HIRA ONLINE / حرا آن لائن

Quranic Arabic Grammar Course

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی تاریخ نویسی ایک ایسا فن ہے جس کے ساتھ انصاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تاریخ نویس کا ذاتی تجربہ، اسکا میلان اور لگاو، اس کی فکر اور آراء اکثروبیشتر تاریخ نویسی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دنیا میں وہی تاریخ نویس قابل اعتماد مانے گئے ہیں جنھوں نے حتی الامکان ان سے بچتے ہوئے حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔حال ہی میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی ایک نئی کتاب (تاریخ ندوہ العلماء) شائع ہوئی ہے جو ہندوستان کے مشہور اسلامی درسگاہ دارالعلوم ندوہ العلماء کی تاریخ اور اسکی خدمات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب ایک زود نویس قلمکاراور مصنف ہیں جن کا بنیادی موضوع حدیث رہا ہے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کی اس کوشش کی ستائش کرتے ہیں کہ انھوں نے عالم عرب میں ندوہ کا تعارف کرانے کی پہل کی ہے، جس کی ضرورت بہت دنوں سے میں شدت سے محسوس کررہا تھا۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں بارہ سو اڑتالیس صفحات ہیں۔ کتاب پر سرسری نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دارالعلوم ندوہ العلماء کی ایک خوبصورت تصویر عربوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو انکی اپنے ادارہ سے لگاو، اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے والہانہ محبت اور اپنی مادر علمی کے تئیں فکر اور اس کے لئے کچھ کرنے کے نیک عزم کی عکاسی کرتی ہے۔یہ کتاب پندرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں تحریک ندوہ العلماء کا ذکر ہے۔ دوسرے باب میں دارالعلوم کی تاسیس سے لیکر مولانا محمد علی مونگیری تک کا عہد ہے۔ تیسرے باب میں مسیح الزمان شاہ جہاں پوری اور خلیل الرحمن سہارنپوری کے دور کا ذکرہے۔ چوتھے باب میں علامہ سید عبدالحی حسنی اور امیر سید علی حسن خان کے دور میں ندوہ کی ترقی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پانچویں باب ڈاکٹر عبدالعلی حسنی کے عہد پر مشتمل ہے، چھٹا باب مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے دور میں ندوہ کی…

Read more

مولانا نذیر احمد ندوی

مولانا نذیر احمد ندوی — ندوہ کا خاموش چراغدارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے علمی آسمان پر ایک اور چراغ بجھ گیا۔ عالیہ درجات کے موقر استاذ، ادیب و صحافی، عربی جریدہ الرائد کے ممتاز کالم نگار و مترجم،مولانا نذیر احمد ندویؒ کا اچانک ہارٹ اٹیک کے سبب انتقال ہوگیا۔إنا لله وإنا إليه راجعون۔مولانا مرحوم اُن اساتذہ میں سے تھے جن کی شخصیت درس و تدریس کے دائرے سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی تھی۔وہ علم کے ساتھ وقار، اور وقار کے ساتھ خاموشی کے پیکر تھے۔ان کی محفل میں بیٹھنے والا طالب علم صرف نحو و بلاغت نہیں سیکھتا تھا،بلکہ سوچنے، لکھنے کا ہنر بھی حاصل کرتا تھا۔اردو، فارسی، عربی اور انگریزی—چاروں زبانوں پر ان کی گہری دسترس تھی۔ان کی گفتگو میں نفاست، تحریر میں لطافت اور اسلوب میں توازن جھلکتا تھا۔شاگردوں کے نزدیک وہ ایک ایسے مربی تھے جو علم نہیں، ذوقِ علم منتقل کرتے تھے۔اسی لیے ان کی کلاس محض درس نہیں، تہذیبِ فکر کا اجتماع محسوس ہوتی تھی۔ان سے ایک گھنٹے کی گفتگو کئی کتابوں کے مطالعے کے برابر تھی۔”ان کی شخصیت میں عجب توازن تھا—نہ نمود، نہ دعویٰ؛نہ شور، نہ شہرت؛بس علم کی روشنی بانٹنے کا اطمینان۔ان کے طرزِ تدریس میں روایت کی پاسداری بھی تھی اور جدید فہم کی کشادگی بھی۔وہ ندوہ کے اس علمی ورثے کی روشن قندیل تھے جو الفکر مع الأدب کے فلسفے پر قائم ہے۔مولانا نذیر احمد ندویؒ کے جانے سے ندوہ نے ایک خاموش مگر گہرا نقصان اٹھایا ہے۔ایسے اساتذہ کم ہوتے ہیں جو لفظوں سے زیادہ اپنے سکوت سے اثر ڈالیں۔ان کا نام ندوہ کی علمی تاریخ میں پروقار اسلوب اور فکری سنجیدگی کے نمائندے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے،ان کے درجات بلند کرے،اور ان کے علم و کردار کو ندوہ کے طلبہ و اساتذہ کے لیے روشنی کا مینار بنائے۔

Read more

استاد اور مربی کی ذمہ داری

علماء ربانی اور تربیت یافتہ اہلِ علم فرماتے ہیں:"فاسق، اللہ کی طرف بلانے والے ہر داعی کی گم شدہ متاع ہے۔” یعنی جس طرح کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی چیز تلاش کرتا ہے، اسی طرح داعی کو چاہیے کہ وہ فاسق کی اصلاح کے درپے رہے۔میں (مصنف) کہتا ہوں: یہی بات عالم و معلم کے بارے میں بھی درست ہے، جاہل ہر عالمِ معلم کی گم شدہ متاع ہے۔ عالم پر لازم ہے کہ وہ جاہل کو تلاش کرے۔ پھر اگر یہ جاہل کوئی طالبِ علم ہو، اور عالم خود مطلوب (یعنی جس کے پاس لوگ علم لینے آتے ہیں)، تو ایسے میں عالم پر فرض ہے کہ وہ اس طالبِ علم کے لیے کشادہ دل، شفقت و نرمی اور محبت بھرا رویہ اختیار کرے۔ وہ اسے اپنا وقت دے، اپنا علم عطا کرے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد امام ابو یوسف کو ایک طویل وصیت میں فرمایا:"اپنے فقہ کے طلبہ کی طرف اس طرح متوجہ رہو، گویا تم نے ان میں سے ہر ایک کو اپنا بیٹا اور اولاد بنا لیا ہو، تاکہ ان کے اندر علم حاصل کرنے کا شوق اور رغبت بڑھ جائے۔” ماخوذ از: معالم إرشادية لصناعة طالب العلم،تالیف: فضیلة الشیخ العلامة محمد عوامة حفظه اللهاردو: شادمحمدشاد

Read more

انس جمال محمود الشریف

انس جمال محمود الشریف مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی کے واقعات اور تصاویر کو الجزیرہ ٹی وی کے ذریعہ پوری دنیا میں پہونچانے والے مشہور صحافی انس جمال محمودالشریف 10/اگست2025ء کو اسرائیلی فوج نے شہید کر دیا ، ان کے ساتھ ان کے چار ساتھی محمد قریقہ ،ابراہیم زاہر ، محمد نوفل ، مومن علیوا اور دو شہری بھی شہید ہوئے ، اس طرح حق و صداقت پر مبنی سچی تصویر کشی کرنے والے انس شہید اپنے مطلوب کو پہونچ گیے ،شہادت کے وقت وہ غزہ میں الشفا اسپتال کے قریب اپنے خیمہ میں تھے، ان کے پس ماندگان میں اہلیہ ام صلاح ( بیان ) ، ایک بیٹا صلاح انور اور ایک بیٹی شم ہے۔ :انس جمال محمود الشریف کی پیدائشں: انس شریف غزہ، فلسطین کے جبالیا در نوار فوجی کیمپ میں 3/دسمبر 1996ء میں پیدا ہوئے ، ان کے خاندان 1996ء میں نقل مکانی کر کے المجدل آگیا تھا، جو ان دنوں اسرائیل کا شہر ہے اور عسقلان کے نام سے جانا جاتا ہے،اسرائیل کے قبضے کے بعد ان کے والد غزہ کی پناہ گاہ جبالیا منتقل ہو گیے تھے، انس جمال محمود الشریف کی تعلیم ان کے والد کا نام جمال شریف تھا، انہوں نے مختلف صحافتی اداروں میں تعلیم وتر بیت پانے کے بعد الاقصیٰ یونیورسٹی سے صحافت گریجویشن کیا،صحافت میں ان کی دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق اور جنگ کے حالات تھے،یہ ایک جوکھم بھرا کام تھا، سارے صحافی جب غزہ کو خیر باد کہہ گیے ، جو تنہا رہ گیے تھے ان میں دوسو کے قریب اسرائیلی حملے میں شہید ہو گیے تو بھی وہ الجزیرہ ٹی وی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لے کر رپورٹنگ کرتے رہے، انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز رضا کارانہ طور پر الشمال میڈیا نیٹ ورک سے کیا ، غزہ کے حالیہ جنگ سے پہلے وہ CNN اور BBC کے لیے حماس کے میڈیا ٹیم کے ساتھ کام کرتے رہے، بعد میں وہ الجزیرہ ٹی وی کے لیے غزہ…

Read more

تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟

________تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟________ تحریر کی مہارت صرف مطالعہ سے نہیں بڑھتی، میری رائے میں یہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہے جو درج ذیل تین چیزوں کو بار بار دہرانے سے بنتا ہے [1] شعوری اور گہرا مطالعہ [2] . غور و فکر، ربط اور استنباط [3] مسلسل لکھنے کی عادت جب ان مراحل کو سینکڑوں بلکہ ہزاروں مرتبہ دہرایا جائے تو تحریر صرف اظہار کا ذریعہ نہیں رہتی، بلکہ نئے معانی اور خیالات کی جستجو کا دروازہ بن جاتی ہے۔ تحریر صرف پڑھی ہوئی باتوں کو دہرانے کا نام نہیں۔ یہ کام تو مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ہم سے کہیں بہتر کر سکتی ہے، لیکن جس چیز سے مصنوعی ذہانت عاجز ہے وہ ہے ربط پیدا کرنا، استنتاج کرنا اور معانی کی گہرائی میں اترنا۔۔۔اور یہ صلاحیتیں مسلسل مشق اور تجربے سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہ علم کیسے حاصل کیا؟تو انہوں نے فرمایا:”بقلبٍ عقولٍ ولسانٍ سؤولٍ”یعنی سمجھنے والے دل کے ذریعے ار سوال کرنے والی زبان کے ذریعے۔جب تم سوال کرتے ہو کہ: کیوں؟ تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تم تخلیقی سفر کے آغاز پر ہوتے ہو۔ اس وقت تحریر ایک نئی دنیا (دکھانے والی) کھڑکی بن جاتی ہے، ایسی دنیا جو پہلے تمہارے لیے ان جانی تھی۔اور تب تحریر ایک پیغام بن جاتی ہے، ایسا پیغام جس میں تمہیں لذت اور لطف کی وہ کیفیت ملتی ہے جس کا بیان ممکن نہیں۔ سامی بن ابراہیم السویلم اردو ترجمانی: شادمحمدشاد

Read more

نام کتاب:احادیث رسولﷺ :عصرحاضر کے پس منظر میں

نام کتاب:احادیث رسولﷺ :عصرحاضر کے پس منظر میںمؤلف: مولانا خالد سیف اللہ رحمانیتبصرہ نگار :عبیداختر رحمانیجلد: دو حصےصفحات: جلد اول:۶۲۶، جلد دوم: ۵۶۴ناشر: المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح قرآن کلام الہی ہونے کی وجہ سے انتہائی عظمت واہمیت کا حامل ہے، ویسے ہی احادیث رسول بھی کلام نبوی ہونے کی وجہ سے ایک مومن کے لیے کلاہ افتخارہے،احادیث کی اہمیت کے کئی پہلو ہیں، اول:جس طرح قرآن وحی الہی ہے، ویسے ہی احادیث نبوی بھی وحی ہیں، قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿‌وَمَا ‌يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (٣) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ﴾ [النجم: 3-4]اورنہ وہ اپنی خواہش سے کچھ بولتے ہیں؛بلکہ وہ تو وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔احادیث کی اہمیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ قرآن مجیدکی تشریح وتوضیح ہے،جیسے نماز کی رکعات کتنی ہوں گی؟نماز کی شرائط کیاہوں گی؟ویسے ہی زکوٰ ۃ ،حج اوردیگر عبادات کا حال ہے، احادیث کی اہمیت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ وہ شریعت اسلامی کا دوسرا بنیادی ماخذ اورمصدر ہے،اللہ کے رسول ﷺ کاارشادپاک ہے:أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” ‌تَرَكْتُ ‌فِيكُمْ ‌أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ)موطأ مالك:2/ 899 ،کتاب القدر )رسول اللہ ﷺ کاارشاد ہے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں، تم جب تک ان کو پکڑے رہوگے، گمراہ نہیں ہوگے،اول: اللہ کی کتاب اور دوسرے :اس کے نبی کی سنت اور طریقہ۔احادیث کی اہمیت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ قیامت تک کے لیے اللہ نے جس شخصیت کو ہمارے لیے اسوہ حسنہ اور رول ماڈل بنایاہے، وہ آپ ﷺ کی ذات گرامی ہے، آپ ﷺ کی تابندہ سیرت،روشن نقوش اورخلق عظیم سے واقفیت کا ذریعہ احادیث ہی ہیں۔چوتھاپہلو یہ ہے کہ احادیث پاک میں مسلمانوں کی روحانی، اخلاقی اور فکری تربیت کا بڑا سرمایہ ہے، جس سے دل نرم ہوتے ہیں، اور اسلام پر عمل کرنا آسان ہوجاتاہے،اللہ کے رسول ﷺ کاارشاد ہے:أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ‌بُعِثْتُ ‌لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ.( موطأ مالك – رواية يحيى:2/ 904 ، باب ماجاء فی حسن الخلق)اللہ کے رسول ﷺ…

Read more