوں نے اپنے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں اور ان کا بہت سارا وقت گروپ پر چیٹنگ کرنے میں بر باد ہورہا ہے، درسی کتابوں کی طرف سے توجہ ہٹ رہی ہے، علمی گہرائی اور گیرائی…

Read more

تینتسواں فقہی سیمینار میں حاضری

(اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکا 33واں فقہی سیمینارجامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالاساتھ ضلع (سیتامڑھی بہار میں آج سیمینار کی دوسری نشست ہوئی چاہتی ہے،اصحاب افتاء اور ماہرین فقہ و فتاوی کی ایک بڑی تعداد احاطہ جامعہ میں موجود ہیں، نت نئے مسائل اور سلگتے ہوئے حالات کے پیش نظر امت کو پیش آمدہ جدید چیلنچیز کے جوابات مطلوب ہیں۔اکیڈمی کا شروع سے ہی یہ دستور رہا ہے کہ جدید مسائل کا آسان حل تلاش کر امت کے سامنے پیش کیا جائے، جو نصوص شرعیہ اور قواعد فقہہ سے مربوط اور دین وشریعت سے ہم آہنگ بھی ہوں۔اس سیمینار میں پانچ موضوعات زیر بحث ہیں۔1 ۔علاج ومعالجہ میں کمیشن اوردواؤوں کی مقررہ تاریخ کےبعدفروختگی کےمسائل ۔2۔تعلیمی ودعوتی کاموں کےلئےانٹرنیٹ سےاستفادہ ۔3۔موجودہ دورمیں فسق سے مراداوراس پرمرتب ہونےوالےاحکام ۔4۔مصنوعی ذہانت سے استفادہ ۔5۔خواتین کی ڈرائیونگ سے متعلق بعض مسائل۔ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ سال رواں کا یہ سیمینار اپنی جائے پیدائش سے کچھ ہی فاصلے پر منعقد کیا گیا ہے، بانی اکیڈمی فقیہ العصر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب نوراللہ مرقدہ کے وطن مالوف سے قریب ہی اس کی میزبانی کا شرف جامعہ قاسمیہ کوحاصل ہے۔یہ ریاست بہار کا دوسرا فقہی سیمینار ہے، ایسے میں اہلیان بہار بالخصوص علمائے بہار اور خصوصا نظماء و مہتممین بہار و ذمہ داران مدارس اسلامیہ بہار کی دوہری ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ اپنے اپنے مدارس کے لئے کتابوں کی خریداری کے لئے ضرور سبقت کریں، مشاہدہ اور تجربہ کی بنیاد پہ زیر قرطاس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ گرچہ بہار میں وسائل و اسباب کی یقینا قلت ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ ذمہ داران مدارس اسلامیہ کتابوں کی خریداری نہ کرسکیں، اور اپنے اپنے مدارس کو جدید تقاضوں سے لیس نہ کرسکیں، حقیقت تو یہ کہ سالہا سال بت گئے لیکن اس طرف نہ تو توجہ کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی نے توجہ دلانے کی کسک محسوس کی کہ مدارس میں ایک معیاری لائبریری اور کتب خانے کی ضرورت ہے تاکہ بروقت مواد بآسانی مہیا ہوسکے۔قدیم سے قدیم ترین مدارس ایک زمانے سے امت…

Read more