Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

قرآنی بیانیے میں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ

  1. Home
  2. قرآنی بیانیے میں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ

قرآنی بیانیے میں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • دسمبر 14, 2024
  • 0 Comments

از: ابوفہد ندوی، نئی دہلی

یہ محض اتفاق نہیں کہ اللہ نے خود کے لیے "رب العالمین”، نبی ﷺ کے لیے "رحمۃ للعالمین” اور قرآن کے لیے "ذکر للعالمین” کی تراکیب استعمال کی ہیں۔ تینوں جگہ "العالمین” کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ ’’للعالمین‘‘ کا لفظ دیگر چیزوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے، جیسے بیت اللہ کو ’’ھدی للعالمین‘‘ کہا گیا ہے اور نوح علیہ السلام کی کشتی اور اس واقعے کو ’’آیۃ للعالمین‘‘۔ مگر بیانیے کا فرق بہرحال موجود ہے اور ’’العالمین‘‘ کی نسبت ہر جگہ یکساں معنویت کی حامل نہیں۔اللہ نے اپنے لیے "رب العالمین” کا خطاب یا تمغۂ امتیاز پسند فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے لیے "رحمۃ للعالمین” کا خطاب یا تمغۂ امتیاز۔ پھر اپنے اس امتیاز کو قرآن کی سب سے اہم اور سب سے عظیم سورہ، سورۂ فاتحہ کی پہلی ہی آیت میں بیان فرمایا اور وہ بھی تعریفی و توصیفی بیان کے پس منظر میں۔ قرآن کی توقیفی ترتیب میں یہی جملہ "الحمد للہ رب العالمین” فاتحۃ الکتاب ہے، یعنی سرنامۂ قرآن، جیسے دیوان کی پہلی غزل کا مطلع ہوتا ہے۔

اللہ نے سورۂ انبیاء میں نبی ﷺ کے خطاب و امتیاز کے بارے میں فرمایا:وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (الأنبیاء: ۱۰۷)۔اور سورۂ توبہ میں نبی ﷺ کی اسی صفتِ رحمت کو اس طرح مؤکد کیا ہے:قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٌ۬ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُمۡ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٌ۬ رَّحِيمٌ۬(التوبۃ: ۱۲۸)۔’’اے لوگو! یہ رسول جو تمہارے درمیان آیا ہے، یہ تمہاری اپنی ہی قوم سے ہے۔ تمہاری تکالیف اس پر نہایت شاق گزرتی ہیں، یہ تمہاری ہدایت کا طالب اور حریص ہے اور اہلِ ایمان کے لیے بطور خاص انتہائی مشفق اور مہربان ہے۔‘‘اور قرآن کے بارے میں ارشاد فرمایا:إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ (ص: ۸۷)۔

قرآن کے لیے اسی نوعیت کے جملے مزید چار پانچ مقامات پر بھی وارد ہوئے ہیں۔

یہاں قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان سب مقامات پر ’’مؤمنین‘‘ یا ’’مسلمین‘‘ کا لفظ نہیں بلکہ ’’العالمین‘‘ کا لفظ ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام ایک عالمی و آفاقی دین ہے۔ قرآن و رسول کی زمانی و مکانی نسبتیں گرچہ موجود ہیں، تاہم ان کا پیغام آفاقی اور عالمی ہے۔ اللہ نے اگرچہ تمام بنی نوع انسانی کو جبلی طور پر ہدایت یافتہ نہیں بنایا، تاہم اسے پوری بنی نوع انسانی کی ہدایت مطلوب ہے اور اس طرح مطلوب ہے کہ انسان اپنے فہم، علم اور شعور سے ہدایت و معرفت حاصل کرے۔یہ چاروں صفاتِ محمودہ، یعنی ربوبیت، رحمت، نصیحت اور ہدایت، باہم دگر مل کر ایک ایسا کلّاز بناتی ہیں کہ انسان کی نفع رسانی اور خیر خواہی کی کوئی بھی بات، کوئی بھی پہلو اور کوئی بھی جز اس کلّاز سے باہر نہیں رہتا۔ اور اللہ کی صفتِ رحمت ہی اصل اور بنیادی صفت ہے، اگرچہ اللہ کی اور بھی بہت سی صفات ہیں۔ خود قرآن سے اس بات کی شہادت ملتی ہے۔ سورۂ اعراف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا جواب دیتے ہوئے اللہ نے ارشاد فرمایا:قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الأعراف: ۱۵۶)۔’’اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ! سزا تو میں صرف اسی کو دوں گا جسے میں سزا دینا چاہوں گا، مگر میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے۔‘‘یعنی رحمت تو عام ہے، مگر سزا صرف انہی کے لیے ہے جو اس کے مستحق قرار پا چکے ہیں، بلکہ ان میں سے بھی کتنے بخش دیے جائیں گے۔

اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ نبیِ رحمت کے لیے "رحمۃ للعالمین” سے زیادہ بہتر اور مناسب کوئی دوسرا خطاب نہیں ہو سکتا تھا۔ حالانکہ آپؐکو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بشیر، نذیر، شاہد، نور اور سراج وغیرہ کئی القاب و خطابات سے بھی نوازا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی اہم صفات ہیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، تاہم "رحمۃ للعالمین” ان سب میں کئی اعتبار سے اہم ہے۔ اور رحمت خود اللہ کی بھی بلند ترین صفت ہے۔

پھر یہ دونوں جملے، یعنی "رب العالمین” اور "رحمۃ للعالمین”، اپنی ظاہری ہیئت، یعنی صوری اور صوتی اعتبار سے بھی باہم دگر کتنے قریب ہیں۔ اور پھر بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ رحمت، ربوبیت ہی کی جنس کی شے ہے، کیونکہ ربوبیت میں رحمت کا عنصر شامل ہے۔ ربوبیت کا کلی ظہور بنا ادنیٰ رحمت کے وجود کے ناممکن ہے۔ذات باری تعالیٰ میں یہ صفت اس درجے میں موجود ہے کہ اس کے اظہار کے لیے تنہا ایک لفظ کافی نہیں ہوا۔ چنانچہ ایک روٹ کے دو مختلف، مگر ہم معنی الفاظ "رحمان” اور "رحیم” کو جمع کیا گیا، تب جاکر اللہ کی صفت رحمت بیان ہو پائی۔ اور پھر قرآن کے دیگر مقامات پر بھی اسی ترکیب اور ترتیب کو اپنایا گیا۔

قرآن میں رسولِ رحمت کے اسمائے گرامی، یعنی احمد اور محمد، بس پانچ مقامات پر ہی آئے ہیں۔ ایک بار احمد اور باقی چار مرتبہ محمد۔ سورۂ صف میں احمد وارد ہوا ہے۔ ارشاد ہے:وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ (الصف:6)اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا رسول ہوں اور میں تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اپنے بعد ایک رسول کے آنے کی بشارت دیتا ہوں جس کا نام احمد ہوگا۔باقی جن چار آیات میں اسم محمد آیا ہے وہ یہ ہیں:وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران:144)مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (الأحزاب:40)وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ (محمد:2)مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح:29)

اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ ان پانچوں مقامات پر احمد اور محمد نام سے رسول اللہ ﷺ کا جو ذکر ہے وہ رسالت کے حوالے سے ہے۔ آپؐ کے ذاتی معاملات ان آیات میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔پھر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ رسالت مآب ﷺ کے یہ دونوں نام، یعنی محمد اور احمد، ایک ہی مادے "حمد” سے ہیں۔ اور ان دونوں ناموں سے یہ معنیٰ نکلتے ہیں کہ نبی ﷺ اللہ کی بہت زیادہ تعریف اور بہت زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والے ہیں، اور اللہ کی طرف سے بھی نبی ﷺ کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے۔ "احمد” یعنی بہت زیادہ تعریف کرنے والا، اور "محمد” یعنی وہ جس کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہو اور کی جاتی ہو۔رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ کی محبت اور تعریف و توصیف کے حوالے تو خود قرآن میں جا بجا موجود ہیں۔ سورۂ احزاب میں ہے:اِنَّ اللَهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الأحزاب: 56)’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں تو اے ایمان والو، تم بھی ان پر درود بھیجا کرو۔‘‘

نبی ﷺ کے اسم گرامی، جیسا کہ مذکور ہوا، پورے قرآن میں صرف پانچ مقامات پر وارد ہوئے ہیں، جبکہ دیگر انبیائے کرام، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام سیکڑوں بار آیا ہے۔ اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، اور یعقوب علیہ السلام وغیرہ کے اسمائے گرامی بیس، تیس، اور ساٹھ ستر مرتبہ تک آئے ہیں۔

یہ آپؐ کی خصوصیت اور قرآنی بیانیے کا امتیاز ہے کہ اللہ نے آپ کو نام سے نہیں پکارا۔ اسی لیے قرآن میں کہیں بھی "یا موسیٰ” یا "یا ابراہیم” کی طرح "یا محمد” یا "یا احمد” نہیں آیا ہے۔ البتہ "یا ایہا المزمل” اور "یا ایہا المدثر” کہہ کر ضرور مخاطب کیا ہے، مگر یہ اسم علم نہیں ہیں۔ پورے قرآن میں کہیں بھی آپ کے اسمائے ذاتی، یعنی احمد و محمد پر حرف ندا نہیں آیا، البتہ آپؐ کے اسمائے صفاتی پر حرف ندا ضرور آیا ہے۔

مزمل اور مدثر کے معنی و مراد تو واضح ہیں کہ ان الفاظ سے نبی ﷺ کو خطاب کیا گیا ہے، مگر ’’یٰس‘‘،’’طٰہ‘‘، اور’’حٰم‘‘ وغیرہ میں یہ معنی مبہم ہیں۔ حالانکہ مراد لینے والوں نے ’’والضحیٰ‘‘ سے چہرۂ مبارک کا نور اور "واللیل” سے زلف عنبریں کی خوشنمائی اور زیبائی بھی مراد لی ہے۔ گرچہ یہ معانی امکانی معانی سے بعید تر تو نہیں ہیں، تاہم ان کی مراد مزمل اور مدثر کی طرح واضح نہیں ہے۔

پھر قسمیں تو اللہ تعالیٰ نے قلم، زیتون، انجیر، اور شہر مبارک کی بھی کھائی ہیں، اور یہاں ان کے حقیقی معنی ہی مراد ہیں، اس لیے "والشمس”، "والضحیٰ”، اور "واللیل” میں بھی حقیقی معنی مراد لینا ہی زیادہ قرین قیاس اور اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔

بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ تخاطب میں ایسا اسلوب اختیار کرنے سے رسول اللہ ﷺ کی تکریم مقصود ہے۔ انسانی معاشروں میں بھی یہی طریقہ رائج ہے کہ بزرگوں اور معزز شخصیات کو ان کے ناموں کے بجائے القاب، صفات اور عہدے و مناصب کے ساتھ زیادہ پکارا جاتا ہے۔ حالانکہ نام لینے میں بھی یک گونہ محبت ہے۔ اللہ نے کس قدر محبت بھرے لہجے میں فرمایا ہے:وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ (طہ:17)موسیٰ علیہ السلام اس محبت بھرے تخاطب سے بے خود سے ہو گئے اور مختصر سا جواب "هِيَ عَصَايَ” دینے کے بجائے اپنی لاٹھی کے فوائد گنوانے لگ گئے:أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِبُ أُخْرَىٰ (طہ:18)’’میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں، بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، پھر اس کے اور بھی بہت سے کام ہیں۔‘‘اسی طرح نوح علیہ السلام سے فرمایا:قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ (ہود:48)’’فرمایا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکات کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ۔‘‘

قرآن میں انبیاء کرام کی دینی و دعوتی زندگی کے بہت سے پہلو اور واقعات بیان ہوئے ہیں، جن میں سے بعض مختصر ہیں اور بعض طویل۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کی دینی و دعوتی سرگرمیوں کی روداد واقعاتی انداز میں بیان نہیں ہوئی، اور اس طرح تو بالکل بھی نہیں جس طرح موسیٰ و فرعون اور موسیٰ و خضر علیہم السلام کی روداد بیان ہوئی ہیں، یا جس طرح یوسف علیہ السلام کی داستانِ حیات بیان ہوئی ہے۔

قرآن میں اگرچہ آپؐ کے شخصی حالات بیان نہیں ہوئے اور اس طرح تو بالکل بھی نہیں جس طرح سوانحی کتابوں اور مضامین میں بیان ہوتے ہیں، جن میں خاندانی پس منظر اور متعلقہ شخص کے تمام احوال و کوائف حتیٰ کہ ان کے دوستوں اور بیوی بچوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ ملتا ہے۔ اور جس طرح احادیث میں مغازی اور شمائل نبوی کا ذکر ہے، قرآن میں اس طرح کی وضاحتوں اور متعلقات کی تشریحات کے ساتھ نہ مغازی کا ذکر ہے اور نہ ہی شمائل کا۔

یوں تو قرآن میں آپ کے نام سے ایک سورہ ’محمد‘ بھی ہے، اور اگرچہ یہ زیادہ طویل نہیں ہے تاہم اس میں بھی آپؐکے احوال و کوائف بیان نہیں ہوئے ہیں۔ پھر پورے قرآن میں یہی ایک واحد سورہ ہے جو اسم موصول سے شروع ہوئی ہے:الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ (محمد:1)لیکن قرآن کے بیانیہ اسلوب اور زیر بحث موضوع کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ اگر قرآن کا نزولی ترتیب پر مطالعہ کیا جائے اور آیات کا شانِ نزول بھی پیش نظر رکھا جائے، تو قرآن کے اس نوعیت کے مطالعے سے آپ کی سیرت کا بڑا حصہ بھی سامنے آجائے گا۔ پھر اگر اس مطالعے کے نوٹس بنائے جائیں تو عین ممکن ہے کہ آپؐ کی سیرت کا ایک روزنامچہ تیار ہو جائے۔ کیونکہ نزولِ قرآن وقتی حالات سے مربوط ہے، آپ کی زندگی میں واقعات جیسے جیسے رونما ہوتے گئے، قرآن کی آیات انہی واقعات و حالات کے اعتبار سے نازل ہوتی گئیں۔

نزولی ترتیب پر مطالعہ کرنے سے ایک تو سورتوں اور آیات کی نزولی ترتیب سامنے آجائے گی، اور دوسرے آپ کی بائیس سالہ زندگی کا روزنامچہ بھی مکمل ہو جائے گا۔ اور آپ کی سیرت کا بڑا حصہ ذہن نشین ہو جائے گا۔ مگر اس نوعیت کے مطالعے سے قرآن کی سورتوں اور آیات کے مابین جو ایک خاص نظم ہے اور خاص معنوی ترتیب ہے وہ منہا ہو جائے گی، جبکہ نظم قرآن متنِ قرآن کی تفہیم کے لیے بہت ہی بنیادی چیزوں میں سے ایک ہے۔قرآن میں نبی ﷺ کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ وعدہ سورۂ مائدہ میں بیان ہوا ہے:وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدۃ: 67)اور نہ صرف حفاظت کا وعدہ تھا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دشمن کی بربادی کا اعلان بھی تھا:إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ’’تمہارا دشمن ہی بے اولاد (بے نام و نشان) رہے گا۔‘‘اور پھر وقت نے ثابت کر دیا کہ اللہ نے اپنے دونوں وعدے پورے فرمائے، رسول اللہ ﷺ کی حفاظت بھی فرمائی اور آپ کے دشمنوں کو نشانِ عبرت بھی بنا دیا۔

پھر یہ دیکھئے کہ اللہ نے کیسے حالات میں اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔ آپ چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے۔ مکہ و اطراف مکہ کے بڑے بڑے رئیس اور سردار آپ کے دشمن بن گئے تھے۔ بعض مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ سب نے مل کر آپ کے خفیہ قتل کی سازش رچی۔ قتل کی سازشیں تو انفرادی طور پر بھی کی گئی تھیں، مگر اجتماعی طور پر قتل کی سازش کرنا بڑی بات تھی۔ مگر اللہ کا وعدہ تھا کہ دشمن آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔ سو ایسا ہی ہوا کہ آپ کے دشمن پے درپے جنگوں اور گہری سازشوں کے باوجود آپ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے۔

اعلانِ نبوت کے بعد بھی آپ کم و بیش تئیس سال ان کے درمیان رہے اور اس طرح رہے جس طرح ایک عام آدمی اس وقت رہتا تھا۔ آپ نے اپنی سیکورٹی کے انتظامات بھی نہیں کیے تھے۔ آپ آزادانہ ہر جگہ آتے جاتے تھے، لوگوں سے ملاقاتیں فرماتے تھے، ان کے تنازعات حل کرتے تھے، وفود سے ملاقاتیں کرتے تھے، اور اس کے باوجود بھی آپ کے دشمن ہزار جتن اور سازشوں کے باوجود آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے۔

نہ جنگ کے میدانوں میں، نہ بیت اللہ کے سائے میں، نہ محلے کی گلیوں میں اور نہ ہی گھر کی چار دیواری میں۔ نہ دن کے اجالے میں اور نہ ہی رات کی تاریکی میں۔ آخر جنگ کے میدان میں انہوں نے حضرت حمزہ جیسے بہادر انسان کو بھی شہید کر ہی ڈالا تھا، دھوکے سے ہی سہی، مگر رسول اللہ ﷺ کو دھوکے سے بھی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ اور اس کے باوجود نہیں پہنچا سکے کہ ان کی دشمنیوں کا پہلا ہدف آپ ہی تھے۔ نہ ان کے پہلوانوں اور جنگجوؤں نے آپ کا کچھ بگاڑ لیا، نہ ہی ان کے کاہن اور جادوگر آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔ نہ وہ علمی میدان میں آپ کے سامنے ٹھیر سکے اور نہ ہی قرآن کا کوئی جواب پیش کر سکے۔ اور نہ ہی زن و زر کا لالچ دے کر آپ کو اپنے مشن سے ہٹا سکے۔ یہ سب اسی لیے تھا کہ اللہ کی تائید اور نصرت آپ کو حاصل تھی۔

قرآن میں اہلِ ایمان کو تنبیہ کے انداز میں کہا گیا ہے:إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (التوبة: 40)’’اگر تم ان کی مدد نہ کرو گے تو اللہ پہلے بھی ان کی مدد کر چکا ہے، جب انہیں کفار نے (مکہ سے) نکال دیا تھا اور وہ غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے: غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر اللہ نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ایسے لشکروں سے ان کی مدد کی جنہیں تم نہیں دیکھ رہے تھے۔‘‘

یہ ہجرتِ مدینہ کے وقت کا واقعہ ہے، جب آپ نے مکہ سے نکل کر غارِ ثور میں پناہ لی تھی۔ مکہ کے لوگ آپ کی تلاش میں صحرا کی خاک چھانتے پھر رہے تھے، کچھ دشمنی میں اور کچھ انعام کے لالچ میں۔ آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ تین دن اس غار میں گزارے۔ دشمن آپ کی تلاش میں غار کے دہانے تک پہنچ گئے تھے مگر انہیں آپ کی ذرا بھی بھنک نہیں لگ سکی اور آپ بحفاظت مدینہ پہنچ گئے۔ اور یہ سب اس لیے ہوا کہ اللہ نے آپ کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور قرآن کے ذریعے اس وعدے کا اعلان بھی کیا تھا۔

(جاری ہے)

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*شامی اخوان المسلمون کی خونیں سرگزشت*(ہبہ الدباغ کی خودنوشت ’صرف پانچ منٹ‘ کامطالعہ)*
*تبلیغی جماعت کے دونوں دھڑوں میں خوں ریز تصادم- ایک لمحہ فکریہ*

Related Posts

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • hira-online.comhira-online.com
  • ذات پات کا نظام
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • جنوری 30, 2026
  • 0 Comments
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یہ دور نظام حیات کی جنگ کا دور ہے، مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ مختلف نظام ہائے حیات کے مابین کشمکش جاری ہے، اسلام چوں کہ محض عقائد کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو اپنے واضح عقائد کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، اس لیے دیگر نظام ہائے حیات کے ٹھیکداروں کے لیے اسلام ایک چیلنج ہے جس کا مقابلہ کیے بغیر وہ اپنے نظام حیات کو باقی یا غالب نہیں رکھ سکتے۔ ہمارے ملک میں طبقاتی نظام رائج ہے، اسلامی نظام حیات اس سے متصادم ہے، اور اس کی تمام برائیوں سے پاک ہے،اس کے نظام حیات کی کشش طبقاتی نظام میں زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نظام حیات کے تصادم کے اس دور میں ہمیں دیگر نظام حیات کی خصوصیات سے واقف ہونا ناگزیر ہے، اس سے اسلام کا تقابلی مطالعہ کرنے اور تقابلی تعارف کرانے میں مدد ملے گی اور اسلام کی افضلیت کا ادراک ہوگا، نیز مدعو اقوام کی نفسیات سے آگہی ہوگی اور نظریاتی جنگ میں مقابل نظریہ کے کمزور پہلووں کا ادراک ہوگا۔ یوں تو دنیا کے مختلف سماج میں مختلف بنیادوں پر انسانوں کی تقسیم پائی جاتی ہے، اور بہت سی جگہوں پر اس تقسیم کی وجہ سے آپسی نفرت بھی پائی جاتی ہے؛ لیکن بھارتی سماج کے طبقاتی نظام کی جو خصوصیات ہیں وہ اسے دنیا کے دیگر سماجی نظام سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:٭ عدم مساوات: بھارتی سماج میں پائے جانےوالی منووادی طبقاتی نظام کی یہ سب سے بنیادی خصوصیت ہے، اس نظام میں طبقات کی تقسیم عمودی ہے، یعنی یہ تقسیم نابرابری اور اونچ نیچ کی بنیاد پر ہے، اس میں انسانی مساوات کی کوئی جگہ نہیں ہے، انسانی مساوات آتے ہی یہ دھڑام سے زمیں بوس ہوجاتا ہے، اس میں کچھ ذاتیں اونچ ہیں اور کچھ نیچ ،ہر ذات کے نیچے کوئی ذات ہے اور ہر ذات کے اوپر کوئی ذات۔ اور برہمن کی ذات سب سے اوپر ہے،…

Read more

Continue reading
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • hira-online.comhira-online.com
  • UGC
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یو جی سی کے نئے ضابطوں کو لے کر پورے ملک میں ہنگامہ چل رہا ہے، جنرل کیٹگری میں آنے والی ذاتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں، جب کہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سماج سے آنے والے لوگ اس کی حمایت میں ہیں۔ یو جی سی یہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا مخفف ہے، یہ کمیشن 1956 میں بنایا گیا، اس کا کام یونیورسٹیوں کو منظوری دینا، انھیں فنڈز فراہم کرنا اور اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد وضوابط بنانا ہے، اس نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 2012 میں امتیازی سلوک کو روکنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے کچھ ضوابط بنائے، جنھیں Promotion of Equity in Higher Educational Institutions) Regulations, 2012 کہا جاتا ہے، ان ضوابط کے ہوتے ہوئے امتیازی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوئے، جن میں روہت ویمولا کا کیس قابل ذکر ہے، جس نے 2016ذات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک سے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی، ڈاکٹر پایل تڑوی اور کچھ دوسروں کے نام بھی اس مناسبت سے ذکر کیے جاتے ہیں، ان واقعات سے یہ اندازہ ہوا کہ امتیازی سلوک مخالف ضوابط زمینی سطح پر صحیح ڈھنگ سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امتیازی سلوک کے اعداد وشمار میں 118 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لہذا یو جی سی نے ان ضوابط میں کچھ سختی لانا ضروری سمجھا، چنان چہ ضوابط کو پہلے سے سخت بنانے کے لیے اس میں ترمیم واضافہ کیا گیا، اور یہ ترمیم شدہ ضوابط کچھ دنوں قبل 13 جنوری کو جاری کیے گئے۔ امتیازی سلوک پر ایسے سخت ضوابط بنانے کی ضرورت کیوں پڑی، اس کا جواب بھارت کے طبقاتی نظام، یہاں کی سماجی نفسیات، اور برہمنوادی تاریخ میں مضمر ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی کو برہمنوادی نظام کے ٹھیکیداروں نے ہزاروں سال سے نہ صرف یہ کہ مالی، تعلیمی، حکومتی اور دفاعی حقوق سے محروم رکھا، بل کہ عزت واحترام…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top